إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿١٥٩﴾
ترجمہ
سورہ انعام پارہ 6آیت نمبر 159 (جن لوگوں نے دیں میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکرے ٹکرے ہو گئے ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے کرو پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرئے گا۔ )
محترم قارئین سلسلہ کچھ دیر کے لئے منقطع ہوا اس کے لئے معزرت کیونکہ میں اپنی مصروفیات کے سلسلے اور اس ریسرچ کو آگے پڑھانے کے لئے نارتھ برطانیہ میں گیا ہوا تھا اور وہاں جا کر جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ اگلی کسی قسط میں پیش کروں گا
گزشتہ پانچویں قسط میں آپ کی خدمت میں ٹریول ایجنٹوں کے بارے میں کچھ جھلکیاں پیش کی تھیں آج میں چند پیغامات آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں جو مختلف ذرائع سے ملے ہیں

یہ وہ پیام ہے جو حسن شیخ صاحب نے برطانیہ کے شمالی علاقہ سے روانہ کیا اور وہ اپنے پیام میں کہنے چاہتے ہیں اور اس امر کی گواہی دے رہے لیں کہ جو رقم سیلاب ذدگاں کے لئے مسلماناں عالم سے جمع کی گئی مستحق افراد تک نہیں پہنچی۔
even acc to the info i have
a channel havnt
forwarded all the funds
collected for
flood victims of Pakistan.
ایک اور پیام میں کہا جاتا ہے کہ ،، بے عمل مولویوں کے اعمال قوم بھگت رہی ہے ،، یہ کہنا ہے سہیل صاحب کا جو ساوتھ لندن میں قیام پزیر ہیں۔
ایک اور خاتون سیدہ زہرا نے بھی اپنے پیام میں کہا ہے کہ
محترم آپ نے جو کام کیا ہے اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو ایک لحمہ فکریہ دیا ہے۔ان دھوکہ دینے والوں کے بارے میں لوگ جانتے تو ہیں لیکن بولتے بہت کم ہیں۔ اندر جا کر دیکھیں تو دین کے نام پر بنے ہوئے یہ ٹی وی چینل ایک مافیا ہیں
یہ خاتون بھی انہی ٹیلی ویژن کی ستائی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ اور اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ ادارے کیا اسلامی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
جیسا کہ میں نے گزشتہ قسط میں تحریر کیا تھا کہ یہ ملا اور ٹریول ایجنٹ کس طرح گٹھ جوڑ کر کے سادہ لوح مسلمانو ں کو لوٹ رہے ہیں
اور جس اندازہ میں دھکمیاں اور رابطے کرنے کی کوشیں جاری ہے وہ بھی نا قابل بیان ہیں
عورتوں کا سہارا لے کر فون کال کرواتے ہیں اور مختلف انداز سے دمھکیوں ب۔ھرے پیغامات بھی روانہ کر رہے ہیں ۔ اگر ہو سکا تو اس کو بھی کسی اگلی قسط میں پیش کروں گا اور ایک صاحب نے یہاں تک حد کر دی کہ فون کال کر کے اسے ریکارڈ کرنے کی ناکام کوشش کی اور اپنا سا منہ لے کر رہے گئے۔
اگر یہ باتیں حقیقت پر مبنی نہیں تو ان کو درگزر کیا جا سکتا ہے مگر چور کو اگر اس کے منہ پر چور کہا جائے تو وہ شور نہیں مچائے گا تو اور کیا کرے گا۔
میں نے گزشتہ کسی قسط میں تبرکات کی نیلامی کا تذکرہ کیا تھا کہ لوگوں سے رابطہ کر کے قیمتی اشیا حاصل کی جاتی ہیں اور وہ بھی ایسی قیمتی اشیا جو عام مسلمان کی نظر میں قابل رشک اور اس کی قدر منزلت جو اپنے ایمان کا حصہ جانتے ہوئے اپنے سے الگ کر کے ان ٹیلی ویژن کے اداروں کو بطور نذر پیش کرتے ہیں
ان کی نظر میں ان کی کیا وقعت جو اپنے شجرے کو بھی باقی نہیں رکھ سکتے ۔اور ان چینلز پر بیٹھ کر فروخت کرتے دیتے ہیں اور اس کام میں جو افراد ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ بھی کسی مجرم سے کم نہیں اور کسی نہ کسی ادارے کے اہم عہدے سے منسلک ہیں اور ان ملاؤں کا اپنا جنہم بھرتے میں خوب مدد کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے خاص رسول کو کب تک دھوکہ دیتے رہیں گے اور معصوم عوام اور مسلمان کو لوٹتے رہیں گے۔۔

گزشتہ دنوں رپورٹ کے چند مقاصد کو حآصل کرنے کےسلسلے میں شمالی برطانیہ کی طرف سفر کرنے کا موقع ملا ایک تقریب میں چند افراد سے جو پیشے کے اعتبار سے تو دو اور دو چار کے کام میں ماہر ہیں مگر جو انکشافات انہہوں نے کیئے کہ کس طرح سے اپنے کھاتے اُن صاحب سے رابطہ کر کے بنوائے جاتے ہیں اوروی اے ٹی جو لوگ ان کو اپنی محنت سے ادا کرنے کے بعد ان کو امداد کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ لوگ کس طرح سے ان کی ادا کی ہوئی رقم کے خلاف کلیم کرتے ہیں اور قانون کی خلاف ورزی میں ملوث ہوتے ہیں اور اپنے آپ میں پارسا بننے کا جو ڈھونگ ان افراد نے رچا رکھا ہے اس پر نہ تو ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کرسکتا ہے اور نہ ہی اس ملک کے کوئی ادارے ان پر نطر ثانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ان ٹی وی چینلوں کی ایک اور بدعت یہ بھی ہے کہ ان پر بے عمل ملاؤں کا قبضہ ہے جو اپنی ٹیلی ویژن کے باعث اسلام کو چودہ سو سال پہلے کے دین کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اب تو ایسے چینلوں کے کچھ مولویوں نے بھی اپنے ناموں کے ساتھ ‘‘ڈاکٹر‘‘ کا اضافہ کر لیا ہے اور کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں کہ انہوں نے کس موضوع پر اور کس جامعہ سے یہ ڈاکٹریٹ کی ہے۔
ابھی ابھی رپورٹ تحریر کرتے ہوئےمعلوم ہوا ہے کہ ان برطانوی مسلکی ٹی وی چینلوں میں ایک کے مالک کا ایک برخوردار پولیس کو درکار تھا جو ایک خاتون کے ساتھ ملوث تھا اب پولیس نے اس کو جمعہ کے روز گرفتار کیا اور اسی روز شام کو ضمانت پر رہا کردیا
یہ خبر اگر چہ کم از کم دس مختلف افراد اور ذرائع سے مجھ تک پہنچی ہے لیکن چونکہ بوقت تحریر تک متعلقہ تھانے سے اسکی تصدیق نہیں ہو سکی اس لیئے اسکی تفصیل نہیں لکھ رہا ہوں۔غیر مصدقہ طور پر معلوم ہوا ہے کہ گرفتار شدہ مبلغ پر جو چارجز لگائے گئے اس میں اسلام کے نام پر خرد برد، دھوکہ دہی، اور زیادتی جیسے الزامات تھے۔ اور یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ موصوف کی ضمانت تو ہوگئی ہے لیکن ابھی الزامات ختم نہیں ہوئےان حالات میں اب جو نتائج سامنے آئیں گے وہ بھی یہاں کے مسلمانوں کو بھگتھے ہونگے
یہ بات بھی بڑے اہم ذرایع سے معلوم ہوئی ہے کہ ان چینلز کے مالکان اپنے کاروباری شراکت دار کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے لاکھوں کا کھیل کھیلنے والے افراد پر کسی کا کوئی خوف نہیں اس طرح دنددناتے پھرتے ہیں کہ الامان
میڈیا کا استعمال اس حد تک ناجائز ہو چکا ہے کہ اسلام کے نام پر ان کے ٹیلی ویژن پر جو کچھ ہو رہا ہے خدا کی پناہ اور رہے اللہ کا نام
میں نے آپ سے کسی پچھلی قسط میں وعدہ کیا تھا کہ برطانیہ جیسے ملک میں جو حضرات ٹریول ایجنٹ ہیں وہ بھی ان ملاؤں کے ساتھ مل کر معصوم مسلمانوں کو کسی طرح لوٹ رہے ہیں۔
میں نے تو کبھی سعودی عرب اورشام کی جانب سفر نہیں کیا مگر جو خوش قسمت افراد لوگ عمرے یا زیارات جیسے نیک مقصد کے لئے ان ممالک کو سفر کرتے ہیں ان کی زبانی کچھ کہانیاں پیش کرتا ہوں

لندن کے ایک ٹریول ایجنٹ نے تقریبا ٣٠٠ افراد کا ایک قافلہ ایک مسلکی ٹی وی کے ذریعے اپنی مہم چلا کر اس کو کامیاب بنایا گیا اور ان کے جو معلم یا رہبر قافلہ تھے ان صاحب کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے تو اس سے پہلے حج کا فریضہ ادا ہی نہیں کیا تھامگر وہ بحیثت معلم ان قافلے کے ہمراہ تھے اور واپسی پر انہوں نے ایسے ایسے انکشافات کییئے کہ خدا کی پناہ۔
خواتین اور بیماروں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اور واپسی پر ٹریول ایجنٹ کے ساتھ قافلہ والوں نے جو سلوک کیا اس سے تو آپ پچھلی قسط میں خوب واقف ہو گئے ہونگے۔
حد تو یہ ہے اس سال حج سے واپس آنے کے بعد ان ٹریول ایجنٹوں میں سے کچھ ایجنٹوں اور کچھ دینی رہبر بے عمل مولویوں کے حوالے سے جو جو کہانیاں سامنے ائی ہیں اگر انہیں یہاں تحریر کر دیا جائے تو ایسا طوفان کھڑا ہو جائے کہ شاید ہی کوئی پھر بند باندھ سکے
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد
عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی
مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی
اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے