16.10.2026, 06:03am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

جی کو دھڑکا لگا تھا پل پل کا ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
27.04.2011, 01:02am , بدھ (GMT+1)

نگہت نسیم۔سڈنی

مجھے آج اپنی بی بی جی کی باتیں بہت یاد آرہی ہیں ۔۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ زندگی کے سارے رشتے بس دھڑکے ، اندیشے ہی ہوتے ہیں ۔۔ ۔۔ جب دادا جی کی وفات ہوئی تھی تو میں صرف دو برس کی تھی ۔ بی بی جی بتاتی ہیں کہ میں ان کی لاڈلی پوتی تھی اور میرا نام بھی انہوں نے یہ سوچ کر رکھا تھا کہ مجھے خوشبو کی طرح مہکنا ہے اور باد نسیم کی طرح ہر ایک کی سانس بننا ہے ۔ وہ مقامی اسکول میں ریاضی کے ماسٹر تھے ۔ تریسٹھ برس کی عمر میں برین ہیمرج سے اتنی اچانک وفات پاگئے کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔ بی بی جی بتاتی ہیں کہ جب انہیں ہسپتال سے گھر لے کر آئے تو میں ان سے لپٹ گئی تھی اور ہٹانے پر رو رو کر انہی کے پاس سو گئی تھی ۔ پھر اس کے بعد ہماری حویلی ویران ہو گئی ۔ گھر کے مکین دنیا کے مختلف کونوں میں بکھر گئے اور دادا جی کا پالتو کتا “ موتی“ ان کی جدائی میں مر گیا۔ کبھی کبھی بی بی جی کتے کی قسمت پر رشک کیا کرتی تھیں اور اس وقت میں ان کاکرب سمجھ نہ پاتی تھی۔

میری بی بی جی ساری عمر میرے ساتھ رہی اور مجھ سے صرف اس لئے پیار کرتی رہی کہ میں داداجی کی لاڈلی پوتی تھی ۔ وہ ان کا پیار نبھاہ رہی تھیں ۔ یہ کیسے رشتے ہوتے ہیں جنہیں کسی اقرار کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ دادا جی کے بعد میرے بڑے تایا جی محمد الیاس نے میری بی بی جی کا ہاتھ تھام لیا ۔ اسی طرح ایک روز بی بی جی کا یہ شیر بھی قسمت ہار گیا اور ایک دن ہسپتال گیا تو لوٹ کر نہیں آیا ۔ اس دن انہیں پتہ چلا کہ ان کا شیر تو ولی تھا جسے اپنی موت کی خبر تھی ۔ اسلئے جانے سے پہلے محلے کی مسجد میں چٹائی اور نہانے والا تختہ نیا خرید کر امام مسجد کو یہ کہہ کر دے گئے تھے کہ اتنابڑا محلہ ہے کوئی مر جائے تو ۔۔ پھر اور ان کے جنازے میں ہزاروں لوگ ایسے بھی آئے تھے جنہیں گھر کا کوئی فرد جانتا تک نہ تھا ۔۔ بڑے تایا جی کے جانے کے بعد میری بی بی کو جیسے دھڑکا سا لگ گیا تھا جانے کب کون بچھڑ جائے ۔ اس وقت سے وہ سارے رشتوں کو اسی نام سے یاد کرنے لگیں تھی ۔

وہ اکثر کہا کرتیں کہ دھڑکا ایک وہم کی طرح ہوتا ہے جو کبھی دل کاپلو نہیں چھوڑتا ۔۔ خدا سے خوش گمان نہیں رہنے دیتا ۔۔ میں ایسی نہیں تھی ربا پر میرا شیر گھر سے چلا گیا ۔۔ اب میں جی کر کیاکرونگی ۔ وہ تڑپ تڑپ کر ایسے ان کی یاد میں رویا کرتیں کہ پھر کوئی لفظ تسلی نہ بنتا تھا . چاچا سجاد ان کے پاؤں کے نیچے اپنے دونوں ہاتھ رکھتے تھے کہ ان کی ماں کے پیر زمین پر نہ پڑیں ۔ میرے ابا جی جب تک ان کے پاؤں نہ چومتے تھے انہیں نیند نہیں آتی تھی اور ہمیشہ کہا کرتے جو شخص اپنی ماں سے محبت کرتا ہے وہ ہر رشتے کو نبھاہ سکتا ہے ۔۔ وہ جو کچھ کما کر لاتے اسے بی بی جی کے آنچل میں ڈال دیتے تھے جسے بی بی جی بڑی محبت سے میری ماں کو دے دیتی کہ “ رقیہ بیٹی اسے سنبھال کر خرچ کرنا یہ میرے نسیم کی حق حلال کی کمائی ہے “ اور میری ماں نے کبھی ان کی حکم عدولی نہیں کی ۔ انہوں نے ایک ایسا بنک بنا رکھا تھا جہاں سے پورے خاندان کا خرچہ چلتا تھا اور کبھی کچھ کم نہ ہوتا تھا ۔۔

جب میری بی بی جی اللہ کو پیاری ہوئی تو میرے ابا جی آخری وقت تک ان کے قدموں سے لپٹے رہے ۔۔۔ روتے رہے ۔۔ پھر انہیں اپنے خاندان کو منتشر ہونے سے پہلے ہی پورے خاندان کی باگ دوڑ سنبھالنی پڑی اور امی جی کو پورے خاندان نے بی بی جی کی جگہ دے دی ۔۔اور یوں دھڑکا اگلی نسل میں منتقل ہو گیا ۔۔

میری شادی ہو چکی تھی ۔ میری ساس جنہوں نے مجھے ماں جیسا چاہا ۔۔مان دیا ۔۔ ان کی زندگی میں سوائے ہمارے تھا ہی کیا ۔۔ میرے سسر جنہیں میں نے دیکھا تک نہیں تھا وہ ایک اعلی ظرف خدمت گزار محب وطن انسان تھے ، جنہوں نے لالٹین کی روشنی اور اسٹریٹ لیمپ کی روشنی میں پڑھ کر اسٹیل مل کے جنرل منیجر کے عہدے تک رسائی حاصل کی تھی اور جب ان کے سکون سے اپنے بچوں کو آگے بڑھتا دیکھنے کا وقت آیا تو وہ بلڈ کینسر کے مریض ہوگئے ، باون سال کی عمر میں ملک عدم کے راہی ہو گئے اور میری پنتالیس سالہ ماں بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی ۔ اس وقت جس بیٹے نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کے آنسو پونچے تھے ان کے وہی بیٹے آفتاب میر ے ہمدم میرے ساتھی ہیں جنہوں نے مجھے دنیا کے ہر سرد گرم سے بچا رکھا ہے ۔

میری ماں اکثر مجھ سے کہتی کہ انسان کیا ہے بھلا ۔۔ نہ اسے کسی پر اختیار ۔۔ نہ اس کا اعتبار ۔۔ ہر رشتہ ایک دھڑکا ہے بیٹی جس کے بچھڑ جانے کا وہم سا لگا رہتا ہے ۔۔ شاید جو بچھڑ جانے کے غم سے گزرا ہوتا ہے اسے ہی ہر کسی کے جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے یا پھر سب ہی ایسا سوچتے ہونگے ۔ ایسے میں ہم سب نوے کے عشرے میں جب دوسرے ملکوں میں جابسے تو ان کے پاس بیٹے کی طرح دن رات جو خدمت گزار رہا وہ طارق محمود بھائی تھے ۔

طارق بھائی میری چھوٹی نند منور کے شوہر تھے ۔ بےحد سادہ مزاج اپنی ماں کے اکلوتے شاہزادے جن کو دیکھ دیکھ کر وہ جیتی تھی ۔ طارق بھائی جناح ہوسپٹل میں میڈیسن کے ایسوسیٹ پروفیسر تھے ۔۔امی جی کے پاس پابندی سے ملنے جانا ، ان کی صحت کا خیال رکھنا ۔۔ انہیں دوا دینا ان کا معمول تھا اور ان کی ہر جنگ کو اپنی جنگ سمجھنا انہی کا خاصہ تھا ۔ جب بھی ہم کبھی ان سے فون پر بات کرتے تو وہ آفتاب سے کہتے یار فکر کی کیابات ہے میں دیکھ لوں گا ۔ تم فکر نہ کرو ۔۔ اور واقعی ہمیں یہی لگتا کہ ہماری ماں کے پاس ان کا فکرمند بیٹا ہے جو ان کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ ہے ۔ طارق بھائی تھے ہی اتنے اچھے ۔۔ ہسپتال میں اپنے مریضوں کے دلپسند مہربان ڈاکٹر ۔۔ اسٹوڈنٹس کے ہر دل عزیز پروفیسر جن سے انہیں سوال پوچھتے ہوئے کبھی ڈارنہیں لگتا تھا ۔۔ غریبوں کے ہمدرد ، اپنے ماں باپ کے وعدوں کا پاس رکھنے والے انتہائی نیک اور پرہیزگار انسان تھے ۔

گزشتہ چار برسوں سے آنتوں کا کینسر میرے بھائی طارق سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا ۔۔ اسی دوران انہوں نے اللہ کے گھر کی زیارت کی ۔۔ لوگوں سے لینا دینا پوچھنے کے لئے خاص طور پر اپنے گاؤں گئے ۔۔ اور اپنے اور اپنے ماں باپ کے سارے قرضے چکائے ۔۔ گھر والوں کے لئے ماہانہ معقول آمدنی کا بندوبست کیا اور جہاں تک ان کی صحت نے ان کا ساتھ دیا انسانوں کی خدمت میں مشغول ہو گئے اور اس دوران وہ اللہ کریم کے اور بھی بہت قریب ہوگئے تھے ۔۔۔

امسال جنوری سے ان کی طبعیت گھڑیوں کے حساب سے بگڑ رہی تھی ۔ اور مجھے پہلی بار لگا جیسے مجھے ان سے بچھڑنے کا دھڑکا سا لگ گیا ہے ۔۔ پہلی بار احساس ہوا کہ مجھ میں کبھی میری بی بی جی آ بستی تھیں تو کبھی میری ماں جیسی ساس باتیں کرنے لگ جاتی تھیں ۔۔ میں گھبر اگھبر اکر کبھی اپنے بچوں کو چھوتی تو کبھی آفتاب سے بالاوجہ باتیں کرتی جاتی ۔۔کوئی فون کی گھنٹی رات کے کسی پہر بجتی تو گھنٹوں دل سنبھالنا مشکل ہو جاتا ۔۔ سب کہتے کہ میں بدل رہی ہوں ۔۔ زود رنج ہو رہی ہوں ۔۔ پر میں کیا کرتی ۔۔ میں جب بھی منور کاسوچتی تو میرا سانس جیسے حلق میں اٹکنے لگتا ۔۔ اس کے حوصلے کے سامنے میرا سارا فلسفہ پانی بھرنے لگتا ۔۔

طارق بھائی کے شانہ بشانہ منور نے بھی بڑے بڑے صدمے سہے تھے ۔ طارق بھائی کی والدہ کی تیمارداری سے جنازے تک سارے کام اس نے طارق بھائی کے ساتھ مل کر کئے تھے ۔ پھر دو ماہ قبل اپنی شدید بیماری کہ وجہ سے طارق بھائی نے اپنے باپ کا جنازہ ویل چیئر پر بیٹھ کر جب پڑھا تھا تو اس ویل چیئر کو چلانے والی منور ہی تھی ۔۔ اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری ۔۔۔ اس نے کبھی اپنی امید نہیں چھوڑی ۔۔ وہ چار برسوں سے سائے کی طرح طارق بھائی کے ساتھ رہی ۔ اس نے نہ دن کو دن سمجھا نہ رات کو رات ۔ خدمت گزاری کی آخری حد تک ہو آئی تھی ۔۔ میری جب بھی اس سے بات ہوتی وہ یہی کہتی کہ میں اپنی قسمت تو نہیں بدل سکتی ہاں اپنے لئے صبر کی دعا ضرور کر سکتی ہوں ۔۔آپ بھی میرے لئے بس یہی صبر اور حوصلہ مانگئے ۔۔ ہم دونوں اپنے اپنے دھڑکوں سمیت جی رہے تھے ۔۔

جوں جوں وقت گزر رہا تھا طارق بھائی کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی ۔۔ کوئی آپریشن بھی کچھ دنوں سے زیادہ کامیاب نہ رہ پا رہا تھا ۔۔ میری تشویش میرے اندیشے ۔۔ میرے دھڑکے اپنی جگہ حقیقی تھے کہ میرے لئے طارق بھائی کاہونا یوں بھی بہت ضروری رہتا تھا کہ مجھے ان سے اپنے مریضوں کی بابت بہت سارے مشورے کرنے ہوتے تھے اور ان سے ان کے مفت علاج کی درخواست بھی ۔۔ اور طارق بھائی نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا تھا ۔۔ ہم دونوں نے مل کر دنیا کے الگ الگ کونوں میں رہنے کے باوجود کئی مریضوں کا کامیاب علاج کیا تھا ۔۔۔اس سال انہیں سڈنی یونیورسٹی میں لیکچر دینے بھی آنا تھا جس کے لئے وہ اپنی بیماری کے باعث سفر نہیں کر پائے تھے ۔

کئی مقام ایسے بھی آئے تھے کہ میں طارق بھائی کی تکلیف براداشت نہیں کر پاتی تھی۔۔ اور میں اللہ پاک سے کچھ بھی الٹا سیدھا کہنے بیٹھ جاتی تھی ۔۔ طارق بھائی مجھے ہمیشہ تسلی کا درس دیتے اور کہتے کہ ہم سب کو جلد یا بدیر لوٹنا تو ہے ہی نہ پھر اپنے خالق سے خفگی کیسی ۔۔۔ ۔۔ پھر وہ ہمیں اپنے کھانے پینے کی تفصیل سناتے ۔۔ مجھ سے میرے مریضوں کا احوال پوچھتے ہیں ۔۔ اور پوچھتے پوچھتے اکثر ہی ان کی آواز بھرا جاتی ۔۔۔ مجھے لگتا تھا جیسے وہ سوچتے ہونگے کہ آخر وہ کب کوئی نسخہ لکھ سکیں گے ۔۔

آہ میرے طارق بھائی کے نسخہ لکھنے سے پہلے ہی آج مرض الموت نے انہی کے لئے آخری نسخہ لکھا دیا ۔۔ اور وہ پچپن برس کی عمر میں اپنے آبائی شہر کراچی کے جناح ہوسپٹل میں چھبیس اپریل دو ہزار گیارہ کی پہلی گھڑی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔

اناللہ و انا الیہ راجعون۔

کس کس کو بتاؤں کہ آج میری ماں کا فکرمند بیٹا ۔۔آفتاب کا فکرمند بھائی مٹی کے سفر پر چلا گیا ۔ ہائے ۔۔ آج میر ابھائی سارے رشتوں سے آزاد لحد میں اتر گیا ۔۔۔ اور وہ جو اپنی پوری زندگی خدمت اور دعائیں کرتا جیا آج سے ہم سب سے اپنے لئے دعاؤں کا طالب ہو گیا ۔۔۔

منور کو کیا کہوں طارق بھائی ۔۔۔ اس کی خاموش آہوں کو کیا دلاسہ دوں ۔۔ اس کی جواں سال زندگی میں یہ کیسی خاموشی آ بسی ہے ۔۔ کیسا سناٹا اس کے گھر رہنے آ گیاہے ۔۔ چار برسوں سے وہ آپ کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال لے کر سڑکوں پر ماری ماری پھرتی رہی تھی ۔۔ اتنا تو اس ہجر نصیب کا حق بنتا تھا کہ جاتے ہوئے اسے اتنا تو بتا جاتے کہ آپ کے جانے کے بعد گھر سے دل تک جو ویرانی سی اتر آئے گی وہ اسے کیسے آباد کرسکے گی ۔۔ تنہائی کے تپتے صحرا میں صبر کا کڑا امتحان کیسے دے پائے گی ۔ ۔۔اس کے بیٹے جب اسے کبھی کوئی رنج دیں گے تو کس سے شکایت کرے گی ۔۔ اس کا جب دل گھبرائے گا کس سے بات کرے گی ۔۔ کس کے لئے سجے گی ۔۔۔ ساگ اور مکئی کی روٹی کس کے لئے پکائے گی ۔۔ کس کا رات رات بھر ہسپتال سے واپس آنے کا انتظار کرے گی ۔۔ کس کی سلامتی اور صحت کی دعائیں سب سے منگوائے گی ۔۔ بچوں کو کس کا ڈروا دے گی ۔۔ خوشی اور غم میں آپ کی کمی کو کیسے پورا کر سکے گی ۔۔

طارق بھائی آپ کے اس طرح چلے جانے سے مجھے آج اپنی بی بی جی کی باتیں بہت یاد آرہی ہیں ۔۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ زندگی کے سارے رشتے بس دھڑکے ، اندیشے ہی ہوتے ہیں ۔۔ دیکھئے تو آج سے آپ کی منور کی زندگی میں بھی کئی اور نئے دھڑکے اور اندیشے شامل ہونے جا رہے ہیں ۔

:دیگر مضامین
(14.03.2011)  بس جی ..! رات گئی بات گئی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
(11.02.2011) مبارک کے اقتدار سے الگ نہ ہونے کی خبر غم کی خبر بن گئی ۔..۔ از ۔۔...نگہت نسیم
(07.02.2011) وقت کے ساتھ تو منظر بھی بدل جاتے ھیں ۔ از ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(24.01.2011) دہشت گرد اپنی الگ سیاسی جماعت بنا لیں ۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.10.2010) موت نے مسکرا کراپنی لسٹ میں لکھا یومیہ بیس لوگ ۔از؛ ڈاکڑنگہت نسیم
(21.08.2010) اپنے بھائی عاصم نسیم کے خط کے جواب میں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.08.2010) اے اسیرانِ قفس منہہ میں زباں ہے کہ نہیں۔از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(02.07.2010) اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان۔از،نگہت نسیم
(07.06.2010) بات نکلے گی پھر تو دور تلک جائے گی“نگہت نسیم۔سڈنی””
(02.06.2010)  امدای قافلے پر اسرائیلی حملہ ۔ امریکہ اور عرب شرم کریں ۔از۔ نگہت نسیم
(18.04.2010) یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(14.04.2010) جب مفادات ایک ہوں تو ۔۔۔؟ از ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(14.03.2010) یا نبی کہتی تھی ماں فجر میں ۔از۔ نگہت نسیم
(05.03.2010) پولیس کا ہے فرض مرمت آپ کی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.02.2010) خلقت شہر نے ہاتھوں میں اٹھائے پتھر ۔۔۔ از؛ نگہت نسیم
(05.02.2010) زرداری ، بیوی کے قاتل نہیں پکڑ سکے عافیہ کو کیا بچائیں گے۔از؛نگہت نسیم
(30.12.2009) خدا گواہ ہے کہ ہم اپنے دشمن نہیں ہیں ۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(20.12.2009) محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟از؛نگہت نسیم
(17.12.2009) دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(06.12.2009) پاکستان ہماری دستار ہے اسے سر پر سجایئے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں