محترمہ عالم آرا کی کتاب ً بوا اور سیاست ً کی تقریب ِرونمائی کنیڈا اردو ایسوی ایشن کے زیر اہتمام مقامی ریسٹورینٹ میں منعقد ہو ئی۔ جس میں مہمان ِ خصوصی شمس جیلانی تھے اورنظامت کے فرا ئض جناب حفیظ قادری نے انجام دیئے۔
اس کتاب پر شمس جیلانی اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کیا۔ جو ہدیہ قارئین ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ہی کتاب کی رونمائی کی ۔ پھر مشا عرے کا دور ہوا۔جس میں مقامی شعرا ءنے شرکت کی ً جس کا عنوان موسم ِ بہار تھا ً اس کی صدارت صدر ِ ایسوی ایشن جناب شمس صدیقی نے کی ۔
بوا اور سیاست۔از شمس جیلانی میرے سامنے محترمہ عالم آرا کی نئی کتاب ہے۔جس میں انہوں نے ادب میں ایک نیا انداز پیش کیا ہے کہ “بوا “ (گھریلو ملازمہ) کی زبانی پاکستان کی پو ری سیاست انہیں کی کچی زبان میں بیان کی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ بوا پڑھی لکھی بالکل نہیں ہیں ۔ مگر جس انداز سے انہوں نے سیاسی اور مذہبی مسا ئل پر بات کی ہے اور ان پر تبصرے کئے ہیں وہ اس سے ایک اچھی خاصی پڑھی لکھی خاتون نظر آتی ہیں ۔اس میں میرے لیئے تو کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ میں نے ایسے شاعر بھی دیکھے ہیں جو کسی مدرسہ میں نہیں پڑھے ،مگر پڑھے لکھوں سے بہتر شعر کہتے تھے۔ بس ایک مشکل تھی جوکبھی کبھی ان کو پیش آتی تھی کہ مطلع کے جگہ مقطع کہہ جاتے تھے اور مقطع کی جگہ مطلع اور اس طرح لوگوں کو ہنسنے ہنسانے کا سامان فراہم کر دیتے ،اس کا ایک فائدہ یہ تھا کہ کسی مزاحیہ شاعر کو بلانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ ایک دفعہ ہم نے ایک لیڈر کو دیکھا جو کہ تقریر لکھواکر لاتے تھے۔ انہوں نے اپنا پلندہ کھولا اور میز پر رکھا! ابھی اتنا ہی کہہ پا ئے تھے کہ بھا ئیوں اور بہنوں۔۔۔؟ کہ ہوا نے ان کے ساتھ مذاق کیا اور اپنے جھونکے کے ساتھ سارے کاغذ اڑا لے گئی، جو لوگ اگلی صفوں میں بیٹھے تھے انہوں نے اوراق سمیٹ کر دیدیئے اور انہوں نے تقریر دوبارہ شروع کی کہ ۔۔۔ “آپ نے میری اس طویل تقریر کو جس توجہ اور غورکے ساتھ سنا اس کے لیئے میں آپکا انتہائی شکر گزار ہوں“ یہ کہنا تھا کہ جلسہ کشت زعفران بن گیا۔
مگر جو لوگ علم لدنی کو نہیں مانتے ان کے لیئے اسے ہضم کر نا مشکل ہوگا ،کہ ایک جاہل اور دیہاتی گھریلو خاتون اس قدر دانشمند ہو سکتیں ہے؟ اور یہ ہی اس کتاب کی ندرت ہے۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ آپ پڑھتے چلے جا ئیں مگر تسلسل نہیں ٹو ٹتا۔بظاہر تووہ ایک گھریلو ملازمہ ہیں جو اپنے نشئی شوہر کی بد اعتدالیوں کی وجہ سے ،اس بات پرمجبور ہو ئیں کہ پہلے اپنی اولاد کو، پھر اولاد کی اولاد کو زیور ِتعلیم سے آراستہ کر ائیں ۔ اوروہ اس کوشش میں ایک کے بجا ئے کئی گھروں میں کام کرنے لگیں ، کام کے سلسلہ میں جو کچھ ایک گھر سے سنتیں اس کو ایک سے دوسرے گھر تک منتقل کر دیتیں۔
جہاں سے مصنفہ ( معاف کیجئے کہ جنہیں مجھے یہاں مولفہ کہنا چا ہیئے تھا)جب پاکستان جاتیں تواس مواد کو لاتی رہیں۔ کیونکہ جب وہ اپنی بہن سے ملنے کنیڈا سے پاکستان جا تیں تو وہاں ان کی بواسے ملاقات ضرور ہو تی اور وہ ان کو سنانے کے لیئے بیتاب ملتیں، جیسے کہ اکثر شاعر اپنی بیاض لیئے پھرتے ہیں اور ہرکسی کو سنانے کے لیئے بے چین رہتے ہیں۔ اسی طرح وہ بھی اپنی ذہنی بیاض میں جو کچھ جمع کرتیں وہ ان کو سنا دیتیں اور یہ بغیر ڈیوٹی دیئے ا پنے ساتھ کنیڈا در آمد کرتی رہیں۔ اس طرح یہ کتاب مکمل ہوکر معرضِ وجود میں آگئی۔ اگر اصلی بوا کو خدا مزید عمر عطا فرماتا چلاگیا تو انشا اللہ مزید کتابیں آتی رہیں گی۔ کیونکہ انہوں نے ڈمی بوا سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ ان کے بیش بہا خیالات وہ مغربی دنیا تک پہونچا ئینگی۔
اکثر ایسا ہو تا کہ وہ جب اپنی کہانی سنا رہی ہو تیں تو مصنفہ کی بڑی بہن اسکول سے تشریف لے آتیں اور ان پر غصہ کرتیں کہ بوا بس کرو، اب اپنی بقراطیت چھوڑ دد اور ساتھ میں یہ تبصرہ گوئی کی بری عادت بھی!
اس پر بوا بالکل برا نہیں مانتیں ،بلکہ ایک ماہر سیا ست داں کی طرح جیسے کہ وہ لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر تے ہیں یعنی کبھی کرکٹ میچ کرا دئیے ،کبھی بھٹو مر حوم کا کیس سپریم کورٹ میں اٹھالیا۔ ایسے ہی بوا بھی دو چار ٹھمکے لگا کر با جی کو ہسنے پر مجبور کر دیتیں اور انکی نوکری بچ جا تی۔ جیسے کہ ہر دفعہ سیاست دانوں کرسی؟
اس کے بعد وہ اپنے کام میں لگ جا تیں جیسے کہ سیاستدان مزید مال بنا نے میں؟مگر فرق یہ ہے کہ بوا اپنی محنت سے روزی کماتی ہیں اور حق حلال کی کھاتی ہیں،جبکہ سیا ستداں لو گوں کی جیب کاٹ کر؟ اس کتاب میں اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے مگر میرامشورہ آپ کو یہ ہے کہ آپ اس ندرت کو روشناس کرا نے و الی اور ایک عالمی طورپر ابھرتی ہو ئی مصنفہ کی اس نادر کتاب کو خرید کر ان کی ہمت افزائی کریں ۔اس کے علاوہ میں بہن عالم آرا کو بھی مشورہ دونگا کہ وہ بوا سے کہیں کہ گھریلو ملازمین کی ہر میٹنگ کی روداد بھی پیش کیا کریں جوکہ عمو ماً روز ہی ہو تی ہے جب کسی جگہ وہ جمع ہوتے ہیں خصوصا ً بازار میں، ان زریں افکار کو بھی شامل ِ تحریر کرلیں تو آئندہ آنے والی کتاب میں اور بھی نہ صرف چار چاند لگ جا ئیں گے ،بلکہ وہ مالکان بھی جو کہ زیادہ تر کالے دھندے میں ملوث ہو تے ہیں گھریلو ملازمین کے سامنے بات کر تے ہو ئے ڈرا کریں گے کہ کہیں حکومت بدلنے کے ساتھ پکڑے نہ جا ئیں ۔ میں بہن عالم آرا کو مبارکباد پیش کر تا ہوں۔مزید کامیابی اور عمر ِ جاوداں کے لیئے دعا گو ہوں۔ اسی گھسے پٹے جملے کے ساتھ کہ ً اللہ کر ے زورِقلم اور زیادہً کیونکہ یہ ہی جملے صدیوں پہلے سے اساتذہ کہتے چلے آرہے ہیں اور اس کے بعد کسی نے کچھ کہا ہی نہیں۔ لہذا میں نے بھی ان کے بعد آنے والوں کا اتباع کرتے ہو ئے کچھ اور کہنے کی کوشش نہیں کی کہ کہیں میری اس جراءت کو بے ادبی نہ سمجھا جا ئے؟ اب میں اپنےاس شعر کے ساتھ تبصرے کو ختم کرتا ہوں۔
نام اچھا ہے دیا جگ میں شنا سا ئی دےان کی تحریر کو دنیا میں پزیرائی دے