15.10.2026, 01:29pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 

مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

صدر+وزیراعظم=زرداری
14.10.2008, 11:30am , منگل (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
ھر مرتبہ سوچتی ھوں کہ اب تھوڑا سا سانس لونگی ، کچھ دل و دماغ کو سکون دونگی اور پھر کہی جاکر لکھونگی کہ سیانے کہتے ھیں کہ قدر کھو دیتا ھے روز کا آنا جانا لیکن پھر کوئی ایسی بات ھو جاتی ھے کہ مجھے قدر کھونے کے سارے فارمولے بھولنے لگتے ھیں ۔ اب یہی دیکھیئے کہ آج کی خبر تھی جو ھر زبان میں نا صرف چھپی بلکہ ھر خاص و عام کی زبان پر بھی ھو گی ۔

 چونکہ جہاں میں رہتی ھوں وہاں ھم زبان سے زرا دور دور رہتے ھیں تو نہیں کہہ سکتی کہ اُن کو اس خبر نے کتنا تڑپایا ھو گا ۔۔خیر  دوستو آج کی تازہ خبر یہ تھی کہ “ آصف علی  زرداری کو صدر اور وزیراعظم کے مساوی پروٹوکول دینے کا فیصلہ “ ۔ اب یقیناً آپ سب کہہ رھے ھونگے کیوں ؟ ۔۔۔۔ کیوں ؟ ۔۔۔۔ کیوں ؟ ۔۔۔۔ کیا کریں جی سب  ایک دوسرے سے یہی پوچھ رھے ھیں اور لیجئے آپ سب کے ساتھ میں بھی شامل ھو جاتی ھوں کہ اللہ کے واسطے کوئی بتائے گا کہ بغیر سرکاری حثیت کے زرداری کو سرکاری پروٹوکول کیوں ملے گی  اگر بحثیت سینیٹر کے انہیں ملے گا تو اور باقی سینتڑوں کو کیوں نہیں ۔۔؟

لیجئے اور سنیئے میری بھی عقل سُنتے ھی گئی  ۔ آپ کے ساتھ میں بھی تو بھول ھی گئی کہ آصف علی زرداری تو مرحومہ بے نظیر کے شوہر ھیں جو حال ھی میں “ widower "  ھوئے ھیں اور انہیں اس وجہ سے اتنی پزیرائی ملی ھے کہ اب ملک اور بیرون ملک اُن کی پہچان ھی یہی رہ گئی ھے ۔ شائد اتنی بڑی سرکاری پروٹوکول اٍسی کا نتیجہ ھو کہ اگر محترمہ زندہ ھوتی تو وہی وزیراعظم ھوتی تب بھی انہیں ایسا ھی کچھ پروٹوکول ملنا تھا ۔ اور ھاں ایک اور بات یہاں اھم ھے جو سب بھول رھے ھیں کہ زرداری ایک “ ان داتا “ کے روپ میں پاکستاتی تاریخ کے منظرنامے پر اچانک ھی ابھرے ھیں ۔ بیک وقت سب کے ساتھ برابری کر رھے ھیں ۔ مساوات اور اخوت جیسے قومی جذبے کی صیح قدر و قیمت جاننے والے زرداری “ ن “ لیگ ھو یا  “ ق “ لیگ سب ھی کے خیر خواہ ھیں اور ساتھ ھی الطاف بھائی کے بھی  “ جلاوطنی  “  بھائی ھیں ۔

بھئی آپ جو بھی کہیں ملک کے سب مولانا بھی اُن سے راضی ھیں حتیٰ کہ ججوں کی بحالی پر جسطرح مولانا فضل الرحمان کا بیان آیا جیسے کہہ رھے ھو “  یار زرداری  اگر پوچھ لیتے  تو آپ کا تو کچھ نہ  جاتا  پر ھمارا نام ھو جاتا “ ۔ بھئی سو باتوں کی ایک بات کہ زرداری صاحب شروع ھی سے اتنے ھنر مند تھے کہ بے نظیر کے اہلٍ خانہ کی نظر بھی اسی لعل پر  “ ٹٍکی “ تھی اور خود بی بی بھی ساری عمر انہی پر “ ٹٍکی “ رھی ۔

سچ پوچھیں تو ھمیں سوائے زرداری کے کوئی سینٹر بھی اٍس قابل نہیں لگتا جو بیک وقت صدر کے فیصلے بھی خود کرے اور وزیراعظم کو بھی بتائے کہ اب اُس نے کیا کرنا اور کہنا  ھے ۔ بس جی “ کلًی کلًی جان تے پورا پاکستان “  ۔

مجھے کہنے دیں کہ آپ سب کے اندازے غلط ھیں کہ زرداری ضمنی انتخاب لڑ کر وزیراعظم بننا چاھتے ھیں اور وہ اٍسی لیئے  سارے  مقدمات سے بری ھو گئے ھیں ۔ بھئی آپ کیوں جل بھُن رھے ھیں اور بیکار عدلیہ جیسے خدائی انصاف والی قوم کو بکنے والوں میں رکھ رھے ھیں ۔ توبہ کیجئے ابھی ۔ ویسے ھمیں تو ھماری چھٹی حس یہ بتا رھی ھے کہ سینٹر زرداری اب “ چیرمین سینیٹر “  کی راہ پر گامزن ھیں ۔ وہ اٍس لیئے کہ وھی ایک عہدہ ھے جو صرف “ ایک ؛ قدم پیچھے ھے “صدر “ ھونے تک ۔ اب ویسے بھی  جیسے ھی  صدر گھر سے باھر ھوتے ھیں “ چیرمین سینیٹر “ جی گھر کے اندر صدر ھوتے ھیں ۔ اور پھر نظام سکہ کی طرح سکے دار حکومتی فیصلے ھوتے ھیں ۔جس کو چاھے رکھا جاتا ھے ،  جس کو چاھے باھر کر دیا جاتا ھے  ۔۔  صدر جنگل کا بادشاہ بن جاتا ھے اور  اُس کے جنگلی قانون نافذ ھو جاتے ھیں جو صرف “ جیو “ پر یقین رکھتے ھیں  “ جینے دو “ پر ھر گز نہیں ۔۔   

بھلا زرداری کو کیاپڑی ھے کہ اپنی طاقت کے پیروں پی کلہاڑی مار دے یعنی بیکار میں آیئن کی کسی بھی آرٹیکل میں کوئی تبدیلی لائے ۔ بلکہ وہ تو یہ چاھتے ھیں کہ کسی بھی ردوبدل کے بغیر صرف مشرف سے جان چھڑا لی جائے اور  جیسے ھی مشرف استعفی کے بعد یادٍ الہی میں مشغول ھو جایئں تو وہ صدر مملکت ھونے کے ناطے کسی کی بھی اُس کے کمرے کی کنڈی لگا کر ‘ خبر “ لے لیا کریں ۔ جیسے پرانے وقتوں میں “اباجی “  اپنے بچوں کی خبر لیا کرتے تھے بغیر یہ سوچے کہ بچوں کی بھی عزتٍ نفس ھوتی ھے اور انہیں بھی ھتک اور شرمندگی ھوتی ھے ، سو زرداری بھی اپنے پرکھوں کی محبت کی لاج رکھتے ھوئے کسی کو بھی صیح سمت دکھا سکیں گے  ۔

اب زرداری سے زیادہ کون ھمارے ملک کا خیر خواہ ھو سکتا ھے ۔  پورا پاکستان گواہ ھے کہ جب زرداری ماحولیات کے منسٹر تھے تو انہوں نے ھر خاص و عام سے پورے پاکستان میں  پودے لگوائے تھے اور اٍسی جذبے کے تحت انہوں نے سوٹیزر لینڈ کے بینک میں خود ؛“ منی پلانٹ “ لگایا تھا ۔ اور اتنے احسن کام پر انہیں انیس سو ستانوے سے لے کر نومبر دوھزار چار تک جیل تک میں  رھنا پڑا جو بعد میں  ججوں کو لگا کہ  ایک محب ٍوطن  کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ھوناچاھئے سو اُنہوں نے زرداری کو اپنے آفس میں بلا کر کہا کہ آیئندہ اگر کبھی بھی وزیر شزیر بنے تو ماحولیات سے “ عوام ‘ کو مت نکالنا کہ وہ غریب بھی ماحول کاایک حصہ ھوتےھیں جس پر زرداری نے وعدہ کر لیا کہ اب وہ سارے کام بڑی احتیاط سے کیا کرینگے ۔

 پر صاحبو برا ھو اُن کی قسمت کا جو ججوں کے ساتھ اُن کی یہ بات چیت  نواز شریف نے جانے کیسے سن لی ۔ حالانکہ  شرافت کا تقاضا یہی تھا کہ اول تو چوری چوری کسی کی  بات نہیں سننی چاھیئے تھی اور اگر سن ھی لی تھی تو اتنا شور تو نہیں مچانا چاھئے تھا کہ بیچارے زرداری کو جیل چھوٹتے ھی دبئی جانا پڑتا ۔

یہ تو زرداری ھی کا بڑا پن تھا کہ وہاں پہنچتے ھی اقرار کر لیا کہ اُن کے پاس 4.35 ملین پاؤنڈ کا “سرے محل “ ھے  اور اٍس مینشن میں بیس کمرے ھیں اور 365 ایکڑ کے دو فارم ھاؤس ھیں ۔ اب اٍس میں  اُنکے یاروں دوستو کو جلنے کیا ضرورت تھی ، انہوں نے عوام کے حق حلال کے پیسوں سے یہ جایئداد بنائی تھی ۔۔آخر زرداری پر بھی عام شہری کی طرح اپنی فیملی کو پالنے کی زمہ داری تھی ۔ ھاں الطاف بھائی کا غم ابھی تک شدید ھو سکتا ھے کہ اُن کے حصے میں “نچڑی قوم “ کے اثاثے ھی آئے ھیں جس سے وہ سرے محل کی بجائے صرف لندن رھنا ھی افورڈ کر سکتے ھیں ۔۔ اُف غریب عوام کا غریب قائد ۔۔

زرداری جیسے “ امیر“ قائد کی کیا بات ھے جی و ہ ‘امیرٍ شہر “ ھو یا نہ ھو پاک صاف ضرور ھے ۔  کوئی ھے جو اُس کے دامن پر کسی کا خون تلاش کر سکے یا اُس کے کھاتے میں پڑی بدعایئں رجسٹرڈ دیکھ سکیں ۔بلکہ انہیں پورا حق ھے کہ بغیر سرکاری عہدے کے جسے چاھے کمرے کی کنڈی لگا کر خبر لے لیں ۔ کہ وہ سب کے حصے کے فیصلے اکیلے ھی کرتے ھیں ۔

 اب آپ ھی بتا یئے کہ انہیں کیا ضرورت پڑی ھے کہ الیکشن لڑیں پھر وزیراعظم بنیں ، دنیا جہاں کے  قضیئے نپٹائیں اور ایسا کرتے ھوئے دو دو ٹکے کے لوگوں کے منہ بھی لگیں ۔ پھر دوسرے ھزار رولے کہ میٹنگز اٹینڈ کریں ، فیتے کاٹیں، دنیا بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری زبان میں گل افشانیاں کرتے پھریں ۔ اٍس پر بھی بس نہیں ھر وقت “ مرتضی بخاری “ جیسے کیس کا  دھڑکا الگ ، اور تو اور صدر صاحب کا خوف علحیدہ کہ جانے کب معزول کر دے یعنی کنڈی لگا کر خبر لے لیں ۔۔ ویسے بھی زرداری ھارٹ اور شوگر کے مریض ھیں اتنی کھیچل کہاں کر سکتے ھیں ۔ بس انہیں کوئی ایسا کام کرنا چاھیئے جس سے لاٹھی بھی نہ ھلانی پڑے اور وزیراعظم بھی ڈرتا رھے ۔۔
 
سو زرداری کے حق میں یہی مناسب ھے کہ اُن کی  توجہ “صدر “ بننے  کی طرف ھی رھے کہ بھولی  عوام انہیں گیارہ سال جیل میں رھنے کے بعد اور آٹھ سال دبئی رھنے کے باوجود محبٍ وطن ھی مان رھی ھے  اور جس تیزی کے ساتھ ھر روز  “ٹین پرسنٹ “ کے اضافے کے ساتھ اُن کی جہاندیدہ سیاسی بصیرت کا جو گراف اوپر ھی اوپر جاتا جا رھا ھے اور  جو قصیدے بھولی عوام اُن کی شان میں پڑھے جا رھی ھیں ۔ اٍس سے پہلے کہ کل یہی عوام بھولی  نہ رھے  اور چرچے بھی کسی کی زبان پر  نہ رھیں  زرداری کو چاھیئے کہ   آج ھی یہ محفل لوٹ لیں

ویسے بھی جب سے وہ واپس پاکستان آئے ھیں ایسے ھی لگ رھا ھے جیسے ابھی ابھی  حج سے لوٹے ھوں یعنی ابھی ابھی دوبارہ پیدا ھوئے ھوں    ۔ اگراس خوشی کی  بنا پر  آصف علی زرداری کو صدر اور وزیراعظم کے مساوی پروٹوکول دینے کا فیصلہ کیا گیا ھے تو   ھم ناقص عقل کے لوگ ھیں اعتراف حقیقت کیا جانیں ۔۔ بس جی ۔

جانے نہ جانے گل ھی نہ جانے باغ تو سارا جانے ھے ۔۔۔۔۔

اور صاحبو معاملہ ہے چمنستان کا۔جیسے جنگل کا بادشاہ شیر ہے اسی طرح گلشن کا بادشاہ گُل ہے اور یہ بیچارہ گُل بھی ہماری عوام کی طرح ہے کہ ہر خبر پورے باغ کو تو معلوم ہے لیکن بیچارے''گُل'' کو نہیں۔ بیچارہ ''گُل''
اسی لیئے تو کہتے ہیں کہ ''زمیں جُنبد نہ جُنبد گُل محمد''۔
 
(0) آپکی رائے        پرنٹ        احباب کو بتائیے        اُوپر


:دیگر مضامین
(14.10.2008) ھر چیز میزان میں اچھی لگتی ھے
(14.10.2008) دوستو مبارک ھو اب تعلیم کی ھمیں کوئی ضرورت نہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں