15.10.2026, 04:46pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے
14.10.2008, 11:32am , منگل (GMT+1)

نگہت نسیم۔ سڈنی

غربت سے بھوک ھمیشہ جڑی رھی ھے ۔ اُس کی تکلیف ، درد اور دکھ کا احساس وھی کر سکتے ھیں جنہوں نے کبھی فاقے دیکھے ھو ، بھوک کاٹی ھو یا پھر کبھی محسوس ھی کی ھو ۔آج سُن کر بڑی حیرت ھوئی  کہ اب بھوک مڈل کلاس میں بھی رھنے کو آگئی ھے ۔ امیروں کے ساتھ تو خیر کسی غریب کی بدعا کی طرح رھتی ھی تھی ۔ کبھی فیشن زدہ ڈائٹنگ کی شکل میں تو کبھی ڈاکٹری نسخے کے ساتھ پرہیز میں ۔ لیکن میں اُس بھوک کی بات کر رھی ھوں جو  زر اور زمین کی غلط تقسیم سے نصیبوں میں لکھ دی جاتی ھے اور قصور سارے کا سارا قدرت پر رکھ دیا جاتا ھے ۔

اٍس خبر نے تو جیسے میری روح ھی کو تڑپا کر رکھ دیا تھا  کہ پوری دنیا میں 1.2 بلین  انسان بھوکے رھتے ھیں ۔ جن میں 9 ملین انسان ھر سال  بھوک سے مرجاتے ھیں  اور اٍن  مرنے والوں میں  5 ملین بچے ھوتے ھیں ۔اٍس اعداد و شمار کے مطابق  سولہ ھزار بچے روزانہ بھوک سے مر جاتے ھیں یعنی ھر پانچ سیکنڈ میں ایک بچہ مر جاتا ھے ۔

ایسے میں سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات اور شادیوں کے کھانوں کے کئی مناظر میرے دل کو تھام لیتے ہیں  ۔ میں بند آنکھوں سے  اب بھی دیکھ سکتی   ھوں  ۔ کسی  تقریب کا منظر تھا اور رات آہستہ آہستہ پچھلے پہر میں بدل رھی تھی  ۔ بچے اپنی ماؤں کی گود میں آدھی نیند سو رھے تھے  اور اُسی وقت  صاحب ٍخانہ نے آواز دے کر سب کو کھانے کی میز پر آنے کی دعوت دی تھی  ۔ پندرہ سے زائد اقسام کے کھانے میز پر سجے ھوئے  تھے ۔  اُسی  تقریب کے ھال کے گیٹ کے باھر قطار میں لگے دس گیارا برس تک کے کئی میلے بدحال بچوں کی آنکھوں میں نیند کی بجائے بھوک جاگ رھی تھی  ۔

کھانے پر سب لوگ یوں ٹوٹ پڑے تھے جیسے انہوں نے کھانا آج پہلی بار دیکھا ھو یا پھر آج کے بعد کبھی نہیں دیکھے گے ۔ گیٹ سے باھر انتظار اور حسرت سے لپٹے بچوں نے بڑی حیرت سے بھوک پر سیمنار اور حدیثوں کی بوچھاڑ کرنے والوں کی پلیٹیں کھانوں نے ایسے بھری دیکھی  جیسے کوئی پہاڑ ھو اور اُس پر سجا روسٹ چکن پیس  بھی کسی جھنڈے سے کم نہ دکھتا تھا ۔

 شاید ھی کسی نے سوچا ھو کہ آخر تقریبات میں کھانے پر پابندی کیوں نہیں لگتی خاص طور شادیوں کے کھانوں پر جہاں صرف نمائش ھی نمائش ھوتی ھے ورنہ کھانوں کی اتنی بے حرمتی نہ ھوتی جیسے اٍس وقت ھو رھی تھی ۔ آدھے سے زائد بھری پلیٹیں دوسری دھونے والی پلیٹوں کے ساتھ پڑی تھی اور باوردی ملازم انہیں کوڑا اور جوٹھا سمجھ کر کوڑے دان میں جمع کر رھے تھے ۔ باھر بچوں نے مایوسں ھو کر بھوک کے ساتھ دوستی کر لی تھی اور اپنے چھوٹے بڑے برتن  اپنے پیٹ سے باندھ کر وہی گر گئے تھے ۔

کھانا اپنے ضائع ھونے کا نوحہ  پوری دنیا میں  بھوک کی صورت لکھ رھا تھا اور کہہ رھاتھا کہ خالی باورچی خانے کی بھوک بھرے ھوئے باورچی خانے کی بھوک سے بہت ھی الگ اور جدا ھوتی ھے ۔۔ بھوک ھر سانس میں موت لکھتی ھے اور اُس کی ھر سانس میں زندگی مرتی ھے اور زندگی کی ھر سانس کے  ساتھ  دنیا کے خواب مر جاتے ھیں ۔

بیٹے دیکھ تو آسمان کا چاند کیسا دٍکھتا ھے
تُو کیا جانے یہ میرے چاند جیسا دٍکھتا ھے
میری ماں کی مسکان  میرے لیئے  انمول ھے
اُس کی مدھر ھنسی دنیا کے لیئے بے مول ھے
وہ جھوٹ نہیں بولتی کبھی
پر آج  کہہ گئی ھےابھی ابھی
بھولی ھے ! میرا بابا اکثر یہ کہتا ھے
دنیادار نہیں تیری ماں  بابا کہتا ھے
بارہ برس کی عمر اور میں کیا کیا سوچتا ھوں
 آسمان کو تکتے تکتے یونہی کھو جاتا ھوں
ماں یہ جو آسمان  پہ روشن چاند ھے نا
وہ مجھ جیسا نہیں میری بھولی ماں
چاند تو روٹی جیسا ھے
دودھ کی کٹوری جیسا ھے
 پچیس پیسے جیسا ھے
چاند تو تم جیسا ھے
بلکل کسی سچ جیسا ھے
دنیا کی ضرورت جیسا ھے
کاش جس بڑھیا کی بات تم بتایا کرتی ھو
پوچھوں کبھی کیوں چرخہ تم کاتا کرتی ھو
تم نے ھی روٹی کبھی کاتی ھوتی
رب نے بارش میں برسائی ھوتی
چالباز دنیا کو بات کبھی یہ سمجھائی ھوتی
سازش جہاں بوئی ھے وہاں روٹی لگائی ھوتی
ماں یہ جوچاند ھے نا
 مجھے خوابوں سے بھرا ایک غبارا لگتا ھے
تمھاری آنکھ میں ٹھرا ایک آنسو لگتا ھے
سب سنتاھوں تیری خاموشی سے
کیوں کہہ دیتی ھوھر بار بابا سے
“ بُرا ھو اٍس نگوڑی بھوک کا
میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے !!!!!!!

:دیگر مضامین
(14.10.2008) تین مئی آزادی ٍصحافت کاعالمی دن
(14.10.2008) صدر+وزیراعظم=زرداری
(14.10.2008) ھر چیز میزان میں اچھی لگتی ھے
(14.10.2008) دوستو مبارک ھو اب تعلیم کی ھمیں کوئی ضرورت نہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں