شامل وجود آپ کا میرے وجود میں . از۔ صفدر ھمدانی 25.04.2011, 12:16am , سوموار (GMT+1)
صفدر ھمٰدانی
مولائے متقیان،باب العلم امیر المومنین علی ابن ابی طالب کا ارشاد گرامی ہے کہ موت زندگی سے زیادہ بڑی حقیقت ہے۔ اس ایک قول مرتضوی نے فلسفہ حیات وموت کی ساری گتھیاں سلجھا دی ہیں۔ لیکن انسان ایسا اپنی ناک تک دیکھنے والا ہے کہ وہ اس چند روزہ حیات کو ہی حیات سمجھتا ہے اور حیات ابدی کی طرف اسکی توجہ اس وقت جاتی ہے جب وہ وہ اپنے کسی پیارے کو زمین کی آغوش کے سپرد کر کے واپس گھر آ رہا ہوتا ہے۔
میں ابھی تین ہفتے پہلے اپنے باپ مقام سب سے بڑے بھائی اسد ھمدانی کے چہلم کے سلسلے میں جب لاہور گیا اور فاتحہ کے لیئے مومن پورہ کے شہر خموشاں میں داخل ہوا تو تا حد نظر پھیلی ہوا قبروں کا شہر اس عارضی دنیا کا نوحہ پڑھتا سنائی دے رہا تھا۔ منوں مٹی کے نیچے سوتے ہوئے لوگوں کا ایک ایسا شہر جو انسان کے ہونے سے نہ ہونے تک کی ساری داستان بیان کرتا ہے۔
آج سے31برس قبل 21 اپریل 1980 میں ایسی ہی ایک سہ پہر تھی جب ہمارے تمام احباب و عزیز اورہم چاروں بھائی اپنے فقیر منش والد مصطفٰیٰ علی ھمدانی کو سپرد خاک کر رہے تھے اور اب 3عشروں کے بعد اپریل د2011میں ایک بار پھر جب میں اپنے والد مرحوم کی قبر پر پہنچا تو یہاں میرے والد،والدہ، بھائی مرتضٰی ھمدانی،تایا،خالہ اور دیگر اہل خاندان کی قبروں میں ایک اور قبر کا اضافہ ہو چکا تھا جس کی لوح پر ‘‘اسد علی ھمٰدانی‘‘ کا نام تحریر تھا۔ میرے آغاجان کے ساتھ انکے دونوں بڑے بیٹے شانے سے شانہ ملائے سو رہے تھے۔میں اپنے بڑے بھائی مجتبیٰ ھمدانی کے ہمراہ کچھ دیر قبروں پر رہا،فاتحہ پڑھی،پھول ڈالےمقبروں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا،والد،والدہ اور بھائیوں سے باتیں کیں اور پھر واپس اسی دنیا میں آ گیا جو سب سے زیادہ ناپائیدار اور عارضی دنیا ہے اور اسی دنیا کی خاطر ہم رشتے ناطے بھول جاتے ہیں،ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں،سگے بہن بھائی اس دنیا کی لالچ میں ایک دوسرے کو جیتے جی خیر باد کہہ دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں جاتے وقت اس دنیا کی کوئی ایک شے بھی ساتھ نہیں جائے گی۔ یہ وہ دنیا نے جہاں سے دارا و سکندر بھی خالی ہاتھ ہی گئے تھے۔
میرے والد کو مجھ سے بچھڑے ہوئے آج 21 اپریل 2011 کو پورے 31 برس یعنی تین عشرے گزر گئے ہیں لیکن ان تین عشروں میں وہ مجھے کبھی بھی خود سے الگ محسوس نہیں ہوئے۔ میرے ادبی، صحافتی،نشریاتی،گھریلو اور فکری گویا ہر محاذ پر وہ آج بھی میرے ساتھ ہیں۔ ان کا سچ بولنے کا سبق، ادب میں خیانت نہ کرنے کا درس،نشریات اور صحافت کو اپنے ایمان کی طرح پاکیزہ رکھنے کے اصول،گھریلو زندگی کو کامیابی سے گزارنے کے راز، ان سب میں سے کچھ بھی تو مجھے نہیں بھولا۔
مجھے یاد ہے اپنے آغا جی کی برسی پر ہی گزشتہ برس میں لکھا تھا کہ ‘‘ایرانی النسل مصطفیٰ علی ھمٰدانی کو ہم ایرانی روایت کے تحت گھر میں ‘‘ آغا جان‘‘ ہی کہا کرتے تھے اور اسی روایت کے تحت سب سے بڑا بھائی آغا دداش اور اس سے چھوٹا گُل دداش کہلاتا تھا۔ آغا جان چاہے ایک باپ کی شکل میں ہوں یا ایک استاد کی شکل میں، ایک دوست کی صورت میں ہوں یا ایک دانشور اور ماہر لسانیات کی صورت میں، وہ ایک شش جہت شخصیت ہر روپ اور ہر شکل میں منفرد اور یگانہ روزگار تھی۔
’’پاکستان کی تاریخِ نشریات کا اولیں باب ‘‘مصطفی علی ھمٰدانی(مرحوم)۔21 اپریل اُسی تاریخی شخصیت کی برسی ہے جنہوں نے 21،اپریل 1980 میں لاہور میں انتقال کیا تھا.21اپریل ہی مفکر اسلام اور شاعر فکر وفلسفہ علامہ اقبال کا بھی یوم وفات ہے اور یہ عجب اتفاق ہے کہ عاشق اقبال نے اپنی رحلت کی تاریخ بھی یہی انتخاب کی۔
میری والدہ مرحومہ ذکیہ خانم
روئے زمین پر خلاق موت و حیات نے جتنے رشتے تخلیق کیئے ہیں ماں اور باپ کا رشتہ دنیا کے تمام رشتوں سے افضل و اعلیٰ اور سب سے بڑھ کے بلا مفاد کا رشتہ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ماں باپ ظاہری طور پر بچھڑ جانے کے باوجود بھی اپنی اولاد کی روح ،دل کی دھڑکن اور جسم کی نس نس میں رواں خون میں سمائے رہتے ہیں.انسان جب خود ماں باپ بننے کی منزل پر پہنچتا ہے تو اسے اس رشتے کی حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ کس طرح ایک ماں ایک ننھے منے چوزے کی طرح اپنے بچے کو اپنی محبت کے پروں کے نیچے محفوظ رکھتی ہے اور کیسے اپنے منہہ کا نوالہ اپنے بچے کو کھلا کر خود کو شکم سیر ظاہر کرتی ہے اور کیسے خود رات رات بھر جاگ کر اپنے سوتے ہوئے بچے کو سوتادیکھ کر ہی اپنی نیند پوری کر لیتی ہے۔
اسی طرح یہ بھی ایک سچ ہے کہ کوئی بھی باپ اپنی اولاد کے لیئے کیسا محبت بھرا دل رکھتا ہے اور اپنی اولاد کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیئے کیسے رات کی خاموشی اور تنہائی میں اپنے خلاق سے رو رو کر دعا کر رہا ہوتا ہے۔ کیسے ایک باپ اپنی اولاد کی محبت اور اصولوں کے درمیان رہتے ہوئے شفقت پدری اور باپ کی تربیتی نگاہ کی میزان پر پورا اتر رہا ہوتا ہے۔
میرے والد مصطفی علی ھمٰدانی(مرحوم) چونکہ ایرانی النسل تھے اس لیئے وہ ساری تہذیب اور علمی و ادبی ورثہ انکو اپنے بزرگوں سے تفویض ہوا تھا جس کی انہوں نے تا دم آخر حفاظت کی۔ اور اسی ورثے کو یوں تو اپنی ساری اولاد میں تقسیم کیا لیکن شاید یہ مقام شکر اور اعتراف احسان ہے کہ انکا ادبی،تہذیبی اور فکری ورثہ مجھے نصیب ہوا اور شکر ہے خلاق لوح و قلم کا کہ اپنے تئیں میں نے اپنے والد مصطفی علی ھمٰدانی(مرحوم) کے اس ورثے کے ساتھ ساتھ انکے قلم اور مائیکوفون کے ورثے کو ایک امانت کے طور پر اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور میرا انکی روح سے یہ وعدہ ہے کہ تمام تر دنیاوی اور معاشرتی دباؤ کے باوجود میں انکی اس امانت کا صائب امین رہوں گا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم سب بہن بھائیوں سے انکا تعلق ایک بہت اچھے دوست کا سا تھا لیکن انکی زندگی کے کچھ اصول ایسے تھے جن سے انہوں نے کبھی بھی مرتے دم تک انحراف نہیں کیا اور ان میں حق گوئی اور اصول پسندی سے لیکر زبان و بیان کی حرمت تک کے عناصر شامل ہیں۔
میرا نام میرے دادا کے نام پر ‘‘صفدر ھمٰدانی‘‘رکھا گیا جو ایران اور کوئٹے کے بعد لاہور میں مقیم ہوئے جہاں موچیدروازہ میں میرے والد جولائی 1909میں پیدا ہوئے تھے اور اسی لاہور میں 21اپریل 1980میں انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔
چار بھائیوں میں سب سے چھو ٹا ہونے کے ناطےمیرے والد نے مجھے پیار میں ‘‘گُل‘‘ کہنا شروع کیا جس کا مطلب فارسی میں پھول ہے اور پھر خاندان بھر اور محلے بھر میں ‘‘گُل ‘‘ ہی رہا کہ یہ میرے والد کا دیا ہوا نام تھا۔
مجھے یہ علم نہیں اپنے والد کا ‘‘گُل‘‘ ہونے کے ناطے کیا میں کوئی خوشبو زمانے بھر میں یا اپنے معاشرے میں پھیلا سکا کہ نہیں لیکن اپنے تئیں اس حوالے سے کم از کم اپنی نظروں میں سرخرو ہوں کہ میں نے اپنے والد کی جس عملی،ادبی اور پیشہ وارانہ وراثت کو سنبھالا تھا اسے ابھی تک پوری ایمان داری کے ساتھ نبھا رہا ہوں۔
اس علمی،ادبی اور فکری سفر میں کسی دھڑے سے منسلک نہ ہونے کے باعث اور اپنے اصولوں پر سختی سے کاربند ہونے کی وجہ سے مجھ جیسے شخص کو خود گھر اور گھر سے باہرجن مشکلات کا سامنا ہے اور رہا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے اب یہ احساس اور شدت سے ہوتا ہے کہ میرے والد مصطفی علی ھمٰدانی(مرحوم) نے اس فکری اور اصول پسندی کی زندگی کے سفر میں جو مشکلات، مصائب اور تکالیف برداشت کی ہوں گی وہ کس حد درجہ کی ہوں گی کہ اصول پسندی اور سچ کہنے کی عادت کو تو عہد نبوی سمیت کسی بھی عہد میں پسند نہیں کیا گیا۔
میرے والد اس مشرقی مقولے کا جیتاجاگتا ثبوت تھے کہ ‘‘کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نظر سے‘‘ اور وہ ویسے بھی دیکھنے میں گویا شیر نر ہی لگتے تھے۔ میں یہاں مجبور سا ہو رہا ہوں کہ مجھے وہ الفاظ ہی نہیں مل رہے کہ میں انکا سراپا اسی طرح کھینچوں کہ جیسے وہ تھے۔
چھ فٹ سے زیادہ کا قد، سرخ و سفید چہرہ ،نہایت متناسب بدن اور سر پر مکی کے بھٹے کی طرح کے سنہری بال۔ اور اس پر طرہ یہ کہ میں نے جب سے ہوش سنبھلا انہیں نوے فیصد سفید لباس میں ہی دیکھا۔ اس چہرے بشرے کے ساتھ سفید لباس انکی شخصیت کو مزید نکھار دیتا تھا۔
وہ جس قدر عام زندگی اور پیشہ وارانہ میدان میں اپنے اصولوں اور نظم و ضبط کے پابند تھے اسی طرح روزمرہ کے معاملات میں بھی نظم و ضبط اس طرح کا تھا کہ عام لوگ اسے دیکھ کر حیرت زدہ رہتےتھے۔ اپنے ایک مقررہ وقت پر سونا،جاگنا،کھانا تناول کرنا،دفتر جانا اور پھر معاشرتی تقریبات پر دعوت نامے پر دیئے وقت پر جانا اور ننانوے فیصد کھانا کھائے بغیر واپس آنا۔
علمی،فکری،ادبی اور نشریاتی زندگی میں زبان و بیان،آواز اور تلفظ کے معاملے میں وہ اپنے وقت کے ریڈیو کے سربراہ زیڈ اے بخاری سے بھی مدلل بحث کر لیا کرتے تھے جبکہ ریڈیو کی ایک بڑی تعداد کا حوصلہ نہیں پڑتا تھا کہ وہ بخاری صاحب کی کہی ہوئی بات کو رد کر سکیں چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔
جہاں انہوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنا علمی اور ادبی ورثہ منتقل کرنے کے لیے ساری اولاد میں مجھےمنتخب کیا وہاں سارے بہن بھائیوں میں فقط مجھے ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ میری انکے ہاتھوں باقاعدہ پٹائی بھی ہوئی اور اپنی پوری حیاتی میں انہوں نے صرف ایک مرتبہ میری پٹائی کی جس کی حدت اور کسک آج بھی مجھے اپنی پشت پر محسوس ہوتی ہے تو جیسے دھوپ میں سائے جیسا سکون مل جاتا ہے۔
اس پٹائی کا بھی واقعہ یوں تھا کہ مرحوم دوپہر کو ایک بجے سے تین بجے تک سوتے تھے اور تین بجے اٹھ کر سہ پہر کی چائے پی کر اپنے بائیسکل پر ساڑھے تین بجے ریڈیو پاکستان لاہور کے لیئے روانہ ہو جاتے اور ریڈیو کے پرانے احباب کے مطابق گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ٹھیک چار بجے وہ ڈیوٹی روم میں موجود ہوتے تھے۔ دوپہر کو وہ خود تو سوتےہی تھے لیکن یہ سونے کا حکم سب بچوں کے لیئے بھی تھا۔ باقی بہن بھائی تو اس حکم کی تعمیل کرتے تھے لیکن میں اس حکم کی بغاوت کرتا تھا۔تھا نا ازل کا ہی باغی
نس نس میں میری شورِ بغاوت بھرا رہا اُس کی روایتوں سے بغاوت نہ ہو سکی
کچھ روز تک تو میں آنکھ بچا کر اور نہایت احتیاط سے دروازہ کھول کر نکل جاتا اور اپنے بچپن کے دوستوں کے ساتھ دوپہر میں گھر کے سامنے والی گراؤنڈ میں سخت گرمی میں کرکٹ کھیلتا اور آغاجان کے اٹھنے کے وقت سے پہلے آکر سونے کا ڈرامہ کرتا۔‘‘بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ‘‘ کے مصداق ایک دن دوپہر اسی طرح کرکٹ کھیلتے ہوئے گیند کو جو ہٹ لگائی تو گیند سیدھی اس کھڑکی پر لگی جس کے ساتھ رکھے ہوئے پلنگ پر آغا جی سوتے تھے۔اس زوردار ہٹ پرظاہر ہے وہ ہڑبڑا کر اٹھے اور جس لمحے وہ دروازے سے باہر نکل رہے کہ یہ دیکھیں کہ کیا ماجرا ہے تو عین اسی لمحے میں دروازے سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ بس اسی لمحے ایک بہت مختصر سے مکالمے کے بعد چھ فٹ سے زائد قد کے آغا جان نے مجھے اپنے دائیں ہاتھ سے اٹھایا اور اندر لا کر اپنے پلنگ پر پٹک دیا اور اچھی خاصی پٹائی بلکہ دھنائی کر دی۔ وہ تو بھلا ہو جنت مکانی ماں کا کہ انہوں نے ثالث کا کردار ادا کیا اور میری خطا معاف ہوئی۔
مجھے خوب خوب یاد ہے کہ میرے والد مرحوم نے اپنے پوری زندگی یا تو اپنی ریڈیو کی ملازمت کے ساتھ یا پھر اپنے اہلِ خاندان کے ساتھ گزاری. ایک عالم فاضل شاعر،ادیب،ماہر لسانیات اور تاریخی براڈکاسٹر ہونے کے باوجود نمود و نمائش اُن میں نام کو نہ تھی اور تمام زندگی علم و ادب میں گزارنے کے باوجود زندگی کے آخری ایام تک وہ خود کو طالب علم کہا کرتے تھے اور کسی سے کوئی لفظ پوچھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے. در اصل یہی پہچان ہے پڑھے لکھے اور صاحبِ علم انسان کی کہ وہ نخلِ ثمر بار کی طرح جھکا ہوا ہوتا ہے.
ان کی تمام زندگی یا تو کتابوں کے درمیان اور یاپھر اپنے گھر والوں کے درمیان گزری. زبان،بیان،الفاظ،تلفظ اور لہجے کے بارے میں انکے اصول،قواعد اور ضوابط اس قدر ثقہ ، مستند اور سخت تھے کہ اس دور میں شاید کوئی اس کا اندازہ بھی نہ کر پائے. اس بات کا اندازہ آپ صرف اس ایک امر سے کر سکتے ہیں کہ انہیں یہ بھی قبول نہیں تھا کہ کوئی انکایا انکے بچوں کا نام بھی غلط لے .
میں نے ماہ پارہ سے شادی کی خواہش کا اظہار جب ان سے کیا تو انہوں نے کسی قسم کا کچھ اعتراض نہ کیا بس اتنا کہا کہ ‘‘گل جی ماہ پارہ سے کہنا کہ وہ خبروں میں جَدو جِہد پڑھتی ہیں جبکہ صحیح لفظ جِدوجُہد ہے‘‘۔ گویا انکی ہونے والی بہو کا اپنے سُسر سے یہ پہلا رابطہ بھی درست تلفظ کی مناسبت سے تھا۔
اب جو اپنے آغا جان کے بارے میں لکھنے بیٹھا ہوں تو یادوں کا ایک سمندر ہے جو فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ انکو کو کھانے میں ماش کی دال،ماش کی دال کے بڑے،آلو اور مولی کی روٹی اور کدو پسند تھا۔ وہ حد درجے کےگوشت خور نہیں تھے لیکن بچوں کے لیئے گوشت ضرور لاتے تھے۔صبح اٹھ کر وہ خود سبزی گوشت لینے جاتے اور قدرے دیر سے اس لیئے آیا کرتے تھے کہ دوکانداروں کی ایک بڑی تعداد ان سے دن بھر کی خبروں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔ اس کے علاوہ بازار سے گھر آتے ہوئے وہ راستے میں پڑنے والے محلے کے گھروں میں وہ سب کی خیریت معلوم کرتے ہوئے آتے تھے۔ شاید اسی ملنساری کی وجہ تھی کہ انکے انتقال پر انکے جنازے کے بارے میں لاہور کے اخبارات نے لکھا تھا کہ یہ غازی علم الدین شہید اور حافظ کفایت حسین کے جنازے کے بعد دوسرا ایسا جنازہ تھا جس میں اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
انکے انتقال پر ملک بھر کے اخبارات کے علاوہ لاہور کے اخبارات،ریڈیو اور ٹی وی نے انکی نشریاتی زندگی کے بارے میں خصوصی پروگرام نشر کیئے اور کم از کم تین دن تک انکے احباب اور ہم عصر انکے بارے میں اخبارات میں لکھتے رہے۔ وہ عجیب قناعت پسند آدمی تھے اور سب سے حیرتناک بات یہ کہ انکا کوئی بینک بیلنس نہیں تھا۔ ہم سب بہن بھائیوں کو یاد ہے کہ وہ اکثر مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام یہ قول ہمیں بتایا کرتے تھے کہ ''اے بندے تو اُس سے کیوں مانگتا ہے جو خود مانگنے والا ہے اُس سے مانگ جو بن مانگے دیتا ہے''۔
اولاد کے لیئے تو ہر ماں باپ ایسی ایسی قربانی دیتا ہے کہ اگر اولاد کواسکا حقیقی ادراک ہو جائے تو وہ اپنے ماں باپ کو مرنے کے بعد حنوط کروا کے رکھ لے لیکن یہ عجب طرفہ تماشہ ہے کہ جب اولاد کو اسکا ادراک ہوتا ہے تو ماں باپ ساتھ چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ہم سب بہن بھائیوں کو یاد ہے اور انکے تمام احباب بھی اسکا ذکر کرتے ہیں کہ وہ چونکہ حد درجہ کے خوشخط تھے اس لیئے سکے والی پنسل یا قلم کے ساتھ یا پھر زیڈ کی نب کے ساتھ لکھا کرتے تھے۔ انکی سکے والی پنسل کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ اسے اس وقت تک استعمال کرتے تھے جب وہ انگلی کی ایک پور کے برابر رہ جاتی تھی۔ ایک بار شاید میں نے استفسار کیا کہ آپ اتنی چھوٹی پنسل کیوں استعمال کرتے ہیں تو انکا جواب تھا اس لیئے کہ تم بڑی پنسل استعمال کر سکو۔
آغا جان ہم بھائیوں کو انار کلی کی اسوقت کی سب سے بڑی دوکان کرنال شاپ سے جوتے لے کر دیتے تھے لیکن خود انکے جوتے میں ایک سے زیادہ جوڑ لگے ہوتے تھے۔
اتنی قلیل تنخواہ میں وہ کثیر اولاد کی پرورش اور تعلیم کے علاوہ اسی رقم میں سے اپنے عزیزوں کی مدد بھی کرتے تھے اور ایسے مستحق افراد کی مدد بھی کیا کرتے تھے جن کے بارے میں علم ہمیں انکی وفات کے بعد بھی اسوقت ہوا جب ایسے لوگوں نے خود آ کر ہمیں اس سے آگاہ کیا۔
آغا جان نے اپنی ملازمت کا غالب حصہ رات کی نوکری میں گزارا جسے ریڈیو کی اصطلاح میں''تیسری مجلس کی نشریات'' کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے وہ چار بجے دفتر پہنچتے اوررات بارہ بجے نشریات ختم کر کے گھر واپس آتے۔ یہاں ایک بات جو مجھے اب بھی اچھی طرح یاد ہے کہ رات کو گھر آنے کے بعد وہ اپنا کھانا بجلی کے ہیٹر پر خود گرم کرتے تھے اور انہوں نے کبھی بھی ہماری جنت مکانی ماں کو نہیں جگایا تھا۔کبھ ماں جی اس خواہش کا اظہار بھی کرتیں کہ وہ کھانا گرم کر دیں تو وہ انکار کر دیتے تھے۔
آغا جان کو سردیوں میں سخت سردی اور گرمیوں میں سخت گرمی لگتی تھی۔ گرمیوں میں کبھی کبھی وہ گھر میں''ریفرجیٹر'' کا دروازہ کھول کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ انکے دفتر کے ساتھی بتایا کرتے تھے پرانے ریڈیو اسٹیشن میں جو سر فضل حیسن کی کوٹھی میں لاہور کے گورنر ہاؤس کے عقبی دروازے کے ساتھ تھا ایک تالاب تھا اور آغاجان اناؤنسمنٹ کے دروان لمبے وقفے میں تولیہ باندھ کر اس تالاب میں بیٹھ جایا کرتے تھے۔شاید یہی وجہ ہے پیدا کرنے والے نے انکے انتقال کے لیے گرمی یا سردی کا موسم نہیں بلکہ بہار کے موسم کو منتخب کیا
اس عہدِ فراموش میں ہم نے کیسی کیسی شخصیت کو فراموش نہیں کر دیا۔ یادش بخیر مجھے اس وقت اردو ادب کی ایک بہت قد آور شخصیت کی یاد آئی ہے جنہیں بہت حد تک خود اہلِ اردو ادب بھی شاید فراموش کر چکے ہیں. جناب مختار صدیقی اردو غزل کا ایک باوقار نام جو لاہور ریڈیو پر ملازم تھے اور شاید بہت کم لوگوں کو یہ یاد ہو کہ ساٹھ کے عشرے کے اوائل میں جب پاکستان میں پہلا ٹیلی ویژن اسٹیشن لاہور ریڈیو کی عمارت کے احاطے میں ہی قائم ہوا تو جہاں اسوقت لاہور ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر آغا بشیر پی ٹی وی لاہور کے پہلے اسٹیشن مینجر مقرر ہوئے وہاں پہلے سکرپٹ ایڈیٹر مرحوم مختار صدیقی تھے.مختار صدیقی 1917 میں پیدا ہوئے تھے اور 1972میں انہوں نے وفات پائی تھی.
یہ وہ زمانہ تھا جب لوگوں میں پڑھنے اور سیکھنے کا رواج تھا اور اسی تناظر میں ایک مرتبہ لاہور ریڈیو کا ایک پروڈیوسر کوئی ایک لفظ پوچھنے مختار صدیقی کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ’’ حیف ہے کہ تم یہاں میرے پاس پوچھنے آئے جب کہ خود تمہارے پاس وہاں اردو،فارسی اور عربی کی چلتی پھرتی ڈکشنری مصطفیٰ علی ھمٰدانی صورت میں موجود ہے‘‘
لاہور علم وادب کا شہر تھا اور ایسے ہی علم و ادب کی صحبت کا اثر تھا کہ انہوں نے تلفظ کے معاملے میں اپنے ثقہ ہونے کا لوہا منوا رکھا تھا حتیٰ کہ ناصر کاظمی،مختار صدیقی اور سید عابد علی عابد جیسے اساتزہ بھی انہیں اس معاملے میں سند کہتے اور سمجھتے تھے.
سید علی الحائری
وہ کتنے ہی تاریخ ساز لوگوں کی طرح تشہیر سے دور رہے اسی لیئے ذرائع ابلاغ میں زندگی گزارنے کے باوجود انکے معدودے چند انٹرویو موجود ہیں.اپنی غیر مطبوعہ کتاب ‘‘ہم سفر‘‘ میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ ان تمام شخصیات کا ذکر کیا ہے جنکے ساتھ انہوں نے وقت گزارا اور ان میں قائد اعظم،علامہ اقبال،مولانا ظفر علی خان،ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر،امتیاز تاج،غلام رسول مہر، ناصر کاظمی،صادقین،شاکر علی،چغتائی،شورش کاشمیری،شمس العلما سید علی الحائری،کرشن چندر، فیص احمد فیض،ن۔م۔راشد،پطرس بخاری، زیڈ۔اے ۔بخاری،شوکت تھانوی،علامہ مشرقی،حفیظ جالندھری،تاجور نجیب آبادی،حافظ کفایت حسین،سید وقار عظیم،عبدالرب نشتر،جوش ملیح آبادی، راجند سنگھ بیدی ،صوفی تبسم،ڈاکٹر عبداللہ،علامہ علاؤ الدین صدیقی ، غازی علم الدین،محمد رفیع (گلوکار)،مولانا مودودی،جنرل سکندر مرزا،جنرل ایوب خان ،گورنر اختر حسین ،بڑے غلام علی خان ، استاد برکت علی،روشن آرا بیگم اور ایسی کتنی ہی شخصیات کا ذکر خاص انداز میں کیا ہے.
مصطفیٰ علی ھمدانی میرے والد تو تھے ہی لیکن قدرت نے انہیں تاریخ کا ایک ایسا اعزاز دیا تھا جو انکی وفات کے بعد ایک سے زائد لوگوں نے اپنے نام لگوانے کی کیسی کیسی کوشش نہیں کی اور اس مقصد کے لیئے اس عہد کے درباری تاریخ نویسوں سے کالم لکھوائے،بیانات جاری کروائے حتیٰ کہ تاریخ کو مسخ کر کے کتابوں میں بھی لکھوایا لیکن قدرت کے فیصلے کچھ اور ہی ہوا کرتے ہیں.
13 اور14 ،اگست 1947 کی درمیانی رات کو لاہور ریڈیو اسٹیشن سے آزاد فضا میں گونجنے والی پہلی آواز مصطفیٰ علی ھمٰدانی کی ہی تھی کہ جس نے عشروں سے آزادی کے منتظر لوگوں کو پیامِ آزادی سنایا.
ہم جس طرح اپنی تاریخ کے کتنے ہی ابواب کو محفوظ کرنے میں ناکام رہے ہیں اسی طرح تاریخ کا یہ باب بھی ہمارے حکمرانوں اور ریڈیو پاکستان کے اربابِ اختیار کی کم علمی اور بے اعتنائی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے.
میں نے انکی ادبی اور علمی زندگی کے وارث کے ناطے اور ایک بیٹے،ایک محقق،ایک قلم کار اور سب سے بڑھ کر نشریات کے شعبے کے ایک کارکن کی حیثیت سے اپنا یہ فرض انٹر نیٹ پر گزشتہ دنوں ایک قسط وار تحقیق میں پورا کیا ہے اور نہایت مدلل انداز میں تاریخ کے ان مستند صوتی اور تحریری حوالوں سے ایک طرف ان دروغ گو مدعیان کی قلعی کھولی ہے اور دوسری جانب اس تاریخ کو محفوظ کر دیا ہے۔
یہ عجب ایک طرفہ تماشہ ہے کہ حکمران یا ملکی انتظامی ادارے یا نشریات و ثقافت کی وزارتیں تو ہر عہد میں ایسی تاریخ کو محفوظ کرنے کے کام میں ناکام رہی ہیں لیکن افسوس تو ریڈیو پاکستان کے اس ادارے یا محکمے پر ہے کہ جس کو تاریخ کا یہ اولیں اعزاز ملا اور وہ خود اس کی مستند تاریخ کو محفوظ نہیں رکھ سکے جس کی وجہ سے کتنے ہی جعلی لوگوں نے مصطفٰی علی ھمٰدانی مرحوم کے انتقال کے بعد اس اعزاز کو اپنے نام لگوانے کی کوشش کی جن میں ایک پرانے اور ابن الوقت بیوروکریٹ ظہور آذر سے لیکر مرحوم فلم سٹار محمد علی کے ڈرامہ نگار بھائی ارشاد حسین بھی شامل ہیں۔
یہ سب غلط بیانیاں اور غلط معلومات کیوں در آئی ہیں۔
اسکی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ خود ریڈیو پاکستان نے یا پھر حکومت پاکستان اور وزارت اطلاعات نے ان تمام چیزوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جسکی وجہ سے جس کا جو جی چاہتا ہے کسی تحقیق کے بغیر لکھ دیتا ہے اور دوسرے ایک بہت بڑا ظلم 1965میں اسوقت ہوا جب لاہور ریڈیو سر فضل حسین کی گورنر ہاؤس کے عقب والی کوٹھی سے منتقل ہو کر ایبٹ روڈ پر اپنی نئی اور موجودہ عمارت میں آنا تھا کہ اس سے قبل لاہو ریڈیو کے متعین ہونے والے نئے اسٹیشن ڈائریکٹر اور ڈرامے کے مقبول پروڈیوسر شمس الدین بٹ نے ایک کمرے میں پڑے تمام پرانے ریکارڈ کو کوڑا کرکٹ قرار دیکر آگ لگوا دی اور اسی ریکارڈ میں لاہور ریڈیو کی پہلی رات کی نشریات کی وہ لاگ بُک بھی تھی جس میں مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی نے اپنے ہاتھوں سے یہ ساری تفصیل لکھی تھی۔
اس ریکارڈ کے ضائع ہونے کا واقعہ امریکہ میں مقیم براڈکاسٹر ابوالحسن نغمی صاحب نے خود مجھے سنایا اور یہ بھی بتایا کہ بٹ صاحب کو یہ بتایا گیا تھا کہ اس میں نہایت اہم ریکارڈ موجود ہے لیکن انہوں نے سب کی سُنی ان سنی کر دی۔
تا ہم ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں جب حنیف خان وزیر اطلاعات تھے تو مصطفیٰ علی ھمدانی نے انہیں بذات خود پہلی رات کی ان نشریات کی تفصیل لکھ کر بھیجی تھی لیکن عجب ستم ظریفی ہے کہ اسوقت بھی کسی نے اس تفصیل کو محفوظ نہ کیا جس کی وجہ سے آج یہ عالم ہے کہ ہر کوئی اپنا تانپورہ اور اپنی بانسری بجا رہا ہے۔
میں نے پہلے بھی ایک مرتبہ اسی ضمن میں لکھا تھا کہ‘‘مصطفٰی ھمٰدانی جہاں جا چکے ہیں ظہور آذر صاحب اور انکے حواریوں کو بھی جلد یا بدیر وہاں جانا ہے اور اس قادر مطلق کے عدل پر کسی کو شک نہیں۔ وہاں جھوٹ اور سچ کا فیصلہ بلاشبہ بائیسویں گریڈ یا وزیر و مشیر کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقت کی میزان میں ہو گا‘‘۔
جو قومیں اپنی تاریخ کو محفوظ نہیں رکھتیں انکی تمام تاریخ اسی طرح مخمسے اور تضادات کا شکار اور انکی آنے والی نسلیں راہ گم کردہ کی صورت حقائق سے ناآشنا رہتی ہیں۔کاش کسی کان،کسی ذہن اور کسی فکر تک فقیرِ شہر کی یہ آواز پہنچ سکے؟
ہاں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اس قوم نے اس تاریخی شخصیت کو بھلا دیا، فراموش کر دیا اس لیئے کہ بونوں کے معاشرے میں قد آور کا نام بھی زندہ رہنا کوتاہ قد لوگوں کے لیئے باعث فکر ہوتا ہے۔ پھر اکثر یہ بات بھی تقویت دیتی ہے کہ جس قوم نے بقول آیت اللہ سید طیب الجزائری اپنے محسن اور قائد ‘‘ محمد علی‘‘ کو بھلا دیا ہو وہ اولیں ناشر اعلان ِ قیام ِ پاکستان ‘‘ مصطفٰی علی‘‘ کو کہاں یاد رکھے گی۔
اس مرتبہ میں آغا جان کی برسی پر ان زیادتیوں کا ذکر بالکل نہیں کرنا چاہتا جو ریڈیو پاکستان کے چند ناعاقبت اندیش افسرا ن نے ان کے ساتھ کیں بلکہ یہ تاریخی حوالہ بھی میں نے صرف تاریخی حقیقت کو تازہ رکھنے کے لیئے لکھا ہے۔
اس بار بھی برسی پر میں نے صرف اُن آغاجان کو یاد کیا ہے جنہیں ہم سب آغاجان اور جو مجھے‘‘گُل جی‘‘ کہا کرتے تھے اور جن کا قلم اور مائیکرفون آج بھی میرے پاس امانت ہے اور مجھے اس امانتداری پر فخر ہے۔
اپریل 2011میں مومن پورہ کے قبرستان سے واپس لوٹتے ہوئے جانے کیوں مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ والد اور والدہ کی قبر کے ساتھ اسد اور مرتضیٰ کی قبر کے ہمراہ نہ جانے اگلا کتبہ کس کے نام کا ہو گا۔ موت تو برحق ہے اور مولائے متقیان علی ابن ابی طالب کے بقول زندگی سے بڑی اور اٹل حقیقت ہے تو پھر کہیں یہ کتبہ ‘‘صفدر ھمٰدانی ابن مصطفیٰ علی ھمٰدانی‘‘ نہ ہو۔
انسان کی حیات ہے بس ہست و بود میں شاہد جو آج ، کل ہوا شامل شہود میں ۔۔۔۔۔۔ سچ پوچھیئے حیات تحرک کا نام ہے پیغامِ موت لکھا ہوا ہے جمود میں ۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ ہی کے علمِ مسلسل کا فیض ہوں شامل وجود آپ کا میرے وجود میں ۔۔۔۔۔۔ سچ کا ملا ہے درس مجھے اپنے باپ سے ناکام ان کی طرح ہوں نام و نمود میں ۔۔۔۔۔ اک بار شب کی خامشی میں پڑھ کے دیکھئے صفدر عجیب کیف ہے پنہاں درود میں
میں اپنے تمام قارئین سے دست بستہ عرض کرؤں گا کہ وہ ایک سورئہ فاتحہ میرے والدِ مرحوم اور اپنے تمام مرحومین کے لیئے تلاوت کر کے انکی روح کو ایصال کر دیں. پروردگارِ موت و حیات ہم سب کے مرحومین کے گناہِ صغیرہ و کبیرہ معاف فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے(آمین)
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں