آج کا دن دوبئی دیکھنے کے لیئے مخصوص تھا۔ جو کہ ایک جدید شہر ہے جس کی بنیاد اس کے بادشاہ را شد المکتوم مرحوم نے اس نظریہ پر رکھی تھی کہ بیروت تو تباہ ہو چکا ہے لہذ اس خلا کو پر کرنے کی گنجا ئش ہے ۔ چونکہ دو بئی کے پاس تیل کے اتنے بڑے ذخائر نہیں تھے کہ وہ ہمیشہ چل سکیں، انہوں نے سوچا کہ اگر ہم اس کو ایک تجا رتی شہر بنا دیں جس میں بے انتہا تفریح گا ہیں اور ہر طرح کی آزادی بھی ہو تو دنیا بھر سے سیاح کھنچے چلے آئیں گے۔ اس میں ایک عرصہ تک کامیاب بھی رہے ،مگر برا ہو عالمی کساد بازاری کا،کہ اس نے اس مرحلے پر آکر پریشان کر دیا۔ جب وہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ بنا رہے تھے اور وہ منصوبہ تھابرج ِ دو بئی ۔ تو اسے کساد بازاری نے آلیا۔اس کی تفصیل ہم بعد میں بتائیں گے، پہلے وہ بتا تے ہیں جو ہم نے دیکھا ۔ ہم جیسا کہ پہلے عرض کر چکے ہیں کہ ہم الراحہ بیچ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جو کہ ابو ظبی کا ساحل ہے اور دوبئی سے اس ہا ئی وے سےجڑا ہوا ہے جوکہ عجمان اور شارجہ ہو تا ہوا دبئی پہونچتا ہے۔
اسی علاقے میں شاہی خاندان کے کچھ محلات ہیں جہاں سے گزر کر ہمیں ہا ئی وے تک پہو نچنا تھاسڑک کے دونوں طرف سبزہ اورکھجوروں کی کوئی دس فٹ چوڑی بیلٹ ہے اور اس کے بعد بھی ہر طرف سبزہ اور پھولوں کے تختے نظر آتے ہیں ۔ ان سے آگے حد نظر ہے جس کام ایک ہری جالی سے لیا گیا تاکہ دیکھنے والے کو سب کچھ ہرا ہرا نظر آئے۔ نہ کوئی اس سے آگے دیکھے گا نہ ریگستان پر نظر پڑے گی؟ چونکہ یہاں حکمرانوں نے اپنا پرو فا ئل شروع سے بہت ہی لو رکھا ہوا ہے ،لہذا راستے میں ہٹو اور بچو کا کوئی مسئلہ نظرنہیں آیا۔ نہ آگے موٹر سوار پا ئلٹ پولس چلتی ہے نہ پیچھے پولس کی گا ڑیوں کی قطار ہو تی ہے ۔ جبکہ ہمارے حکمراں جودولت غیر ملکوں میں جمع کرتے ہیں۔
یہ اپنے بنک خود بنا نا اور چلا نا چا ہتے ہیں پھر ہر طرح اپنے عوام کو نوازتے بھی ہیں، لہذا انہیں اپنی جانو ں کا کچھ خطرہ ہے، نہ بلٹ پروف گا ڑیوں کی ضرورت اور نہ پولیس کی ؟ ہم نے ایک کار دیکھی اس پر بہت ہی چھوٹا سا نمبر تھاجیسا کہ وہاں عام طور پر نہیں ہو تا۔ تو مجھے تجسس پیدا ہوا،پو چھنے پر پتہ چلا کہ یہ چھوٹے نمبروں والی کاریں جو ہیں وہ شاہی خاندان کے استعمال میں رہتی ہیں ۔ کا ش ہما رے حکمراں جو کہ جلاوطنی کے دوران وہیں وقت گزارتے ہیں کہ وہ پاکستان سے قریب ترین ملک ہے اور ویزا وغیرہ کا مسئلہ یعنی، دوسرے ملکوں کی طرح جھمیلے نہیں ہیں ۔ اگر ہمارے حکمراں بھی جلا وطن ہو نے سے پہلے سوچ لیں اور وہ بھی یہی طریقہ حکمرانی اپنا لیں تو نہ ہی انہیں پولس کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی پردہ نشینوں کی طرح سات پردوں میں رہنے کی اور نہ ہی بعد میں جلا وطن ہو نے کی۔
اس ٹھنڈی سڑک سے گزر نے کے بعد ہم اس سڑک پر پہونچ گئے جو رات کو تو ہوائی جہاز سے جب دیکھا تھا تو روشنیوں کی وجہ سے جگمگا رہی تھی۔ مگر اب وہ بات نہیں تھی مگر اس کے دونوں طرف بھی انہوں نے ایک گرین بیلٹ بنا ئی ہو ئی تھی جس پر کھجور کے درختوں کی چوڑی قطاریں اور آگے ہری جا لی اور اس کے پیچھے پھر سبزہ یہ احساس نہیں ہو نے دیتا ہے کہ آگے لق وق صحرا ہے۔کہتے ہیں کہ ابو ظبی اور دوبئی تک پینتالیس منٹ کی ڈرائیو ہے، مگر ہم تو جب بھی گئے ڈیرھ دو گھنٹے سے پہلے نہیں پہو نچے جبکہ سڑکیں جدید اور کشا دہ ہو نے کے با وجود شام کے وقت بمپر سے بمپر لگا ہوا ہو تا ہے۔ ہماری بیگم کو زیور خرید نے کا شوق ہے ۔ لہذا صرافہ بازار دیکھا کچھ تحا ئف پاکستان میں عزیزوںں کو دینے کے لیئے کپڑا ما رکیٹ سے خریدے۔ اس کے بعدکا ر سمندر کے کنارے پر جاکر بیٹھ گئے۔ اب ہما رے سامنے وہ عمار تیں تھیں جو بجا ئے سیدھے کہ کچھ ترچھی سی دکھ رہی تھیں ۔ ان ہی میں وہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے اور باقی اس کی سہیلیاں تھیں۔ ہم جب پانچ چھ سال پہلے دو بئی آئے تھے عمرے سے واپسی پر، تو اس وقت یہ بلڈنگز بن رہی تھیں۔ سمندر کے اندر اور خشکی کی سے ملی ہو ئی بھی نہیں تھییں۔اب وہ ماشا اللہ عہد طفلی سے گزر کر جوان ہو گئیں ہیں ۔ مگر ٹاورکی جوانی نہ جانے کیوں دیر پا ثابت نہیں ہو ئی ۔ہمارے ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پرو جیکٹ منیجر کہہ رہے ہیں کہ پچھلے سال کے مقابلہ میں ٹاور کی آمدنی اس سال ٥٤ فیصد کم رہی۔
یہ پورامنصوبہ ٠٩٤ ١ایکڑ زمین پر ہے جسکو دوبئی ڈاون ٹاون کا نام دیا گیا ہے اور اس ٹاور کا نام بھی پہلے دوبئی ٹاورہی تھا۔ اس میں ٣٥٠٠ ہزارلوگوں کے رہنے کی گنجا ئش ہے اور ٹاور کے سامنے ایک ٠٣ ایکڑ پر مشتمل جھیل ہے جو انسانی صنائی کا بہترین نمونہ ہے اس کو ٹاور کواندرونی طور ایک ہزار پینٹنگ سے سجا یا گیا جس میں دنیا کا بہترین آرٹ جمع کردیا گیا۔ اس کا جو ٹاور ہے وہ دنیا کا سب سے اونچا ٹاور ہے جس کی بلندی ٨٢٨ میٹر(٧١٧٧٢) فٹ ہے۔جس کی١١٥منزلیں ہیں جن میں لے جا نے کے لیئے ٧٥ تیز رفتار لفٹیں ہیں جن کی رفتار دس میٹر فی سیکنڈ ہے اور کئی برقی زینے ہیں ۔ جبکہ ایمر جینسی کے لیئے دو ہزار سے زیا دہ سیڑھیاں ہیں۔ اس ٹاور کی تعمیر کا آغاز ١٢ ستمبر ٢٠٠٤ ءمیں ہوا اور دسمبر دو ہزار نو میں جب کہ اس کی فنشنگ باقی تھی تعمیر کا کام بین الاقوامی کساد بازاری کی وجہ سے رک گیا ۔ ابو ظبی کے شاہ نے اس برے وقت میں دوبئی کی مدد کی اور اس کا نام بجا ئے برج دوبئی سے تب ان کے نام پربرج خلیفہ ہو گیا۔
 |
| برج خلیفہ اور دوبئی ڈاؤن ٹاؤن |
اس کا با قاعدہ افتتاح٤ جنوری ٢٠١٠ ءکو ہوا۔ اس پر ڈیرھ ارب ڈالر خرچ آیا۔ اس کے بعداس کی سہیلیوں کے خرچہ کا تخمینہ بیس ارب امریکن ڈالر ہے۔ا س میں رہا ئشی حصہ جو کہ تیس ہزار رہا ئشی یو نٹس پر مشتمل ہے اور ایک وقت میں ان کی بھی بڑی مانگ تھی انکی قیمت ٦٣٠٠ ڈالر فی اسکوائر فٹ تک جا پہونچی تھی جو اب٠ ٤ فیصد تک گھٹ گئی ہے اور زیادہ تر یونٹ ابھی تک خالی پڑے ہیں۔ اس کے اطراف میں نو ہوٹل ہیں۔جنکا کرا یہ پو چھنے کی ہمیں ہمت اس لیئے نہیں پڑی کہ اس کے ایک میل کے اندر جو ہو ٹل ہیں ان کرا یہ ٥٨٠ درہم سے ٧٨٠ درہم تک ہے۔ تو اس سے اندازہ کر لیجئے کہ یہاں کا کرایہ کیا ہو گا؟ ابھی یہ منصوبہ پوری طرح تکملے تک نہیں پپہونچا اور اس میں بہت سی اضافت باقی ہے اس میں داخلہ کا ٹکٹ اگر آپ پہلے سے فون پربک کرا ئیں تو ١٠٠درہم ١٣ سال سے اوپر کے لوگوں کے لیئے ہے اور اس سے کم عمر لوگوں کے لئے٧٥۔ درہم ہے۔ اور اچانک ٹکٹ لینا چا ہیں تو٤٠٠ در ہم ہے۔ جوکہ آپ دوبئی سنٹر سے لے سکتے ہیں بہر حال یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ بنا نے کا اعزاز حاصل کرنے والا ہندوستان کے بعد (تاج محل) کے بعد دوسرا ملک ہے جس نے حا صل کیا۔ اور اس پرجتنا فخر کیا جا ئے اتنا کم ہے۔ جبکہ ٹورنٹو کا سی این ٹاور اس کے سامنے بچہ ہے، برج ِ خلیفہ کے بعد دوسرے نمبر پر تائی ٹاور ہے جو کہ تائیوان میں واقع ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی آئندہ