چھتیسویں قسط کا اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو چکی تھی۔ میں ایک کونا تلاش کرکے مصلٰی پر
جا کھڑا ہوا اور اُس نماز کی ادائیگی شروع کی، جو عبادتوں کی سردار نماز کی
بھی سرتاج ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز ِشب کی جو اہمیت ہمارے راہبران (ع) نے بیان فرمائی ہے، اسکی روشنی میں یہ تمام نمازوں کے درمیان، چاہے وہ واجب ہوں یا سنتی، نفلی ہوں یا منتی ایک سرتاج کی مانند علیٰحدہ ہی نظر آتی ہے۔ اسی ضمن میں امام حسن عسکری (ع) کا ایک فرمان ہے،
"اللہ تک رسائی ایک ایسا سفر ہے، جو شب بیداری کے بغیر ممکن نہیں۔"
معصومین (ع) کو ان لطائف و حقائق کا مطلق ادراک تھا، جس کی بنا پر ان برگزیدہ ہستیوں سے اس عبادت کے قضا ہونے کا بھی شائبہ تک نہیں۔ حد یہ ہے کہ وقت ِ رخصت امام حسین (ع) نے اپنی خواہر ِ ذیشان جناب زینب (س) سے جو گفتگو فرمائی، اس میں سر ِ فہرست یہی بات تھی کہ بہن! نماز شب میں اپنے اس برادر کو یاد رکھنا۔ روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ تہجد گزار حضرات روز ِ محشر بلا حساب و کتاب پرواز کرتے ہوئے داخل ِ جنت ہوں گے، جس پر داروغہ ہائے جنت کو ان حضرات پر انبیاء و مرسلین کا شائبہ ہوگا۔ تاریخ سے بھی ہمیں ایسی بیشمار روایات ملتی ہیں جن میں شب بیدار مؤمنین نے ایسے ایسے کمالات حاصل کئے ہیں کہ احاطہءعقل میں بھی سمانے سے قاصر ہیں۔ زیادہ دور کی بات نہیں، اسی حرم کے ایک صحن کے ایک داخلی دروازے کے نیچے ایک صاحب ِ کردار ہستی مدفون ہے، جسکا نام آیت اللہ علی حسن نخودگی اصفہانی ہے۔ آپ ایک بلند پایہ عالم تھے، جنکا دور امام خمینی کے اساتید کا دور بنتا ہے۔ آپ کے والد چنے بیچ کر گزارا کیا کرتے تھے، جسکی وجہ سے انکا نام نخودگی، یعنی چنے بیچنے والا پڑ گیا تھا۔ بعد میں یہی لاحقہ آپکے اسم ِ گرامی کا بھی حصہ بن گیا۔ مگر علمائے کرام نے آپکے زہدوتقوٰی اور عبادت و ریاضت کی روشنی میں اس لاحقے کو حذف کرنے اور آپکو آیت اللہ حسن اصفہانی کے نام سے یاد کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ آپ نے امام رضا (ع) کو ایک مسند پر تشریف فرما خواب میں زیارت کیا تھا۔ آپ اتنے عظیم عابد ِ شب گزار تھے کہ صحابیءرسول جناب اویس قرنی (ر) کی سنت پر عمل پیرا ہو کر پوری پوری رات کو نماز کے ایک ایک رکن کے نام کیا کرتے تھے۔ مثلا” آج کی رات قیام کے نام، آج کی رات رکوع کے نام، آج کی رات سجدے کے نام وغیرہ۔ اور کامل شب اسی ایک رکن کی حالت میں محو ِ تسبیح گزار دیتے تھے۔ آپ سے متعلق ایک بہت مشہور واقعہ ہے کہ آپ نے ایک رات حرم ِ امام رضا (ع) کے کلید بردار سے درخواست کی کہ آج رات میرا ارادہ صحن ِ حرم میں نماز ادا کرنے کا ہے۔ آپ حرم کی چابی میرے حوالے کردیں، جب میں نماز سے فارغ ہوں گا تو چابی آپکے گھر دے جاؤں گا۔ کلید بردار نے مؤدبانہ عرض کیا کہ حضور سردی بہت ہے اور آج رات برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ آپ اتنی زحمت نہ فرمائیں۔ مگر وہ بضد رہے اور کلید بردار کو ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ وہ چابی انکے حوالے کرکے اپنے گھر کو چل دئے۔ اور آیت اللہ اصفہانی نے آجکی رات رکوع کے نام کردی۔ عین صحن کے بیچ میں تکبیر بلند کر کے اپنی عبادت میں مشغول ہوگئے۔ اسی دوران موسم بگڑ گیا اور شدید برفباری شروع ہو گئی۔ اسی طوفان کے شورو غل سے کلید بردار کی بھی آنکھ کھل گئی اور وہ پریشانی کے عالم میں آیت اللہ اصفہانی کی خبر لینے حرم کی جانب دوڑے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حرم کا صحن سفید چادر اوڑھے ہوئے ہے اور اسکے بیچوں بیچ ایک بندہءخدا حالت ِ رکوع میں ہے، جسکے اپنے پائے گھٹنوں تک برف میں غرق ہیں اور پشت پر بھی کئی بالشت برف جم چکی ہے، مگر اسکے لبوں پر سبحان ربیی العظیم کے کلمات ہیں۔ علی (ع) کا یہ غلام اپنے آقا کی سنت پر یوں عمل پیرا ہے کہ آقا کی نماز کے دوران جراحت ہوگئی اور خبر نہ ہوئی۔ یہاں یہ غلام ہے کہ برفانی طوفان میں بھی شوق ِ عبادت کی گرمی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
جس مقام پر آپ نے امام (ع) کو مسند پر تشریف فرما دیکھا تھا،وہ مقام زہن نشین کرلیا تھا اور جن مقامات پر مسند ِامام کے پائے مبارک تھے، انکی نشاندہی فرما کر وصیت کی تھی کہ عین اس مقام پر مجھے دفن کیا جائے۔ آیت اللہ حسن علی اصفہانی کی آرامگاہ آج اس مقام پر موجود ہے، جہاں تمام زائرین داخل ہوتے وقت چوکھٹ کا بوسہ لیکر محو ِ درود صحن میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ ہے مقام ایک عابد ِ شب بیدار کا۔ (سبحان اللہ)۔ خود میں نے بھی جب کبھی مشکلات کی حاجت روائی کے سلسلے میں علماء سے رجوع کیا تو ہمیشہ یہی نسخہءنماز ِ شب تجویز ہوا۔ الغرض یہ ایک ایسا وسیع موضوع ہے، جس پر ضخیم کتب موجود ہیں جو جید علما نے برسوں کی عرق زیزی کے بعد عوام الناس کی فلاح کے لئے تحریر فرمائی ہیں۔ میری اتنی بساط نہیں کہ اس عظیم عبادت پر لب کشائی کروں۔
میں تو عبادت کے ڈھنگ سے بھی نابلد تھا۔ اپنے تئیں جو اٹھک بیٹھک کرسکتا تھا، دل کے بہلانے کی خاطر بعنوان ِعبادت انجام دی۔ جو جو آباؤ اجداد زہن کی رسائی میں آسکے اور دیگر احباب جنہوں نے التماس ِ دعا کی تھی، سبکے لئے شکستہ زبان و قلب سے دعا کی۔ اب چونکہ رات بھی اپنے تکمیل کے مراحل میں داخل ہو رہی تھی اور صبح ِ صادق اسکی بساط لپٹنے کی منتظر تھی، سو میں نے سجدہءشکر سے سر اٹھایا۔ کھڑا ہوا اور اپنے محسن خوادہءرسالت کے حضور زیارت تلاوت کی۔ شہدائے کربلا پر سلام بھیجنے کے بعد جو اپنا رخ پھیرا تو اپنے دل کی اداسی کو سامنے ضریح ِ مقدس میں منعکس پایا۔ لبوں سے "السلام علیک یا غریب الغربا" کے کلمات کیا جاری ہوئے، میں اپنے آپے میں نہ رہا۔ وہی چیخ نکلی،جب پہلی مرتبہ اس ضریح کا جلال دیکھ کر اس حلق سے برآمد ہوئی تھی۔ میں بے قابو ہو گیا اور مجمع کو چیرتا ہوا ضریح کی جالی میں جاکر پیوست ہوگیا۔ میرے ہاتھ، بازو، رخسار اور صدر ضریح کی جالی سے متصل تھے اور میں بند آنکھوں سے زاروقطار محو ِ گریہ تھا۔ زبان بالکل بھی ساتھ نہ دے رہی تھی کہ آقا سے کچھ گفتگو ہی کرلی جاتی۔ ویسے بھی ایسے میں گفتگو تو اضافی ہوتی ہے۔ اور جب مخاطب بھی مدعا سے واقف ہو تو کیا کہا جائے۔ زباں خاموش، مگر دل میں اک دھوم مچی ہوئی تھی۔ ایسے میں میرا دل بھی صرف گریہ پر مائل تھا۔ کہہ رہا تھا کہ آج مجھے سبک کرڈالو۔ مجھے یہ یاد نہیں کہ یہ سب کچھ کتنی دیر جاری رہا۔ بس اتنا یاد ہے کہ اس دنیا میں اذان ِ صبح کی آواز واپس لے کر آئی تو میں نے آنکھیں کھولیں۔ آہستہ آہستہ اپنی مٹھیوں کو کھولا اور اپنے وجود کو یوں ضریح سے جدا کرنا شروع کیا کہ جیسے ململ کے کپڑے کو کیکر کی جھاڑی پر سے اتارا جارہا ہو۔ میری روح تو وہیں رہ گئی اور میں اپنے بیجان بدن کو گھسیٹتا ہوا چند قدم پیچھے ہٹا اور چوکھٹ کے اس مرمریں پتھر پر جاگرا، جہاں اپنی پہلی آمد پر اور ہمیشہ عرفا کو بوسہ کناں دیکھا تھا۔ جی بھر کے اپنے پورے جہرے کو جنت کی اس چوکھٹ سے آشنا اور اسکی خاک سے آراستہ کیا۔ کھڑے ہو کر دروازے کے بوسے لیئے اور درودیوار سے اپنے ہاتھوں کو مس کرتا ہوا الٹے پیروں چلنا شروع کیا۔ اذان ِ فجر اپنی روحانیت کی انتہاؤں میں جاری تھی اور میں ہر ہر کلمے کے ساتھ ضریح سے بتدریج دور ہوتا جارہا تھا، کیونکہ نماز ِ صبح صحن میں ادا کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ دالان کے آخری سرے پر پہنچ کر میں ایک لمحے کو رکا اور بجھے ہوئے دل اور رندھی ہوئی آنکھوں سے اپنی اس کشتیءنجات کا دیدار ِ آخر کیا۔ اب سوائے باہر نکل جانے کے اور کوئی چارہ نہ تھا، سو میں اپنی آنکھوں کی پتلیوں کے زریعے قرطاس ِ قلب پر وہ حسین، مگر اداس منظر نقش کئے صحن میں چلا آیا، جہاں صفیں بچھانے کا کام وہ غلمان ِخلد کرچکے تھے۔ صبح ِ صادق کا اندھیرے اور اجالے کا امتزاج ماحول میں عجیب سی روحانیت بکھیر رہا تھا۔ میں حونقوں کی مانند کبھی اطراف کو دیکھتا تو کبھی آسمان کی جانب۔ نمازی حضرات صفوں پر پھیلتے جارہے تھے اور خادمین ِ حرم اسی طرح محو ِ خدمت تھے، جو انکا ہمیشہ کا شعار تھا۔
اسی دوران نماز ِ صبح کی ادائیگی کا اعلان ہوا اور آیت اللہ شیرازی گلدستہءنماز پر تشریف فرما ہوئے۔ "قد قامت للصلوۃ" کی صدا کے ساتھ نماز قائم ہوگئی۔ میرے واسطے سردی اپنے عروج پر تھی اور میں دیگر نمازی برادران کے ہمراہ کھلے آسمان تلے شاید اسی مقام پر قیام پذیر تھا، جہاں قریبا” ایک صدی قبل ایک عابد ِ بے مثل محو ِ رکوع تھا۔ مگر یہاں انیس بیس کا نہیں، زمین و آسمان کا فرق تھا۔ وہاں روح اپنی حرارت ِ عبودیت میں غلطاں تھی، جس نے جسم ِ خاکی پر موسمی اثرات کے محسوسات کے خلاف ایک ڈھال منڈھی ہوئی تھی۔ آج وہ پاکیزہ روح اعلٰی علییین کے ہمراہ باغات ِ فردوس میں ہوگی اور اسکا جسد ِ خاکی میری بائیں جانب آسودہءخاک تھا۔ جبکہ یہاں یہ عالم تھا کہ پے درپے گناہوں کی وجہ سے روح خود ہی مجروح تھی، جسم کی حفاظت کیا خاک کرتی! معمولی سردی بھی تیر کی مانند گرم لباس کی دھجیاں بکھیرتی ہوئی جسم کے آر پار ہورہی تھی۔ پیر دوہری جرابوں میں لپٹے ہونے کے باوجود سن ہوچکے تھے جن میں سے زمین سے نکلتی ہوئی سردی پورے اعضائے بدن کو منجمد کیئے جارہی تھی۔ سرد ہوا نے رخساروں اور ناک کو سرخ کرڈالا تھا۔ چہار جا سردی، صرف ایک مقام پر احساس ِ حدت۔ اور وہ تھا قلب۔ یہ غیر معمولی اور عمومی قاعدے سے زرا ہٹ کر دھڑک رہا تھا۔ اسکی یہی دھڑکن گرم و نمکین آنسو تخلیق کرنے کے کارخانے کاکام کررہی تھی۔ وہاں تلاوت جاری تھی اور یہاں ایک نئی دنیا آباد تھی، جہاں معبود، آواز ِ عبادت، ایک عبد ِ گناہگار اور احساسات ِ ندامت تھے۔ یہ دنیا باقی جہاں سے منقطع اپنا ہی رنگ جمائے ہوئے تھی۔ میں اسی دنیا کی رنگینی میں کھویا رہنا چاہتا تھا مگر اس دنیا کو دوام حاصل نہ تھا۔ صرف دو رکعات میں یہ دنیا اپنی قیامت کی اغوش میں جا غرق ہوئی اور مجھے "السلام علیکم ورحمۃاللہ" کی صدا کے ساتھ اس دنیا میں واپس آنا پڑا۔ دل کرچی کچری ہوا جارہا تھا جب ذہن میں یہ خیال کوندتا تھا کہ عتبہء عالیہ میں اپنا مقدر سنوارنے کا یہ آخری موقع تھا، جو یوں ہی پل بھر میں گزر گیا۔ نماز تمام ہوئی اور میں دعا و مناجات میں مشغول ہوگیا۔ جی بھر کے دعائیں مانگیں اور نتیجہ اس مجیب الدعوات پر چھوڑ دیا، جس نے ہمیں صرف دعا کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ قبول کرنے اور اس قبولیت کے اثرات ہماری عقل و نگاہ کے روبرو پیش کرنے کا وقت بھی اپنی مرضی پر منحصر رکھا۔ میں پیشانی سجدہ گاہ پر ٹیکے کافی دیر تک اپنے مالک سے رازونیاز کرتا رہا۔ جب سر اٹھایا تو دیگر نمازی ادھر ادھر ہوچکے تھے، خدام صفیں لپیٹنے میں مشغول تھے، صحن کی برقی روشنیاں ویسے ہی روشن تھیں، جن پر آہستہ آہستہ صبح کا نور غالب آتا جارہا تھا۔ کچھ فاصلے پر میری منتظر زائرہ ٹہلتی ہوئی میری جانب آئی اور ایک تیر ایک سوال کے بہروپ میں میرے دل کے آرپار کردیا۔ سوال تھا، "چلیں؟" ان چار حروف کے سوال میں میری دنیا کی ویرانی کے تمام کلیئے مخفی تھے، جو اب ہر ہر قدم کے ساتھ آشکار ہوتے جارہے تھے۔
میرے پاس اب سوائے چل پڑنے کے اور کوئی چارہ ہی نہ تھا سو زمین پر بنے سنگ مرمر کے نقوش و نمونے دیکھتے ہوئے ہم نے کچھوے کی رفتار سے اپنے وجود کو گھسیٹنا شروع کیا اور جنت سے خروج کے سفر کا آغاز کیا۔اس پژمردگی کے عالم میں اطمینان اس بات کا تھا کہ یہ خروج خالی ہاتھ نہ تھا، بلکہ روح کے سینے پر بخشش، آبرو، وقار، عزت اور سرفرازی کے تمغے سجے تھے۔ دوسرے، جو کچھ ان چند دنوں میں وقفوں کے ساتھ مجھے مختلف درودیوار پر جلوہ نما نظر آیا تھا، اس نے میرے روحانی انبساط کو آسمانوں تک پہنچا دیا تھا۔ اسی اطمینان و انبساط نے میرے قدموں کو قدرے سبک کردیا اور میری چال میں باوقار تیزی آگئی۔ حرم ِ مبارک کے دونوں صحن میں نے اعزازات حاصل کرنے کی خوشی اور خارج از فردوس ہونے کے ملال کے درمیانی پل پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں عبور کئے۔ اب وہ مقام آیا، جہاں سے چند قدم کے فاصلے پر میرا جسمانی رابطہ جنت سے منقطع ہونے جارہا تھا۔ میں رک گیا۔ اور دھیرے دھیرے مڑ کر اپنی نظروں کو روضہءمنورہ کی جانب بلند کیا۔ اب جو منظر میری نظروں کے سامنے تھا، وہ اب تک کیئے گئے تمام نظاروں سے الگ دلفریبی سمیٹے ہوئے تھا۔
وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ۔ (اور صبح کی قسم جب سانس لینے لگے۔ التکویر - 18)
یہ وقت تھا صبح کے تنفس کا۔ اس نے غیرمحسوس انداز میں سانس لیا اور اس کا ہلکا ہلکا نور ابھر کر پہلے ہی سے روشن و منور روضے کا احصا کرنےلگا۔ میری نظریں اس دلنشین منظر میں گڑی ہوئی تھیں اور میں دنیا و مافیہا سے بے خبر نظارہء جنت میں کھویا ہوا تھا۔ اس منظر کی دلنشینی کو دور سے آتے ہوئے پرندوں کے ایک غول نے چار چاند لگادئے، جنہوں نے حرم کی حدود میں پہنچ کر اس قبلہ نما کا طواف کرنا شروع کیا۔ وہ یونہی اتفاقا” محو ِپرواز عام پرندے نہیں تھے، بلکہ انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ باقاعدہ گنبد کے گرد چکر لگا رہے تھے۔ اب یہ نہیں معلوم کہ خدائے حئی و قیوم کی کونسی مخلوق کبوتروں کے روپ میں اپنی مخصوص عبادت میں مشغول تھی۔ میں اس سحرانگیز منظر میں کھویا ہوا اس پہیلی کو بوجھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا کہ اچانک شہر بھر میں گونج جانیوالی باجوں اور نقاروں کی آزوازوں نے میرے اس خواب تو توڑا اور میں نے اپنے سر کو جھٹک کر عالم ِ حواس میں واپسی کی۔ سورج طلوع ہوچکا تھا اور وہ مخلوق بھی اپنی عبادت بجا کر اپنے اگلے ٹھکانے کی جانب چل دی۔ میں تھوڑا اور آگے کی جانب چلا اور فریم میں نصب اذن ِ دخول کی عبارت کو حسرت بھری نظروں سے دیکھا، کہ اب دخول نہیں خروج کا مرحلہ تھا۔ چار بوجھل قدم مزید بھرے اور حرم کے سرحدی پتھر پر آکر رک گیا۔ گردن جھکائے اداس نظروں سے ملائکہ کی گزرگاہ اس سرحد کو تکتا رہا۔ دل میں ہزار وسواس لوٹنے لگے کہ آئیندہ نجانے کب اس سرحد کو عبور کرنے کا اذن حاصل ہوگا۔ یہ کشمکش آہستہ آہستہ گریے میں تبدیل ہونے لگی اور ایک اشک آنکھوں سے برآمد ہوکر سیدھا اس سیاہ پتھر پر جا گرا اور ننھی ننھی چھینٹوں میں منقسم ہوکر وہیں فنا ہو گیا۔
اک اشک نکل آیا ہے یوں دیدہءتر سے
جس طرح جنازہ کوئی نکلے بھرے گھر سے
وہ اشک کیا تھا، گویا میرے بدن سے روح نکل گئی ہو۔ میرا جسم حرم ِ مطہر کی پاکیزہ سرحد پر ڈھیر ہو گیا اور میں اس پر ماتھا ٹیکے زاروقطار رونے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ آنسو دل کے بوجھ کو ہلکا کردیتے ہیں، مگر یہاں معاملہ بالکل برعکس تھا۔ کیونکہ یہ فراق کوئی معمولی درد نہ تھا۔ غم کی گرانی اسقدر ثقیل تھی کہ ان چند آنسوؤں میں اس زخم کو مندمل کرنے کی طاقت نہ تھی۔ میں نے اس پتھر کا بوسہ لیا اور ہمت کرکے اٹھنے کی کوشش کی۔ نظریں اٹھا کر گنبد کی جانب دیکھا تو وہ بھی گریہ کناں نظر آیا۔ ہوا چلنے کے باوجود علم خاموش تھا۔ وہ نور تو بکھیر رہا تھا، مگر اداسی کے عنصر کے ساتھ۔ میں نے ہاتھ اٹھا کر مولا کو سلام کیا۔ زیارت تلاوت کی اور خداحافظ کہہ کر خلد سے باہر نکل آیا۔
شہر کی سڑکیں دھل رہی تھیں۔ لوگوں کی آمدورفت جاری تھی۔ اخبار بیچنے والوں نے فٹپاتھ کی منڈیر پر اپنی اپنی دکانیں سجا رکھی تھیں۔ بیکری پر حرم جانیوالوں اور حرم سے باہر نکلنے والوں کا رش لگا ہوا تھا۔ یہ بیکری بھی زیارت ِ مشہد میں اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ کم ازکم میرے اس سفر میں تو یہ خاصی اہمیت کی حامل رہی۔ ہم دونوں ایک بار پھر آخری مرتبہ منڈیر کے ابتدائی سرے پر جا بیٹھے اور اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے لگے۔ ہمارے حصے کا چاکلیٹ دودھ ہمارے ہاتھوں میں پہنچ چکا تھا اور ہم اسے بادل ِ ناخواستہ حلق کے پار اتار رہے تھے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر ہم اپنے مقام سے اٹھے اور شہر کے ان گوشوں، جن سے زرا سی آشنائی ہو چلی تھی، سے الوداعی نظریں چار کرتے ہوئے اپنی عارضی قیام گاہ کی جانب چل پڑے۔ آج شہر میں خاموشی محسوس ہورہی تھی اور چوک میں ہمہ وقت اٹھکیلیاں کرتا ہوا فوارہ بھی بند پڑا تھا۔ عادتا” جب جیکٹ کی جیب میں ہاتھ گرم کرنے کی نیت سے ڈالے تو ہاتھ میں حرم کی سجدہ گاہ آگئی جو بھولے سے جیب میں ہی رہ گئی تھی۔ میں نے عقیدت کے ساتھ اس سجدہ گاہ کو اپنی اگلی حاضری تک دوبارہ اپنی جیب میں امانتا” رکھ لیا۔ آج بھی یہ سجدہ گاہ میرے پاس محفوظ ہے، جسے میں نے کسی بھی مشہد جانیوالے کے حوالے نہیں کیا کہ نیت اپنے ہاتھوں سے سپردِ حرم کرنے کی ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ اس نیت کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائے۔ آمین۔
مسافر خانے پہنچ کر میں نے انتظامیہ کے ساتھ حساب کتاب بیباق کیا اور ایک ملازم کو نو نجے تک ٹیکسی کا انتظام کرنے کو کہہ دیا کہ گیارہ بجے ہماری تہران کے لیئے پرواز کا وقت مقرر تھا۔ کمرے میں پہنچ کر سامان سمیٹا اور غسل اور تبدیلیءلباس کے مراحل سے گزر کر ہم کوچ کے لیئے حتمی طور پر تیار ہوگئے۔ کمرے سے نکلتے ہوئے آخری بار اپنی اس عارضی قیام گاہ کا جائزہ لیا اور استقبالیئے پر آکر سامان رکھ دیا۔ انتظامیہ اور دیگر حضرات سے الوداعی ملاقات کی اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ائیرپورٹ کی جانب چل دئے۔
ٹیکسی جب گلیوں سے نکل کر شاہراہ پر آئی تو میری نظریں آخری بار روضہءمنورہ کی جانب مرکوز ہو گئیں اور میں ٹیکسی کے ہر موڑ کے ساتھ اپنی گردن کو موڑ کر اس سے بصری رابطہ متصل رکھنے کی کامیاب کوشش کرتا رہا۔ جب ٹیکسی شاہراہ ِ صفوی پر آکر دوڑنے لگی تو روضہ ہماری پشت کی جانب آگیا۔ میری گردن مکمل طور پر روضے کی جانب مڑی ہوئی تھی اور میں ڈوبتے دل کے ساتھ روضے کو بغیر پلک جھپکے نظارہ کرتا جا رہا تھا۔ دن مکمل طور پر چڑھ چکا تھا، مگر آج اس میں وہ چمک نہ تھی، جو مشہد کے دن کی خاصیت ہے۔ روضہ اپنے کامل نور کے ساتھ جگمگا رہا تھا، مگر مجھے اس میں اپنے دل کی اداسی کا عکس نمایاں نظر آیا۔ میں دوڑتی ہوئی ٹیکسی کے ساتھ بتدریج اپنے معشوق سے دور ہوتا جارہا تھا اور اچانک سے ٹیکسی نے جو ایک موڑ مڑا تو میرا بصری رابطہ جنت سے ٹوٹ چکا تھا۔ میں پریشان ہوگیا اور گھبراہٹ کے عالم میں اس بچے کی مانند رونے لگا، جسے اسکے والدین اسکول کے پہلے دن اسکول کی سرحد کے پار تنہا روتا ہوا چھوڑ آئے ہوں۔ اس وقت میری تنہائی کا جو عالم تھا، اس سے میں ہی واقف تھا۔ سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہ تھا۔ مجھے راستے بھر پورا شہر مشد تمام تر رعنائیوں کے باوجود ویران نظر آیا۔ آدھے گھنٹے کی خاموش مسافت کے بعد ہم ہوائی اڈے پر پہنچ گئے۔ ضروری کاروائیوں سے فارغ ہو کر لاؤنج میں جا بیٹھے۔ میں جگہ چپ اور زائرہ اپنے مقام پر خاموش۔ کوئی دیکھے تو یہی نتیجہ اخذ کرے کہ دونوں میں کسی بات پر کوئی سنجیدہ جھگڑا ہوا ہے۔ مگر جو سانحہ ہمارے ساتھ ہو گیا تھا، کسی بھی نوعیت جھگڑا اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہماری پرواز کا اعلان ہوا اور ہم جہاز کی جانب چل دئے۔ جہاز نے جب سرزمینِ مشہد سے اپنا رابطہ منقطع کیا اور ہوا میں بلند ہوا تو خدا نے نظروں کو پاک کرنے کا ایک اور موقع فراہم کیا۔ روضہءمنورہ امامِ ثامن (ع) ایک بار پھر ہماری نظروں کے سامنے تھا، جو بادلوں کی سرحدیں عبور کرنے تک ہماری نظروں کو ضیا بخشتا رہا۔ ویسے تو مشہد تا تہران گھنٹے بھر کی مسافت ہے، مگر چونکہ یہ والی پرواز براستہ زابل تھی، تو اس نے تین گھنٹے لے لیئے۔

زابل ایران کے صوبہ بلوچستان سیستان کا ایک چھوٹا سا شہر ہے، جو مشہور ہامون جھیل کے کنارے واقع ہے۔ موسمی تغیرات کے باعث اب یہ جھیل عموما” خشک ہی رہتی ہے۔ شہر کو اسکا مشہور دریا، دریائے ہرمند سیراب کرتا ہے۔ یہاں مختلف قبائل بستے ہیں، جن میں میر، پہلوان، اربابی، سارانی، بارانی، فاخرہ، فقیری، دیوانہ، سنچولی اور رشکی مشہور ہیں۔ مرجعء اعلم حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی الحسینی السیستانی کا تعلق بھی اسی صوبے سے ہے۔ آپکی ولادت شہر ِ مقدس مشہد میں ہوئی تھی۔ آپکے جد ِ اعلٰی سید محمد اپنے دور کے شیخ الاسلام تھے، جنہیں شاہ حسین صفوی کی جانب سےتبلیغ و ترویج ِ دین کی خاطر سیستان میں تعینات کیا گیا تھا۔ زابل کی ایک اور وجہءشہرت، موسم گرما میں اٹھنے والے شمالا” جنوبا” طوفان ِ گردوغبار کی وجہ سے ہے، جو "باد صد و بیست روز"، یعنی ایک سو بیس دن تک چلنے والی ہوا کہلاتا ہے۔ زابل کے ہوائی اڈے پر موسم گرم نظر آیا۔ دل ویسے ہی بجھا ہوا تھا، سو محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے زابل میں چلنے والا ایک سو بیس روزہ غبار کا طوفان اپنے ہی دل میں اٹھ رہا ہے۔ مشہد سے چلے تھے تو جہاز خالی تھا۔ اور اب اس میں اس طرح سے مسافر بھرنا شروع ہوئے کہ گویا جہاز نہ ہو، کراچی کی کوئی بس ہو۔ خدا خدا کرکے ایک سو بیس دنوں پر محیط یہ آدھا گھنٹہ تمام ہوا اور جہاز نے اڑان بھری۔
شب بیداری اور غم ِ فراق ِ مشہد کے اثرات نے طبیعت کو خاصا مجہول کر دیا تھا۔ اس پر سفر کی طوالت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ پورا سفر بند اور کھلی آنکھوں کے ساتھ مشہد کی یادوں میں گزر گیا اور دوپہر دو بجے کے لگ بھگ ہم تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے پر اتر گئے۔ طبیعت میں ہنوز بے چینی اور اداسی کے اثرات تازہ تھے، سو یہاں پر بھی کسی چیز نے اپنی جانب متوجہ نہیں کیا۔ پورا راستہ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے سوائے مشہد کی یادوں کے اور کوئی بات نہ کی۔ اور اب عالم یہ تھا کہ ہم کاملا” وہاں سے جدا ہو چکے تھے۔ روح اور دل تو وہیں تھا، بس اپنے جسموں کی زندہ لاشوں کو اٹھائے تہران آگئے تھے۔ ائرپورٹ سے باہر آکر ٹیکسی کی اور چند دن قبل کی طرح اسی ائرپورٹ سے مہمان سرائے شاہ خراسان کی جانب چل دئے۔ ٹیکسی نے جب شاہراہ پر دوڑنا شروع کیا تو تہران کی سڑکیں اور گلیاں ہماری توجہات اپنی جانب مبذول کرکے ہمیں مانوسیت کا احساس دلانے لگیں۔ میرا دل کچھ کچھ اپنی جانب پلٹنا شروع ہوا۔ محسوس ہوا کہ تہران میں بھی مشہد جتنی نہ سہی، جلب کرنے کی کشش ضرور ہے۔ وہی پیچ و خم یاداشت میں تازہ ہونے لگے اور تھوڑی ہی دیر میں ہماری منزل آگئی۔ مہمان خانے پہنچ کر سب سے پہلے ہم نے داخلی دروازے کی بالائی جانب اپنی نظریں بلند کیں اور پھر ایک دوسرے کو فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ کر مولا کا شکریہ ادا کیا۔ اس منظر نے اداسی کے بادلوں کو چھٹنے کا اشارہ دیا کہ خوشخبری حاصل ہوچکی تھی۔ جب ہم نے گھنٹی بجائی تو ملازمین کا ایک غول ہمیں خوش آمدید کہتا ہوا اور مبارکباد دیتا ہوا امڈ پڑا۔ ہمارا سامان اٹھا کر ملازمین ہمیں انتہائی عزت و احترام سے استقبالئے تک لے آئے۔ وہاں بھی انتظامیہ نے اس انداز میں مبارکباد دی کہ مجھے بہت بھلا محسوس ہوا۔ یہاں ہماری بکنگ پہلے سے طے تھی۔ مگر مینیجر صاحب نے معذرت خواہانہ انداز میں بتایا کہ ہماری آمد کا وقت انہیں معلوم نہ تھا، سو ہمارا کمرہ کسی اور مہمان کو دے دیا گیا ہے اور ہمیں کسی اور کمرے میں ٹھہرانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ جلد ہی ہمارا اصل کمرہ اس میں مقیم فیملی کو کسی اور کمرے میں منتقل کرکے ہمیں لوٹا دیا جائیگا۔ ہمیں اس معاملے میں کسی بھی قسم کا کوئی تاءمل نہیں تھا، سو ہم کمرے کی جانب چل دئے۔ سہہ پہر کے تین بجے میں اس حد تک تھک چکا تھا کہ کمرے میں جاتے ساتھ ہی بستر پر دراز ہو گیا۔ آنکھیں تھکن اور نیند کے مارے بند ہوئی جارہی تھیں اور بعید نہ تھا کہ کسی بھی لمحے آنکھ لگ جائے۔ ابھی میں کروٹ لے کر تکیے میں منہ دئے آنکھیں موندا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے بڑبڑاتے ہوئے خود کلامی کی کہ یقینا” کوئی ملازم ہو گا جو چائے پانی کو پوچھنے آیا ہے۔ کون اس ظالم کو سمجھائے کہ ابھی کسی چیز کی چنداں ضرورت نہیں۔ اسی عالم میں میں نے بددلی سے دروازہ کھولا۔ سامنے دیکھا تو خوشی کے مارے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے