غربت
سے بھوک ھمیشہ جڑی رھی ھے ۔ اُس کی تکلیف ، درد اور دکھ کا احساس وھی کر
سکتے ھیں جنہوں نے کبھی فاقے دیکھے ھو ، بھوک کاٹی ھو یا پھر کبھی محسوس
ھی کی ھو ۔آج سُن کر بڑی حیرت ھوئی کہ اب بھوک مڈل کلاس میں بھی رھنے کو
آگئی ھے ۔ امیروں کے ساتھ تو خیر کسی غریب کی بدعا کی طرح رھتی ھی تھی ۔
کبھی فیشن زدہ ڈائٹنگ کی شکل میں تو کبھی ڈاکٹری نسخے کے ساتھ پرہیز میں ۔
لیکن میں اُس بھوک کی بات کر رھی ھوں جو زر اور زمین کی غلط تقسیم سے
نصیبوں میں لکھ دی جاتی ھے اور قصور سارے کا سارا قدرت پر رکھ دیا جاتا ھے
۔
اٍس خبر نے تو جیسے میری روح ھی کو تڑپا کر رکھ دیا تھا کہ پوری
دنیا میں 1.2 بلین انسان بھوکے رھتے ھیں ۔ جن میں 9 ملین انسان ھر سال
بھوک سے مرجاتے ھیں اور اٍن مرنے والوں میں 5 ملین بچے ھوتے ھیں ۔اٍس
اعداد و شمار کے مطابق سولہ ھزار بچے روزانہ بھوک سے مر جاتے ھیں یعنی ھر
پانچ سیکنڈ میں ایک بچہ مر جاتا ھے ۔

ایسے
میں سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات اور شادیوں کے کھانوں کے کئی مناظر
میرے دل کو تھام لیتے ہیں ۔ میں بند آنکھوں سے اب بھی دیکھ سکتی ھوں
۔ کسی تقریب کا منظر تھا اور رات آہستہ آہستہ پچھلے پہر میں بدل رھی تھی
۔ بچے اپنی ماؤں کی گود میں آدھی نیند سو رھے تھے اور اُسی وقت صاحب
ٍخانہ نے آواز دے کر سب کو کھانے کی میز پر آنے کی دعوت دی تھی ۔ پندرہ
سے زائد اقسام کے کھانے میز پر سجے ھوئے تھے ۔ اُسی تقریب کے ھال کے
گیٹ کے باھر قطار میں لگے دس گیارا برس تک کے کئی میلے بدحال بچوں کی
آنکھوں میں نیند کی بجائے بھوک جاگ رھی تھی ۔
کھانے پر سب لوگ یوں
ٹوٹ پڑے تھے جیسے انہوں نے کھانا آج پہلی بار دیکھا ھو یا پھر آج کے بعد
کبھی نہیں دیکھے گے ۔ گیٹ سے باھر انتظار اور حسرت سے لپٹے بچوں نے بڑی
حیرت سے بھوک پر سیمنار اور حدیثوں کی بوچھاڑ کرنے والوں کی پلیٹیں کھانوں
نے ایسے بھری دیکھی جیسے کوئی پہاڑ ھو اور اُس پر سجا روسٹ چکن پیس بھی
کسی جھنڈے سے کم نہ دکھتا تھا ۔
شاید ھی کسی نے سوچا ھو کہ آخر
تقریبات میں کھانے پر پابندی کیوں نہیں لگتی خاص طور شادیوں کے کھانوں پر
جہاں صرف نمائش ھی نمائش ھوتی ھے ورنہ کھانوں کی اتنی بے حرمتی نہ ھوتی
جیسے اٍس وقت ھو رھی تھی ۔ آدھے سے زائد بھری پلیٹیں دوسری دھونے والی
پلیٹوں کے ساتھ پڑی تھی اور باوردی ملازم انہیں کوڑا اور جوٹھا سمجھ کر
کوڑے دان میں جمع کر رھے تھے ۔ باھر بچوں نے مایوسں ھو کر بھوک کے ساتھ
دوستی کر لی تھی اور اپنے چھوٹے بڑے برتن اپنے پیٹ سے باندھ کر وہی گر
گئے تھے ۔

کھانا
اپنے ضائع ھونے کا نوحہ پوری دنیا میں بھوک کی صورت لکھ رھا تھا اور کہہ
رھاتھا کہ خالی باورچی خانے کی بھوک بھرے ھوئے باورچی خانے کی بھوک سے بہت
ھی الگ اور جدا ھوتی ھے ۔۔ بھوک ھر سانس میں موت لکھتی ھے اور اُس کی ھر
سانس میں زندگی مرتی ھے اور زندگی کی ھر سانس کے ساتھ دنیا کے خواب مر
جاتے ھیں ۔
بیٹے دیکھ تو آسمان کا چاند کیسا دٍکھتا ھےتُو کیا جانے یہ میرے چاند جیسا دٍکھتا ھےمیری ماں کی مسکان میرے لیئے انمول ھےاُس کی مدھر ھنسی دنیا کے لیئے بے مول ھےوہ جھوٹ نہیں بولتی کبھی پر آج کہہ گئی ھےابھی ابھیبھولی ھے ! میرا بابا اکثر یہ کہتا ھےدنیادار نہیں تیری ماں بابا کہتا ھےبارہ برس کی عمر اور میں کیا کیا سوچتا ھوں آسمان کو تکتے تکتے یونہی کھو جاتا ھوںماں یہ جو آسمان پہ روشن چاند ھے ناوہ مجھ جیسا نہیں میری بھولی ماںچاند تو روٹی جیسا ھے دودھ کی کٹوری جیسا ھے پچیس پیسے جیسا ھےچاند تو تم جیسا ھےبلکل کسی سچ جیسا ھےدنیا کی ضرورت جیسا ھےکاش جس بڑھیا کی بات تم بتایا کرتی ھوپوچھوں کبھی کیوں چرخہ تم کاتا کرتی ھوتم نے ھی روٹی کبھی کاتی ھوتی رب نے بارش میں برسائی ھوتیچالباز دنیا کو بات کبھی یہ سمجھائی ھوتیسازش جہاں بوئی ھے وہاں روٹی لگائی ھوتیماں یہ جوچاند ھے نا مجھے خوابوں سے بھرا ایک غبارا لگتا ھےتمھاری آنکھ میں ٹھرا ایک آنسو لگتا ھے سب سنتاھوں تیری خاموشی سےکیوں کہہ دیتی ھوھر بار بابا سے“ بُرا ھو اٍس نگوڑی بھوک کامیرے چاند سے چاند چھین لیا ھے !!!!!!!