
اس اذان ٍمسرت کو سُن کر پہلے تو شدید غصہ آیا لیکن اسکے بعد سے اب تک میں اتنی شاداں اور فرحاں ھو رھی ھوں کہ مسکراہٹیں سمٹ ھی نہیں رھیں کہ وطن عزیز کی سپریم کورٹ نے اعلان کیاھے کہ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے گریجویشن کی شرط امتیازی ھے اس لیئے اسے ختم کیا جاتا ہے۔
واہ دوستو دل کو سکون ھوا کہ اب ھم میں سے کوئی ایک دوسرے کو علم دوست ھونے کے طعنے نہیں دے سکے گا اور وہ دوست جن سے اپنی ڈگریوں کا ناز نخرہ سبنھالے نہیں سنبھلتا تھا وہ بھی بھی زرا ٹھکانے سے لگے ۔ اور تو اور بھائی بشیر اور مناً گامے ساجے اب پاکستان کی باگ ڈور سبنھالے گے ۔سپریم کورٹ تو اعلی عدالت ھے کیسے بھلا تفریق کرتی ۔یہ الگ بات کہ سپریم کورٹ کی نظر میں اب نہ کوئی بندہ ھے اور نہ کوئی بندہ نواز سب گامے ساجے رہ گئے جنہیں گریجویشن کی کوئی ضرورت نہیں ھے ۔
لوگو وہ پہلے کونسا پڑھتے تھے یا پڑھ پڑھ کر ڈگریاں لیتے تھے ، کسی نے خرید لی تو کسی نے اعزازی لے لی اور جو پڑھے لکھے تھے وہ تو ھم سب نے مل کر مار دیئے کہ میرے نزدیک انہیں گوشہ تنہائی میں ڈال دینا مار دینا ھی ھے اور تھوڑے بہت جو تھے وہ قتل ھو گئے ۔اب یہ غریب سپریم کورٹ کیا کرتی اُس کے پاس ایک یہی حل تھا پاکستان کو بچانے کا کہ کسی طرح سے تعلیم کو راستے سے ھٹایا جائے کہ بیکار راہ کا روڑہ بنی ھوئی تھی ورنہ حکومت سازی کے لیئے یہ زمین بہت ذرخیز ھے ساقی ۔۔۔اور ویسے بھی پاکستانیوں پر حکومت کرنے کے لیئے کسی قابل ڈگری یافتہ ھونے کی ضرورت ھی کیا ھے ۔بس اتنا آنا چاھیئے جس سے بینک اکاؤنٹ کا پتہ چلتا رھے اور زمینوں کا حساب کتاب ھوتا رھے ۔۔ارے بھائی یہ وہ کتاب نہیں جسے پڑھ کر عقل یعنی مت ملتی ھے بلکہ میں اُس کتاب کا زکر کر رھی ھوں جس کو کھاتہ بھی کہتے ھیں ۔

بس میں ھی ایک پاگل ھوں یا چند اور جو اٍس وقت بھی سوچ رھے ھوں گے کہ آخر ھمارے حضور اکرم نبی کریم کس کے لیئے فرما گئے تھے کہ “ علم حاصل کرو ، کیونکہ علم بوجہ خشیت ھے ، علم کی طلب عبادت ھے ، علم کا مزاکرہ تسبیح ھے ، بے علموں کو علم سکھانا صدقہ ھے ، مستحقوں میں علم خرچ کرنا تقرب ھے ، علم حرام حلال میں فرق کا نشان ھے ، دنیا اورعاقبت میں روشنی کا ستون ھے ، تنہائی میں مونس و غمگسار ھے اور پردیس میں رفیق ھے ، خلوت میں ندیم ھے ، راحت میں مصبیت کو بتانے والا ھے ، دشمن کے مقابلے میں ہتھیار اور دوستو میں زینت ھے اور پھر آخر میں فرمایا کہ علم سیکھو ، مجھ سے علم سیکھو ۔۔۔
ھمارے نبی اکرم کوکیا پتہ تھا کہ اٍس زمین پر ایسی قوم بھی ھو گی جسے یہ اعزاز حاصل ھو گا کہ وہ ننانوے فیصد مسلمان کا ملک ھو گا اور وہاں کی سب سے اعلی عدالت یہ کہے گی کہ ھمیں حکومت چلانے کے لیئے کسی پڑھے لکھے کی کوئی ضرورت نہیں ھے 
دوستو پاکستان میں ویسے ھی تعلیم کا بٹوارہ اُسی وقت ھو جاتا ھے جب مٹیرک کا امتحان دینے کے لیئے سایئنس اور آرٹ کو علیحدہ کر دیا جاتا ھے اور زہین فطین طلبہ اور طالبات سایئنس کے طرف چل دیتے ھیں اور باقی کے آرٹس میں اور آرٹس میں بھی سب سے نچلے درجے کے لوگ قانون کے شعبے میں اور یہی لوگ وکیل اور سپریم کورٹ تک پہنچتے ھیں حالانکہ بات اٍس کے بلکل برعکس ھے کسی بھی مقام کو حاصل کرنے کے لیئے لگن اور محنت چاھیئے ھوتی ھے چاھے جس میدان میں بھی ھو اور یہی تعلیم اُس کے رتبے اور پہچان کو ایک مستقل رنگ دیتی ھے اور جیسا کہ نبی اکرم نے فرمایا کہ تعلیم دشمن کے مقابلے کے لیئے ہتھیار ھے ۔۔۔ زرا سوچیئے کہ ھم اٍس ہتھیار کے بغیر دنیا کا مقابلہ کیسے کرینگے اور ستم دیکھیئے کہ یہ فیصلہ وہاں سے آیا ھے جو خود پڑھ لکھ کر اٍن مقاموں تک پہنچے ھیں ۔ھمارے نبی اکرم تو یہاں تک فرماتے تھے کہ “ میرے بھائی عیسی ابنٍ مریم نے بنی اسرایئل سے کہا تھا “لوگوں ! نا اھلوں کو حکمت نہ دو کہ یہ حکمت پر ظلم ھے اور اھلوں کو حکمت سے باز نہ رکھو کہ یہ اُن پر ظلم ھے “ ۔ یہ کیسا ظلم ھے جس کے نفاز کا اعلان آج ھوا ھے ۔۔اور سپریم کورٹ نے کیا ھے ۔
مجھے حیرت ھوتی ھے کہ کون لوگ تھے وہ جو لفظوں کے جوہر ڈھونڈنے میں اور کبھی ریاضی میں اعداد کا علم سیکھنے میں اپنے بیشں قیمت وقت اور دماغ کو تباہ کرتے رھتے تھے ، سیاست کو دین کی طرح پہلے سیکھتے تو پھر نبھاھتے تھے ، سیکھنے میں ملکوں ملکوں پھرتے تھے ، راتوں کو دیئے کی روشنی میں تو کبھی لیمپ پوسٹ کی میلی روشنی میں اپنے مقدر لکھا کرتے تھے ۔ کون تھے وہ لوگ ، کہاں رھتے ہیں ایسے لوگ مجھے اُن سے ملنا ھے اور بتانا ھے کہ ھم ھی ھیں وہ لوگ جن پر جاھل ھی حکومت کر سکتے ھیں کہ ھم نے ایک دوسرے کے خیر خواہ ھونے کا رول ادا کرنا چھوڑ دیا ھے اور سو باتوں کی ایک بات کسی کو اچھی لگے یا بُری ھم اپنے علاوہ کسی سے نہ تو محبت کرتے ھیں اور نہ ھی وطن وطن کھیلتے ھیں ، اور مجھے اُن علم شناس لوگوں سے معافی بھی مانگنی ھے کہ آپ ھمارے قابل نہیں تھے جو ھم کچھ آپ سے سیکھتے لہذا ھمیں تو آپ بخشیں اور اپنا ٹھکانہ کہیں اور ڈھونڈھیں کہ ھمارے پاس عقل بھی ھے فراست بھی ھے لیکن ھم استعمال نہیں کرنا چاھتے ۔۔ کیوں نہیں ۔۔ ؟ تو اٍس کا سادہ سا جواب یہ ھے کہ کون اتنی محنت کرے جب آسانی سے فیصلہ ھو گیا ھے تو آپ کو کیا ۔۔۔۔
اب ھم مولا علی کی طرح تو نہیں ھو سکتے کہ “ جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا ، میں اُس کا غلام ھوں ، وہ چاھے مجھے بیچے یا آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے “ ۔۔۔۔ غلام اور ھم ۔۔ بھلا ھو سپریم کورٹ کا جس نے سارا مسلہ ھی سلجھا دیا نہ سیکھو نہ غلامی کرو ۔۔ سکھ سے آنکھیں بند کر کے عقلوں پر تالے ڈال کر جیو مزے سےاور رج رج جیو ۔۔۔
ساتھیوایک اور انسان تھا نام تھا اٰس کا “ ایمرسن “ کہتا تھا کہ کسی ملک کی تہذیب کا صحیع معیار نہ تو مردم شماری سے لگایا جا سکتا ھے نہ بڑے بڑے شہروں کے وجود سے ، نہ غلے کی افراط سے ، اور نہ دولت کی کثرت سے بلکہ اٰس ملک کا معیار صرف یہ ھے کہ وہ ملک کس قسم کے انسان پیدا کرتا ھے “ ۔۔ لو ایمرسن جی آپ بھی سن لے کہ ھم لوگ جاھل حکمران اور پڑھی لکھی عوام بناتے ھیں۔ اگر وہ زندہ ھوتے تو یہ بھی لکھ بیجھتی کہ آپ کو کوئی اعتراض ھے ھمارا ملک جنگل جیسا ھے ۔ھم قانون بنائیں یا توڑیں آپ کو اٍس سے کیا ۔۔ آپ جیسے زہین لوگوں کا ایک یہ بڑا مسلہ ھے کہ فوراً کچھ نہ کچھ کہنے بیٹھ جاتے ھیں ۔ اب بھلا سکندر کو اپنے کتب خانے کا نام “معالج روحانی“ رکھنے کا کس نے کہا تھا ۔ اور تو اور جانے یہ کس نے کہ دیا تھا کہ “ ستارے آسمان کا زیور ھیں اور تعلیم یافتہ زمین کی زینت “ ۔
میرے اللہ میرے مالک یہ سپریم کورٹ کو نہ پتہ چلے ورنہ جو اقربا پروری میں اپنا فیصلہ دے بیٹھی ھے اُس پر پچھتانا پڑجائے گا اور سقراط کی طرح یہ نہ کہہ دے کہ “ انسان ھر وقت اور ھر عمر میں علم و ھنر حاصل کر سکتا ھے “
جبکہ سپریم کورٹ بھی یہ جانتی ھے کہ سقراط نے مسلمانوں کے علاوہ سب سے کہا تھا کیونکہ اگر اٰس نے سب کے لیئے کہا ھوتا تو ھم اپنے دین کی نہ سہی کم از کم اٰس کی بات ضرور مانتے اور یہ کہتے بقول حالی کہ علم اور عمل کے جسطرح اعداد برابر ھیں اٍسی طرح یہ ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ھیں ۔ ھمیں سیکھنے سے چوری ھے اٰس لیئے علم سے بھی ھے کہ عمل کے بغیر علم ادھورا ھے ۔ اور پھر علم کی دنیا کے تاجدار مولا علی نے کہا کہ‘‘ بے عمل کے ہاتھ میں علم ایسے ہے جیسے بچے کے ہاتھ میں تلوار‘‘۔
مجھے یہاں ایک عورت یاد آرھی ھے جو اٹھتر سال کی تھی ، ھلمٹ پہن کر سایئکل پر یونیورسٹی آتی تھی اور میرے ساتھ بیٹھ کر بنیادی سایئنس کی کلاسیں لیتی تھی اور خدا گواہ ھے کہ میں نے اٰس عورت سے علم دوستی سیکھی کہ ھمارے حضور نبی اکرم فرمایا کرتے تھے کہ “علم تو نورٍ الہی ھے جو گنہ گاروں او ربد بختوں کو نہیں دیا جا سکتا “ اور ھم سب جانتے ھیں کہ علم میں وہ سارے علم آجاتے ھیں جو بنی نوع کے فلاح کے لیئے ھو ۔
مجھے ایک ایسی تصویر بھی یاد آرھی ھے جو پچھلے ھفتے میرے کنسلٹنٹ نے تعلیم حاصل کرنے کی عمر بتاتے ھوئے مریض سمیت ھم سب کو دیکھائی تھی جس میں ایک بیاسی سالہ بوڑھا کنڈر گاڑدن کے بچوں کے ساتھ بیٹھا تعلیم حاصل کر رھا تھا اور اُس کے چہرے کی خوشی اور مسرت کسی معصوم بچے سے کم نہیں تھی اور میں وہ تصویر یاد کرتے ھوئے حیران ھو رھی ھوں کہ سپریم کورٹ جیسے اعلی ادارے ھی تعلیم کے ساتھ جب ایسا سوتیلہ سلوک کرینگے اور ھمیں ایسے انگھوٹا چھاپ حکمران دینگے تو ھم کس سے شکایت کریں گے ، کس کے پاس جا کر کہیں گے کہ ھمارے پاکستان کو تھرڈ ورلڈ کے گہرے کنویں سے کون نکالے گا ۔۔

اب یہ تو یہی بات ھو گئی کہ ایک گریجویٹ نے ایک بوڑھے وکیل سے پوچھا کی مجھے تعلیم کے بعد کونسا پیشہ اختیار کرنا چاھئیے ؟ کیا آپ کی پیشے میں ابھی کچھ گنجایئش ھے ، معمر وکیل نے جواب دیا “ ھاں اٍس پیشے کی نچلی منزل مکمل پُر ھے لیکن اوپر کی منزل میں ابھی بہت گنجایئش ھے “ کیا ھم پاکستانی یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ واقعی عدالت کی اُوپرکی منزل بلکل خالی پڑھی ھے ۔
ایک اور واقعہ اپنے گاؤں کا بھی یاد آیا کہ نمبردار فضل کریم کا بیٹا جب شہر سے وکالت کا امتحان پاس کر کے آیا تو اس کے دادا نے اس سے پوچھا کہ وہ کتنی جماعتیں پڑھ کے آیا ہے۔ اس نے دادا کو بتایا کہ ‘‘میں نے ایل ایل بی کی ہے اور اب وکیل بن گیا ہوں‘‘۔ دادا نے خوش ہو کر پوتے کی کمر تھپتھپائی اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے تلقین کی کہ‘‘ بیٹا اسی طرح محنت سے پڑھو اور اپنے سارے گاؤں کا نام روشن کرؤ اور اسی طرح ان میٹرک بھی کر لو‘‘اب میٹرک کی سند کے حامل اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں سے آپ اور کیسے فیصلے کی امید کر سکتے ہیں۔ مجھے تو اس وقت سے ڈر لگ رہا ہے جب یہ ہی سپریم کورٹ یہ فیصلہ دے کہ جج ہونے کے لیئے بھی کسی بی اے کی ڈگری کی کوئی ضرورت نہیں۔ ویسے اگر ایسا ہو بھی جائے تو کیا ہے کہ جب فیصلے ہر عہد میں حکمرانوں کی مرضی کے ہی آنے ہیں تو پھر تعلیم کی کیا ضرورت۔
میں بہت ھی دکھ سے لکھ رھی ھوں کہ جس گھر میں ایک آدمی بیمار ھوتا ھے اٰس گھر کے مکین بھی اداس اور دکھی ھو جاتے ھیں ، جس ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی جہالت جیسے مہلک مرض میں مبتلا ھوں وہ کیسے خوشحال ملک ھو سکتا ھے ۔
یہ فرمان بھی تو رسول اکرم کا ہی ہے نا کہ ظالم معاشرے میں تو رہا جا سکتا ہے لیکن بے عدل معاشرے میں رہنا خود ظالم کا ہی ساتھ دینا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ بے عدل معاشرے کون سے ہوا کرتے ہیں؟