م
شتری ہوشیار باش اے مسلمانوں اپنی آنکھیں کھولو اور اپنی آپ کو نام نہاد ملا سے بچاوإِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿١٥٩﴾ترجمہ سورہ انعام پارہ 6آیت نمبر 159 (جن لوگوں نے دیں میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکرے ٹکرے ہو گئے ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے کرو پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرئے گا۔ )
اسلام کے اہم مسالک کے برطانوی ٹی وی چینلوں نے مسلمانوں اور اسلام کی مزید تقسیم اور اپنے پیرو کاروں کو بے عمل بنانے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اسے طشت از بام کرنے کے لیئے تحقیقی رپورٹوں کے سلسلے کی پہلی قسط کے شائع ہونے کے ساتھ ہی مختلف علاقوں سے عوام کا جو رد عمل ملا ہے اسے بھی جلد ہی شائع کیا جائے گا
دوسری جانب پہلی قسط کی اشاعت کے بعد فوری طور پر ان ٹی وی چینلوں میں سے کچھ کے کرتا دھرتا افراد نے دیگر لوگوں کے ذریعے دھمکیاں اور ڈرانے دھمکانے کی باتیں بھی کی ہیں لیکن شاید سچ کا ڈھول پیٹنے والے ان نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں کو شاید اپنے بارے میں ایک تولہ سچ بھی ہضم نہیں ہو سکا ہے
ہم نے پہلی قسط میں اہل اسلام سے گزارش کی تھی کہ ان چینلز کو امداد کے طور پر بھیک مت دیں تاکہ ان کے ہٹے کٹے بچے بھی منحت طلب ہوں اور اپنا کام کر کے خود کمائیں نہ کہ اپ کہ کاندھوں پر شادیاں رچا کر دندناتے پھریں اور جسے کا جی چاہے اُس کی عزت کو نیست و نابود کر کے اگلے سفر کی تیاری کر لیں
پہلی تحریر میں نقل کیا تھا کہ یہ چینلز کوئی تو گوشہ چھوڑ دیں حج عمر بھر میں صرف ایک بار واجب ہے اگر آپ صاحب استطاعت ہیں تو۔
یہاں ایسٹ لندن کے ایک ٹریول اینجٹ کے ہمراہ مل کر گزشتہ برس ایک گروپ تشکیل دیا گیا اور یوکے سے گروپ برائے حج سعودی عرب کےلئے روانہ ہوا اور اس کو پرموٹ کرنے کے لئے ایک مسلکی ٹی وی کی مدد بھی لی گئی اور اس مسلکی ٹی وی کے مالک کے دو عدد فرزند ارجمند اس گروپ کے ہمراہ گئے اور جن میں سے ایک کے بارے میں جو ناگفتہ مصدقہ اطلاعات ملی ہیں انکو نوک قلم پر بھی نہیں لایا جا سکتا اور اگر ان کے کریہہ کارناموں کو لکھا گیا تو ایک طوفان کھڑا ہو جائے گا۔
حج جیسے متبرک رکن کو سر انجام دینے کے دوران ایسے افعال کا سوچا بھی نہیں جا سکتا اور ایسے فعل کا مرتکب فقط ابلیس یا بلیس صفت ہو سکتا ہے
نیز گزشتہ ہفتوں کے دوران میں یہ حضرت نے اپنی دوسری غیر منکوحہ سے الگ ہو چکے ہیں جب کہ وہ خاتون ابھی تک واویلا کر رہی ہیں کہ ابھی تو طلاق کے صیغے بھی نہیں پڑھے اور موصوف اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مکمل طور پر ان کی سیرت کو اپنائے ہوئے ہیں۔
حج کے حوالے سے جو بات چل رہی تھی اس بارے میں عرض ہے کہ ٹریول ایجنٹ صاحب بھی جب کہ اپنی منکوحہ بھی احرام باندھنے کے بعد حرم قرار پا جاتی ہے وہ ایک غیر منکوحہ سے ہوٹل کے کمرہ میں رنگ رنگیلیاں مناتے ہوئے پائے گئے اور جو حضرات ان کے ہمراہ تھے وہ گواہ کے طور پر موجود ہیں اور لندن میں واپس آنےکے بعد ٹریول ایجنٹ کے دفتر پر حملہ بھی ہوا اور پولیس بھی اُن کے گھر پر گئی اللہ کی رسی دارز ہے آخر کب تک؟ ٹریول ایجنسی کے اس مالک کے یہ کرتوت لندن کے ایک مقامی اخبار میں پہلے ہی شائع ہو چکے ہیںحج ۔عمرہ اور زیارات اب متعدد ٹریول ایجنٹوں کے لیئے اب فراڈ اور دھوکہ دہی کا بزنس بن گیا ہے اورانہی تحقیقی رپورٹوں میں اگلی کسی قسط میں ایسے ہی ٹریول ایجنٹوں کے کالے کرتوتوں کا ذکر کیا جائے گا
حج سے واپس پر شام کے لئے اسی نجی اور مسلکی ٹی وی نے ایک اور قافلہ تیار کیا جس میں بھی کافی افراد نے شمولیت کی مگر وہاں سے آنے کے بعد دوسرے فرزند ارجمند نے پہلے لیسٹر اور اب لندن میں امداد کے نام پر ایک عمر رسیدہ وامیر اور کیبر خاتون سے لفظ متعہ کو بدنام کیا اور پھرانہی خاتون سے ٹی وی کے نام پر رقم نقد وصول کی اور وہ دفتر میں ہرگز جمع نہ ہوئی۔ ٹی وی ریکاڈ کا معانئہ کیا جا سکتا ہے مگر اونٹ کے گلے میں گھنٹی کو باندھے۔
اب لندن میں کتنے ہی افراد کو موبائل پر پیغامات وصول ہو رہے ہیں اور حلف اٹھا کر یہ کہا جا رہا کہ وہ خاتون تو ان کی ماں کا درجہ رکھتی ہیں۔ شریعت کے مالکان سے انکے اپنے ہی بزرگوں سے ایسے رشتے کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے کہ اسے کیا کہیں گے؟
خدا غارت کریے ایسے افراد کو جو ان مسلکی ٹی وی پر بیٹھ کر اپنے آپ کو عالم دین ظاہر کرتے ہیں جب کہ وہ کسی مستند ادارے سے تعلیم یافتہ نہیں چھ ماہ کسی غیر ملک میں رہ کر عالم دین نہیں بن جاتا بلکہ ایک تخیریب کار یا فتنہ پرور وجود ہی بن سکتا ہے۔
ہمیں اس بات کی وضاحت بھی کرنی ہے کہ جب ہم مسلکی ٹی وی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو اس سے مرآد کوئی ایک مخصوص مسلک نہیں ہے بلکہ اسلام کے بڑے اور مستند مسالک ہیں جنکے ٹی وی چینل برطانیہ میں کام کر رہے ہیں اور ایسے چینلوں کو دیگر ممالک کی مالی امداد بھی میسر ہے

ایسے ٹی وی چینلوں پر اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ سوال جواب کے پروگراموں میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں ملا شاید اور اس کے نتیجے میں ایک مسلک کے لوگ دوسر ے مسلک کے رہمنا یا امام پر اس انداز سے تبرہ کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ
ایک مسلمان کے طور پر آپ خود سوچئے کہ کیا آپ جو مدد کرتے ہیں وہ اس مصرف میں لائیجائے کہ دختر رسول یا داماد رسول اور اولاد رسول کی احادیث کو جھٹلایا جائے اور ان پر سب و شتم کیا جائے ۔
ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ ان چینلز میں سے چینل عدم ادئیگی کی بنا پر بند ہے اور ایک دوسرے کو بیانات روانہ کئے جارہے ہیں کہ ان کی مدد کے لئے قدم بڑھائیں
افسوس کے ساتھ یہ بھی تحریر کرنا پڑتا ہے اگر اسلام کی خدمت کرنے کا انتا ہی شوق ہے تو اپنی گرہ سے خرچ کر کے ٹی وی اور قوم کی عزت کو بچائیں۔اور اپنے آپ کو اس اہل ثابت کریں کہ وہ اس قابل ہیں کہ میڈیا پر آکر وہ بحیثت عالم دین اپنے رہبر اور ملک ملت کے لئے کام کر رہے ہیں ورنہ کوئی اور کام تلاش کریں۔ اور غریب عوام اور سادہ لوح افراد کا اس فتنے میں نہ الجھائیں۔
میرا ایک سوال تمام اہل اسلام سے ہے کہ کیا یہ ٹی وی ہمیں کچھ دین کی تعمیری رہنمائی کرنے میں مدد کرتے ہیں، یا تخریبی کاروائی یا کسی غیر ملک کے اینجٹ کے طور پر کام کر کے صرف ان مالکان نے اپناپیٹ پھرنے کے لئے یہ چینل آن ایر کئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ پیسہ ہضم کھیل ختم۔ والا معاملہ ہے۔ مدد آپ کریں اور عیش یہ کریں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید انکشافات کے لیئے اگلی قسط تک انتظار فرمائیےنوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد
عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی
مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی
اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے