قسط نمبر تین
6آیت نمبر 159 (جن لوگوں نے دیں میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکرے ٹکرے ہو گئے ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے کرو پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرئے گا۔ )ایک اور بات اس ریسرچ کے دوران ظاہر ہوئی
مسلکی چینل کے حوالے سے میں نے پہلی قسط آپ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو کچھ پرگرواموں کے بارے میں بھی درشن کرواں گا تا کہ ان چینل کے دل دادا ناظرین کو بھی اندازہ ہو سکے کہ ان کی امداد کی جو رقم ان کی گرہ سے مالکان حاصل کرتے ہیں اور اس کو کس انداز سے خرچ کیا جاتا ہے۔

صبح کے پروگراموں تو صرف وقت کو ضائع کرنے اور اگر ان کو ٹی کی زبان میں کہا جائے تو اس کو فلر کہا جاتا ہے گھریلو عورتوں کے علاوہ ان پرگرواموں میں جو افراد فون کال کرتے ہیں وہ ان کے اپنے چاہنے والے اور زیادہ تر کو وہ خود ہی فون کر کے کہتے ہیں کہ کال کریں تاکہ پروگرام کو مقبولیت کا دوسرں پر اچھا اثر پڑے۔
ان کالر حضرات میں بھی چند فتنہ پرور شامل ہو جاتے ہیں۔ اکثر چینلز پر دیکھا گیا ہے کہ ایک صاحب اسیپن سے ہر چینل پر ایک ایسا سوال کرتے ہیں کہ ہمارے نا سمجھ لوگ ان کی کال سن کر پھڑ ک پڑ تے ہیں اور پرگروام کو کسی دوسری راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ایسا کرنے سے ایک تو قوم کا وہ وقت برباد کرتے ہیں اور دوسرے وہ رقم جو اس وقت پر صرف کی جارہی ہے عوام کو کچھ نہ حاصل ہونے کے باعث ضائع ہو جاتی ہے۔ اور مالکان کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کسی کو کچھحاصل ہو یا نہ ہو صرف ان کی تو جیب گرم ہے اور وہ خوب رقم بٹورتے ہیں۔
کچھ چینلز پر ایک پروگرام استخارہ قرآن سے یا اشتعارہ اور دیگر ناموں سے بھی پروگرام نشر کئے جاتے ہیں ان کے جو پیش کار ہیں ان کے کردار پر اگر نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کہ سب سے عالم اور زاہد افراد میں ان کا شمار ہوتا ہے اور جس انداز سے پرگروام پیش کرتے ہیں اس کی جھلک اس تحریر کے زریعے پیش کئے دیتا ہوں۔
اکثر کال کرنے کے بعد پیش کار کو یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ آپ مجھ سےذاتی طور پر رابطہ کریں اور کچھ نہ کچھ خدمت کریں تاکہ آپ کو اس پریشانی کا حل بھی بتایا جائے گا یا آپ کو کوئی وظیفہ بتایا جائے گا۔
کہنے کو تو وہ اسلامی چینلز ہیں مگر کردار کے غازی افراد کو اس کا پیش کار بنا دیا جاتا ہے۔ جو کہ بعد میں اسلام کے مقدس نام پر ان چینلز کے ممبران سے افراد کے کوائف چرا کر ان کو فون کال کر کے ان سے تحائف بطور بلیک میل کر کے وصول کرتے ہیں۔
اپنا معاوضہ کسی تحفے کی صورت میں حاصل کرتے ہیں گواہ کے طور پر کئی ایسے افراد موجود ہیں
میرا قلم مجبور ہے ان افراد کے نام ظاہر کرنے سے ورنہ ہم ایک طویل فہرست ریسرچ کے دوران حاصل کر چکے ہیں۔

مسلکی ٹی وی چینلوں کا یہ مسلہ کسی ایک خاص مسلک کا نہیں ہے بلکہ لگ بھگ تمام اسلامی مسالک اس قبیح فعل میں شامل ہیں۔ان اسلامی چینلوں کے برعکس اگر آپ سکھوں،ہندؤں اور عیسائیوں کے چینل دیکھے تو نوے فیصد کسی گالم گلوچ یا رقعم بٹورنے میں شامل نہیں ملیں گے۔
ایسے ہی گزشتہ ہفتے لندن سے باہر جانا پڑا تو وہاں پر ایک جم غفیر کے سامنے کچھ افراد نے ایسی کچھ شکایات بھی کی کہ کہ چینلز یوکے میں مذہبی پرگروام کےبارے میں کچھ کیوں نہیں نشر کرتے یا کوئی جھلک بھی نہیں دکھاتے اس جم غفیر میں سے جن افراد کو ان کے بارے میں کچھ معلوم نا تھا انہوں نے تو دست سوال کے لئے آواز بلند کرنے کی کوشش کی مگر ان کو شاید یہ معلوم نہ تھا اور ایسے کئی افراد اس جم غفیر میں موجود ہوں گے جو کہ اس کی اصلیت سے بے خبر ہیں کہ ان کے مالکان کس طرح سے قوم کو بدنام کر رہے ہیں اور کیسے کیسے بد کردار افراد کو پیشکار بنا دیتے ہیں۔ جو اس قابل ہی نہیں ہوتا۔ ایسے افراد بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ جن کو طہارت کا مہفوم تک معلوم نہیں اور پروگرام میں بیٹھ کر اللہ اور اسکے رسول کی بات کرتے ہیں۔
ایک عمل کی طرف اور توجہ دلاتا چلوں کہ تبرکات اور متبرکات کے بارے میں ان چیلنز پر جس طرح توہین کی جاتی ہے اس کا پہلو بھی قابل غور ہے اکثر یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جب ان چینلز پر امداد جمع کرنے کی اپیل کی جاتی ہے تو بے علم افراد جو کے ان کے کردار سے نا واقف ہیں خدا اور اس کے رسول اور ان پاک ہستیوں کے نام پر اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار ہیں۔ کہ دوران اپیل اپنا نقرئی مال زیور ،جوہرات، اور وہ قیمتی ایشا بھی ان کے حوالے کردیتے ہیں جو کسی نہ کسی پاک ہستی سے منسوب ہیں اور یہ نا اہل مالکان ان کو اپنے پرگرمواں کے دوران فروخت کر دیتےہیں۔ اور جو رقم اس سے حاصل ہوتی ہے وہ اپنے ذاتی مصرف میں لاتے ہیں۔ صدقہ کے بارے میں عرض ہے کہ اگر کوئی اور مسلمان صدقہ کی رقم کو ہاتھ لگا دے تو یہ مولوی حضرات فورا شور مچا دیتے ہیں کہ کیا تم اس کے مستحق ہو یا نہیں اور سادات پر تو صدقہ ویسے ہی حرام ہے خدا جانے یہ کس قسم کے سادات ہیں جو صدقہ کی رقم اکھٹا کر کے اپنی تنخواہوں کے لئے رقم وصول کرنے ہیں اور اپنا پیٹ اس رقم سے ہی بھرتے نظر آتے ہیں۔ لندن جیسے شہر میں جہاں یہ مشہور ہے کہ کوئی فرد بھوکا نہیں سوتا اس شہر میں کسی دوکان میں چلے جائیں یا تو مسجد یا ان مسلکی ٹی وی چینلز کے نام پر صدقہ کا بکس رکھا ہوا ضرور آئے گا۔
آج بھی ایک چینل پر ایک پرگرام خوابوں کی تعبیر دیکھا رہا تھا نہ جانے وہ حضرات کیا کیا قلابے ملا رہے تھے اور خواتین کو گمراہ کررہے تھے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کو ذرا کمزور دل تصور کیا جاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے اور یہ مولویوں کا ڈھرا ان کو لوٹنے پر تلا ہوا ہے۔
اے مسلمان برادران آپ ایک بار پھر سوچیں کہ آپ اپنی صدقہ وخیرات کی رقم یا دیگر رقوم اپنے ہاتھ سے خرچ کیوں نہیں کرتے تاکہ آپ خود بھی معطمئن ہو ں کہ آپ نے جو رقم کسی غریب کو فراہم کی ہے وہ کسی درست ہاتھ میں دی ہے اور اس سے دعا کے مستحق ہیں۔
جو رقم آپ حضرات نے چیلنز کو مہیا کرتے ہیں میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ کسی طور پر بھی درست جگہ پر خرچ نہیں کی جاتی ۔

ان مسلکی چینلوں کا عجیب مسلہ ہے کہ کہ دنیا بھر میں رونما ہونے والےواقعات سے بے خبر اپنی ہی بین بجائے جاتے ہیں۔ انکو دنیا کے سیاسی اور معاشی حالات سے کوئی سروکار نہیں ہے اور یہ مسلکی جنگوں اور منافرت پھیلانے میں لگے ہوئے اپنے اپنے طور پر اس خیال خام میں مبتلا ہیں کہ دین اسلام کی خدمت کر رہے ہیں حالانکہ یہ چودہ سو سال پہلے کے اختلافات کو آج دوہزار گیارہ میں صرف دوبارہ زندہ ہی نہیں کر رہے بلکہ ان اختلافات کو اور فروغ دے رہے ہیں اور ظلم یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہو رہا ہے
ایک مسلک دوسرے مسلک کے بزرگوں کی توہین کرتا ہے اور دوسرا تیسرے کی اور اس سارے عمل میں بے خبر اور دین سے بے بہرہ مسلمانوں کو آلہء کار بنایا جاتا ہے۔
ہمیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں نشریاتی واچ ڈاگ کو اس ضمن میں متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں اور عنقریب اس سلسلے میں کاروائی ہونے والی ہے
ان ٹی وی چینلوں کی ایک اور بدعت یہ بھی ہے کہ ان پر ملاؤں کا قبضہ ہے جو اپنی ٹنل ویژن کے باعث اسلام کو چودہ سو سال پہلے کے دین کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اب تو ایسے چینلوں کے کچھ مولویوں نے بھی اپنے ناموں کے ساتھ ‘‘ڈاکٹر‘‘ کا اضافہ کر لیا ہے اور کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں کہ انہوں نے کس موضوع پر اور کس جامعہ سے یہ ڈاکٹریٹ کی ہے۔جاری ہے باقی اگلی قسط میں انشا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انتظار فرمایئے
نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد
عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی
مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی
اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے