مشتری ہوشیار باش اے مسلمانوں اپنی آنکھیں کھولو اور اپنی آپ کو نام نہاد ملا سے بچاؤ
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿١٥٩﴾ترجمہسورہ انعام پارہ 6آیت نمبر 159 (جن لوگوں نے دیں میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکرے ٹکرے ہو گئے ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے کرو پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرئے گا۔ )برطانیہ میں مسلکی ٹی وی چینلوں کے حوالے سے پھیلائی جانے والی تفرقہ بازی اور معصوم عام مسلمانوں کے استحصال کے ضمن میں اب تک چار اقساط شائع ہوچکی ہیں اور یہ پانچویں قسط پیش خدمت ہے۔ طے یہ پایا تھا کہ اس قسط میں ٹریول ایجنٹوں اور ملاؤں کے گٹھ جوڑ کے ساتھ حج اور زیارات کے نام پر لوگوں کو لوٹنے اور دھوکہ دینے کے واقعات آپکی خدمت میں پیش کریں گے۔
یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر اگر ایک سال بھی لکھا جائے تو یہ داستانیں ختم نہیں ہو سکیں گی۔ اس دوران مختلف حلقوں سے ان ٹی وی چینلوں کے کرتا دھرتا لوگوں نے رابطے کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ تحقیقی رپورٹ کسی ذاتی دشمنی یا پیشہ وارانہ مخاصمت کے نتیجے میں شائع ہو رہی ہے اور کچھ لوگوں نے تو اخبار اور اسکے مدیر اعلیٰ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی بھی دھمکی دی ہے
مجھے اس تحقیقی رپورٹ کے لکھاری کے طور پر اس بات کو واضع کرنا ہے کہ میں نے اس موضوع پر تین ماہ تک تحقیق کی ہے اور جتنا مواد اسوقت میرے پاس موجود ہے اسکا شاید پانچ فیصد بھی شائع نہ ہوسکے اور اشاعت میں یہ بات واضع کی گئی ہے کہ ہمارا روئے سخن کسی مخصوص مسلک یا مخصوص مسلکی ٹی وی چینل یا مخصوص فرد کی طرف نہیں بلکہ اس رپورٹ میں اسلام کے تمام بڑے مسالک کے برطانیہ میں چلنے والے ٹی وہ چینل شامل ہیں۔ ہمیں کچھ لوگوں نے شہادت کے طور پر اپنی وڈیو ریکارڈنگ بھی کروائی ہے جسے کسی اگلی قسط میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ رہی بات قانونی چارہ جوئی کی تو ایسا کرنے والے کو یہ بھی تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایسا سب کچھ میرے بارے میں لکھا گیا ہے، ہم نے تو کسی فرد کا نام نہیں لیا لیکن اگر ‘‘چور مچائے شور‘‘ کے مصداق صیاد خود اپنے دام میں آنا چاہے تو خوش آمدید۔
ہمارا نکتہ نظر یہ ہے کہ مسالک اور دین اسلام کے نام پر چلنے والے ان ٹی وی چینلوں کو منافرت پھیلانے کی بجائے اسلام میں اتحاد پیدا کرنا چاہیئے،عام معصوم مسلمانوں کو لوٹنے اور انہیں بے وقوف بنانے کی بجائے انکی ذہنی اور علمی تربیت کرنی چاہیئے اور مغربی ممالک میں اسلام کا حقیقی رخ پیش کرنا چاہیئے۔
اس تحقیقی رپورٹ کا ایک رخ برطانیہ بھر میں ان ٹریول ایجنٹوں کا بھی ہے جنہوں نے عمرے،حج اور زیارات کے نام پر لوگوں کو لوٹنے کا دھندا شروع کر رکھا ہے اور ایسے مسلکی چینلوں کے کئی مالکان ان ٹریول ایجنٹوں کے ساتھ مل کر یہ دھندا کر رہے ہیں جس میں عوام کو طرح طرح سے دھوکہ دیا جاتا ہے
اس سے قبل کہ برطانیہ خاص طور پر لندن اور برمنگھم کے علاوہ بریڈ فورڈ اور مانچسٹر کے ایسے ٹریول ایجنٹوں کے کارنامے لکھے جائیں آج کی قسط کو لندن کے ‘‘آج کل‘‘ نامی اخبار میں اسی سلسلے میں شائع ہونے والی ایک تفتیشی رپورٹ کے عکس تک محدود کرتے ہیں۔ چار مارچ سے دس مارچ تک شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کچھ لوگوں کی تصاویر بھی شائع ہوئی ہیں اور الفورڈ کے علاقے میں سینکڑوں لوگوں کے پاس یہ اخبار موجود ہے۔
اس رپورٹ کا عنوان ہے ‘‘ برطانیہ میں پر کشش اشتہارات کے ذریعے حاجیوں کو لوٹنے والے گروہ کا انکشاف‘‘۔ یہ اخبار مجھے اپنی تحقیق کے دوران ایک نیک دل مسلمان نے گواہی کے طور پر پیش کیا ہے جسکا عکس یہاں شائع کیا جا رہا ہےاس موضوع پر مزید انکشافات اگلی قسط میں پیش کریں گے
نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے