کے ہاتھوں مسلمان کا قتل رکنے کو نہیں ہے اور اب تازہ واقعے میں کوہستان کے علاقے ہربن نالا کے قريب بس کو روک کر مسافروں کے شناختي کارڈ چيک کئے گئے اور انہيں شناخت کرنے کے بعد 18افراد کوگولياں مار کر قتل کردياگيا۔ ان کا قصور کیا صرف شیعہ مسلک سے وابستہ ہونا تھا؟ جی چاہتا ہے چیخ چیخ کر پوچھوں کہ یہ کہنے والے کون ہیں جن کا استدلال یہ ہے کہ قاتل کا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا اور یہ قاتل مسلمان نہیں ہیں۔ بھائیو اللہ کے لیئے آنکھیں کھولو۔ یہ قتل کرنے والے مسلمان ہی ہیں،کلمہ گو ہیں اور انکو جنت اپنے ہی مسلمان بھائی کے قتل میں نظر آتی ہے
آج جی چاہتا ہے کہ شور مچا کر آسمان سر پر اٹھا لوں اور پوچھوں کہ اللہ کے رسول کی اہلبیت اور انکے نواسے امام حسین کو شہید کرنے والے بھی کیا مسلمان نہیں تھے؟ یزید کیا خلیفہ وقت نہیں تھا؟ کیا میدان کربلا میں یزید کی فوج میں حضور کے چند صحابی نہیں تھے؟ کیا امام حسین کو شہید کرنے والے اذان نہیں دیتے تھے ،نماز نہیں پڑھتے تھے؟ اے اہل ایمان وہ بھی مسلمان تھے اور یہ آج کے یزید کے پیروکار بھی مسلمان ہی ہیں جو فرقہ واریت کے نام پر نیا مسالک کی جنگ کے نام پر کلمہ گو کا قتل کر رہے ہیں۔
حیرت تو اس بات کی ہے کہ پاکستان کی دینی جماعتیں بھی اس جرم میں شریک ہیں کہ ظلم کو ظلم کو نہیں کہہ رہیں۔ حاکم تو ظالم و جابر ہیں ہی لیکن کسی مسجد ،کسی منبر،کسی خانقاہ ،کسی پیر فقیر علما مشائخ کی طرف سے مذمت تک نہیں
میں نے کچھ عرصہ پہلے جو یہ چند سطور لکھی تھیں وہ آج بھی ''خون مسلم'' کی طرح تروتازہ ہیںپاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں جاری جھڑپیں بظاہر چاہے پانی اور راستے کے تنازعات پر شروع ہوتی ہوں
لیکن بدقسمتی سے اس کے تانے بانے کسی نہ کسی طریقے سے فرقہ واریت سے مل ہی جاتے ہیں۔اب یہی دیکھئے کرم

ایجنسی کے ان علاقوں میں جہاں مختلف مسالک کے افراد محبت اور امن سے رہا کرتے تھے انہیں علاقوں میں یہ ہوا کہ جو فریق طاقتور تھے انہوں نے اقلیت میں رہنے والے فریق کو کمزور سمجھ کر کبھی ان کے دیہات جلا دئے تو کبھی ان کو علاقوں سے نکال باہر کر کے ان کے مکانات اور جائیدادوں پر قبضہ کرلیا۔ ان لڑائیوں میں اب تک پارا چنار اور اس کے اطراف کے علاقوں سے تقریباً پانچ سو سے لیکر سات سو کے قریب خاندانوں کو علاقہ بدر کیا جا چکا ہے جو ابھی تک اپنا ٹھکانہ کہیں نہیں بنا سکے ہیں۔
کرم ایجنسی کی پچھلے پچاس سالہ فرقہ وارانہ جنگی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہرسطح پر یہ اقرار کیا جا رہا ہے کہ اب کرم ایجنسی کے حالات سدھار کی طرف جاتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اس خانہ جنگی کا اثر یہ ہورہا ہے کہ کرم ایجنسی کا سیاسی اور معاشی نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے اور اس پس منظر میں مسائل سلجھنے کی بجائے الجھتے نظر آرہے ہیں۔
آئیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ
کّرم ایجنسی کاجغرافیائی نقشہ کیا ہے تاکہ حالیہ تبدیلیوں کا پس منظر جاننے میں دقت نہ ہو ۔
پاکستان کے شمال مغرب میں کرم ایجنسی واقع ہے ۔جس کا دارالحکومت چنار کے درختوں سے گھری ہوئی ایک وادی ہے جسے اردو میں پاڑا چنار کہتے ہیں اور پشتو میں پارا چنار کہتے ہیں ۔ کبھی یہ وادی پشاور والوں کے لئے ہل اسٹیشن کا درجہ رکھتی تھی ۔ پاکستان کے شمال مغرب میں واقع یہ وادی تین اطراف سے افغانستان میں گھری ہوئی ہے۔ اس وادی کے شمال میں صوبہ ننگرھار واقع ہے اور جس کا دارالحکومت "جلال آباد" سے 80 کلومیٹر فاصلے پر ہے جو کابل کے بعد افغانستان کا دوسرا بڑا شہر ہے، شمال مغرب میں صوبہ پکتیکا، مغرب میں صوبہ پکتیا اور اس کا دارالحکومت " گردیز" 120 کلومیٹر پر واقع ہے۔ افغانستان کا دارالحکومت " کابل" یہاں سے فقط 240 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے جو کہ پاکستان کے کسی بھی سرحدی علاقے سے قریب ترین فاصلہ ہے ۔ بدقسمتی سے یہ وہی جگہ ہے جس پر 2009 میں امریکہ نے الزام لگایا تھا کہ اس وادی میں اسامہ بن لادن چھپا ہوا ہے اور یہاں سے القاعدہ کا مشن چل رہا ہے ۔
6
اپریل 2011ء کو رونما ہونے والے اس اندوہناک واقعہ کو پورے چار برس گزر چکے ہیں ۔ جس دن پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ و مسجد میں ہفتہ وحدت کے حوالے سے 17 ربیع الاول کے جلسہ میلاد کی صدارت اہل سنت جماعت کے مشہور عالم دین مولانا شاہ فیروزالدین صاحب فرما رہے تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیر ت مبارکہ سننے والے شرکاء پر قریبی واقع مسجد کے مینار سے مٹھی بھر شرپسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جن کا تعلق انجمن سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی اور طالبان سے بتایا گیا ۔
اس خونی معرکے میں 64 افراد کی شہادت ہوگئی اور 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جن میں زیادہ تر کا تعلق شعیہ فرقے سے تھا ۔ پارا چنار کی وادی میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تین دن کرفیو لگا رہا ۔باوجود بھاری جانی اور مالی نقصان کے کسی نے بھی بدلے کو طور پر جنگ کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی ہتھیار اٹھائے بلکہ اپنی مدد کو حکومت وقت کو پکارا جسے تاحال کسی نے نہیں سنا اور کرم ایجنسی میں بسنے والا ہر پاکستانی خوف و ہراس کی زندگی گزار نے پر مجبور ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہوتا ہے کہ آخر ان شر پسند جماعتوں کو کن کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ یہ شورشیں سابق آمر ضیالحق کے زمانے میں سامنے آئیں تھیں اور یہ بات آن ریکارڈ ہے کہ انہوں نے انتہا پسند جماعتوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے انہیں جدید ہتھیاروں سے لیس بھی کیا تھا اور انہیں کے دور حکومت میں بارہ ربیع الول کو عید میلادالنبی دھوم دھام سے منانے کا رواج بھی ڈالا تھا تاکہ محرم الحرام کے جلسوں کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ یا دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کو مسلکی فرقوں میں باٹنے میں
ضیاالحق نے شعیہ ، سنی ، وہابی اور دیگر فرقہ بندی کو پورے پاکستان میں وبا کی طرح پھیلا دیا ۔
یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سابق آمرضیاالحق نے کرم ایجنسی کی خوبصورت وادی پارا چنار کو اس شورش کے لئے جان بوجھ کر پسند کیا تھا کہ یہاں پر شعیوں کا مظبوط قلعہ ہے ۔ لیکن حیرت کا مقام یہ ہے کہ کرم ایجنسی اور پارا چنار کی وادی میں آج بھی ہر مسلک کے لوگ آپس میں اسی محبت سے مل جل کر رہ رہے ہیں لیکن شورش پھیلانے اور انہیں فرقوں میں بانٹنے والے آج بھی ہر ممکن اپنے مشن کو پورا کرنے پر لگے ہوئے ہیں جس سے آئے دن یہ خوبصورت وادی خون میں ڈوبی رہتی ہے ۔ پارا چنار کی وادی میں کوئی اگر آج بھی جائے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ وہاں آج بھی شان اہلبیت پر مر مٹنے والے شہداء کی قبور پر “لبیک یا حسین “ یا “ ثارث الحسین “ کے پرچم لہرا رہے ہیں جو پیغام حسینی کی آنچ بلا تفریق ہر دل میں سلگائے رکھتے ہیں ۔
وادی پارا چنار کی قدیمی حیثیت و محلِ وقوع مشہور انسائیکلو پیڈیاز اور "کُرم گینریٹر" کے مطابق وادی کُرم پاکستان کے قدیم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ پندرہ سو سال قبل از مسیح "کروما"کے نام سے اس تاریخی مقام کا " وید" کی کتابوں میں بھی تذکرہ ملتا ہے۔ قدیم ایام میں درہ خیبر سے بھی قبل اسی وادی کا راستہ تھا جو برصغیر پاک و ہند کو افغانستان، ایران، مشرق وسطیٰ تک ملاتا تھا اور اس حقیقت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ یہ قدیمی راستے آج بھی سیاسی و عسکری مقاصد کے لئے ایک سہل اور مختصر راستہ سمجھا جاتا ہے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے شمال مغرب میں واقع یہ وادی تین اطراف سے افغانستان میں گھری ہوئی ہے۔ اگر پاکستان کے اندر جغرافیائی صورتحال کا جائزہ لیں تو وہ بھی کم اہمیت کی حامل نہیں۔ اس وادی کے شمال مشرق میں خیبر ایجنسی (درہ خیبر)، مشرق میں اورکزئی ایجنسی، ایف آر، جنوب مشرق میں کوہاٹ ڈویژن کا ضلع ٹل؛ جنوب میں شمالی وزیرستان ایجنسی واقع ہے۔ جغرافیائی طور پر کوہ سفید کی بلند و بالا چوٹیوں میں گھری ہوئی یہ وادی (کُرم) جو قدرتی طور پر اسی پہاڑی سلسلہ کے ذریعے افغانستان کے دیگر علاقوں سے جدا ہوتی ہے، خود تقریباً 60 کلومیٹر تک افغانستان کے اندر واقع ہے۔

انتظامی طور پر یہ اپر کُرم تحصیل پارہ چنار، وسطی کرم اور لوئر کرم تحصیل صدہ و علی زئی میں منقسم ہے، جن میں سے پارہ چنار کو ہیڈکوارٹر کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں اس حقیقت کا جاننا ازحد ضروری ہے کہ محل وقوع و جغرافیائی اعتبار سے افغانستان کے تین بڑے صوبوں اور چار بڑے شہروں کے لئے گیٹ وے کی حیثیت رکھنے اور خیبر، اورکزئی و وزیرستان سے ملحقہ سرحدات کے باعث اسے پاکستان کا حساس ترین علاقہ کہا جاتا ہے جبکہ پاکستان کی عسکری قوتوں کے ساتھ ساتھ افغانستان کی آئی ایس اے ایف ( انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹینس فورس ) اور نیٹو اسے پہلے ہی سب سے اہم اور حساس علاقہ قرار دے چکی ہیں۔ لہٰذا پاکستانی فورسز اپنے عسکری مقاصد کے لئے اور عالمی استعماری افواج نیٹو سے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے ایک عرصہ سے بطور بیس اور بطور بفر زون استعمال کرنے میں سرگرمِ عمل ہیں۔
وادی کرم کے بنیادی مسائل:۔جغرافیائی حدود اربعہ سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ علاقہ انتہائی حساس علاقہ ہے ۔سوچئے جہاں انتہا پسند عسکری گروہوں کے تربیتی مراکز قائم ہوں اور یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال بھی ہو اور مزید یہ کہ ایک چھوٹی سی مگر انتہائی اہم جغرافیائی اہمیت کی حامل وادی میں بسنے والی شعیان علی ع کا وجود متعصب حکمرانوں کی آنکھوں میں کھٹکتا بھی ہوتو اسے مزید حساس بنا دیتا ہے ۔ سو پارا چنار کی وادی مسائل کی وادی بن چکی ہے ۔ جہاں ایک طرف طوری اور بنگش قبائلوں کی استقامت ہے تو دوسری طرف انہیں ختم کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں ۔
مسئلہ فرنٹیر ریجنڈی آئی خان، بنوں، کوہاٹ اور پشاور کے بعض قبائلی علاقوں کو فرنٹیر ریجن (ایف آر) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عموماً وہ علاقے ہیں جہاں بندوبستی علاقوں کی نسبت قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر اور ریونیو ریکارڈ بھی باقاعدہ مرتب نہیں ہے۔ عقائد و روایات و جغرافیائی طور پر غیرفطری و جبری مسلط کردہ علاقے میں ایک خیالی مردم شماری کے ذریعے سے طوری اور بنگش قبائل جن میں زیادہ تر کا مسلک شعیہ ہے ،ان کو اقلیت ثابت کر کے اُنہیں وسائل، ملازمتیں و مراعات سے محروم کر دیا گیا ۔ حق تلفیوں کا یہ طویل سلسلہ تاحال جاری ہے۔
مسئلہ کرم (طوری) ملیشیا:۔
پارہ چنار کرم ایجنسی میں برطانوی حکومت کی عملداری قائم ہونے کے بعد 1882ء میں ایک معاہدے کی رو سے مقامی جوانوں پر مشتمل طوری ملیشیا کے نام سے ایک فورس کے قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وادی کی تسلی بخش حفاظت کے لئے اس فورس کی کارہائے نمایاں کا اعتراف آج بھی سربراہان افواجِِِ پاکستان سنہری الفاظ میں کرتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم نے اپنے دورے کے موقع پر یہاں کے عمائدین کو یقین دلایا کہ ماضی کے تمام معاہدوں کی پاسداری کی جائے گی مگر بد قسمتی بعض ناعاقبت اندیشوں نے متعصبانہ طور پر قائداعظم محمد علی جناح رہ کے وعدوں کو پس پشت ڈال کر 80ء کی دہائی میں اس فورس کو یہاں سے تبدیل کر کے باہر کی ملیشیا (FC) کو اہل کُرم کے سروں پر مسلط کیا۔ اب طوری و بنگش قبائل افغانستان اور ایف آر دونوں اطراف سے غیر محفوظ ہو گئے۔
متعصب پولیٹیکل انتظامیہ:۔قیام پاکستان سے لے کر آ ج تک 64 سال ہونے کو ہیں بدقسمتی سے ایک خاص منصوبے کے تحت یہاں مخصوص سوچ کے حامل ایک ہی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایف سی و سول انتظامیہ کے افسران کو ہی تعینات کیا جاتا رہا ہے، جنہوں نے ہمیشہ قبائلی و علاقائی مسائل کے دوران طوری و بنگش قبائل کے مقابلے میں دیگر قبائل کی سرپرستی کا کردار ادا کیا ہے، جسکی وجہ سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید الجھے ہیں اور طوری و بنگش قبائل کی پریشانیوں اور مشکلات و محرومیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
پاراچنار کرم ایجنسی کی موجودہ صورتحال کے پس منظر اور وجوہات کو کچھ تجزیہ نگار 70s اور 80s میں افغانستان پر رُوسی یلغار، ضیاءالحق کی پالیسیوں اور نام نہاد جہادی عناصر کے مفادات سے جوڑتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق کی ورک گردانی سے معلوم ہو گا کہ طوری اور بنگش قبائل کی آبادیوں نے اس قدرتی وسائل سے مالا مال وادی کی حفاظت کے لئے انیسویں صدی کے وسط یعنی 1830ء سے 1880ء کے درمیان افغانستان کے دیگر قبائل کے ساتھ متعدد جنگیں لڑیں، سرحدی علاقوں کی محافظت کے لئے کچھ افغانی قبائل کو مراعات دے کر اپنے ارد گرد بسایا اور ضلع ٹل کے میدانی علاقوں کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے حملہ آور ہونے والے شمالی وزیرستان کے جنگجوؤں سے فیصلہ کن جنگ کے بعد اُن کی طاقت کو کچل دیا۔ انگریزوں کے آنے تک یہ افغانستان کا علاقہ تھا اور" کابلی" سکہ رائج تھا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی وہ تمام عناصر جو اس علاقے کی اہمیت سے آگاہ تھے وہ کسی نہ کسی طریقے سے اکثریتی آبادیوں کے خاتمے کے لئے مختلف حربے اور اقدامات کرتے رہے، جس میں پولیٹیکل انتظامیہ بھی ساتھ دیتی رہی لیکن اس خطے کے طوری و بنگش قبائل پر خداوند کریم کا خصوصی لطف وکرم رہا کہ وہ اب تک میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں
ایک بات جس سے کوئی بھی تجزیہ نگار انکار نہیں کرسکتا وہ یہ ہے کہ کرم کے طوری و بنگش قبائل کو روز اول سے اس حساس علاقے میں اکثریتی آبادی رکھنے اور حقیقی حب الوطنی کی سزا دی جا رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حقیقی طور پر پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے مطلب کو سمجھا ہے اور ان کا قصور صرف عالمی سیاست سے بیزاری ہے ۔
میں مشہور کالم نگار جناب عادل بنگش کی شکر گزار ہوں جنہوں نے “ اسلام ٹائمز“ میں پارا چنار پر ٹوٹنے والے سانحات و واقعات کی تفصیلات کو بڑی ایمانداری کے ساتھ لکھا ہے ۔1961ء:اس وقت کے پولیٹیکل ایجنٹ کے ایماء پر یوم عاشورا صدہ تحصیل کے بازار میں قدیمی جلوس پر حملہ ہوا۔ انتظامیہ کی موجودگی میں 90 افراد شہید ہو گئے۔
1971ء:

پارہ چنار میں آباد ہونے والے سنی گھرانوں کو مقامی شیعہ آبادی کیطرف سے ایک مسجد دی گئی تھی۔ 1971ء میں بدنام زمانہ منگل قبیلے کے لوگوں نے اسے ہتھیا کر اسے قلعہ نما شکل میں تعمیر کرنا شروع کیا۔ ایک ایسا مینار تعمیر کیا جس کے وسیع قطر میں کئی درجن افراد کے لئے مورچے موجود ہیں ، جن کی بلندی 150 فٹ سے زیادہ ہے۔ جب وہاں کی شیعہ آبادی نے باز پرس کرنا چاہی تو اُن پر فائرنگ کر کے 35 طوری بنگش افراد کو پولیٹیکل و فوجی انتظامیہ کے سامنے شہید کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ مسجد اور مینار حالیہ لڑائیوں میں بھی طوری بنگش آبادی کے لئے بھاری نقصان کا باعث رہی، مگر اُس وقت بھی اور آج بھی سینکڑوں پاک فوج کے جوان اسی مسجد ضرار کی حفاظت کے لئے سالہا سال سے موجود ہیں۔ اس قلعہ نما مسجد کی داستانوں کی بھی طویل فہرست موجود ہے۔
1983-84ء:صدہ جو کہ وہاں کے چند بنگش گھرانوں کی ملکیت تھا، وہاں 1983-84ء میں ایک زیرتعمیر امام بارگاہ کو اورکزئی قبیلے کے افراد نے ڈائنا مائٹ سے اُڑا دیا۔ اس سے قبل کہ مقامی شعیہ آبادی کوئی چارہ جوئی کرتی، اُنہیں چاروں اطراف سے محاصرے میں لے کر جدید اسلحے اور بھاری ہتھیار سے حملہ کیا گیا۔ چند دنوں کے اندر 66 افراد کو شہید کر دیا گیا اور باقی خاندانوں کو بےدخل کر دیا گیا۔ اگرچہ جرگہ نے اُنہیں دوبارہ آباد کرانے کا اُسی سال فیصلہ کر دیا تھا۔ مگر انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی اور تاحال وہ لوگ مہاجر بنے ہوئے ہیں۔ القاعدہ اور اُسامہ کی تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1982ء اور 83ء میں انہوں نے صدہ کے اطراف میں پہلا ٹریننگ کیمپ لگایا، تسلی سے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے انہوں نے مقامی انتظامیہ کی مدد سے اس علاقے کے شیعوں کو بے دخل کروایا۔
1987ء:اگرچہ صدہ کے اطراف میں 3 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین میں سے ہزاروں کی تعداد میں جنگجو نام نہاد جہادِ افغانستان کے لئے رہائش پذیر تھے مگر پھر بھی بےدخل خاندانوں میں سے ایک شخص حسین غلام المعروف دادو حاجی اپنے بال بچوں سمیت واپس جا کر رہنے لگا۔ مقامی فرقہ پرست جنونیوں نے ہزاروں افراد پر مشتمل افغان مہاجرین کے لشکر کے ساتھ اُن پر دھاوا بول کر خاندان کے 14 افراد کو اس قدر اذیت ناک طریقے سے شہید کیا کہ لوگ چنگیز خان کو بھول گئے۔
آسمان و زمین ان مظالم پر خون کے آنسو روتے ہیں جب دو ماہ کے بچوں کو ہوا میں اُچھال کر گولیوں سے چھلنی کرنے کے بعد مردوں کو باندھ کر اُن کے سامنے اُن کی عورتوں کی چھاتیوں کو کاٹ ڈالا گیا اور بعد میں مردوں کو زمین پر لٹا کر جانوروں کی طرح ذبح کر دیا گیا۔ پھر تمام لاشوں کو جلا دیا گیا۔ یہی لشکر آگے بڑھا اور پولیٹیکل انتظامیہ اور ایف سی کمانڈنٹ کی تائید کے ساتھ طوری بنگش آبادی کو پوری ایجنسی سے ختم کرنے کے لئے تابڑ توڑ حملے کئے ۔ آٹھ گاؤں اور ساڑھے تین سو گھر جلائے گئے اور 70 افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ بعد میں طوری و بنگش قبائل کی مقاومت نے اُن کو پسپا کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس پوری کارروائی کا مقصد اس اہم جغرافیائی خطے پر قبضہ کر کے افغانستان کے 3 صوبوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔
1996ء:
1983

ء اور 84ء کے بعد کرم ایجنسی میں 35 مہاجرین کیمپس سے مہاجر عام اہلسنت آبادیوں میں گھل مل گئے، رفتہ رفتہ جائیدادیں بنا کر جنگلات، باغات و مارکیٹیں اپنے قبضے میں لینے لگے۔ کئی بار روسی افواج انہی کے بہانے حملہ آور بھی ہوئی۔ علاقے میں بےدریغ اسلحہ، فحاشی و منشیات کو خوب فروغ دینے لگے اور طوری بنگش قبائل کی زمینوں کو بارودی سرنگوں سے بھر دیا، جس سے ہونے والے نقصانات ناقابل بیان ہیں۔
دیگر تفصیلات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے 1996ء میں سپاہ صحابہ کے امریکی و وہابی پروردہ ایجنٹس کے ذریعے مختلف بہانوں سے شروع کی جانے والی جنگ کا ذکر کرتے ہیں۔ مختلف شیعہ آبادیوں پر لشکر کشیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں پھر 60 سے زائد دفاع کرنے والے شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ کئی دن کی لڑائی کے بعد آرمی نے کرفیو نافذ کر کے شیعہ آبادیوں میں آپریشن کر کے بیشتر آبادیوں کو بالکل نہتا کر دیا۔ کئی مہینے کرفیو کے بعد اصل ماجرا معلوم ہوا۔
دراصل افغانستان کے دو بڑے اہم علاقوں کابل اور جلال آباد پر فیصلہ کن جنگ کے لئے طالبان کو بڑی کمک کی ضرورت تھی جو پاراچنار میں لڑائی اور کرفیو کے دوران منتقل کرنی تھی، بعد میں معلوم ہوا کہ اسی کمک کے نتیجے میں کابل پر قبضہ ہوا اور سقوط جلال آباد کے مشہور واقعات رونما ہو کر طالبان کی حکومت کی تشکیل کی بنیاد بنی۔ کرفیو کے دوران ایف سی اور آرمی کی طرف سے ہونے والے واقعات جیسے مال و متاع لوٹنا، نہتے شہریوں کو قتل کرنا اور خواتین کی بےحرمتی جیسے دل ہلا دینے والے واقعات الگ تفصیل کے طلبگار ہیں۔
2007ء:
1996ء کے بعد مختلف مقامات پر ہونے والی جھڑپوں، جارحیت اور مظالم کا سلسلہ جاری رہا جن میں کبھی 5، کبھی 10، کبھی12 مقامی افراد شہید ہوتے رہے، راستے میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ ایک عرصے تک جاری رہی۔ 2007ء سے قبل تک پیواڑ ،بوشہرہ، مالی خیل کے محاذوں پر کئی بار لڑائیاں ہوئیں۔
12 ربیع الاول کو میلاد کے جلوس (2 اپریل2007ء) میں اہلبیتِ ع رسول کی شان میں گستاخی اور 6اپریل2007ء یعنی 17 ربیع الاول کے روز شیعوں کے جلسے پر فائرنگ کے بعد پرتشدد واقعات سے سے تو اپ سب واقف ہیں ۔ 6 اپریل 2007ء سے شروع ہونے والی جھڑپیں 13 اپریل تک جاری رہیں۔ کرفیو لگایا گیا، مگر صرف طوری بنگش آبادی پر، شہر کے وسط میں موجود قلعہ نما مسجد کی چھت اور مینار سے اطراف کی آبادی کو مارٹر گولوں اور توپ خانوں و مشین گنوں سے نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ایک اطلاع کے مطابق 600 سے زائد تربیت یافتہ عسکریت پسند افراد بیک وقت حملہ آور تھے۔ 3 روز تک دفاعی حالات کے دوران شیعہ آبادی پر ایف سی کے کیمپ سے بھی گولے برسائے گئے۔ مسلسل جارحیت سے تنگ آ کر جوابی کارروائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں حملہ آور مارے گئے۔ یہاں پر بھی حکومت اور حکومتی اداروں کا کردار انتہائی منفی رہا۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ 2004ء سے 2007ء کے درمیان پارا چنار سے تعلق رکھنے والے ایف سی کے جوانوں اور پولیس کے اہلکاروں کو وزیرستان، سوات، ہنگو اور دیگر علاقوں میں اغواء کے بعد بے دردی سے شہید کرنے کا سلسلہ بھی عروج پر رہا ، جن کی تعداد 20 سے بھی زیادہ ہے جبکہ افسران کے حکم پر کارروائی کے دوران شہید ہونے والوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
نومبر 2007ء:

اگرچہ اپریل 2007ء کے بعد دونوں شیعہ و سنی اکابرین نے امن و امان کی بحالی کے سلسلے میں کئی اقدامات کئے لیکن چونکہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا۔ وزیرستان کے طالبان اور انتہا پسند ملک دشمن گروہوں کی روایتی مسلکی دشمنی کب ختم ہونے والی تھی۔ 16 نومبر2007ء کو بروز جمعہ ایک بار پھر ایک ذاتی دشمنی کی بنا پر قتل شدہ منگل شخص کا بہانہ بنا کر نماز جمعہ کے بعد ہینڈ گرنیڈ کے حملے سے ایک اور لڑائی کا آغاز کیا۔ بعد میں مسجد سے برآمد ہونے والے نقشوں اور دیگر دستاویزات سے معلوم ہوا کہ حملہ کا پروگرام ان کا کچھ اور تھا۔ دن کے وقت گرنیڈ کا حملہ گھبراہٹ کے عالم میں ہوا۔ جدید اسلحہ سے لیس تربیت یافتہ چھاپہ مار طالبان گروپس کا منصوبہ یہ تھا کہ رات کی تاریکی میں شہر کے بڑے بڑے مراکز، ہوٹلز اور مارکیٹوں کو آگ لگا دی جائے۔ رات 2 بجے جب لوگ آگ بجھانے پر لگ جاتے تو یہ اُن پر فائرنگ کرکے مکمل خاتمہ کرتے، اُس دوران ایک گروہ مرکزی امامیہ مسجد و امام بارگاہ میں گھس کر قبضہ کرتے وغیرہ وغیرہ۔
جون 2008ء:
تاریخ انسانیت کا ایک المناک ترین واقعہ جو کُرم کے باسیوں کے ساتھ پیش آیا کہ طویل محاصرے و صعوبتوں کے شکار عوام نے جب اپنی ہی کوششوں سے اشیائے خورد و نوش کا انتظام کیا، اسے ایف سی کے بھروسے پر پاراچنار روانہ کیا، راستہ میں بدنام زمانہ جرائم پیشہ افراد(جنہیں ایک روز قبل خصوصی احکامات کے ذریعے رہا کیا گیا تھا) کے حملے سے 12 ٹرک ڈرائیورز کے جسموں کے اعضاء و سر قلم کئے گئے، کئی کو جلا دیا اور سامان لوٹنے کے بعد ٹرکوں کو بھی نذر آتش کیا۔ یہ سب کچھ بھی اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ لوئر کرم عطاء الرحمٰن اور کرنل مجید کی سرپرستی میں مسلکی جذبات بھڑکانے کے لئے کیا گیا تاکہ جنگ کے نتیجے میں ایک اور لشکر کشی کر کے ان کا خاتمہ کیا جائے، لیکن طوری و بنگش عوام نے علماء و اکابرین کی ہدایت پر خاموشی اختیار کی۔
اگست 2008ء:
لوئر کرم میں کمزور طوری و بنگش دیہات پر قبضہ کے لئے لشکر کشیاں کی گئیں کیونکہ دیگر محاذوں پر مسلسل ناکامیاں مل رہی تھیں لیکن یہاں پر بھی ان کی سازشیں ناکام ہوئیں، نتیجتاً 42 سے زائد دیہات (شر پسند طالبان کی پناہ گاہیں) خالی ہوئے اور وزیرستان سے، خیبر ایجنسی اور افغانستان سے لشکر کشیاں کرنے والے گروہوں کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار تاریخی شکستوں سے دوچار ہونا پڑا۔ اگرچہ بڑی تعداد میں جانوں کا نذرانہ دینا پڑا، لیکن اس علاقے میں طوری و بنگش قبائل نے اپنی کھوئی ہوئی قدرت دوبارہ حاصل کی اور باگزئی نامی قصبے سے طالبان کے مستقل بڑے کیمپس کا خاتمہ کر دیا۔
پاراچنار کی تاریخ میں دو خودکش بم دھماکے بھی درد دل رکھنے والے انسانوں کے دلوں سے کبھی محو نہیں ہو سکتے۔ پہلا 4 اگست 2007ء کو جس میں تقریباً 15 شہادتیں ہوئیں۔ دوسرا ایک انتخابی جلسے میں، جس میں 100 تک شہادتیں ہوئیں اور درجنوں عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے۔ 2008ء کو ذالحجہ کے مہینے میں طوری و بنگش قبائل کے قومی ملکیتی ہوٹل پر پشاور میں ایک بارود سے بھری ہوئی گاڑی کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس سے نہ صرف یہ کہ ہوٹل کو شدید نقصان پہنچا بلکہ 23 پاراچنار کے شہریوں سمیت کل40 افراد شہید ہو گئے۔ اسی طرح ہوٹل کے قریف ایف سی کے ایک ایسے ٹرک کو بارودی سرنگ سے اُڑا دیا جس میں چھٹی پر آنے والے ایف سی اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید ہو گئے۔
مندرجہ بالا واقعات میں ایک بات مشترک یہ ہے کہ ہر لحاظ سے کوشش کی گئی کہ کسی طرح سے اس علاقے سے طوری و بنگش قبائل کو بےدخل کیا جائے۔ کبھی لشکر کشیوں سے، کبھی محاصروں کے ذریعے اور کبھی راستے میں مسافر گاڑیوں کو نشانہ بنا کر۔ ایک بار تو حد یہ ہو گئی کہ اسرائیلی صیہونی بربریت کی روایت اس علاقے میں قائم کر دی گئی، جب ایک ایمبولینس کو پشاور جاتے ہوئے راکٹ سے نشانہ بنا کر 5 افراد سمیت اُڑا دیا۔ یہ حملہ اپریل2007ء میں پاراچنار شہر کے اندر حیدری بلڈبنک کی ایمبولینس پر حملے کے علاوہ ہے۔ پشاور میں پارہ چناریوں کی ٹارگٹ کلنگ کی تفصیل بھی الگ سے ہے۔
قارئین محترم! یہ سلسلہ تاحال جاری ہے،کچھ واقعات بالکل تازہ آپ کے اذہان میں موجود ہونگے۔
4 جنوری 2011ء کو ایک بار پھر ایف سی کی موجودگی میں اشیائے خورد و نوش لے جانے والے 22ٹرکوں کو ا یف سی کی موجودگی میں لوٹنے کے بعد نذر آتش کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز تماشائی بنے رہے۔
مارچ 2011ء:

2 مارچ کو ایک مسافر وین پر ریموٹ کنٹرول بم کا حملہ ہوا۔ 13مارچ کو ضلع ٹل کے علاقے میں مسافر کوچ پر فائرنگ سے 13 افراد شہید ہو گئے۔ 20 مارچ کو بھی ہنگو کے قریب کوچ پر پھر فائرنگ ہوئی۔ 25 مارچ کو پشاور سے پارہ چنار جانے والی طوری بنگش قبائل کی مسافر کوچز پر بگن کے نزدیک حملہ کیا گیا، جس میں 3 افراد شہید اور 25 اغواء کر لیئے گئے جو تاحال بازیاب نہیں کروائے جاسکے۔
قیام پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک رونما ہونے والے تمام چھوٹے بڑے تنازعات و واقعات کے بعد امن و امان کے نام پر بیسیوں معاہدات مابین فریقین کئے جاچکے ہیں جن میں سے معاہدہ کوہاٹ 199ء اور معاہدہ مری 2008ء اپنی نوعیت اور متن کے اعتبار سے مضبوط معاہدے تصور کئے جاتے ہیں۔
مذاکرات کے دوران سنی عمائدین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیرستان، خیبر، اورکزئی، باجوڑ اور دیگر علاقوں سے طالبان ان کی مدد کے لئے آتے رہے ہیں لیکن بعض اوقات وہ مدد سے بڑھ کر خود سے بھی کارروائیاں کرتے ہیں اور اگر کوئی انہیں روکنا چاہے تو اسے بھی قتل کر دیتے ہیں یعنی وہ اپنا الگ سے ایجنڈا رکھتے ہیں۔ ا
س بات سے ثابت ہوتا ہے کہ کُرم ایجنسی کے اندر ہونے والی جنگیں کوئی شیعہ سنی یا قبائلی جنگیں نہیں بلکہ افغانستان میں لڑی جانے والی عالمی سرد و گرم جنگ میں سب شیعہ و سنی اہلیان کرم ایجنسی سینڈوچ بنے ہوئے ہیں۔
یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ جنوبی وزیرستان سے بیت اللہ محسود نے متعدد بار 1000، 2000کے لشکر شیعوں کے خاتمے کے لئے بھیجے، اسی طرح خیبر ایجنسی سے منگل باغ نے بھی " لشکر اسلام" گروہ کے سینکڑوں جنگجووُں کو اس وادی کی طرف یلغار کی غرض سے بھیجا اور تو اور شمالی و جنوبی وزیرستان، خیبر، باجوڑ، ٹل اور افغانستان کے علاقوں خوست و شہرنو وغیرہ باقاعدہ اعلانات کے ذریعے سے " جہاد پارہ چنار" کے نام پر ہزاروں کے لشکر ان چار سالوں کے دوران بلاناغہ بھیجے جاتے رہے لیکن نہ صرف یہ کہ کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لاشیں چھوڑ کر فرار بھی ہوتے رہے۔ ان معرکوں میں بیت اللہ محسود، حقانی گروپ، منگل باغ اور دیگر گروہوں کے 40 سے زائد کلیدی عہدوں پر فائز کمانڈرز بھی موت کے گھاٹ اُترے۔
الغرض مری معاہدے کو دونوں فریقین نے امن کی نوید جان کر اسے دل و جان سے قبول کیا مگر یہ معاہدہ اکتوبر 2008ء کے بعد ڈھائی سال تک عمل درآمد سے محروم رہا۔
ان چار برسوں میں کرم ایجنسی کے رہنے والوں نے کیا نہیں کیا ۔۔ ملک گیر مظاہروں، بھوک ہڑتالی کیمپس، دھرنوں، پریس کانفرنسز اور صدر، وزیر اعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس سمیت تمام اعلیٰ وفاقی و صوبائی عہدیداروں سے خصوصی ملاقاتوں کے علاوہ یو این کے دفتر، لندن، آسٹریلیا حتیٰ کہ دہلی میں بھی پاراچنار کے مسئلہ پر صدائے احتجاج بلند کی ۔ مگر صدر، وزیراعظم، وزیر داخلہ، گورنر سرحد الغرض سب نے طفل تسلیوں سے سے خاموش کراوا کر انہیں فراموش کر دیا ۔
اہلیان کّرم ایجنسی اور وادی پارا چنار پر جنگ کے اثرات 1۔ تعلیمی انحطاط:اپریل 2007ء سے قبل ہر سال ایک بڑی تعداد انجینئرنگ، میڈیکل، آرمڈ فورسز کمشنڈ آفیسرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری لیا کرتی تھی۔ خطے میں خون کی ہولی کھیلے جانے کے بعد مختلف مقامات پر کئی سکول تباہ ہو گئے، سکول اور کالجز سال کے بیشتر حصے میں بند رہے۔ نقل کا رجحان بڑھ گیا، بہت سے طلباء کے سال ضائع ہو گئے۔ تعلیمی امور اور داخلوں کی غرض سے بڑے شہروں کا رُخ کرتے وقت تقریبا 10 طالبعلم اغواء، 15 شہید اور 80 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ شہید ہونے والے طلباء کی مجموعی تعداد 100 سے بھی زیادہ ہے۔ راستے میں حملوں کے خوف سے کثیر تعداد میں طلباء تعلیم (اعلیٰ) جاری رکھنے سے بھی محروم ہو گئے۔ کسی بھی قوم کے زوال کے لئے یہی کافی ہوتا ہے کہ وہاں تعلیم کے دروازے بند کر دیئے جائیں جو کہ کرم ایجنسی میں ظہور پذیر ہوا ہے۔ وہ بچے اور جوان کہ جن کے ہاتھوں میں قلم و کتاب ہونا چاہیئے تھی، بندوق و بارود آگیا۔
2۔ ثقافتی، معاشرتی و نفسیاتی اثرات:
قبائلی پٹی کا وہ خطہ جو کسی زمانے میں امن و امان کا گہوارہ ہوا کرتا تھا، وہ گولہ و بارود کے کھیل کے تاریک میدان میں تبدیل ہو گیا۔ قتل و غارت گری، ذاتی دشمنیاں، سٹریٹ کرائمز میں اضافہ، عدم ذہنی سکون و خوف و ہراس کی وجہ سے (اور کچھ دیگر عوامل جیسے دشمن کی طرف سے سازش) نشہ آور اشیاء کے استعمال میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ امن و امان اور سکون کی تلاش میں (جبری جلاوطنی کے علاوہ) بہت سے خاندانوں نے ازخود بھی ہجرت اختیار کر لی۔
3۔ اقتصادی زوال و مشکلات:
امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے تو پہلے ہی سرمایہ دار طبقہ علاقے سے رخصت ہوا، جس سے کاروبار بری طرح متاثر ہوا، پھر مسلسل محاصرے کے باعث اور ٹل پاراچنار روڈ پر متعدد بار درجنوں کنٹینرز کی لوٹ مار نے جلتی پر تیل کا کام کر کے مشکلات کو دگنا کر دیا۔ بہت سے خاندانوں کے کفیل بالخصوص سمندر پار پاکستانیوں کی وطن آمد پر ٹارگٹ کلنگ کے باعث کثیر آبادی کی قوت خرید متاثر ہوئی۔
4۔جانی نقصان: جانی نقصان کے حوالے سے جو اعداد و شمار پاراچنار کے فلاحی ادارے پیش کرتے ہیں وہ یہ ہیں کہ ایجنسی کے حقیقی مالکان طوری و بنگش قبائل سے شہیدوں کی کل تعداد ساڑھے تیرہ سو (1350) سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مجروحین کی تعداد ساڑھے سات ہزار (7500) تک ہے جن میں 500 کے لگ بھگ عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے ہیں۔ شہداء میں سے خواتین کی تعداد 40 ہے، کم سن شہداء کی تعداد 15 ہے، شہید ہونے والے طلباء 100 سے زیادہ ہیں، دوران سفر شہید ہونے والے 150 ہیں، ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے 20 ہیں، خودکش بم دھماکوں سے شہید ہونے والوں کی تعداد 115 ہے جبکہ لشکر کشیوں کو روکنے اور دوران دفاع شہید ہونے والوں کی تعداد بتقریباً 700 ہے۔
موجودہ صورتحال:۔ستمبر،اکتوبر 2010ء خیوص کی لڑائی میں برعکس نتائج ملنے کے بعد پارہ چنار کا محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا۔ امن و امان کے نام پر پاراچنار ائیر پورٹ میں بھی سکیورٹی فورسز نے ڈیرے ڈال کر توپیں نصب کر دیں، جس کی وجہ سے پروازیں بھی بند ہو گئیں۔ ادھر کرنل کمانڈنٹ ایف سی نے کُرم ایجنسی سے متصل پاک افغان سرحد پر اُن تمام راستوں کے پوائنٹس بند کرنے کا اعلان کیا، جو طوری و بنگش علاقوں کو منسلک کرتے تھے۔

اسی دوران شیعہ یرغمالیوں کی رہائی کے لئے طالبان کے حقانی گروپ نے تعاون کا اعلان کر کے شیعہ اکابرین سے ملاقاتوں کا سلسلہ قائم کر دیا۔ آخری فیصلہ جات سے قبل مذاکرات میں شامل ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے سنی قبائل کے عمائدین نے طالبان گروپ کے ذریعے معاہدہ مری کی اس شق میں تبدیلی کے لئے بھرپور دباؤ ڈالا کہ پارہ چنار میں دوبارہ آباد کاری کاغذات مال کے مطابق ہو کیونکہ کاغذات مال کے مطابق پارہ چنار شہر میں اہلسنت گھرانوں کی تعداد ڈیڑھ دو سو سے زیادہ نہیں ہے، مگر ظاہری طور پر اسے قبول نہیں کیا گیا۔ بالآخر
3 فروری 2011ء کو وزیر داخلہ رحمٰن ملک کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سے امن معاہدے کا اعلان کیا گیا جس کو بڑی سطح پر عوامی پذیرائی ملی۔سانحہ 13 مارچ 2011ء: مارچ کے آغاز میں ضلع ٹل کے علاقے ماموں خُڑ میں ایک ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے سے 6 مسافر زخمی ہو گئے تھے۔ 13 مارچ بروز اتوار پھر اُسی جگہ چند خونخوار درندوں نے پاراچنار سے پشاور جانے والی مسافر کوچ کو روک کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے موقع پر 11 افراد زخمی اور کل 13 افراد شہید ہو گئے۔ ان شہداء میں سے ایک شہید مجاہد حسین بھی تھے جو اسلام آباد میں نیٹ ورکنگ انجینئر تھے، ان کا تعلق قائد شہید حسینی رہ کے گاؤں پیواڑ سے تھا۔
ابھی 13 مارچ کے زخمیوں کے زخم تازہ تھے کہ 20 مارچ کو ایک مسافر وین کو ہنگو کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس میں 8 سے 10 افراد زخمی ہو گئے۔ 13 مارچ کے واقعے میں پولیس کی فائرنگ سے 3 حملہ آور بھی مارے گئے جبکہ 3 کو زندہ حراست میں لیا گیا۔
اسی دوران 25 مارچ کے واقعہ کی غم ناک خبر موصول ہوئی، جس میں بگن کے علاقہ میں پشاور سے پاراچنار جانے والی شیعہ مسافروں کی کوچز پر حملہ اور آتش زنی و اغواء جیسا سانحہ پیش آیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق متعدد طوری و بنگش افراد شہید اور 35 اغواء ہیں۔ تاہم ابھی تک 3 شہداء کی لاشیں موصول ہو چکی ہیں، باقی مغویوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ اس واقعہ کے بعد حالات ایک بار پھر دگرگوں ہوتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ایک فریق کے علاقے میں کھلم کھلا امن معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
دیکھا جائےتو اپنی بےپناہ و بےمثال جغرافیائی اہمیت کی بنا پر طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے لئے کُرم ایجنسی کے بالائی حصہ کا کنٹرول حاصل کرنا بہت معنی رکھتا ہے کیونکہ یہ براہ راست صوبہ ننگر ہار، پکتیا، پکتیکا اور خوست کو راستہ فراہم کرتا ہے جسے افغانی "Greater Paktia" کا نام بھی دیتے ہیں۔
افغانستان میں حالیہ جاری کشیدگی سے متعلق ماضی قریب میں امریکی صدر باراک اوباما ، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ، امریکی سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس اور وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے دورے ہوئے، جہاں کابل میں مختلف سطح کی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دورے سے متعلق
وکی لیکس کے ایک انکشاف کے مطابق وزیراعظم صاحب نے امریکیوں کو یقین دہانی کروائی کہ اُن کی حکومت ڈرون حملوں سے متعلق محض شور مچانے کے علاوہ کوئی موثر مخالفت نہیں کرے گی اور یہ کہ امریکہ کو ڈرون حملے جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ حالیہ مہینوں میں امریکی ڈرون حملوں میں شدید اضافہ سے حقانی گروپ کو اپنے ٹھکانے کُرم ایجنسی منتقل کرانے کے لئے اہلیان کُرم سے مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہ آیا۔
مذاکرات و ٹھکانوں کی منتقلی کی ایک اور بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق جنرل پیٹرس نے صدر اوباماکو اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ جولائی 2011ء سے امریکی افواج میں کمی کر دی جائے گی اور رفتہ رفتہ امور افغان فورسز کو منتقل کرنا شروع کر دیئے جائیں گے۔
ڈیلی تائمز کے ایک آرٹیکل میں ڈاکٹر محمد تقی نے مکمل شواہد کے ساتھ اس بات کو یوں بیان کیا ہے کہ ( افغانستان سے ممکنہ امریکی انخلاء کو جہادی گروپس " تاج و تختِ کابل" پر دوبارہ قابض ہونے کے لئے ایک بڑی غنیمت شمار کرتے ہیں۔اس پس منظر میں اہلیان کرم ایجنسی کا سوال بہت اہم ہے کہ "
کیا اب فضل سعید طالبان کمانڈر کُرم ، حقانی گروپ ہمارے مستقبل کا فیصلہ کریں گے؟ کیا یہاں بھی ڈرون حملوں کی بربریت شروع ہو جائے گی؟، کیا کُرم بھی وزیرستان جیسا بن جائے گا ؟جہاں ڈرون حملے سے بیک وقت 40 بےگناہوں کی ہلاکت کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا، جہاں کسی کی بھی عزت و ناموس محفوظ نہیں ہے ۔
کتنے دکھ کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ کّرم ایجنسی اور اس کا دارالحکومت پارا چنار افغانستان کے روایتی مخالفین، وزیرستان اور خیبر کے مخالفین قبائل کے مسلسل نرغے میں ہے کسی حکومتی ادارے نے گزشتہ کئی سالوں سے اہلیان کرم کے مطالبات برائے قیام میڈیکل کالج، بحالی پی آئی اے سروس، لوئر کرم میں جی ٹی روڈ پر چیک پوسٹوں کے قیام، طوری ملیشیا کی بحالی جیسے کلیدی امور پر ذرہ برابر پیشرفت نہیں کی ۔اب جبکہ دنیا مشرق وسطٰیٰ اور مسلم ممالک میں اُٹھنے والی بیداری کی لہر کی طرف متوجہ ہو گئی ہے لیکن پاکستانی میڈیا نے ماسوائے چند ایک پروگرامات کے کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں اٹھایا ۔
زرا سوچئے ۔۔ اور۔۔۔ اہلیان کرم ایجنسی پر ٹوٹنے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھایئے ۔۔ ان کے دکھ کو محسوس کیجئے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے پوچھئے ان حالات میں پاکستان کے ایک اہم اور حساس ترین علاقے میں امن و امان ، ترقی اور مسلکی آزادی کی مستقبل میں کیا ضمانت ہو گی ؟ نوٹ:
# کل شہداء کی تعداد 1961ء سے 2011ء تک کی ہے
# تواریخ کے حوالہ جات وکیپیڈیا سے لیئے گئے ہیں اور تاریخی روایات کرم گزیٹیر سے لی گئی
# تجزیات کے لئے جناب عادل بنگش کے مضامین “ وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو “ سے استفادہ کیا گیا
# کالم کی تحریک اور راہنمائی کے لئے جناب سید مصباح حسین جیلانی کا شکریہ
# کالم کی مناسبت سے وڈیو کی تیاری جناب سید مصباح حسین جیلانی نے کی