مشتری ہوشیار باش اے مسلمانوں اپنی آنکھیں کھولو اور اپنی آپ کو نام نہاد ملا سے بچاؤ
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿١٥٩﴾
ترجمہ
سورہ انعام پارہ 6آیت نمبر 159 (جن لوگوں نے دیں میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکرے ٹکرے ہو گئے ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے کرو پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرئے گا۔ )
رات کو سونے کے لئے بستر استرحت پر گیا ابھی کمر بھی سیدھی نہ ہوئی تھی کہ اہلیہ نے ٹیلی وثزن آن کیا اور ایک اسلامی چینل کو ٹیون کرنے کی جرات کی ایک مولانا اپنی الفاظی میں اپنا لیکچر جھاڑنے کی کوشیش میں مصروف تھے اور موٹی موٹی کتابوں کے حوالے پیش کر کے اپنی غیر عالم ہونے کا ثپوت پیش کر رہے تھے اور مسلمانان عالم میں تفرقہ پیدا کرنے کی پھر پور خدمت انجام دے رہے تھے

یہ فقرہ میں نے اس لئے تحریر کیا کہ بہ حیثت مسلمان میں اپنا فرض واجب سمجہتا ہوں کہ ہر مسلمان اس سے باخبر ہو تا کہ اُن کو بھی معلوم ہو جائے کہ یہ لحیم شحیم علماء جو ان ٹی وی چینل کے مالک تو بن بیٹھے ہیں اور ان کو کسی کی بھی عزت کا خیال نہیں ہے افسوس کے ساتھ تحریر کرنا پڑتا ہے کہ یہ نام نہاد ٹیلی وثیرن اسلام کے نام پر جو تفرقہ پھیلا رہے ہیں وہ شاید اس عمل سے نا واقف ہیں کہ وہ ہم میں سے نہیں اور ان کا یہ عمل تو خدا کو بھی قابل قبول نہیں یہ صرف اپنے جہنم کا پیٹ بھرنے کے لئے ان چینلز کو چلا کر یوکے میں کہ چینلز مذہب کے نام پر غریب اور سادہ لوح افراد کو اس طرح لوٹتے ہیں کہ خدا کی پناہ کو ُُملا استخارہ اور کوئی خواب کی تعبیر اور کوئی قرانی عمل بتا کر ضیعف العتقاد لوگوں سے پھاری رقم وصول کر رہے ہیں
گزشتہ سال کے دوران میں نے کئی چینلز پر خفیہ ریسرچ بھی کی اور یہ بات دیکھنے میں سامنے آئی کہ وہاں پر جو ملازم کام کررہے ہیں وہ زیادہ تر طالب علم اور مجبور افراد ہیں جو اس ملک میں کسی نہ کسی طرح سے داخل ہوئے ہیں اور چھپ کر کام کرنے پر مجبور ہیں اور مالکان چینل ان کو خوب استمعال کرتے ہیں اور نہ تو ان کو تنخواہ یا اجرت بھی نہیں دیتے میں نے بہ ذات خود کئی افراد کو جانتا ہوں آپ رقوم ان کو مہیا کرتے ہیں۔ رقوم مہیا کرنے سے مراد تمام مسلمان کے سامنے ان کا ہاتھ برائے امداد کے نام پر پھیلا رہتا ہے جن سے وہ اپنی عیاشی کرتے ہیں اور اکثر و پیشتر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ان ٹیلی وثذں پر رات گئے تک امداد کے لئےاپیلیں جاری رہیتی ہیں۔
شاید شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایسے ہی افراد اور نام نہاد عالموں کے بارے میں کہا ہے
عجب نہیں کہ خدا تک تیری رسائی ہو
تیری نگہِ سے پوشیدہ ہے آدمی کا مقام
تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تیری اذان میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
اقبال تو کہہ کر چلے گئے مگر ان کو کیا معلوم کہ ان کی سادہ لوح قوم کو اس دور کے مولوی اس طرح سے تفرقہ بازی میں ملوث کرکے اپنی الو سیدھا کریں گے
اپنے موضوع کی طرف اک بار پھر آتے ہیں۔ اس آزاد ملک برطانیہ میں جہاں پر ہر قسم کی آزادی ہے اور قانون اور قوم سے ایسا گھناؤنا کھیل کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں کوئی قدرتی آفت مثلا سیلاب زلزلہ یا سونامی کے نام پر کو آفت آئے ان چینل کے مالکان اپنی جھولی پھیلا کر چندہ یا امداد کے نام پر بیٹھ جاتے ہیں اور خوپ مال بٹورتے ہوئے نظر آتے ہیں
ایک امر اور قابل ذکر ہے کہ اختلافی مسائل کو بھی چھڑ کر ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کا جو جن ان پر سوار ہے اس سے بچارے سادہ لوح عوام بے خبر ہیں اور اسلام کے نام پر ان کی اپیلیں کی جاتی ہیں ۔
ابھی حال ہی میں ایک چینل پر رشتے کروانے کا پروگرام شروع کیا گیا جس پر بعد میں ایک بہت پڑا سیکنڈل پکڑا گیا وہاں پر جب خفیہ طور پر جا کر معلوم کیا گیا تو معلوم ہو کہ چینل مالکان کے فرزند صاحبان جو افراد ان کے پاس رجسٹر ہوتے ہیں ان کے کوائف جرا کر ان سادہ لوح لڑکیوں کو فون کال کرتے ہیں اور ان سے شادیوں کی خواہش بھی ظاہر کرتے ہیں جب کہ ان افراد سے رابطہ کیا گیا تو صاف طور پر انکار کیا گیا ایسا ہرگز نہیں ہے ۔
تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ایسا ہوا ہے جن خاتون سے رابطہ کیا گیا وہ ابھی اسی ملک میں رہتی ہیں۔ اور موبائل فون پر جو بیام جاری کئے گئے وہ بھی موجود ہیں۔ لوگ اپنی عزت کی خاطر خاموش رہتے ہیں اور یہ لوگ اپنی عیاشی میں مصرف رہتے ہیں
ان چنیلز پر ایک بات اور اکثر دیکھنے کو ملتی ہے کہ جب چندہ اور امداد مانگی جاتی ہے تو اسلام کی ان ہستیوں کے نام کو استمال کیا جاتا جو اس دنیا کو بعد از خدا زرق عطا کرے پر قادر ہیں۔ میں یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کا تذکرہ بھی کر دوں تاکہ تمام عالم مسلمان اس سے بھی خوب واقف ہو جائیں کہ ان چینلز پر سادہ عوام کو کسی طرح نفسیاتی۔اور مالی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے
مثال کے طور پر حال ہی میں پاکستان میں ایک مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے اور اس پر جو رقم اکٹھا کی گئی نہ تو وہ کسی ادارے یا مسجد کو فراہم کی گئی بلکہ اپنا گھر بنائے میں خرچ ہوئی
ایک فرقہ نے تو حد کر دی کہ امام زمانہ کے نام پر ٣١٣ مجاہد یا فاطمہ زہرا سلااللہ علیہ کے نام کے محباں اور بہتر شہدا ئے کربلا کے نام پر خوپ رقم بٹور رہئے ہیں۔
گزشتہ برس عید قرباں کے موقع پر ہر چینلز نے قربانی کے لئے رقوم جمع کی اور آفریں ہے ان افراد پر جو ایسے افراد کو اپنی نائب مقرر کردیتے ہیں جو نہ تو یہ رقم کسی مستحق افراد یا جہاں پر ان چینلز نے وعدہ کر کے رقوم حال کی وہاں پر خرچ نہیں ہوئی۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اگر ان سے کوئی جا کر حساب مانگتا ہے تو یہ افراد ان پر بگڑ جاتے ہیں اور بغیر خوف خدا کہ ان کو جواب دیتے ہیں کہ آپ کی رقم کا صیح اور مناسب جگہ پر مصرف ہوا ہے جب کہ ایسا نہیں
زیارات اور دعا کے پروگرام ہی کو لے لئیجے لندن کا اسٹوڈیو ہو یا کسی اور شہر کا صاف جھوٹ پولتے ہیں کہ آپ کی دعا مدینے یا کعبہ نجف یا کربلا کاظمین اور امام رضا کے روضہ سے کی جارہی ہے
اتنا بڑا عوام اور سادہ لوح افراد سے دھوکہ جبکہ دعا کرنے والے کا رابطہ تک نہیں ہوتا اور اس طرح بھی ان سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ان کے چینلز کی مدد کریں اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی پروگرام ختم ہوتے ہیں وہ کاغذ ردی کی ٹوکری میں ڈال دہئے جاتے ہیں۔
ابھی چند دن پہلے ایک اور بات سامنے آئی کہ سکائی کو ان کی فیس نہیں ادا کی جاتی تاکہ وہ دو چار دن کے لئے چینلز کو بند کر دیں تو عوام ان کے دفتر میں فون کر کے معلومات حاصل کرنے کے لئے رابطہ کرتے ہیں جواب میں معلوم ہوتا ہے کہ انتظامیہ کے پاس رقم نہیں ہے اس لئے اس کو بند کیا گیا ہے آپ سے مدد کی التماس ہے۔
چند نام نہاد اور فقیر منش لوگوں نے بھی ان چینلز کو اپنا ذریعہ معاش بنا رکھا ہے خواتین کو سامنے لا کر ان کے حوالے دے کر بھی خو رقم بٹوری جاتی ہے
ایک اور چینلز کا واقعہ بھی پڑھ لیں تاکہ آپ کی معلومات میں اور بھی اضافہ ہو جائے ۔ گزشتہ سال چند افراد جو کہ بیڈ فورڈ سے تعلق رکھتے ہیں لندن میں ایک چینل کے سربراہ سے ملنے کے لے آئے اور ان سے وقت بھی ملنے کا طے پایا۔ ان صاحب نے فوں پر رابطہ کیا اور کہا کہ میں عرصہ ٢٠ منٹ میں آپ کے دفتر میں موجود ہوں گا۔ سربراہ نے ایک ہاتھ میں قران اور دوسرے ہاتھ میں اپنا موبائل پر بات کر رہے تھے کیوں کہ قران سے و استخارہ کے لئے لیند لائں پر افراد کو ہولڈ کروایا ہوا تھا جو ان صاحب سے جھوٹ پول رہے تھے کہ میں دفتر میں موجود نہیں ہوں افسوں نہ تو ان عالم دیں کو قران کا باس اور نہ ہی اپنے وعدے کا پاس۔وہ صاحب دفتر میں قریبا ١ گھنٹے تک انٹظار کرتے رہئے اور سربراہ اپنے کمرے سے اور اپنے سٹاف سے کہ کہلواتے رہے کہ وہ دفتر میں موجود نہیں ہیں۔ اگر پید فورڈ والے صاحب اس واقعہ کر پڑھیں تو تصدیق کر سکتے ہیں۔
اگر قوم اور تمام عالم اسلام کے افراد نے ان چیلنز کی امداد کا سلسلہ جاری رکھا تو مستحق افراد تک امداد تو درکنار ان کی جہنم ہی بھرتا رہے گا اور قوم کا اعتماد لفظ امداد سے اٹھ جائے گا خدا را اس گزارش پر سوچئے کے یہ چیلنز عالم اسلام کو کس راستے پر لے کر جارہے ہیں۔ یاصرف امداد کے نام پر ان کا رزق وابستہ ہے اور آپ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر ان نام نہاد اسلام کے ٹھیکدادروں کو رزق فرام کرتے رہیں گے۔۔ باقی آئندہ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے