سینتیسویں قسط کا اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی عالم میں میں نے بددلی سے دروازہ کھولا۔ سامنے دیکھا تو خوشی کے مارے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے سامنے عاشق بھائی کھڑے تھے۔ میرے وہم و گمان کے دور پار کے کسی گوشے میں بھی نہ تھا کہ تہران پہنچ کر جس شخص سے سب سے پہلی ملاقات ہوگی، وہ ہمارا نیشاپور کے یادگار سفر کا ہمسفر ہوگا۔ اپنی دانست میں تو ہم لوگ مشہد میں ہی الوداعی ملاقات کر چکے تھے، سو یہاں انکی موجودگی حیرت اور خوشی کا باعث بنی۔ میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان سے معانقہ کیا اور اندر آنے کی پیشکش کی، مگر انہوں نے کھڑے کھڑے ہی اپنا مدعا بیان کیا اور بتلایا کہ انکی فیملی ہمارے مقرر کردہ کمرے میں قیام پذیر ہے۔ انکے لئے وہی کمرہ مناسب ہے، سو وہ مجھ سے اسی کمرے میں قیام کرنے کی درخواست کرنے کی غرض سے آئے تھے۔ انہیں بھی یہ معلوم نہ تھا کہ دروازہ کھٹکھٹانے پر میں برآمد ہوں گا۔ اس لیئے ان کے چہرے پر بھی حیرت و انبساط کے آثار نمایاں تھے۔

ہمیں اپنے موجودہ کمرے میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا، سو عاشق بھائی کو بے فکر ہونے کا اشارہ دے کر مغربین کے بعد تفصیلی ملاقات کی پیشکش کی۔ وہ خوشی خوشی رخصت ہوئے اور میں نے اپنے کمرے میں واپس آکر زائرہ کو ان کے متعلق بتایا تو وہ بھی خوش ہوئی۔ اتنے لمبے عرصے کی اداسی کے بعد ہم دونوں کے چہرے کچھ کچھ کھلنے لگے اور ہم آرام کرنے کی غرض سے اپنی اپنی مسہریوں پر دراز ہو گئے۔ ابھی بمشکل پانچ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ پھر سے دق الباب ہوا۔ میں نے دوبارہ بددلی سے بستر چھوڑا اور دروازہ کھولا تو اب کی بار مہمان خانے کا پاکستانی نژاد ایرانی ملازم مجتبٰی کسی بھی ضرورت کے لئے اپنی خدمات کی اخلاقی اور منصبی پیشکش لئے حاضر تھا۔ اسکو بطریق ِ احسن رخصت کرنے کے بعد میں سہہ بارہ بستر کی جانب لپکا۔ اب جو کروٹ بدلی تو کروٹیں ہی بدلتا رہا۔ مگر نیند ندارد! اتنی طویل بے خوابی اور سفر کی تھکان کے بعد نیند کا نہ آنا ایک عجیب سا مسئلہ تھا۔
بحر کیف میں اٹھا اور غسل خانے کی جانب چلا۔ یاد آیا کہ ظہرین کا قرض ابھی شانوں پر تھا، اسی لیئے روح بیتاب تھی اور جسم کو آرام نہیں مل رہا تھا۔ زائرہ کا بھی یہی حال تھا، سو ہم نے آرام کے باب کو بند کیا اور وضو کرکے ظہرین ادا کی۔ نماز کی ادائیگی نے طبیعت کو بشّاش کردیا۔ اب شدید طلب تھی چائے کی، مگر یہاں چائے کہاں! یہاں تو سیاہ قہوہ ہی دستیاب ہو سکتا تھا، جسکے لیئے جی قطعا” آمادہ نہ تھا۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ ابھی مجتبٰی اپنی خدمات کی پیشکش کرکے گیا ہے، اس سے کہہ کے دیکھتے ہیں۔ سواسکے پاس پہنچا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ اس نے بھی اثبات میں سر ہلا کر مجھے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا۔ تھوڑی دیر میں مجتبٰی بھاپ اڑاتی ہوئی چائے لیکر حاضر ہو گیا۔ ذہن میں خیال آیا کہ کاش چائے کے علاوہ کچھ اور ہی مانگ لیا ہوتا۔ پر دل نے فورا” ہی دماغ کی تصحیح کی کہ اس دیار میں کاش جیسی حسرتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہاں جو چاہو ملتا ہے، چاہے مانگو، یا نہ مانگو۔۔۔ معاملہ صرف ظرف کا ہے۔ دل اور دماغ میں یہی بحث جاری تھی اور تصور میں روضہءمنورہ جلوہ افروز تھا۔ میں روضے کی زیارت کرتا جارہا تھا اور ساتھ ساتھ چائے کی چسکیاں بھی بھرتا جارہا تھا۔ ابھی ہم چائے سے لطف اندوز ہو ہی رہے تھے کہ پھر سے دروازہ بجا۔ میں نے کہا کہ حد ہی ہو گئی ہے۔ ابھی تہران میں وارد ہوئے وقت ہی کتنا گزرا تھا اور ہم تھے کون جو بار بار دستک ہو رہی تھی۔ میں نے قدرے اطمنان کے ساتھ چائے کا گھونٹ بھرا، کپ میز پر رکھا اور اٹھ کر دروازہ جو کھولا تو خوشی دوچند ہو گئی۔ اس بار دروازے پر میرے اس سفر کا رہنما اور تاحیات میرے محسن کا درجہ پانے والا بندہءخدا، اصغر صاحب کی صورت میں کھڑا تھا۔ (یہاں اصغر بھائی کے ان چند دنوں میں احسانات کا تذکرہ ضروری ہے، جس سے گذشتہ صفحات میں تسلسل منقطع ہونے کے خدشے کے پیش ِ نظر صرف ِ نظر برتا گیا۔ ان تمام ایام میں ہمیں گھرسے خیریت معلوم کرنے کا فون موصول ہوا ہو نہ ہو، اصغر بھائی باقاعدگی سے بلاناغہ فون کرتے رہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ جہاں جہاں ہمیں جانا ہوتا تھا، اس مقام کے متعلق تمام معلومات بھی پیشگی فراہم کرتے رہے۔ خدا انکی توفیقات خیر میں اضافہ فرمائے۔ آمین۔) میں خوشی کے عالم میں آگے بڑھا اور سلام کرکے معانقہ و مصافحہ کیا اور انہیں اندر کمرے میں لے آیا۔ اب یہاں گرم گرم چائے کی محفل جم گئی۔ اصغر بھائی نے بتایا کہ وہ دوپہر میں بھی یہاں کا چکر لگا کر ہماری آمد سے متعلق دریافت کرکے گئے تھے۔ اب دوبارہ آئے تو معلوم ہوا کہ ہم لوگ پہنچ چکے ہیں تو استقبالیہ سے سیدھے ہمارے کمرے تک پہنچ گئے۔ ہمیں ایک مرتبہ پھر بالمشافہ مبارکباد دی۔ ہم دونوں بھی بیتابی سے مشہد کے متعلق انہیں بتانے اور اپنے احساسات ان تک منتقل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
میرے ذہن سے تو ایک لمحے کے لئے بھی روضہءمنورہ کا تصور محو نہیں ہوا تھا، اس لئے اس وقت بھی میں غم ِ فراق میں ڈوبا ہوا نم آنکھوں سے انہیں اپنی سرفرازی کےقصے سنانے لگا۔ وہ وقت بھی کتنا عجیب ہوتا ہے، جب آپ کسی تجربہ کار شخص کو اپنے نوآموز تجربے کے متعلق بتا کر فخر محسوس کررہے ہوتے ہیں، اور تجربہ کار استاد مسکرا کر آپکے تجربات پر مصنوعی حیرت اور خوشی کا اظہار کررہا ہوتا ہے۔ ہماری بھی کوشش یہی تھی کہ ایک ہی سانس میں سارا سفر ِ مشہد طے کرڈالیں اور ہمارا مخاطب بھی اسی انہماک سے ہمارے قصے سنتا چلا جائے۔ اصغر بھائی نے کئی مرتبہ زیارات کا شرف حاصل کرنے کے باوجود تحمل سے ہماری ساری باتیں سنیں اور چائے کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے ہم سے اجازت چاہی۔ چلتے ہوئے انہوں نے تھوڑی ہی دیر میں مغربین پر یہیں ملاقات کا وعدہ کیا اور رات کا کھانا کہیں باہر کھانے کی دعوت دے کر چلتے بنے۔
میں نے بھی بستر کو خیر باد کہا اور بعد از غسل لباس تبدیل کرکے اذان کا انتظار کرنے لگا۔ دن بھر کی جو رہی سہی تھکن تھی، آپ ہی کافور ہوگئی۔ میں اور زائرہ کمرے سے برآمد ہوئے اور تہران کی شام کانظارہ کرنے کی نیت سے باہر کی جانب چلے۔ دروازے سے باہر نکل کر سب سے پہلے اسکے بالائی جانب نظریں اٹھائیں اور اس منظر کی دلنشینی میں اپنے آپ کو کچھ لمحوں کے لئے غرق کر ڈالا۔ نادانستہ اور اذخود دل سے شکر ِخدا کے احساسات جنم لے کر زبان پر سبحان اللہ کے کلمات کا روپ دھارنے لگے۔ ہم خوشی کے عالم میں ذہن میں تصور ِ مشہد لیئے گلی سے بار نکلے۔ یہاں جس چیز نے نظروں کو سب سے پہلے اپنی جانب متوجہ کیا، وہ سامنے والی دیوار پر انتہائی خوبصورت رنگوں اور خطاطی میں لکھا ہوا شہید ِ محراب امام علی (ع) کا نماز سے متعلق ایک فرمان تھا۔ لکھا تھا، "نماز باران ِ رحمت ِ الٰہی است۔" یعنی "نماز خدا کی رحمتوں کی بارش کا نام ہے۔" نماز کے متعلق اپنے آقا کی اس حسین تشریح نے میرے قلب کو نماز کے لیئے مزید گرما دیا۔ میں تصور کرنے لگا کہ اگر کوئی شخص بارش میں کھلے آسمان تلے چلا جائے تو ناممکن ہے کہ اسکے جسم کا کوئی بھی حصہ پانی سے محفوظ رکھ سکے۔ مولا کے اس فرمان کے مطابق نمازی اور رحمت ِ خداوندی کے منبع کے درمیان ایک اٹوٹ اتصال ہوتا ہے۔ جو اس باران ِ رحمت میں شناور ہوجائے، اسے اور کیا چاہئے، مگر کاش ہم وہ نماز بھی ادا کرسکیں، جو ہمارا رب ہم سے چاہتا ہے اور جو ہمارے آقاؤں نے ہمیں تعلیم فرمائی ہے۔
اس قول کی خطاطی اور اسکے معنی کی دلنشینی کو سراہتے ہوئے ہم آگے بڑھے اور خیابان ِ عدالتخواہ پر آگئے۔ یہاں خزاں کی جانب بڑھتا ہوا تہران نظر آیا، جہاں فضا کی خنکی نے درختوں کی سبز خلعت کو سرخی مائل کرڈالا تھا۔ صرف تیز ہوا کا ایک جھونکا درکار تھا، جو ان زرد پتوں کو شاخوں سے جدا کرکے فنا کے گھاٹ اتار دیتا۔ ڈھلتی ہوئی اداس شام اور اس پر پھیلتے ہوئے اندھیرے کے ساتھ فضاؤں میں اذان ِ مغرب کی مسحور کن صدائیں گونجنے لگیں اور بندگان ِ خدا اپنے معبود کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لئے مسجدوں کی جانب دوڑنے لگے۔ ہم بھی واپس پلٹے اور اپنی قیام گاہ کی مسجد کی جانب چلے۔ ہمارے پہنچنے تک کافی سارے نمازی صف آرا ہوچکے تھے۔ نماز ِ مغربین کے بعد عاشق بھائی اور اصغر بھائی سے بھی ملاقات ہوگئی۔ میں نے دونوں کو باہمی تعارف بھی کروایا تو وہ دونوں حضرات بھی ایک ہی اصل سے متصل نکلے، یعنی دونوں خوجہ اثناءعشری ہونے کے ناطے ایک ہی آبائی علاقے سے تھے۔ اب کیا تھا، جو گجراتی میں باتیں شروع ہوئیں تو میں ایک اجنبی بن کر رہ گیا۔ وہ دونوں اپنی باتوں میں لگ گئے اور اصغر بھائی نے مجھے تیار ہو کر آجانے کا اشارہ دیا۔ میں کمرے کی جانب چلا اور زائرہ کو لے کر استقبالئے پر آکر بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں اصغر بھائی اور عاشق بھائی بھی ہم تک آگئے۔ عاشق بھائی نے ہمیں رخصت کیا اور واپسی پر اپنے یہاں چائے کی دعوت دی، جسے ہم نے بھی بخوشی قبول کرلیا۔ ہم تینوں باہر کی جانب چل پڑے ۔ رات ہوچکی تھی اور ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ یہاں مشہد کے مقابلتا” کم سردی تھی، بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ موسم ازحد خوشگوار تھا۔ اس ہلکی ہلکی خنک ہوا میں چہل قدمی کا اپنا ہی ایک لطف ہوتا ہے، جسے ہم نے بھی خوب ہی حاصل کیا۔ اب سوال وہ تھا، جسکا جواب کسوٹی والے بھی نہ بوجھ پائیں، یعنی کیا کھایا جائے؟ بہت غوروخوض اور بحث و تمحیص کے بعد اصغر بھائی نے ہمیں تہران کا ایک خاص الخاص پیٹزا کھلانے کی پیشکش کی ، جسے مجموعی اتفاق سے منظور کر لیا گیا۔ چلتے چلتے ہم مقررہ ریستوران تک پہنچ گئے اور اتنا لذیذ پیٹزا تناول کیا، جو کبھی پاکستان میں موجود اطالوی ریستورانوں میں بھی نہ کھایا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر ہم ایک دفعہ پھر فٹپاتھ پر ٹہلنے لگے اور اصغر بھائی کو مشہد سے متعلق وہ باتیں بتانے لگے، جو مسلسل ذہن میں کلبلا رہی تھیں۔ چلتے چلتے ہم اپنے اسی پسندیدہ پارک ِ شہر میں پہنچ گئے، جہاں تہران میں وارد ہوکر سب سے پہلی شام گزاری تھی۔ مگر چونکہ آج ہمارے ساتھ ایک گائیڈ بھی تھا، سو اس گائیڈ نے ہمیں پارک کے دوسرے حصے کی سیر کروائی‘ جہاں خوبصورت فوارے ماحول کے حسن کو چار چاند لگا رہے تھے۔ بچے کھیل کود میں مصروف تھے اور دیگر افراد زندگی کی شادابی سے اپنے حال کو اپنے مستقبل کے لیئے یادگار ماضی بنا رہے تھے۔ چلتے چلتے تھک کر ہم سب ایک بینچ پر بیٹھ گئے اور ہمارا میزبان پارک کے کیفے سے ٹھنڈی ٹھار آئس کریم ، جسے فارسی میں "بستنی" کہتے ہیں، لے آیا۔ وہ آئسکریم بھی کیا آئسکریم تھی، جسکا تصور آج بھی دہن کو تر کردیتا ہے۔ ہلکی ہلکی سردی میں یخ ترین آئسکریم نے ماحول کے لطف کو دوبالا کردیا اور ہم سب گویا منجمد سے ہوگئے۔ اس برف کو پگھلانے کی غرض سے میں نے خاموشی کو توڑا اور اپنی زیارات کے محرکات اور اعزازات پر مبنی گفتگو کا آغاز کرکے ماحول کو یکسر گرما دیا۔ منبر پر براجمان ایک مقرر کی مانند میں نے گویا مجلس سے خطاب کرنا شروع کردیا ور میرے دو سامعین خاموشی سے مجھے سننے لگے۔ میرے ایک جانب زائرہ، جبکہ دوسری جانب اصغر بھائی بیٹھے ہوئے تھے اور میں عشق ِ امام میں ڈوبا ہوا بولے چلا جارہا تھا۔ کس طرح میرے دل میں یہ خواہشات مچلتی تھیں۔ کیسے میں اولیاءاللہ (رح) سے ملاقاتوں میں خلفاءاللہ (ع) کی زیارات کی خواہش کیا کرتا تھا، کیسے میری ان خواہشات نے عملی جامہ پہنا۔ اور کیونکر مجھے اتنا بڑا اعزاز نصیب ہوا۔ اور آج جب میں خوشخبری پاکر سرفراز ہو کر لوٹ آیا ہوں تو اب میرے کیا احساسات و جذبات ہیں۔ جس وقت سے میں نے تہران کو مشہد کے لئے چھوڑا تھا، اس وقت سے اب تک کے اپنے تمام واردات ہائے قلبی کی داستان سنانے کے لئے کسی ایک مناسب سامع کی تلاش میں تھا اور اس وقت مجھے وہ سامع میسر تھا۔ شروع سے لیکر اب تک جو میں نے بیان کیا اور بالخصوص یہیں پر موجود زائر سرائے شاہ ِ خراسان کے صدر دروازے سے لیکر مشہد کے مختلف درودیوار پر جو کچھ میری نظروں کے سامنے آیا تو اصغر بھائی یہ سب جان کر حیرت زدہ ہوکر اپنے مقام سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بے یقینی کی کیفیت میں پوچھنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے!!!
میں نے یقین دلانے کے انداز میں دعوت دی کہ خود چل کر دیکھ لیں۔ چنانچہ ہم اٹھے اور تقریبا” دوڑتے ہوئے تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنی قیام گاہ تک پہنچ کر ہی دم لیا۔ اب جو اصغر بھائی نے نظریں اٹھا کر دروازے کی بالائی جانب دیکھا تو انکی کیفیت بھی کم و بیش وہی تھی، جو چند روز قبل عین اسی مقام پر میری اور زائرہ کی تھی۔ اصغر بھائی نے پھٹی ہوئی آنکھوں کے ساتھ گلے سے اللہ اکبر کی ہلکی سی صدا بلند کی اور عالم ِ حیرت میں کبھی اوپر تو کبھی نیچے میری جانب تکنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے