16.10.2026, 10:17pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 36ویں قسط
29.03.2011, 01:10am , منگل (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد
پینتیسویں قسط کا اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب چونکہ شام چھاتی جارہی تھی اور بڑھتے ہوئے سائے میرے اندر چھپے ہوئے کوچ کے خوف کو ابھار نے لگے ، سو ہم نے بوجھل قدموں کے ساتھ حرم کی حدود سے باہر نکلنا شروع کیا۔ مڑ کر ایک دفعہ جی بھر کے اس عظیم الشان مزار اور اس سے ملحقہ قبرستان کو دیکھا اور آئیندہ آنے کی حسرت لیئے بس کی جانب چل دئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب واپسی کا سفر شروع ہوا تو سورج بھی اپنی بساط لپیٹ رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے شام کہاں گئی، پتا ہی نہیں چلا۔ جب ہم واپس اپنے مطلوبہ اسٹاپ پر آکر اترے تو آفتاب غرق ہو رہا تھا اور شام کے الوداعی لمحات رات کے اندھیروں کے استقبال میں محو تھے۔ یہی وہ وقت ہے، جب حرم کے قلب سے تلاوت ِقرآن کی جاں گداز آواز ہوا کے دوش پر سوار ہو کر چہار اطراف کو منور و معطر کردیتی ہے۔ اور یہ چند لمحات میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق حرم ِعالیہ کی گہما گہمی کی معراج ہوتے ہیں۔ جوں جوں قاری تلاوت کرتا جارہا تھا، ہم دونوں کی طرح ہزاروں ساکنان ِ مشہد حرم کی جانب لپکے جارہے تھے۔ اس وقت صف آرائی کا کام تکمیل تک پہنچ چکا ہوتا ہے اور ہر نمازی کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ روضہءمنورہ کے نزدیک تر پہنچ کر نماز کی جگہ پائے۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض ہوا ہے کہ خاص اس وقت کی تلاوت میں کچھ عجیب مقناطیسیت ہے، جو سامع کو کھینچ کر جائے نماز تک لے آتی ہے۔ جب پہلی مرتبہ اس عظیم عبادت سے سرشار ہونے کا موقع ملا تھا تو دل جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ بلـّیوں اچھل رہا تھا اور حرم میں پہلی نماز ادا کرنے کا جوش الگ تھا۔ مگر آج کی اس تلاوت میں الفاظ کے سانچے میں ناڈھلنے والی ایسی اداسی تھی، جو دل کو شکستہ کئے جا رہی تھی۔ صحن ِحرم میں تیز ہوا کے تھپیڑے چہروں کو سرخ کئے جارہے تھے اور قید ِ چشم سے آزاد ہو جانیوالے پانی کے قطروں کو رخسار پر بہہ جانے کی بجائے آنکھ کی سرحد سے ہی کھینچ کر اپنے اندر تحلیل کررہے تھے۔

اسی اثناء میں تلاوت تمام ہوئی اور اذان ِ مغرب کا آغاز ہوا۔ ہم بدستور بھاگے چلے جا رہے تھے۔ چہار جانب تاحد ِ نگاہ لوگ ہی لوگ تھے، جو جہاں جہاں جگہ ملتی تھی، صف آراء ہوتے جارہے تھے۔ ایک مقام پر جا کر ہم بھی ٹھہر گئے۔ میں نے اپنے محور پر کھڑے کھڑے گھوم کر اطراف کا جائزہ لیا۔ زائرہ کو صف ہائے بانوان کی جانب جانے کا اشارہ کیا اور خود روشنی کے ایک کھمبے تلے جا کھڑا ہوا۔ نمازی بھاگے چلے آرہے تھے اور خدام ِ حرم ایک ایک نمازی کو جگہ حاصل کرنے میں مدد کر رہے تھے۔ اس تمام عمل سے بینیاز میں ایک جانب اکیلا کھڑا اس حسین منظر اور چڑھتی رات کی دلنشینی کو آخری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ میں ان تمام مناظر اور آوازوں کو اپنی یادداشت میں اس سوچ کی وجہ سے محفوظ کرنا چاہ رہا تھا، کہ نا معلوم زندگی میں آئیندہ کبھی یہ سب میسر ہوگا بھی کہ نہیں! زیارات کے تمام لطائف اپنی جگہ، مگر جو لطف مغرب کے اس خاص وقت کا ہے، اسکا اثر اس حد تک نفوذ کر جانیوالا ہے کہ آج اپنے ملک میں بیٹھ کر بھی مغرب کے ان خاص لمحات میں یادداشت میں وہی سب کچھ کوند سا جاتا ہے اور میرے وجود ِ خاکی کو یہیں چھوڑ کر عین اسی مقام پر نماز ادا کرتا ہے۔ لا الہ الا اللہ کے کلمات کے ساتھ میں بھی دو قدم آگے بڑھا اور ایک صف کے کنارے پر جا کر بیٹھ گیا۔ ساری گہما گہمی، عوام کا شور، قدموں کی جاپ، خدام کی صدائیں اور سب سے بڑھ کر ہوا کی رفتار ۔ ۔ ۔ ۔ سبکو جیسے یکدم قرار آگیا ہو۔ فضا میں کامل سکوت! میں نے ہمیشہ کی طرح گردن پھیر کر جو علم کی جانب رخ کیا، تو وہ بھی بالکل خاموش!!!

میں نے اپنے قیام ِ مشہد کی آخری مغربین کو روحانی عقیدت اور حسرت کے احساسات کے ساتھ ادا کیا۔ یہ خیال مسلسل دل کی دھڑکن کو بے قاعدہ کرتا رہا کہ کل شام کو نصیب اتنے یاور نہ رہیں گے کہ اس گوشہءفردوس میں ادائیگیءنماز ہو سکے۔ دل تو یہی چاہ رہا تھا کہ کاش آج یہ نماز ختم ہی نہ ہو، مگر حقائق ہمیشہ خواہشات کے برعکس ہوتے ہیں۔ جب نماز ِ مغربین اختتام پذیر ہوئی اور تسبیح کے دانوں کی مانند پروئے ہوئے نمازی حضرات صفوں سے بکھرنا شروع ہوئے تو ہوا کو جیسے یکدم یاد آگیا کہ سکوت کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس نے اس طوفانی رفتار سے چلنا شروع کیا کہ ماحول میں یکایک سردی کا احساس بیدار ہو گیا۔ اپنی جگہ پر کھڑے ہوکر میں نے زیارت ِ وارثہ کی تلاوت شروع کی کہ دل کو کچھ قرار آجائے، مگر میرا رخ پھیر کر نظروں کا ایک صاحب پر جاکر رک جانا دل کے اضطراب میں مزید اضافے کا باعث بنا۔ جس انداز سے وہ گریہ کناں محو ِ مناجات تھے، میرے دل سے بھی انکی دعاؤں کی قبولیت کے لئے دعائیں نکلنے لگیں۔ یخ بستہ ہوا کے زور اور گردوپیش کے ہنگام سے بے خبر وہ صاحب کیا خوبصورت عبادت کررہے تھے۔

نماز تمام کرنے کے بعد ہم دونوں مقرر کردہ مقام پر ملے اور اندر حرم میں جانے کی بجائے باہر کی جانب عازم ہوئے۔ بغیر کسی توقف کے چلتے چلتے باہر نکلے، سڑک عبور کی، گلیوں کے پیچ و خم کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سیدھا اپنی قیام گاہ جاکر قدموں کو لگام دی۔ استقبالئے سے چابی لے کر کموے میں داخل ہوئے اور بستر پر دراز ہو گئے۔ آج بھی پورا دن یونہی گزر گیا تھا اور ایک لمحے کو بھی آرام میسر نہ آیا تھا۔ اور ایسے سفر میں آرام کا تو ویسے ہی کوئی کام نہیں۔ مگر دل کی تسلی کے لئے ہم کچھ وقت آرام کرنے کی غرض سے واپس آگئے تھے۔ کچھ وقت بستر پر لیٹے لیٹے چھت کو تکتے رہنے کے بعد میں اٹھا، غسل کیا اور نیا لباس زیب تن کرکے اپنے آقا سے الوداعی ملاقات کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ رات گیارہ بجے ہم ایک بار پھر اپنی قیام گاہ سے نکلے اور ان نوآشنا گلی کوچوں سے خاموش گفتگو کرتے ہوئے حرم کی جانب چل دئے۔ سڑک پر ہمیشہ کی طرح زندگی اپنے عروج پر تھی۔ گنبد و مینار سارے موحول میں سنہری نور بکھیر رہے تھے اور ہم دونوں قدم بہ قدم اسی روحانی دنیا میں مجذوب ہونے کی غرض سے چلے جارہے تھے۔ سب کچھ ویسا ہی تھا، جیسا چند ایام قبل یہاں پہلی دفعہ آمد پر تھا۔ فرق تھا، تو محض جذبات کا۔ اٌس وقت وصال ِ یار کا انبساط برانگیختہ کئے جارہا تھا اور اب عالم یہ تھا کہ فراق کا خوف دل کو ملول کررہا تھا۔ اسی خوف نے قدموں کو مزید بوجھل کردیا تھا اور ہم من من وزنی قدموں کو گھسیٹتے ہوئے در ِجنت کے سامنے تک ہہنچے۔ تلاش خانے سے گزرکر جو اجازت لینے کی غرض سے کھڑے ہوئے تو ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے اور سیل ِ اشک جو جاری ہوا تو خاصی دیر تک نہ رکا۔ آج بھی اذن ِ دخول کی تلاوت میں وہی درد تھا، جو پہلی بار محسوس ہوا تھا، مگر کرب ِجدائی کے اضافے کے ساتھ۔

میں آقا (ع) کے حضور میں پیش ہونے کے لیئے تیز گام تھا۔ حرم کے تمام صحن بقعہء نور بنے ہوئے تھے۔ سردی کی شدت میں اضافہ ہورہا تھا، جو ہمارے لیئے تو سردی تھی، جبکہ مقامی باشندوں کے لیئے بہار کا تازہ موسم۔ میرے مشاہدات کے تمام روشندان کلی طور پر کھلے ہوئے تھے، جہاں سے یہاں کا ہر ہر منظر میری یادداشت کے قرطاس ہر ثبت ہوتا جارہا تھا۔ اکثر سوچتا ہوں کہ شاید عمر کے کسی حصے میں یادداشت جب ساتھ چھوڑ جائے، تب بھی یہ ایام محو نہ ہو پائیں گے۔ جس قوّت ِ حیدری کے مدار میں میرا وجود گردش آیا تھا، اسکے اثرات اسقدر دیرپا ہیں کہ اس حیات ِ ظاہری کا دورانیہ بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔ تمام راستوں کو عبور کرتے ہوئے ہم عین کفشداری کے سامنے پہنچ گئے، جہاں کچھ دن پہلے پہنچ کر میرے قدموں پر لرزہ طاری تھا۔ لرزہ تو اب بھی طاری تھا، مگر دونوں حالتوں میں فرق واضح تھا۔ تب جوش و خوف ِ وصال کا لرزہ ، اور اب غم و حزن ِ فراق کا لرزہ۔ تب میرے قدموں میں شوق ِ دیدار ِ معشوق کی گرانی تھی اور اب محبوب سے الوداعی ملاقات کے کرب کا بوجھ۔۔ مگر صدقے جاؤں اپنے من موہنے آقا کی عطاؤں پر، کہ اپنے زائر کے وقار اور متانت کو ہر ہر زیارت پر جو افزائش بخشتے ہیں، اسکا اندازہ صرف زائر کا قلب ہی لگا سکتا ہے۔ میری روح کے اسی وقار نے میرے اندر گویا جان سی بھر دی اور میں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا ضریح کے عین سامنے جا کھڑا ہوا۔ پوری قوت سے مولا کو سلیوٹ کیا اور ایک غلام کی مانند اپنے آقا کے حضور درودوسلام اور مناسک زیارت ادا کیئے۔ آج جی بھر کے ان درودیوار کو دیکھا۔ ایک ایک چیز کو اپنی اگلی حاضری (بشرط ِ اذن و حیات) تک کے لیئے اپنی نظروں کے لیئے سرمایہ قرار دیا۔ کبھی دیوار میں نصب کتب ِ مطہرہ کے بوسے لئے تو کبھی چوکھٹ کے۔ کبھی دستگاہ ِ دود سے اٹھتے ہوئے لوبان کے دھوئیں میں شناوری کی تو کبھی دورازے سے لپٹ کر آنسو بہائے۔ بہت دیر تک ایک فاصلے سے ضریح کو دیوانہ وار تکتا رہا مگر آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ یہ قبلہ گاہ نصف شب کے اس پہر میں بھی عاشقان کے حصار میں تھا۔ مجھے کوئی جلدی نہ تھی۔ آج میرا مدعا صرف اسکا ایک لمس حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ اپنے پیکر ِ خاکی کو اس سے لپٹا کر اپنی روح کو عشق کے اس سمندر میں فنا کرنا مقصود تھا۔ چنانچہ میں واپس لوٹ آیا۔ طاق میں سے بغیر دیکھے ایک کتاب نکالی اور دیوار سے ٹک کر بیٹھ گیا۔ اپنے مرحومین کے ایصال ِ ثواب کی نیت سے اسکا پہلا ورق کھولا اور تا ورق ِ آخر تلاوت کرتا رہا۔ وہ کتاب ایصال ِ ثواب کے لیئے اتنی جامع تھی کہ اس نے قرآن ِ پاک اور مفاتیح الجنان کے تمام چنیدہ نور پاروں کو اپنے اندر سمیٹا ہوا تھا۔ ضریح ِ مبارک کے عین سامنے ایصال ِ ثواب کے اس تجربے سے جو لطف میں نے حاصل کیا، وہی بیان سے باہر ہے، چہ جائیکہ اس لطف کا اندازہ لگایا جائے، جو مرحومین خود اٹھا رہے ہوں گے۔ ابھی یہ سلسلہ ختم ہی ہوا تھا کہ میرے کانوں میں دعائے توسل بہ معصومین (ع) کی ایک شیریں آواز رس گھولنے لگی۔ میں آٹھا، کتاب واپس شیلف کے حوالے کی اور اس آواز کے تعاقب میں چل پڑا۔ چلتے چلتے ایک اور ہال میں پہنچ گیا، جہاں چند فیمیلیز موجود تھیں اور ایک نوجوان صاحب ِ عبا و عمامہ تلاوت دعا میں مشغول تھے۔ یہ ایک انتہائی دیدہ زیب اور کلی طور پر روشن ہال تھا۔ اس قدر روشنی دیکھ کر میں نے جائزہ لینے کی نیت سے جو اوپر کی جانب دیکھا تو تمام چھت شیشہ گری کا ایک حسین شاہکار نظر آئی۔ صرف سیدھی سیدھی چھت پر شیشے کا کام نہیں تھا، بلکہ شطرنجی نمونے میں کئی معلق محرابیں تھیں۔ یہ چھت حرم ِ مطہر کے اعلٰی کاریگری کے شاہکاروں میں سے ایک ایسا شاہکار ہے، جو اپنے ناظر کو لمحہء موجود میں کھینچ کر ورطہء حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ ہال کے بیچوں بیچ ایک اور سفید مرمریں قبر تھی، جسکا احصاء ایک جنگلے نے کیا ہوا تھا۔

یہ منور قبر جناب بہاءالدین محمد المعروف شیخ بہائی (رح) کی تھی۔ آپ گیارھویں صدی ھجری کے ایک معروف عالم تھے۔ آپکا سلسلہءنسب امام علی (ع) کے ایک جلیل القدر صحابی جناب حارث ہمٰدانی (ر) سے ملتا ہے۔ آپ 953ھ میں لبنان کے مشہور علاقے جبل ِ عمل کے نزدیک ایک گاؤں بالبک میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ 966ھ میں ایران تشریف لائے تھے اور اصفہان میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ تحصیل ِ علم کا زینہ چڑھتے چڑھتے آپ اپنے دور کے اعلیٰ ترین علمی منصب "شیخ الاسلام" کے درجے پر فائز ہوئے۔ آپ نے مختلف علوم پر 88 کتب تحریر فرمائیں، جو مکتب ِ اہل ِ بیت کا ایک عظیم سرمایہء افتخار ہیں۔ آپکی مشہور ترین تصانیف میں جامع عباسی (فقہ)، مفتاح الفلاح (ادعیہ)، کتاب الاربعین (احادیث)، کشکول (ادب)، خلاصۃ الحساب (ریاضی)، کتاب الجبر والمقابلہ (الجبراء)، تشریح الافلاک (فلکیات) اور اسطرلاب و جیومیٹری پر مقالہ جات ہیں۔ آپ کی ان تصانیف کے عنوانات سے ہی آپکی شخصیت کی ہمہ جہتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آپ نے 1031ھ میں اصفہان میں وصال فرمایا، مگر آپکی گرانقدر خدمات کے اعتراف کے طور پر آپکے جسد خاکی کو مشہد لایا گیا اور حرم امام رضا (ع) کے احاطے میں دفن کیا گیا۔ اب یہ مقام رواق ِ شیخ بہائی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ رواق حرم کے جنوب مشرقی حصے میں دارالعبادۃ کے مقابل واقع ہے ۔ یہ رواق دس میٹر طویل اور اتنا ہی عریض ہے، جسکا فرش سبز مرمر سے تیار کیا گیا ہے۔ اور رواق کی چھت والی تین محرابوں کے نیچے شیخ کی مختصر سوانح اور آپکی تصانیف کو سنگ مرمر پر خط ثلث میں کندہ کیا گیا ہے، جبکہ آپکی ولادت و وصال کی تفصیلات قبر کے کتبے پر نوشت ہیں۔

اس منور و معطر ماحول میں اتنی جاذبیت تھی کہ میں محفل ِ دعا میں شریک ہو گیا۔ اتنی پرکشش قراءت اور حاضرین کی پرگریہ محویت نے مجھے بہت متاءثر کیا۔ کچھ ہی دیر میں دعائے توسل اختتام پذیر ہو گئی اور صاحب مسند اپنے مقام سے اٹھے تو میں بھی ان سے مصافحہ کرنے اٹھا۔ پاس جانے پر معلوم ہوا کہ وہ نوجوان انگلینڈ سے تعلیم حاصل کرنے ایران تشریف لائے ہوئے ہیں۔ مولانا صاحب سے رسمی سلام دعا کے بعد میں شیخ بہائی کی آرامگاہ کی جانب متوجہ ہوا۔ فاتحہ خوانی کی اور شیخ کی روح کو دو رکعت نماز کا ہدیہ ایصال کیا۔ معا” مجھے خیال آیا کہ کیا پراسرار ہستیاں ہیں یہ کہ چوبیس گھنٹے، ایک لمحے کے توقف کے بغیر یہاں قول ِ خدا اور معصوم کے علاوہ اور کچھ تکرار نہیں ہوتا۔ کیا ریاضتیں ہوں گی خدا کے ان بندوں کی کہ پہلوئے معصوم نصیب ہوا اور تاقیامت انکی آرامگاہیں بقعہءنور اور عشاق کے لیئے مرجع ِ خلائق بن گئیں۔ ایسا ہونا یقینا” انکے اعمال ِ خالصہ کی بارگاہ ِ ایزدی میں قبولیت کی دلیل ہے۔

میں واپس مڑ کر جانے لگا تو زائرہ کو بھی ایک کونے میں تلاوت کرتا ہوا پایا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ یہاں بیٹھی ہوگی۔ میں اس تک پہنچا تو وہ بھی مجھے دیکھ کر خوش ہوئی اور پہلا سوال جو اس نے مجھ سے کیا، وہ اس محفل ِ دعائے توسل کے متعلق تھا۔ وہ بھی مجھ جتنا ہی اس نوجوان قاری کی اثر انگیز تلاوت سے متاءثر تھی۔ رواق ِ شیخ بہائی کا ماحول اسقدر پرسکون اور موسم اسقدر معتدل تھا کہ یہاں سے جانے کو جی ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ یہاں پر مختلف خاندانوں کے تمام افراد ہی عبادات میں مصروف تھے، جن میں عورتیں، مرد، بزرگ اور بچے سبھی شامل تھے۔ خاندان کی سطح پر اتنا روحانی ماحول دیکھ کر مجھے رشک آنے لگا۔ کچھ عابدین تھک ہار کر کونوں میں لیٹے، نیند کی آغوش میں محو ِ استراحت بھی نظر آئے۔
ان لوگوں کو دیکھ کر مجھے بھی نیند کا احساس ہونے لگا۔ مگر آج کی رات سونے کے لیئے نہیں تھی۔ چنانچہ ہم اٹھے اور نیند کے جھونکوں کو ہوا کرنے اور تازہ ہوا کے چند جھونکوں سے لطف اندوز ہونے کے لیئے صحن میں آگئے۔ یہاں آئے تو سرد ہوا اپنی مخصوص رفتار میں جھوم رہی تھی۔ اس خنک ہوا کے ایک ہی جھونکے نے نہ صرف آتی ہوئی نیند کو رفو چکر کردیا، بلکہ بدن میں جھرجھری بھی پیدا کردی۔ رات کے دوبجے بھی صحن میں بالکل دن کے دو بجے کا سا سماں تھا۔ وہی ہل چل اور گہما گہمی۔ روشنی کے سینکڑوں مینارے صحن کو جگمگا رہے تھے۔ زائرین کی آمدورفت جاری تھی۔ خدام رنگین برش اٹھائے اپنی ڈیوٹی میں مصروف تھے۔ خاکروبان اپنے قد کے برابر کی جھاڑوؤں سے فرش کو مزید چمکانے میں مگن تھے۔ سردی کی شدت کو معمولی حدت میں تبدیل کرنے کی غرض سے ہم نے صحن میں ٹہلنا شروع کردیا۔ مخالف سمت میں چلتی ہوئی ہوا ہم سے مذاق کرنے لگی۔ اس مذاق کے جواب میں میں نے اپنی جیکٹ کے کالر میں سلی ہوئی ٹوپی کو نکال کر سر پر منڈھ لیا اور زائرہ نے اپنے اسکارف کو کس کر ہوا کے مقابلے کا مداوا کیا۔ اس سردی میں اس ٹہل کا لطف آج بھی ہمیں یاد آتا ہے اور دل اس وقت کو لوٹا دینے کی حسرت کرتا ہے۔ ہم نہ صرف ٹہل رہے تھے، بلکہ صحن کے مختلف گوشوں میں تصویر کشی بھی کررہے تھے۔ اسی اثناء میں اچانک سے ایک آواز آئی کہ "فوٹو نہ کھینچئے۔ یہاں فوٹو کھینچنا منع ہے۔" میں حیرت کے عالم میں اس آواز کی جانب متوجہ ہوا جو اسقدر نفیس اور شستہ اردو میں مجھ سے مخاطب تھی۔ مڑ کر جو دیکھا تو ایک معمر خادم ِ حرم ہماری جانب قدم آور تھے۔ میں بھی آگے بڑھا اور سلام کرکے ان سے مصافحہ کیا۔ عموما” کسی مقام پر اگر آپ کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو برا بھی محسوس ہوتا ہے اور احساس ِ شرمندگی بھی ہوتا ہے۔ مگر اسقدر احترام اور شائستگی کے ساتھ اپنی زبان میں ان صاحب سے حکم نامہ پا کر نہ صرف یہ کہ میں نے برا بھی نہیں مانا، بلکہ مجھے بہت بھلا محسوس ہوا اور خوشی بھی ہوئی۔ میں سب کچھ بھول بھال کر ان سے گفتگو کرنے لگا اور اتنی اچھی اردو کے متعلق ان سے سوال کیا۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی عمر کا ایک حصہ ہندوستان میں گزار چکے ہیں، جسکی وجہ سے انہیں اردو پر مکمل عبور حاصل ہے۔ دونوں فریقین کو ایک دوسرے سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے ہمیں کسی بھی مسئلے کی بجا آوری کے لئے اپنے مکمل تعاون کی پیشکش کی، جسکے جواب میں میں نے بجھے ہوئے دل سے انہیں بتایا کہ تمام مسائل حل ہوچکے ہیں۔ اب کوچ کا وقت ہے۔ یہ آخری چند لمحات ہیں، جن سے ہم اپنی روح کی سرشاری کا سامان کررہے ہیں۔ یہ جان کر انہوں نے ہم پر اعتماد کرتے ہوئے ہمیں فوٹو کھینچنے کی اجازت دے دی اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیئے ہمیں خداحافظ کہہ کر آگے کی جانب چل پڑے۔

ہم بھی ٹہلتے ٹہلتے صحن کو عبور کر کے باہر کی جانب آگئے۔ یہاں دیکھا تو بازار کی گہما گہمی ویسے ہی جاری تھی، گویا شام کا وقت ہو۔ ہم جاکر فٹپاتھ کی اسی منڈیر پر بیٹھ گئے، جس پر بیٹھنا اب ہمارا معمول بن چکا تھا۔ ہمارے سامنے فٹپاتھ پر عارضی دکانیں کھلیں ہوئی تھیں۔ زمین پر دریاں بچھائے جزوقتی کاروبار کرنے والے یہ جوان روزانہ رات کو اپنی اپنی دری بھر دوکان پر روزمرہ استعمال کی اشیاء بیچتے ہیں اور اپنے اہل ِ خانہ کا پیٹ پالتے ہیں۔

حرم ِ مطہر کے صحنوں کی اتنی طویل سیر نے ٹھنڈ کے اثر کو تو خاصا کم کردیا تھا، مگر سامنے والی بیکری سے اٹھنے والی خوشبودار بھاپ نے گرم گرم کافی پینے پر مائل کرہی لیا۔ میں اٹھا اور کافی کے دو کپ لے کر واپس منڈیر پر آکر بیٹھ گیا۔ خوب لطف لے لے کر آج آخری بار اس کافی کو پیا۔ اسی دوران ایک نابینا خوانچہ فروش ہم تک آیا۔ اسکے ہاتھ میں امام ضامن بنانے کے سبز پارچہ جات تھے۔ یہ اس مقدس دیار کا ایسا تبرک ہے جو ہر زائر اپنے ساتھ اپنے ہم وطنوں کے لیئے لے کر جاتا ہے۔ ہم ابھی تک اس سبز کپڑے کی طرف سے بے دھیان تھے۔ تب معلوم ہوا کہ اس نابینا کو ہماری جانب بھیجا گیا ہے۔ میں نے جلدی سے بڑھ کر ایک پارچہ خرید لیا اور اسکے بعد ضریح ِ مقدس ِ امام رضا (ع) اور جن جن زیارات پر اپنے اس سفر میں گیا، ہر ہر مقام سے اسکو مس کیا۔ وطن واپس آکر تمام احباب کو تبرکات کے ساتھ اس مقدس پارچے کا ٹکڑا بھی دیا۔ آج بھی اسکا بچا ہوا حصہ میرے پاس موجود ہے۔

کافی پینے کے دوران میری نظریں بار بار گنبد کی جانب منقلب ہوتی رہیں۔ اور میں اس حسین منظر کو اپنی آنکھوں کے رستے دل پر نقش کرتا رہا۔ ہم اٹھے اور ایک بار پھر دربار ِ محبوب کی جانب چل پڑے۔ یہ ہمارا مولا کے گھر میں اس بار کا آخری ورود تھا، سو اجازت حاصل کرتے وقت دل کی کیفیت بہت عجیب تھی۔ یہ دھڑکنے کی بجائے غوطے کھا رہا تھا اور چشم ہائے تر گویا چشمہءرواں بن چکی تھیں جسکی وجہ سے میری ہچکی بندھ گئی۔ میں نے اس وقت آخری بار پہلا قدم رنجا کیا اور پھر قدم بہ قدم حرم کی جانب ایسا بڑھا کہ کفشداری پر جا کر ٹھہرا۔ حدود ِ ضریح میں پہنچ کر حسرت بھری نظروں سے تادیر اس منبع ِ نور و قراءۃ العین سے آنکھیں چار کر کے اپنے دل کے سکون کا سامان کرتا رہا۔ زیارت تلاوت کی اور تمام مناسک بجا لایا۔

(یہاں قاریئین کی معلومات کے لیئے ایک بات عرض کرتا چلوں، جسکے بارے میں مجھے بھی بعد میں معلوم ہوا۔ قم میں زیر ِ تعلیم جناب تقی ہدایتی صاحب نے کسی ایسی مشکل کے حل کا طریقہ، علماء سے روایت کرکے تعلیم فرمایا، جو عقدہء لاینحل ہو چکی ہو اور حاجت روائی کی کوئی سبیل نظر نہ آتی ہو۔ ایسے میں مؤمن کو چاہیئے کہ امام رضا (ع) کی زیارت کو چلا جائے۔ مگر پہلے امام (ع) کے جد ِاعلٰی جناب عمران بن عبدالمطلب ابو طالب (ع) کی جانب سے اپنے اس فرزند ِ ذی حشم کی زیارت بجا لائے۔ تمام مناسک ادا کرے اور حرم کی حدود سے باہر نکل جائے۔ پھر دوبارہ سے اذن حاصل کرے اور اپنی ذات کی جانب سے زیارت کرے۔ زائر کا یہ عمل انشاء اللہ مشکل کو ایسے حل کرے گا، کہ گویا اس کا سرے سے وجود ہی نہ تھا)

رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو چکی تھی۔ میں ایک کونا تلاش کرکے مصلٰی پر جا کھڑا ہوا اور اُس نماز کی ادائیگی شروع کی، جو عبادتوں کی سردار نماز کی بھی سرتاج ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

:دیگر مضامین
(28.03.2011) سٹاک ہولم میں مسٹر اینڈ مسز اعجاز چو ہدری کی بیٹی ھُما کی شادی
(22.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 35ویں قسط
(18.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 34ویں قسط
(17.03.2011) اسلام آباد کی مرکزی امام بارگاہ میں امام حسن عسکری کا جشن ولادت
(16.03.2011) حیدرآباد دکن کے نامور شاعرخواجہ شوق کا طویل علالت کے بعد انتقال
(13.03.2011) مسجد زہرا فرینکفرٹ میں امام حسن عسکری کی ولادت پر میلاد کی محفل
(09.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 33ویں قسط
(08.03.2011) معروف شاعر سید اقبال حیدر کے بھائی سید انوار حیدر کی کراچی میں تدفین
(06.03.2011) معروف شاعر عزم بہزاد کا سوئم اتوار کو نارتھ کراچی میں ہوا
(01.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 32ویں قسط
(25.02.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 31ویں قسط
(23.02.2011) مانچسٹر اور بولٹن میں عید میلاد النبی کی پررونق تقریبات
(20.02.2011) صفدر ھمدانی کے بڑے بھائی اسد ھمدانی کا سوئم لاہور میں ہو گیا ہے
(18.02.2011) برلین میں خاتم النبین کے یوم ظہور کے سلسلے میں محفل میلاد کا انعقاد
(14.02.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 30ویں قسط
(13.02.2011) بھارت کے شہر لکھنؤ میں اہل تشیح نے ایام سوگ کے اختتام پر جلوس نکالا
(11.02.2011) معروف افسانہ نگار بیگم اختر جمال کا اسی برس کی عمر میں انتقال ہوگیا
(30.01.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 28ویں قسط
(29.01.2011)  نعت گو اور نعت خوان مظفر وارثی کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا
(26.01.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 27ویں قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں