چالیسویں قسط کا اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مختلف اسٹیشن آتے رہے اور مسافروں کا اتار چڑھاؤ قطار کے اندر کی تعداد کو
یکساں کئے رکھا۔ دنیا کو اگر مثال کے زریعے پیش کرنا ہو تو میرا موجودہ محل
اسکی بہترین مثال تھا جہاں پرانے مسافر نظروں سے اوجھل ہو جاتے اور نئے
آنیوالے اپنا اپنا رنگ ماحول میں گھولنے لگتے۔ دنیا کی اسی تمثیل گری کے
دوران ایک اسٹیشن ایسا آیا، جب ہم نے بھی نیچے اترنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قطار سے ہٹنے کے بعد جس سرزمین سے ہمارے قدم ہم آہنگ ہوئے، وہ چھہ ہزار برس قبل از مسیح کی تاریخ کی حامل سرزمین تھی جو آج بھی شہر رے کہلاتی ہے۔ آجکا تہران کسی زمانے میں اسکا حصہ ہوا کرتا تھا، مگر آج یہ تہران کا مضافاتی شہر ہونے کی بنا پر عظیم تہران کا حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ دنیا کے چند قدیم تہذیب یافتہ شہروں میں رے کا ایک خاص مقام ہے، جسکی شہرت تین ہزار قبل قدیم قلعہءجابری، پانچ ہزار برس قدیم کوہ ِ چشمہءعلی اور ہزار برس قدیم مرقد ِ حضرت بی بی شہر بانو (ع) کے باعث ہے۔ اسکے علاوہ کاروان سرائے شاہ عباسی، زیارتگاہ ِ حضرت شاہ عبدالعظیم (رح)، مینار ِ طغرل اور دیگر بیشمار تاریخی مقامات اس شہر کی اہمیت کو چار چاند لگاتے ہیں۔ ماہرین ِ آثار قدیمہ اور مؤرخین کے بقول رے میں داخل ہونا، تاریخ میں قدم رنجا فرمانا ہے۔ کچھ مؤرخین کا یہ بھی خیال ہے کہ زرتشت کے راہبران کا پایہءتخت بھی یہی علاقہ تھا۔ پچھلی چار ہزاریوں میں یہ شہر کربناک شکست و ریخت سے گزرا ہے۔ سیلاب، زلزلے، مغلوں اور عربوں کی دراندازیوں اور خانہ جنگیوں نے رے کی بھی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے، جسکے واضح نشانات آج بھی اسکے چہرے سے عیاں ہیں۔ تہران کی تعمیر ِ نو کے دوران اس شہر کو بھی ازسر ِ نو جلا بخشی گئی اور آج یہ شہر بھی قدیم و جدید تہذیب کا حسین مرقع نظر آتا ہے۔ تاریخ کی بیشمار عظیم ہستیاں مثلا” محمد ابن زکریا الرازی، امین رازی، فرزاد آشوبی، ہارون الرشید، فخرالدین رازی، نجم الدین رازی، علیرضا دبیر، حمید سوریان، مہدی کرمانی اور مرتضٰی ایوانی رے شہری ہی تھیں۔

اسٹیشن سے باہر نکلے تو تیز دھوپ کے ساتھ ساتھ سرد ہوا کے تھپیڑوں نے ہمار استقبال کیا۔ سڑکوں پر اسی طرح تیز رفتار ٹریفک رواں دواں تھی، جو تہران کی سڑکوں کا خاصا اور پہچان ہے۔ ایک عجیب طرح کی تیزی اور بھاگم دوڑ مشاہدے میں آئی، جو کہ کچھ دہر قبل اس شہر کے بارے میں پڑھی گئی تاریخ سے متضاد محسوس ہوئی۔ یہ تضاد فطری اور مبنی بر حقیقت بھی تھا، کیونکہ یہ شہر اس وقت تک چھہ ہزار سالوں کا سفر کر چکا تھا اور آج اکیسویں صدی کے اس تہران کا حصہ تھا، جو تعلیم ، تحقیق، سائینس، ادب، فن اور زندگی کی دوڑ میں باقی دنیا کو پیچھے چھوڑنے کا قصد کئے ہوئے ہے۔ ان سڑکوں پر زیادہ تر تعداد جامعات اور اسکولوں کے طلبا اور طالبات کی نظر آئی۔ ابھی تک مشہد اور تہران میں زیادہ تر جوان ہی نظر آئے تھے، مگر یہاں کے جوانوں کے حلیوں میں ایک چیز اضافی تھی، اور وہ تھی انکے شانوں پر لٹکے ہوئے بستے۔ ہشاش بشاش اور ترو تازہ چہرے۔ ہر شخص کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک۔ یہ ایک اور متضاد مظہر تھا جو اس شہر کی تاریخ سے بالکل بھی میل نہیں کھا رہا تھا۔ چار ہزار سال کی اکھاڑ پچھاڑ اور آج ان چہروں پر امید، امنگ، ترنگ اور زندگی کی رمق! چلتے چلتے ہم سڑک پار کرنے کی غرض سے ایک بالا سر پل پر چڑھ گئے اور اس پل کے عین مرکز پر جاکر تھم گئے۔ نیچے سے گزرتی ہوئی ٹریفک کے شور اور تیزی سے چلتی ہوئی ہوا کے پیش نظر وہ پل ہلکا ہلکا جھول رہا تھا، جس نے دل میں ہلکا ہلکا سا خوف بھی پیدا کردیا تھا،مگر رے کو ایک نظر دیکھنے کی لگن نے اس خوف کو کافور کردیا۔ یوں بھی اس مقصد کے لیئے یہ ایک مثالی نقطہ تھا۔ گو کہ پل کے جھولنے کی وجہ سے ہمیں اپنا توازن برقرار رکھنا بھی مشکل تھا، مگر چند لمحوں کو رک کر ہم نے پل کی رسیوں کو تھام کر اس تاریخی شہر کا ایک طائرانہ سا جائزہ لیا۔ ایک جانب تو پہاڑی سلسلہ تھا، جبکہ جانب ِ پشت تاحد ِ نگاہ پھیلا ہوا شہر۔ اتنی زیادہ ٹریفک کے باوجود فضا ایکدم صاف تھی۔ آلودگی، نہ تعفن۔ شہر پر ایک نظر نے ہی ہزارہا سال کی سیر تو کروادی، مگر ان تمام تاریخی حقائق اور موجودات کے علاوہ میرے ذہن میں جو اس شہر کا حوالہ تھا، وہ شاید ہر سننے والے کے ذہن میں ایسے ہی بجلی کی مانند کوند جاتا ہو جیسے اس نے میرے زہن کو جھنجھوڑا تھا۔ یعنی یزید بن معاویہ (ل) کا سر ِ اقدس حسین (ع) کے عوض عبید اللہ ابن زیاد (ل) کو رے کی بادشاہی کی پیشکش کا حوالہ۔ میری نظروں کے سامنے دور تک پھیلی وہ عظیم سلطنت تھی، جسکی شاہی کے لالچ میں ایک حریص ِ دنیا نواسہءرسول کو شہید کرنے پر آمادہ ہوگیاتھا۔ نہ صرف آمادہ، بلکہ وہ یہ قبیح فعل کر بھی گزرا۔ مگر خیرالماکرین کے مکر کے آگے کس کی چلی؟ تخت تو کیا، اسے اس شہر کی خاک کی ایک چٹکی بھی نصیب نہ ہوئی۔ یہ شخص باقر العلوم امام محمد باقر (ع) کے فرمان ِ ذی وقار کا مصداق ِ مبین ہے کہ
"دنیا کا حریص ریشم کے اس کیڑے کی مانند ہے، جو اپنا ہی لعاب اپنے گرد بنتا رہتا ہے اور اسی کے اندر لپٹتا جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے۔"
ہاں! مگر آج اس دنیا کے چپے چپے پر اسی شبیر (ع) کی حکمرانی ہے، جو جنت کا بھی مالک ہے۔ جس رے کی لالچ میں ابن زیاد (ل) نے حسین بن علی (ع) کو شہید اور علی بن حیسن (ع) کو اسیر کیا، آج اس شہر کی پہچان اسی حسین کی زوجہ اور اسی علی کی والدہ بی بی شہر بانو (س) کی وجہ سے ہے۔ کیا شان ہے کہ آج دنیا بھر سے زائرین اس پاک بی بی کی زیارت کو آتے ہیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں آپ کی ان انتھک ریاضتوں اور مصائب کو کہ جن سے گزر کر آپ نے خدا کے دین کو بچا کر اگلی نسلوں تک بڑھانے کا فریضہ اپنے تئیں خوب ادا کیا۔ اور خدا نے پہاڑوں کی گھاٹیوں مین پوشیدہ آپکے مرقد کو عاشقان ِ حق کے لئے مرجع ِ خلائق بنادیا۔ یہ سب سوچ کر آنکھیں نم ہو گئیں۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ اسی پل سے ایک جست بھروں اور اڑتا ہوا بی بی کے حضور پہنچ جاؤں، مگر یہ سب نہ تو ہمارے پروگرام کا حصہ تھا اور نہ ہی ہم اس نیت سے نکلے تھے۔ ان تمام مقامات کی باقاعدہ سیر ہمارے رہبر جناب اصغر صاحب نے اپنی علمی اور تجرباتی سرکردی میں کروانا تھی۔ سو ہم پلٹے، پل سے نیچے اترے اور واپس میٹرو اسٹیشن کی جانب چل پڑے۔
رے کا اسٹیشن بھی پانزدہ خورداد جیسا ہی تھا۔ زرا سا بھی تو فرق نہ تھا۔ کچھ دیر ہم پلیٹ فارم پر ٹہلتے اور گردوپیش کا جائزہ لیتے رہے۔ اسی اثنا میں ہماری ریل بھی آگئی اور ہم دیگر مسافران کے ہمراہ اس میں سوار ہو گئے۔ یہ والی قطار بھی مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، جسمیں ہر عمر اور ہر نو کا انسان سوار تھا۔ میٹرو تو شاید تمام دنیا میں ایک جیسی ہی ہوتی ہو گی، مگر اس میٹرو میں جس چیز نے توجہ کو اپنی جانب مبذول کرکے دل کو خوش کیا، وہ وہی چیز تھی جو اب تک تہران، مشہد اور نیشاپور کی دیواروں کی زینت کے طور پر ہمارے مشاہدے میں آئی تھی۔ یعنی آیات قرآنی اور اقوال معصومین (ع) کی خطاطی۔ یہاں پر بھی میرے سامنے والی کھڑکی کے ساتھ معلم ِ اخلاق امام علی (ع) کا سفر سے متعلق ایک خوبصورت فرمان تحریر تھا، جسکا مفہوم کچھ یوں تھا کہ دوران سفر اگر کوئی ناگواری پیش آئے تو سمجھداری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بخش دو۔ کیا کہنے اپنے آقایان کے اور صد آفرین اس خوبصورت انداز ِ تبلیغ پر۔ سبحان اللہ۔ اردگرد کے ماحول اور افراد کا خاموش مشاہدہ کرتے کرتے کچھ ہی دیر میں ہماری منزل آگئی اور ہم ایک بار پھر وہیں پر موجود تھے، جہاں سے کچھ دیر قبل روانہ ہوئے تھے۔
پانزدہ خورداد پہنچ کر ہنوز ہمارے پاس خاصا وقت تھا، جسے ہم نے اس علاقے کے بازاروں کی سیر کی نیت سے صرف کرنا شروع کیا۔ اب چونکہ ہم مشہد سے کافی حد تک واقف ہو چکے تھے تو تہران کا مشہد سے تقابل کرنا قدرے آسان بھی تھا اور اپنے علم میں اضافے کے لیئے ضروری بھی۔ مشہد کو میں نے زندگی سے بھرپور مگر ایک ٹھہراؤ کے عنصر کے ساتھ پایا، جبکہ تہران کی زندگی میں ایک برقی رو دیکھی۔ مشہد کے باسی اسلامی حدودوقیود کے اندر ایک پرسکون زندگی جی رہے ہیں۔ خواتین اسلامی حجاب پر سختی سے عمل پیرا ہیں، جنکی سر تا پا چادر میں انکا تمام وجود بدنی چھپا رہتا ہے۔ تہران میں حجاب کی پابندی تو نظر آئی، مگر قدرے چھوٹ کے ساتھ۔ یہاں نوجوان لڑکیاں عموما” کوٹ، پتلون اور اسکارف میں ملبوس رہتی ہیں۔ مخصوص ایرانی چادر کا استعمال بڑی عمر کی خواتین میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ زیادہ تر آبادی جوانوں پر مشتمل ہے جو فیشن کے دلدادہ ہیں۔ اگر زبان کا فرق نہ ہو تو پہلی نظر میں دیکھنے والا ان جوانوں کو یورپی ہی سمجھے۔ تہران کے بازاروں میں بہت بڑے بڑے مراکز ِ خریداری (شاپینگ مالز) ہیں، جہاں دنیا جہاں کے ہر برانڈ کی اشیاء دستیاب ہیں۔ یہ سب اس لیئے ہے کیونکہ تہران کے شہری خریداری کے اس حد تک شوقین ہیں کہ یہاں کے بازار چوبیس گھنٹے خریداروں سے کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں۔ یہاں بھی ہم نے تہران کے بازار ِ بزرگ میں قدم رکھنے سے پہلے اسکے داخلی دروازے پر آکر جو ایک نظر ڈالی تو اس کی آخری حد تک ایک کشادہ، روشن اور طویل سرنگ کے اطراف میں دکانیں اور اسکے درمیانی راستے میں انسانی سر ہی نظر آئے۔ میرے ذاتی اندازے کے مطابق اگر کوئی شخص اس بازار کی مکمل سیر کرنا چاہے تو کم از کم کئی مہینے درکار ہوں گے۔ بازاروں کے متعلق استعمال کیا جانیوالا محاورہ کہ سوئی سے جہاز تک ہر شے دستیاب ہونا شاید اسی بازار کے متعلق کسی نے ایجاد کیا ہو۔ یقینا” دنیا میں اور بھی کئی بازار ہوں گے جو اس سے بھی بڑے ہوں گے، مگر میرے ذاتی مشاہدے میں ایک مقام پر اتنا دیو ہیکل بازار یہی جگہ تھی۔ اسی بازار میں کئی غیر ایرانی تاجران کی دکانیں بھی نظر آئیں جن میں سکھ حضرات قابل ذکر ہیں۔ یہ میوہ جات اور مصالحہ جات کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ یہ بات میرے لئے بہت خوش کن ثابت ہوئی کہ فارس میں بھی پنجابی بولنے کا موقع مل گیا۔ تومان ختم ہوئے تو اسکا حل بھی وہیں موجود تھا۔ کرنسی کا کاروبار کرنیوالے حضرات فٹپاتھ پر ہی بلا خوف و خطر اپنی دکانیں سجائے بیٹھے تھے۔ ہم نے بھی چند یورو کے عوض تومان خریدے اور جی بھر کے خریداری کی۔ تمام احباب اور دوستوں کے لیئے اس بازار سے سب کچھ ہی دستیاب ہوگیا اور ہم ایک سماجی فریضے سے سبکدوش ہونے کے ساتھ ساتھ سبک جیب بھی ہوگئے۔ اسی دوران چلتے چلتے بازار کی مسجد آگئی اور ہم نے بہت آرام کے ساتھ ظہرین بھی ادا کر لی۔ مسجد سے باہر نکلے تو ساتھ ہی پکوانوں کی ایک دکان تھی جہاں پاکستانی انداز کی کچھ چیزیں دستیاب تھیں۔ تجربے کی نیت سے یونہی بے شست ایک پکوان میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ حوالہءدہن کرنے پر کچھ سموسہ نما محسوس ہوا تو اسی کو ظہرانہ قرار دے کر نوشابہ کے ساتھ نوش فرمایا۔ اسی دوران فٹپاتھ کے دوسرے کنارے پر ایک خوبرو و خوش لباس نوجوان میز کرسی کے ساتھ کچھ عجیب سا سامان مرتب کرتا نظر آیا۔ میرے تجسس کو اس نے زیادہ دیر برقرار نہ رکھا اور اپنی نشست سنبھال کر اپنے فن کا مظاہرہ شروع کیا۔ وہ دراصل ایک سڑک کا فنکار (جسے فارسی میں نوازندہءخیابانی کہتے ہیں)تھا۔ ہماری حیرت میں اس نے یوں اضافہ کیا کہ بیٹھے بیٹھے زائیلوفون کی دھن پر رباعیات عمر خیام کیا خوب گانا شروع کیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکے سامنے پیسوں کا ڈھیر لگ گیا۔ کچھ دیر کو تھم کر ہم بھی اس انوکھی پیشکش سے لطف اندوز ہوئے اور چند تومان اس نوجوان کی محنت کی نظر کرکے آگے بڑھ گئے۔ یہاں سے ہماری واپسی کا سفر شروع ہوا کہ شام چھانے کو تیار تھی۔ معلوم ہی نہیں ہوا کہ ایک اور دن اختتام پذیرا ہوا۔ خزاں کی ڈھلتی شام کی اداسی کو اس خیال نے مزید مہمیز کیا کہ سرزمین ِ ایران پر ہمارا ایک اور دن فنا کے گھاٹ اترنے جارہا تھا اور ہماری واپسی کے ایام قریب تر ہوتے جارہے تھے۔ میں ایک بار پھر ایک خاموش شاہد کا روپ دھار گیا اور تہران کی ان سڑکوں، گلیوں اور بازاروں کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرنے لگا۔
تہران کی سڑکیں، گلیاں اور کوچے خوبصورت درختوں سے آراستہ ہیں۔ کوئی مقام ایسا نہیں ملتا جہاں درختوں کی بہتات نہ ہو۔ سڑک کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹی نہر کی صورت میں بہتا ہوا پانی منظر تو خوب پیش کرتا ہے، مگر یہ استعمال کا نہیں، بلکہ استعمال شدہ پانی کی نکاسی کا نظام ہے۔ شام کے بعد کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں، جہاں روشنی کا معقول انتظام نہ ہو۔ ہر عمر کا فرد خواہ وہ مرد ہو یا عورت بلا خوف و خطر دن کے چوبیس گھنٹوں میں مصروف عمل رہتا ہے۔ دکانوں، بینکوں، درسگاہوں اور دیگر دفاتر میں عموما” نوجوان لڑکیاں ملازم ہیں جو نہ صرف اپنے گھر بلکہ اپنے ملک کی معیشت میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہی ہیں۔ چلتے چلتے ہماری بائیں جانب کی سڑک پر ایک اور لامتناہی بازار نظر آیا جس کی واحد جنس سلائی مشین تھی۔ اس بازار میں لاکھوں کی تعداد میں قدیم ترین سے لیکر جدید ترین سلائی مشینیں دستیاب تھی۔ مجھے سلائی مشین میں تو چنداں دلچسپی نہ تھی، البتہ اسکا فارسی ترجمہ میرے علم میں یقیینا” ایک دلچسپ اضافہ تھا، یعنی چرخ خیاطی۔ اس نئی اصطلاح کو ذہن نشین کرنے کی نیت سے اس کی تکرار کرتے ہوئے ہم اپنی قیام گاہ کی جانب چل دئیے۔ کچھ ہی دیر میں ہم وہاں پہنچ چکے تھے اور فضا میں اذان ِ مغرب کی روح پرور آوازیں اپنا شیریں رس گھولنے لگیں۔ نماز ِ مغرب سے فارغ ہوکر ہم نہا دھو کر تیار ہوگئے کہ کچھ ہی دیر میں اصغر بھائی آیا ہی چاہتے تھے۔ تجسس ہنوز برقرار تھا کہ آج کی شام ہمارا رہبر ہمیں کہاں لے جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے