مُسلم دُنیا اور
بالخصوص پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات
بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ امریکہ کی ان ممالک کے داخلی معاملات میں دخل
اندازی ہے۔ گیارہ ستمبر کے حادثے کے بعد امریکہ نے خود حفاظتی اقدامات کے تحت پہلے
وار کرنے کی پالیسی اپنائی اسی پالیسی کے تحت وہ عراق ، افغانستان اور پاکستان میں
مصروفِ جنگ ہے۔ امریکہ کی معیشت کی بدحالی ایک بڑی وجہ یقیناً ان جنگوں پر اُٹھنے
والا خرچ ہے۔ امریکی فوجیوں کے علاوہ
امریکی خفیہ ایجنٹ بھی ان ممالک میں اہم فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اکثر خفیہ
اہلکاروں کو ان ممالک میں سفارتی اہلکار ظاہر کیا جاتا ہے کیونکہ سفارت کاروں کو
میزبان ملک میں سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان ،
افغانستان اور عراق میں ایسے خفیہ
اہلکاروں کی غیر قانونی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں اور ان ممالک کے حکمران امریکہ
کے دستِ نگر ہونے کے باعث ان اہلکاروں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے سے قاصر ہیں۔
گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے لاہورکی ایک مصروف شاہراہ پر دن
دہاڑے دو نوجوانوں کوممنوعہ ہتھیار سے گولیوں کا نشانہ بنایا اور ایک تیسرے شخص کو
اس امریکی کے مددگار کی کار نے کُچل ڈالا۔ امریکی اہلکار کی گاڑی سے کچھ نقشے، رقم
، موبائل فون او ر اسلحہ برآمد ہوا ۔
برآمد ہونے والی اشیاء کی نوعیت ہی بتاتی ہے
کہ وہ سفارتی اہلکارنہیں ہے۔ امریکہ کے ایک موقر خبر رساں ادارے کے مطابق
وہ ایک پرائیویٹ سیکیورٹی ادراہ چلاتا ہے ۔ یعنی اُسکا تعلق بلیک واٹر جیسے کسی
ادارے سے تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس
شخص کا اصل نام کچھ اور ہے اور وہ ویانا کنونشن کے مطابق اس کی رہائی کا تقاضا کر
رہے ہیں۔ حالانکہ وہ گرفتاری کے وقت اپنے سفارتی تقرر کی دستاویزات پیش کرنےمیں
ناکام رہا۔
ویانا کنونشن کے مطابق
سفاری اہلکاروں پر لازم ہے کہ میزبان ملک کے قوانین کا احترام کریں۔ لیکن کسی جرم
میں ملوث ہونے کی صورت میں میزبان ملک کی پولیس اُنہیں گرفتار نہیں کر سکتی تا
آنکہ بھیجنے والا ملک اُن کا استثنیٰ ختم نہ کردے۔ ماضی میں کسی جرم کا ارتکاب
کرنے والے اہلکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر واپس بھیج دیا جاتا تھا جہاںاُن
کے خلاف مقدمہ چلتا اور معمولی سزا دیدی جاتی۔ مگر لاہور میں ہونے والا واقعے کو
ماضی کے واقعات کی روشنی میں نہیں دیکھا جا سکتا اس لئے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی
مبینہ سفارتی اہلکار نے سرِ عام میزبان ملک کے شہریوں پر گولی چلائی ہو۔ ایسا
معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ بہادر نے سفارتی اہلکاروں کی آڑ میں ریمبو جیسے کردار
پاکستان بھیج رکھے ہیں۔
اب ایک جانب تو عوامی
جذبات ہیں دوسری جانب اعلیٰ عدلیہ کا فرمان ہے اور تیسری جانب غیر ملکی آقاؤں کا
دباؤ ہے ۔ اسی دباؤ کے باعث ہمارے صدرِ مملکت نے فرمایا ہے کہ احتجاج کرنے والے
اسکے مضمرات سے ناواقف ہیں۔ جس ملک کے حکمران غیر ملکی آقاؤں کے غلام ہوں وہاں کے
عوام کو احتجاج کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ہم تو سمجھے بیٹھے تھے کہ وزیراعظم یا
صدرِ محترم امریکہ بہادر سے صاف صاف کہہ دیں گے ہم ڈیوس کو سفارتی اہلکار تسلیم
نہیں کرتے کیونکہ اسکے سفری کاغذات اس بات کی گواہی دینے سے قاصر ہیں۔ مگر ایسا
کچھ نہیں ہوا ۔ پھر ہم نے سوچا کہ ہمارے اکابرین امریکہ سے ڈیوس کا استثنیٰ ختم
کرنے کا مطالبہ کریں گے مگر یہ بھی ہماری خام خیالی تھی کیونکہ غلام آقاکے سامنے
آواز بلند کریں یہ آدابِِ غلامی کی خلاف ورزی ہے ۔
کچھ اور تلخ حقائق بھی ہمیں ہماری اوقات یاد
دلاتے ہیں۔ ہمارے کشکول بردار حکام میں اتنی جرات یا حمیت باقی نہیں کہ وہ اپنے
آقا کے کسی حکم کی سرتابی کر سکیں۔ جی ہاں امریکہ کے احسانات کے بدلے ہمارے حکمران
امریکہ کی غلامی قبول کر چکے ہیں۔ ان کا اور امریکہ کا رشتہ صرف جی جناب کا ہے ۔
امریکہ اپنی المشہور گاجر اور چھڑی کی پالیسی کا استعمال خوب جانتا ہے اور ہمارے
حکمران جی حضوری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
ہماری توقعات کے برعکس
افواہیں گرم ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کے جعلی سفری کاغذات تیار کئے جارہے ہیں تاکہ اسےباعزت
بری کر کے امریکہ کے جہاز پر سوار کیا جاسکے۔
تین پاکستانی افراد کا
جاں بحق ہو جانا کوئی ایسا بڑا سانحہ نہیں جس پر امریکی آقا پشیمان ہوں ۔ اُن کے
ساخت کردہ ڈرون آئے دن کئی معصوم پاکستانیوں کی جان لیتے ہیں ۔ ڈیوس نے گولی ماردی
تو کیا ہوا۔ پاکستانی آئندہ محتاط رہیں کسی امریکی صاب کی گاڑی کے قریب سے یوں نہ
گزریں کہ اُسے شک ہو کہ پاکستانی اُسے لوُٹنا چاہتے ہیں ورنہ اپنی جان سے ہاتھ
دھونے ہونگے۔ ہمارے شہروں کی مصروف شاہراہوں پر نہ جانے کتنے امریکی اہلکار ممنوعہ
ہتھیار لئے گھوم رہے ہیں۔ ہماری حکومت اُن کے وجود سے بے خبر نہیں مگر کبوتر کی
طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔
خبروں کے مطابق نواز
شریف نے امریکی سفارتکاروں کو کورا جواب دے دیا ہے کیونکہ وہ حکومت میں نہیں اس لئے اُن پر آداب
غلامی کا پاس کرنا لازم نہیں۔ معلوم نہیں
اُن کی حمیت کب تک ریمنڈ ڈیوس کی کی رہائی کے آڑے آتی ہے۔ ریمنڈ اور اُس کے
مددگاروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں انصاف ملتا ہے یا نہیں اس کا دارومدار ہم سب
پر ہے۔ہم سب کو مل کر یہ آواز بلند کرنی چاہیئے کہ جعلی سفارتکاروں کو ملک بدر کیا
جائے ۔ ماضی میں جن غیر ملکی افراد کو بلاتحقیق ویزے جاری کئے گئے ان پر کڑی نظر
رکھی جائے اور غیر قانونی یا مشکوک سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کو ناپسندیدہ قرار
دے کر ملک بدر کیا جائے۔ سفارتی اہلکاروں کے اسلحے کے ساتھ سڑکوں پر گھومنے پر
پابندی لگائی جائے۔اگر امریکی اپنے آپ کو پاکستان میں غیر محفوظ تصور کرتے ہیں تو
اپنے سفارتی عملے کی تعداد کو بڑھانے کی بجائے گھٹائیں اور غیر محفوظ پاکستانی
شاہراہوں پر محافظوں کے ساتھ سفر کریں یا پھر سفارتی رجسٹریشن والی گاڑیاں استعمال
کریں۔
حکومت کو چاہیئے کہ
ریمنڈ ڈیوس کا اصلی پاسپورٹ میڈیا کے سامنے لائے ۔ دفترِ خارجہ وضاحت کرے کہ ڈیوس
کس نوعیت کا اہلکار تھا۔ اور ویانا کنونشن کی کونسی شق کے تحت اُسے استثنیٰ حاصل
ہے۔ حکومت ِپنجاب وفاق سے مطالبہ کرے کہ امریکہ سے اس کا استثنیٰ ختم کرنے کا
مطالبہ کرے۔ امریکہ بھی ہوش کے ناخن لے ۔ریمنڈ ڈیوس جیسے قاتلوں کی کھلی حمایت سے
پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کے مزید بھڑکنے کا امکان ہے۔ ویسے بھی ہم امریکہ
کے غلام نہیں کہ اسکے گماشتے ہماری شاہراہوں پر ہمارے ہم وطنوں کا خون کرتے پھریں۔
امریکہ اپنے شہریوں کا خون تو کسی کو معاف نہیں کرتا تو پاکستانی ڈیوس کو کیوں
معاف کریں جبکہ وہ سفارت کار بھی نہیں ہے۔
کیا پچاس سے زیادہ
مسلمان ملک ویانا کنونشن میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔یقیناً ویانا کنونشن
کو بنانے والوں نے سفارت کاروں کو میزبان ملک کے شہریوں کو قتل کرنے کا اختیار
نہیں دیا ۔
حکومت کو کسی بھی غیر
ذمہ دارانہ اقدام سے گریز کرنا چاہیئے ۔ مشرقِ وسطیٰ سے اُٹھنے والی انقلابی لہر کو بحیرہءعرب پار کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے
گی۔ تیونس میں ایک نوجوان کی خود سوزی نے
انقلاب کی بنیاد رکھ دی۔ پاکستان کے اخبار تو روزانہ کئی افراد کی خودکُشی کی
خبریں چھاپتے ہیں مگر ابھی انقلاب کی دستک
سنائی نہیں دی۔کیا خبر ان تین افراد کا قتل ہی ہمارے نیم مردہ ضمیر کو
بیدار کر دے۔