15.10.2026, 12:30pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » زرقا مفتی
 

یہ طوق غلامی اُتارو تو مانیں ۔از زرقا مفتی ۔لاہور
04.05.2011, 01:32am , بدھ (GMT+1)

زرقا مفتی ۔لاہور
پاکستانی قوم ریمنڈ ڈیوس کے واقعے پر سخت رنجیدہ تھی اور عوامی جذبات کے پیش نظر عسکری و سیاسی قیادت نے ڈرون حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ابھی ایک عشرہ قبل ہی ڈرون حملوں کے خلاف دھرنا بھی دیا گیا۔  لیکن اس سے پہلے کہ ہماری سوئی ہوئی غیرت جاگتی امریکی آقاوں نے ہمیں ہماری اوقات بتا دی۔ آدھی رات کو امریکی فوجی چار ہیلی کاپٹروں میں سوار ہو کر آئے اور اُسامہ کے بھوت کو گولی مار کر اُس کا لاشہ لے گئے۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت اس سانحے کے بعد اس قابل بھی نہ رہی کہ کوئی بیان جاری کر سکے۔ویسےبھی غلاموں کو آقا کے کارناموں پر اُنگلی اُٹھانے کا نہ تو حق ہوتا ہے اور نہ ہی جرات اس لئے ہماری قیادت کے پاس سوائے واہ واہ کرنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔ اب ہم چاہے آہ کریں یا فریاد کسی کا کیا بگڑتا ہے۔

بہت سے دانشور تو قوم کو مشورے دے رہے ہیں کہ اپنی غلامانہ حیثیت کو تسلیم کر لیں اور غیرت کی دُہائی دینا بند کریں کیونکہ غیرت کسی کا پیٹ نہیں بھرتی ۔ بجا فرماتے ہیں ہمارے دانشوران طوق غلامی تواب سب کو نظر آ رہا ہے۔ امریکہ نے ایک ہی طمانچے سے ہمارے سروں سے غیرت کا بھوت اُتار دیا ہے۔
اُسامہ کی موت کے ڈرامے سے امریکہ نے ثابت کر دیا کہ وہ جب چاہے پاکستان کے کسی بِھی شہر پر یہاں کی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر حملہ کر سکتا ہے۔ امریکی صدر کی تقریر ہمارے اکابرین کے لئے "بریکنگ نیوز" ثابت ہوئی۔ دفتر خارجہ نے قوم کو اطلاع دی ہے کہ پاکستان کی عسکری و حکومتی قیادت اس آپریشن سے کلی طور پر بے خبر تھی۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ لا علمی ہزار نعمت ہے۔ ہماری معصوم حکومت تو اس بات سے بھی بے خبر تھی کہ اُسامہ کا بھوت ایبٹ آباد میں پانچ سال سے ایک قلعہ بند عمارت میں رہائش پذیر ہے۔ یہ تو بھلا ہو ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکی خفیہ اہلکاروں کا جنہوں نے اُسامہ کے ٹھکانے کا پتہ لگایا اور غمگین امریکی قوم کو گراونڈ زیرو پر جشن منانے کا موقع فراہم کیا۔

ویسے ہمارے ناقص خیال میں اُسامہ ۲۰۰۱ میں ہی اس فانی دُنیا سے کوچ کر گیا تھا۔ مگر امریکہ کا فائدہ اسی میں تھا کہ اسے خبروں میں زندہ رکھا جاتا اور ساتھ ہی طالبان کے نئے دھڑے تشکیل دئیے جاتے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو طول دیا جا سکے۔

امریکی صدر جارج بُش دوم نے تو اسی جنگ کی آڑ لے کر دوسری صدارتی مدت کے لئے ووٹ حاصل کر لئے تھے۔دُنیا میں امریکی دہشت گردی کو شروع ہوئے دس سال ہو گئے ہیں۔ اس جنگ میں عراق اور افغانستان تو تباہ ہوگئے مگر ساتھ ہی  امریکی معیشت بھی کھوکھلی ہو گئی۔ امریکی عوام بھی اس جنگ سے بیزار ہو چلی تھی ۔ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر کی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گئی تھی ایسے میں عوام کی توجہ اور ووٹ حاصل کرنے کے لئے اُنہیں ایک بڑے سانحے یا بڑی خوشخبری کی ضرورت تھی۔ سو اُنہوں نے اُسامہ کے بھوت سے کام لینے کا فیصلہ کیا۔ ایبٹ آباد کے ایک مشکوک گھر پر  امریکی فوج نے آدھی رات کو دھاوا بولا اُسامہ کے بھوت کو گولی ماری اور اُس کا فرضی لاشہ اُٹھایا اُس کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا اور لاشے کو سمندر برد کر دیا۔

ہو سکتا ہے کچھ قارئین یہ سمجھ بیٹھیں کہ میں بھی امریکہ مخالف ٹولے کے گھڑے ہوئے گھسے پٹے افسانے کو دُہرا رہی ہوں۔ چلئے اگر ایسا ہی ہے تو یہ بتائیے کہ ایسا کیوں ہے ؟؟
کہ ایک طرف تو امریکہ اتنا بہادر ہے کہ  کسی آزاد ملک میں اپنی فوج اُتار کر وہاں دہشت گردی کا ایک کارنامہ انجام دیتا ہے مگر کچھ گھنٹوں بعد ہی کسی انجانے خوف کے تحت اُسامہ کے لاشے کو سمندر برد کر دیتا ہے۔ اُسامہ کی نعش کی تصویریں بھی جاری نہیں کرتا ۔ اُس کی آخری رسوم کی ریکارڈنگ بھی نہیں دکھاتا اور نعش سمندر میں بہا دیتا ہے ۔ یقینا کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کرنی مقصود تھی۔

مگر ہم پھر بھی خوش ہیں کہ اور کچھ ہو نہ ہو امریکہ نے اُسامہ کے بھوت کو اپنی خدمات سے سبکدوش کر دیا۔ غور طلب امر یہ ہے کہ اب اس کا نعم البدل کیا ہوگا۔ گمان غالب یہ ہے کہ پاکستان کو اس بھوت کی بازیابی کی بہت کڑی قیمت چکانی ہوگی۔ امریکہ کااگلا شکار آئی ایس آئی ہے ۔ اور ہونا بھی چاہیئے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک غلام قوم کی خفیہ ایجنسی اپنے آقا کو غلط معلومات فراہم کرے۔ امریکی عہدیداروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کا پتہ چلائیں گے کہ آئی ایس آئی اُسامہ کی مبینہ پناہ گاہ سے واقف تھی یا نہیں۔ کچھ ایسے خیالات کا اظہار فرانسیسی اور برطانوی عمائدین نے بھی کیا ہے۔ اب ہم لاکھ چلا ئیں قسمیں کھائیں ہمارے زمینی خُدا تو یہی کہیں گے کہ ہمیں معلوم تھا اور ہم اُسامہ کی حفاظت کر رہے تھے۔ ہم لاکھ دلیلیں دیں کہ ہماری آئی ایس آئی کو روحوں اور بھوتوں کےٹھکانوں کا پتہ چلانے کی تربیت نہیں دی جاتی مگر وہ ہر گز نہ مانیں گے کیونکہ آقا ہمیشہ سچ کہتے ہیں۔ اسی لئے تو ہمارا ہر نیوز چینل امریکی ڈرامے کو سچ تسلیم کر بیٹھا ہے۔ حالانکہ ہمارا ماضی گواہ ہے کہ ہم نے رمزی یوسف خالد شیخ ڈاکٹر عافیہ اور درجنوں مطلوبہ افراد کو بخوشی امریکہ کے حوالے کیا ہے۔ بس فرق صرف یہ تھا کہ ہم صرف زندہ افراد کی حوالگی کی مہارت رکھتے ہیں روحوں اور بھوتوں کو پکڑنے کی استعداد ہم نے حاصل نہیں کی۔

ہمارے افغانی بھائی جو ہماری بیشتر مشکلات کے ذمہ دار  ہیں وہ  بھی ہم سے سخت نالاں ہیں حالانکہ اُسامہ کا بھوت افغانستان سے ہی ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کو بھی ہماری کردار کُشی کا سنہری موقع ہاتھ لگا ہے۔ وہ بھی امریکیوں کا رٹایا ہواسبق دُہرا رہے ہیں کہ ہم نہ کہتے تھے کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔

ہو سکتا ہے ہمارے کچھ  بھائی ہماری اس تحریرسے خفا ہو جائیں۔ اُن کی خدمت میں صرف اتنا عرض کروں گی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی سے ایک چھوٹا سا سبق سیکھ لیں۔ طاقتور دشمن کو زیر کرنے کے خواب دیکھنے سے پہلے یا اُس پر چڑھائی کرنے سے پہلے خود میں مقابلے کی اہلیت پیدا کریں۔  ہم پچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ مکہ کی طرف پیش قدمی کرنے سے پہلے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ کی ریاست کو مستحکم کیا اندرونی دشمنوں اور سازشیوں کا خاتمہ کیا ۔ لڑائی کے لئے دُنیاوی اسباب یعنی ہتھیار ، سواریاںاور مال اکٹھا کیا۔ جان نثاروں کی فوج تیار کی اور پھر فتح مکہ کا قصد کیا۔ اُسامہ کے انجام میں بھی مسلمانوں کے لئے یہی سبق ہے کہ پہلے امریکہ یا مغربی استعمار کے برابر اسلحہ اور دیگر اسباب اکٹھے کیجئے ۔ آپس میں اتحاد کو فروغ دیجئے ۔ اپنی ریاستوں میں اندرونی خلفشار کو دور کیجئے معاشی استحکام پیدا کیجئے پھر زمینی خداوں کے خلاف اعلان جہاد کیجئے۔

اس سارے ہنگام میں چند آوازیں ایسی بھی ہیں جو کہہ رہی ہیں کہ امریکہ ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہوا ہے۔ اور اگر دُنیا میں کوئی غیر جانبدار بین الاقوامی تنظیم موجود ہوتی تو امریکہ کو اپنے اس غیر قانونی عمل کے لئے جوابدہی کرنی پڑتی بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ مگر افسوس کہ اقوام متحدہ ایک جانبدار ادارہ ہے جو امریکی مفادات کی نگرانی کرتا ہے اور اُسے دہشت گردی کی اجازت دیتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہ چند آوازیں ابھی بہت کمزور ہیں حکومتی حلقے ان آوازوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں۔ امریکہ کے خلاف آواز بلند کرنے کا نتیجہ حکومت کی برطرفی کی شکل میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لئے ہمارے حکمرانوں کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ طوق غلامی کواپنی گردن کی زینت بنائے رکھیں اور وقتا فوقتا اپنی وفاداری کا ثبوت مہیا کرتے رہیں۔

ہمارے حکمران تو بدیسی خداوں کے ہر ھکم پر لبیک کہنے کو تیار ہیں لیکن ہم جیسے کم عقل لوگ مصر ہیں کہ

 وطن سے بلاؤں کو ٹالو تو مانیں
 اسے دشمنوں سے بچاؤ تو مانیں

بدیسی خداؤں کے ہاتھوں سے پہنا
 یہ طوقِ غلامی اُتارو تو مانیں

 اندھیروں میں ڈوبا ہمارا وطن ہے
امیدوں کو پھر سے جگاؤ تو مانیں

 گرانی گھٹاؤ غریبی مٹاؤ
کوئی معجزہ کر دکھاؤ تو مانیں

بہت اُڑ لیے تم بدیسی ہوا میں
ہوا اب وطن کی جو کھاؤ تو مانیں

 تجوری تمھاری لبالب بھری ہے
یہ قرضے وطن کے اُتارو تومانیں

بہت لڑ چکے دوسروں کی لڑائی
ہمیں یہ لڑائی جتاؤ تو مانیں

کئی ہم وطن گم شدہ لا پتہ ہیں
 کہیں سے اُنہیں ڈھونڈ لاؤ تو مانیں


:دیگر مضامین
(04.02.2011) کیا ہم امریکہ کے غلام ہیں؟ از زرقا مفتی
(03.12.2010) لا علمی ہزار نعمت ہے ۔ از؛ زرقا مفتی ۔لاہور
(10.10.2010) امریکہ برائے فروخت۔۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔زرقا مفتی
(24.08.2010) کیا اللہ ہم سے خفا ہے؟ ۔۔از؛ زرقا مفتی ۔ لاہور ۔ پاکستان
(08.08.2010) اے جذبہ ءدل گر میں چاہوں۔۔۔۔۔۔از؛زرقا مفتی ۔لاہور
(16.06.2010) کیا ہم کسی پانچویں پاس سے زیادہ سمجھ بوجھ کے حامل ہیں؟ زرقا مفتی
(23.04.2010) عذاب درعذاب اور گڈ گورنس کا آئینہ ۔ از ۔ زرقا مفتی
(19.02.2010) ہماری قیادت اور افہام و تفہیم ۔از۔زرقا مفتی
(24.01.2010) پاکستانی کرکٹرز کی نراشا ۔از ؛ زرقا مفتی ۔ لاہور
(14.01.2010) ترقی کے لیے منصوبہ بندی ناگزیر ہے ۔از؛زرقا مفتی۔لاہور
(18.12.2009) پاکستان میں ایک نئی صبح کا آغاز۔از؛ زرقا مفتی
(07.12.2009) پاکستان کی دستار۔۔۔۔از؛ زرقا مفتی ۔لاہور
(13.11.2009) احتساب کے بغیر انصاف ۔۔۔۔۔ ناممکن ۔از؛زرقا مفتی ۔لاہور
(02.11.2009) امریکہ سے طلاق ۔از؛ زرقا مفتی ۔لاہور
(01.11.2009) سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
(26.10.2009) ایک ہی لاحقہ ہے جو ایک مقناطیس ہے۔از۔زرقا مفتی
(16.10.2009) مسئلہ اپنی بقا کا ہے۔ از زرقا مفتی،لاہور
(09.10.2009) امریکہ کی ہمدردی ۔ ۔ ۔ ہماری سر دردی۔از؛ زرقا مفتی
(01.10.2009) سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
(09.09.2009) ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از زرقا مفتی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں