بحثیت انسان ھم میں سے بہت سارے لوگ اپنی تکلیفوں اور دشواریوں کی زمہ
داری ایک دوسرے پہ ڈال دیتے ھیں ۔ کیونکہ یہ سب سے آسان طریقہ ھوتا ھے
بلکہ آسان تر ھوتا ھے ۔ آپ کوئی بھی معاملہ لے لیجیئے مثلاً سماجی ،
مذھبی ، سیاسی ، معاشی ، تہذیبی اور تعلیمی ، غرض کوئی بھی معاملہ ھو ھم
اپنے احتساب سے بچنے کے لیئے کوئی نہ کوئی طریقہ ڈھونڈھ ھی لیتے ھیں ۔
اور اٍس کی ھزار تاویلیں اور دلیلیں بھی ساتھ لے کر چلتے ھیں ۔ شائد اٍسی
وجہ سے ھمارے مسائل بھی شدید تر ھو رھے ھیں ۔ سیاست میں وعدے بازی عروج
پر ھے ۔سیاستداں روز ایک نیا خواب آئی ڈراپس کی طرح ھماری آنکھوں میں ڈال
دیتے ھیں اور ھم وہ لوگ ھیں جو دنیا بدل جانے کے انتظار میں ھر دن کو نیا
دن سمجھ لیتے ھیں اور جب کچھ بن نہیں پڑتا تو بےچینی اور بے اعتباری کا
شکار ھو جاتے ھیں ۔اور سارا کا سارا الزام حکومت پر اور حکومت وعدہ پورا
نہ کر پانے کا الزام پڑوسی ملک اور اُس کی شر پسند سرگرمیوں پر ڈال دیتی
ھے۔یہی کچھ ایک تواتر سے ھوئے چلا جاتا ھے اور ھوئے جارھا ھے ۔۔ مسلسل ایک
عمل کی طرح ۔۔
کراچی میں رنچھوڑ لائن کے بعد نارتھ ناظم آباد میں
بھی ڈاکوؤں کو زندہ جلا دیا جاتا ھے اور حکومتی میڈیا عوام کے احساس ٍعدم
تحفظ کو موردٍالزام ٹھراتا ھے ۔ ضمیر کی اٍس خودکشی کو کیا کہا جائے گا ۔
جب پورے ملک میں اٍس سانحے کی مذمت کرنے والا کوئی نہ ملے ، کیونکہ سب
ایک مدت سے ظلم کی انتہا جھیل رھے ھیں ۔ حقیقت یہ ھے کہ کراچی کے اندر
جرائم کی شرح یہ ھے کہ ھر دوسرا انسان سال میں دو دفعہ ڈاکوؤں اور چوروں
کے ھتھے چڑھتاھے اور ھر ممکن اور ھر حساب سے لُٹتا ھے ۔ اور موقعہ
واردات پر پولیس کا وقت پر پہنچنا تو دور کی بات ھے ۔ تھانے میں رپورٹ
تک درج نہیں ھوتی ۔ اور آج جب یہی بےبس مشتعل لوگوں نے لوٹنے والے چور
ڈاکوؤں کو جلایا تو پولیس نہ صرف موقعہ واردات پر پہنچی تھی بلکہ یہاں
تک سنا ھے کہاٍ اس معاملے کی تفتیش بھی کر رھی ھے ۔۔ کیوں ؟؟؟؟ آخر
کیوں ؟؟ کہی ایسا تو نہیں کہ ھماری پولیس کسی کے ساتھ حقٍ دوستی نبھا رھی
ھو ۔ معاملہ جو بھی ھو لیکن اب اٍس سنگین واردات کو کیا نام دیا جائے؟۔جب
بےبس عوام حکومتی نمایئندوں کی بے حسی سے مایوس ھو کر قانون کو ھاتھ میں
لے لیں ۔
کیا اٍس سارے پس منظر میں یہ کہنا درست نہیں ھو گا کہ ھم
نے بحثیت عوام کے یہی دیکھا ھے کہ جس کی لاٹھی اُسی کی بھینس ھوتی ھے سو
آج اگر عوام نے مارشلاء اور گذشتہ سالوں میں جو کلاشنکوف اور بندوق کلچر
سیکھا ھے ۔ اگر اُسی بہادری اور نڈر پن کو اپنا آخری دفاع سمجھ کر اُس
کے جوھر دکھا رھے ھیں تو پریشانی کیا ھے ۔۔ تفتیش کیوں ھے ؟ ۔ دیکھیئے نہ
جو بویا جاتا ھے وہی تو کاٹا جاتا ھے ۔۔
لیکن ھم ھی میں سے کچھ لوگ
ایسے بھی ھیں جو آج کل ھونے والی ساری گھناؤنی واردات کا الزام پست
معیارٍ تعلیم کو دیتے ھیں ۔ اُن کا خیال ھے کہ آج کل کے اساتذہ اپنے
پیشے سے مخلص نہیں ھیں ۔۔اورھمارے ملک میں معیاری تعلیم اور اخلاق نہیں
سکھایا جا رھا ۔ لیکن یہاں پر یہ بات بتانا ضروری سمجھتی ھوں کہ حکومت
کی اٍس میں کوئی خطا نہیں ھے کہ اُس نے بہت پہلے شاگردوں سے کہہ رکھا
تھا کہ یا تو وہ اپنا بندوبست خود کریں یا پھر تعلیم کی بجائے کچھ اور
کر لیں ۔ حکومت کے پاس ایسا کوئی بجٹ نہیں ھے جس سے وہ اساتذہ کو بنیادی
ضروتٍ زندگی کی سہولت ھی مہیا کر سکیں ۔سو اب سوال یہ ھے کہ لوگ اپنے
بچوں کو پرایئویٹ اسکول کالجوں میں پڑھایئں یا اُن کے لیئے آٹا خریدیں ۔
ھم نے تو یہی سنا ھے کہ جان ھے تو جہان ھے ۔ اب بھلا پڑھائی کی کیا اوقات
جو بنیادی سہولت کے کھاتے میں آ سکے ۔
دوسری طرف سُکھی پاکستان
کی جو حسین تصویر ثقاوت کے نام پر ٹی وی ، تھیٹر اور فلم میں دکھائی جاتی
ھے ۔ ایسا کلچر اور گلیمر نہ کبھی دیکھا نہ سُنا ھوتا ھے ۔ سب ھی حیران
ھو کر ایک دوسرے سے پوچھ رھے ھوتے ھیں کہ یہ کونسا ملک ھے ؟؟ تو پروگرام
کا پروڈیوسر بڑی محبت سے اپنے کسی انٹرویو میں کہتا ھے کہ میڈیا آزاد ھے
اور یہ ترقی پسند پاکستان ھے اور اُس میں رواج پانے والا جدید کلچر کی ایک
جھلک آپ دیکھتے ھیں ۔ پھر مزید کہتا ھے کہ اگر پڑوسی ملک سے مقابلہ کرنا
ھے تو یہ سب تو دکھانا ھو گا ۔ عریانیت اور بےحیائی کو ترقی کہنے والے یہ
لوگ سارا الزام ھماری دقیانوسی اور ترقی پذیر سوچ پر رکھ دیتے ھیں ۔ لیکن
یہ یقین کرتے ھی بنتی ھے کہ واقعی اب میڈیا اخلاق اور تہذیب سے آزاد ھے ۔
وہی پر سچ بولنے اور لکھنے والوں پر یہی صحافتی آزادی تنگ کر دی
جاتی ھے ۔ آج کی تازہ خبروں کے مطابق ٹی وی چینل “ آج “ کی ٹیم پر پنڈی
میں مسلحہ افراد نے فائرنگ کی ۔ اب اٍس فائرنگ کا ھونا کس بات کی علامت
ھے اور یہ واقعہ کیا بتاتاھے ؟ ۔ یہی نہ کہ میڈیا کی آزادی جھوٹ سے
مشروط ھے ۔ کیا یہ وحشت اور بربریت نہیں ھے کہ سچ بولنے کی سزا یوں ملے کہ
گولیاں بھی انہی پر برسیں اور الزام بھی ا انہی پر لگے اور جب انصاف
مانگا جائے تو اُس کے نام پر پولیس رپورٹ درج کرنے سے بھی کترائے ۔ اتنے
بڑے ٹی وی کے اداروں کے تحٍظ کا اگر یہ حال ھے تو ھمارا آپ کا کون ھو گا
۔
صدر ، وزیراعظم لے کر منتخب قومی اور صوبائی نمایئدوں تک یہی
کہہ رھے ھیں کہ ھمارے ھاتھ بندھے ھوئے ھیں اور مجبور ھیں لہذا عوام کے
ساتھ کیئے ھوئے وعدے پورے ضرور کریں گے لیکن عوام کو بھی چاھیئے کہ وہ
مناسب وقت کا انتظار کریں ۔ کچھ اراکین اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ ابھی
انہیں اقتدار میں آئے ھوئے دن ھی کتنے ھوئے ھیں ۔۔ جی بلکل صیحع فرمایا ۔۔
مہنگائی کے خاتمے اور قانونی تحٍظ حاصل کرنے کے لیئے اگر عوام میں انتظار
کا سلیقہ نہیں ھے تو وہ کیا کریں ۔ اب اٍس میں اُن کا کیاقصور ھے کہ
عوام انتخابات کے بعد باشعور نہیں رھی ۔ اب لوگ بلاوجہ قانون کو ھاتھ میں
لینا چاھتے ھیں تو اٍس جرم کی زمہ دار بھی پھر خود ھی ھوں ۔۔
اب
جبکہ منتخب حکومتی بندوں نے سرکاری اور غیر سرکاری اشارہ کنایئوں میں عوام
کو یہ پیغام دے ھی دیا ھے کہ “ اپنی جلاؤ اور اپنی سیکو “ ، یعنی آپ
لوگ اپنی عزت اور سلامتی کی جنگ خود لڑیں ، تو اٍس بات پر پریشانی کیا
ھے ؟ ویسے بھی اگر سب اپنے اپنے حصے کا کام خود کرنے کے عادی ھوجائے تو
کوئی کسی پر کبھی الزام نہیں رکھ سکے گا ۔ سو عوام نے سرکاری الزام
تراشیوں سے بچنے کے لیئے فیصلہ کر لیا ھے کہ اب وہ اپنے حصے کے کام خود
کرے گی بلکہ انتظامیہ کے حصے کے بھی سارے معاملات بھی خود ھی نپٹا دے گی
۔ سو دوستو وہ وقت دور نہیں ھے جب یہی بے چین ، بے اعتباری ، عدم تحفط
کا شکار قوم ایک نئے روپ میں سب کے سامنے ھو گی اور اپنے فیصلے خود کرنے
والی یہی نڈر بے خوف عوام ، ملک کو لوٹنے والے شاہوں ، سرکاروں ، منافعہ
خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو بھی بیچ چوراھے پر جلا دے گی ۔ کیونکہ “
عوام ھی اصل طاقت ھے “۔۔یہ نعرہ بھی تو آپ ھی نے ووٹ لیتے وقت انہیں یاد
کرایا تھا ۔
اب اٍس ساری لاقانونیت اور بےصبری کا الزام کس
پر رکھا جائے ۔۔ میرا خیال ھے کہ ججوں کی بحالی سے ھی منسوب کر دیتے
ھیں۔ کیونکہ یہی آسان تر ھے کہ ایک نقطہ کو مرکز نگاہ بنا لیا جائے اور
باقی سب نطر اوجھل پہاڑ اوجھل کر دیا جائے ۔ اٍس موضوع پر اتنا کچھ کہا جا
چکا ھے اور ابھی پتہ نہیں کتن کچھ کہنے کو رہ گیا ھے لیکن مجھے پاکستانی
تاریخ کا وہ حصہ یاد آ رھا ھے جب ایک دبلے پتلے قانون داں نے نے انگریزوں
کو چیلنج کرتے ھوئے کہا تھا کہ “ اگر تم میرے ساتھ آیئنی جنگ لڑنا چاھتے
ھو تو میں یہ جنگ لڑنے کو تیار ھوں “ ۔ یہ قانون داں قائداعظم تھے جنہوں
نے کبھی گاندھی جی سے کہا تھا “ میں لباس تبدیل نہیں کرونگا ، تمھاری
زبان میں تم سے بات کرونگا ، میں تمھارے بنائے ھوئے اصولوں کے مطابق ، میں
تمھارے قانون کے مطابق تم سے لڑائی کرونگا “ ۔ اور یہ بات انہوں نے اُس
وقت گاندھی سے کہی تھی جب وہ لوگوں کو اپنا مشہورٍ زمانہ سفید لباس پہن
کر بھوک ھڑتال کی تلقین کر رھے تھے ۔
دوستو یہ وہی پاکستان ھے جس
کو چور ڈاکوؤں کے چنگل سے چھڑانے والا خود قانون داں تھا اور آج اُسی
پاکستان میں قانون اور قانون داں ، چوروں اور ڈاکوؤں کے ھاتھوں یرغمال
بنے ھوئے ھیں اور کوئی پُرسانٍ حال نہیں ھے ۔