16.10.2026, 09:19pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 40ویں قسط
10.05.2011, 04:05am , منگل (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد
انتالیسویں قسط کا اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں بھی دو نشستیں تلاش کر کے بیٹھ گئے اور اس تہران کی زیر زمین سیر شروع کی جو ہزار ہا سال کی اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قدیم فارسی تاریخ میں رے کہلانے والا تہران جسکا ذکر دسویں صدی قبل تک کے اوقات میں ایک سرسبزوشاداب گاؤں کے طور پر ملتا ہے۔ یہ علاقہ بھی مختلف ادوار کی تہذیبوں اور مختلف قوموں کی دراندازیوں کا محور و مرکز رہا۔ کب یہ رے سے تہران میں ڈھلا، معلوم نہیں، مگر اسکی تاریخی اہمیت صفوی دور میں اجاگر ہوئی جب شاہ طہماسپ (1524-1576) کا اس علاقے سے گزر ہوا اور یہاں کے معتدل موسم نے اسکی طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب کیئے۔ پس بادشاہ نے اس علاقے کو تعمیر کرنے کی ٹھانی اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی عمارات اور کاروان سرائے تعمیر کرڈالے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس نے شہر کے گرداگرد کئی مینار بھی تمیر کروائے جو اس شہر کی پہچان بن گئے۔ اٹھارویں صدی کے اوائل میں اس دور کے بادشاہ کریم خان زند نے یہاں ایک محل بنوانے کا حکم دیا جو کہ اس شہر کے دارلحکومت بننے کے امکان کو ظاہر کرتا تھا۔ مگر بادشاہ تو بادشاہ ہی ہوتا ہے۔ کہے کچھ، تو اسکی مرضی اور کرے اسکے برعکس تو بھی اسی کی مرضی۔

 انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور اپنا تخت اٹھا کر شیراز لے گئے۔ یوں تہران تخت شاہی سے محروم رہ گیا۔ مگر 1795 میں جب آغا محمد خان قاچار نے عنان حکومت سنبھالی تو بالآخر اسے دارالخلافت کا درجہ دے ہی ڈالا اور اس وقت سے آج تک یہ شہر سلطنت ایران کا دارالحکومت ہے۔ قاچاری دور حکومت میں ہی ناصرالدین شاہ کے وقت تہران کی ترقی کو عروج حاصل ہوا جب سرعت کے ساتھ یہاں عمارات کی تعمیر کا عمل شروع ہوا۔ شہر کی حدود پر اسکی حفاظت کے پیش نظر خندق بھی کھودی گئی جبکہ داخلے کے لئے بارہ دروازے تعمیر کئے گئے۔

 قاچاری دور کے اختتام پر تہران میں دو طرز کی تعمیرات واضح نظر آئیں۔ اول مغربی طرز کی تعمیرات جو یہاں کے موسم سے بھی میل کھاتی تھیں، جبکہ دوسری روایتی طرز کی دیسی تعمرات۔ وقت گزرتا رہا اور دور آیا پہلوی حکومت کا۔ 1920 اور 30 کے دوران رضا شاہ پہلوی نے تہران کو ازسر نو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ انکے خیال کے مطابق جدید تہران میں قدیم عمارات کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ چنانچہ سابقہ ادوار میں تعمیر شدہ چیدہ چیدہ عمارات جن میں کاخ گلستان، میدان توپخانہ (موجودہ میدان امام خمینی) اور تکیہءدولت جیسی نابغہءروزگار و عجوباتی عمارات کو مسمار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شہر کو وسعت دی گئی اور بڑی بڑی شاہراہوں کے راستے میں آنیوالی تاریخی عمارات اور باغات کو دیو ہیکل مشینوں کے آہنی پہیوں تلے روند دیا گیا اور انکی جگہ قبل از اسلام ایرانی طرز کی جدید عمارات مثلا” نیشنل بینک، ملٹری اکیڈمی، ٹیلیگراف آفس اور پولیس ہیڈکوارٹر تعمیر کی گئیں۔ رضا شاہ پہلوی کے دور میں قدیم تہران اپنی اصلی شکل بہت تیزی سے کھوتا جارہا تھا، جسے انقلاب سلامی نے لگام دی۔ تمام تعمیرات روک دی گئیں اور تہران کو اسکا اصلی رنگ دینے کی روایت کا ایک مرتبہ پھر آغاز ہوا۔ مگر شکست و ریخت شاید اس خطے کا مقدر تھی۔ جلد ہی شیطان بزرگ کی پشت پناہی میں مسلط کردہ جنگ نے تہران کو میزائلوں اور بموں کی منزل بنا دیا۔ یہ تاریک رات بھی ڈھل ہی گئی اور آج کے جدید تہران نے ایک نئی امنگ کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا۔

آج بھی یہ شہر قدیم و جدید تہذیب اور تعمیرات کا حسین مرقع ہے جہاں بیشمار عمارات، بڑی بڑی شاہراہیں، زیر زمین گزرگاہیں و بالا سر پل، اپنے حسن میں غرق کردینے والے باغات اور پارک (جنکی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے)، عظیم دانشگاہیں، کتب خانے، ہسپتال، عجائب گھر، لامتناہی بازار اور نہ جانے کیا کیا سیاحوں کی تفریح طبع، افزائش علم اور عقول کو دنگ کردینے کے لیئے موجود ہیں۔ پندہ ملین آبادی کا حامل، کوہ البرز کے نشیب میں واقع ڈیڑھ ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا تہران نہ صرف ایک شہر ہے، بلکہ تاریخ، سیاحت، فن تعمیرات، مصوری، موسیقی، علم و ادب، شاعری، سائنس اور ادیان عالم  جیسے موضوعات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے معدن کا درجہ رکھتا ہہے۔

موجودہ تہران کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ شمالی تہران ، جو کہ وسیع المشربی ہونے کے ساتھ ساتھ قدرے مہنگا بھی ہے۔ جبکہ جنوبی تہران قدرے سستا اور عوامی ہے۔ نئے نئے اپارٹمینٹ کمپلیکس بھی جدید تہران کی ایک پہچان ہیں۔ اس شہر میں 280 کلو میٹر پر محیط سڑکوں اور شاہراہوں، جبکہ 180 کلو میٹر پر محیط پلوں اور چکروں کا ایک مضبوط اور منظم جال بچھا ہوا ہے۔ شہر کے وسط میں خیابان ولی العصر، خیابان طالقانی اور خیابان بہشتی پر رہائشی مکانات، وزارتیں، سرکاری عمارات، تجارتی مراکز اور دفاتر تعمیر شدہ ہیں۔ تہران کی چند مشہور شاہراہیں، دنیا کی چند مشہور شخصیات سے منسوب ہیں جن میں سے اقبال لاہوری اسٹریٹ اور محمد علی جناح ایکسپریس وے ہمارا سر فخر سے بلند کرتی ہیں۔

 مختلف شاہراہوں پر مختلف مقامات تک پہنچنے کے لئے بسوں کے بے تحاشہ روٹ موجود ہیں، جن پر نہایت آرام دہ بسیں، نہایت ارزاں کرایوں کے ساتھ سڑک کی ایک رو میں رواں دواں رہتی ہیں۔ ان بسوں کے علاوہ متنوع ٹیکسیوں کا بھی سلسلہ موجود ہے۔ عام ٹیکسی کے علاوہ آپ چلتے چلتے کسی بھی گاڑی کو ہاتھ دے کر لفٹ لے سکتے ہیں۔ اترتے ہوئے مناسب کرایہ ادا کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ اسکے علاوہ شراکتی ٹیکسی کا رواج بھی عام ہے۔ خواتین کے لئے بانوان ٹیکسی بھی مل جاتی ہے، جسکی ڈرائیور بھی خاتون ہی ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ دلچسپ چیز تہران کی موٹر سائیکل ٹیکسی ہے جو کہ رش والے اوقات میں بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔ تہران کو اس وقت بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ ٹریفک کا شدید مسئلہ درپیش ہے۔ خاص طور پر صبح سات بجے سے رات آٹھ بجے تک سڑکیں گاڑیوں سے پر رہتی ہیں۔ ٹریفک کے مسئلے سے نمٹنے کے لیئے کچھ علاقوں میں داخل ہونے کے لیئے شہری انتظامیہ کی جانب سے مخصوص اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے۔ جبکہ کچھ علاقوں میں کچھ اوقات میں جفت و طاق نمبروں والی گاڑیوں کی باری کا سلسلہ رائج ہے۔ نقل و حمل کے ان تمام زرائع کے علاوہ سب سے مشہور اور تیز رفتار ترین میٹرو کا نظام ہے، جس میں بیٹھا ہوا میں تہران کے بارے میں کتاب سے زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ زیرزمین سفر میں چونکہ مشاہدہ کرنے کو نظارے تو تھے نہیں، سو میرے ہاتھ میں موجود کتاب مجھے تاریخی اہمیت کے حامل اس شہر کی تصوراتی سیر کروا رہی تھی۔

ہماری قطار مسافروں سے کچھا کھچ بھری ہوئی تھی، جن میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام عمر کے افراد سوار تھےجن میں اسکول کے بچے سے لیکر فارغ شدہ زندگی گزارنے والے بزرگ، امور خانہ داری انجام دینے والی خاتون سے لیکر ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے والی خاتون تک ہر قسم کا مسافر شامل تھا۔ طلباء، اساتید، بینکر، سپاہی، فوجی، سرکاری ملازمین الغرض تہران کا ہر باشندہ اپنی اپنی منزل پر پہنچنے کے لیئے میٹرو میں سفر کرتا ہے۔ میری نظروں کے سامنے دو خواتین اپنی باتوں میں مشغول تھیں۔ ایک صاحب دنیا و ما فیہا سے بے خبر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے۔ نشست نہ ملنے کی وجہ سے اسکول کا ایک طالب علم زمین پر بیٹھا اپنا گھر کا کام کرنے میں مصروف تھا۔ ایک صاحب کونے میں زرا سی جگہ بنا کر اخبار میں موجود لفظی معمہ حل کرنے کی تگ و دو میں الجھے ہوئے نظر آئے۔ اسکے علاوہ تاحد نگاہ ان کھڑے ہوئے لوگوں کی قطار تھی، جنکو نشست نہ مل سکی اور وہ چھت سے لٹکی پوئی بیلٹوں کو تھامے اپنے مطلوبہ اسٹاپ کے منتظر تھے۔ مختلف اسٹیشن آتے رہے اور مسافروں کا اتار چڑھاؤ قطار کے اندر کی تعداد کو یکساں کئے رکھا۔ دنیا کو اگر مثال کے زریعے پیش کرنا ہو تو میرا موجودہ محل اسکی بہترین مثال تھا جہاں پرانے مسافر نظروں سے اوجھل ہو جاتے اور نئے آنیوالے اپنا اپنا رنگ ماحول میں گھولنے لگتے۔ دنیا کی اسی تمثیل گری کے دوران ایک اسٹیشن ایسا آیا، جب ہم نے بھی نیچے اترنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

:دیگر مضامین
(08.05.2011) سسکیوں بھرا آنگن ۔۔۔۔از؛ سید مصباح حسین جیلانی ۔سڈنی
(05.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔تیسری قسط
(02.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 39ویں قسط
(27.04.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔دوسری قسط
(24.04.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 38ویں قسط
(18.04.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔پہلی قسط
(14.04.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 37ویں قسط
(12.04.2011) قومی ہیروز کی خدمات کا اعتراف ایک نئی روایت کا آغاز۔از؛ محمد احمد ترازی
(11.04.2011) کیا ہم امریکہ کے غلام ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔زرقا مفتی
(29.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 36ویں قسط
(28.03.2011) سٹاک ہولم میں مسٹر اینڈ مسز اعجاز چو ہدری کی بیٹی ھُما کی شادی
(22.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 35ویں قسط
(18.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 34ویں قسط
(17.03.2011) اسلام آباد کی مرکزی امام بارگاہ میں امام حسن عسکری کا جشن ولادت
(16.03.2011) حیدرآباد دکن کے نامور شاعرخواجہ شوق کا طویل علالت کے بعد انتقال
(13.03.2011) مسجد زہرا فرینکفرٹ میں امام حسن عسکری کی ولادت پر میلاد کی محفل
(09.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 33ویں قسط
(08.03.2011) معروف شاعر سید اقبال حیدر کے بھائی سید انوار حیدر کی کراچی میں تدفین
(06.03.2011) معروف شاعر عزم بہزاد کا سوئم اتوار کو نارتھ کراچی میں ہوا
(01.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 32ویں قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں