
امریکہ کا نام سنتے ہیں بیک وقت کئی سوالات اور کئی باتیں ذہن میں آتی ہیں ۔ یہ معاملہ صرف امریکہ کے ساتھ ہی ہے کیونکہ امریکہ آج کی دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے۔شاید اسی طاقت کے سبب کمزورممالک اس سے پریشان ہیں یا اگر پریشان نہیں ہیں تو اس سے خوفزدہ ضرور ہیں۔اسی سبب امریکہ آج کی دنیاکاواحد ایسا ملک ہے جس کے لیے سب سے زیادہ نفرت پائی جاتی ہے ۔ ایک نہیں کئی سروے سےیہ حقیقت سامنے آئی ہے ۔ دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا اخبار نہیں جس میں کسی نہ کسی طور پر امریکہ کے حوالے سے کوئی خبر نہ ۔یہ اور اس طرح کی کئی ایسی باتیں ہیں جس کی وجہ سےامریکہ ہمیشہ چرچے میں رہتا ہے ۔
موجودہ حالات کے پیش نظر اور مختلف رپورٹس کے حوالے سے بھی امریکہ اس لیے زیر بحث رہتا ہے کہ امریکہ کو ہی دہشت گردی سے آج سب سے زیادہ خطرہ ہے اسی لیے امریکہ اس کی مدافعت کے لیےایسی اور اتنی احتیاطی تدابیر کرتا ہے کہ لوگوں کواس سے اکثر پریشانی اور بدگمانی ہوتی ہے۔خاص طور پر امریکہ جانے والے شوق میں امریکہ کا سفر ضرور کرتے ہیں لیکن ہر سفر کرنے والے کے دل میں یہ خیال آتا ہےکہ نجانے وہاں پہنچنے پر کس طرح کی تلاشی لی جائے گی اور کیا سلوک کیا جائے گا؟کیونکہ اس طرح کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں کہ ہندستان کے کئی وزیروں کو بھی سخت تلاشی سے گزرنا پڑا ہے ۔امریکہ میں لی جانے والی تلاشی کے حوالے سے بھی طرح طرح کی خبریں دنیا میں سر گرم رہتی ہیں اور خاص طور پر مسلمانوں کےحوالے سے تو یہ خبر زیادہ ہی سرگرم رہتی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ کچھ زیادہ ہی سختی کی جاتی ہے ۔
انھیں تمام واہموں اور اندیشوں کے ساتھ ہم نے بھی امریکہ جانے کا ارداہ کیا ۔ 4 اپریل کی رات ہم ، ڈاکٹررضوان الرحمان اور ڈاکٹر اشتیاق جے این یو سے ڈیویس اینڈایلکنس کالج، ویسٹ ورجینیا کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سمینار میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے۔ دل میں طرح طرح کے خیالات تھے اور ایک طرح کا خوف بھی تھا کہ نجانے کیا ہو؟کئی احباب نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کا ویزا مل جانے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ امریکہ میں داخل بھی ہوجائیں گے ۔ اصل مرحلہ تواس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ ائیر پورٹ پر اترتے ہیں ۔خیر ہم اپنے طور پر مطمئن تھے ۔ڈاکٹر رضوان میرےاچھے دوست ہیں ہر طرح کی باتیں اُن سے شئیر کرتا ہوں لیکن میں نے اپنے دل کے اندیشے کو ان سے کبھی ظاہر نہیں کیا۔ لیکن امریکہ جانے کا میرا جو تجربہ ہے وہ ان اندیشوں سے بالکل الگ ہے ۔البتہ جس بات نےسب سے زیادہ بد حظ کیا وہ خود دہلی ائیر پورٹ پر ائیر انڈیا کے اسٹاف کا برتاؤ تھا۔

ہم تینوں احباب وقت سے تین گھنٹہ پہلے ہی ائیر پورٹ پہنچ گئے لیکن حیرت بھی ہوئی اورہمیں غصہ بھی آرہا تھا کہ چیک اِن کے لیے بیک وقت کئی کاؤنٹر کھلے ہوئے تھے لیکن وہاں جس طرح کے نا تجربہ کار اسٹاف موجود تھے وہ ائیر انڈیا کے لیے باعث شرم ہے ۔ بلا مبالغہ ہم لوگ صرف ایک فیملی کے بعد تھے لیکن ہمارے اور ان کے چیک اِن میں ڈھائی گھنٹہ لگ گیا۔ ہم نے بار بار ان کے سنئیر سے شکایتیں بھی کیں لیکن لا حاصل ۔ خیر یہ مرحلہ طے ہوا اس کے بعد امیگریشن کے لیے لائین میں لگے ۔ یہاں ہم سے اتنی تفتیش ہوئی کہ کہاں جا رہےہیں ؟ کیوں جارہے ہیں ؟ کہاں رُکیں گے ۔ کب واپس آئیں گے ؟ اس کے بعد ہمارا دعوت نامہ دیکھا گیا، یونیورسٹی کا آڈر دیکھا گیا اس کے بعد خاتون امیگریشن آفیسر نے با دل نخواستہ ہمارے پاسپورٹ پر مہر لگائی ۔
ان کاروائیوں میں اتنی دیر ہوئی کہ جہاز کی روانگی سے صرف پانچ منٹ پہلے ہم جہاز میں داخل ہوسکے ۔ لیکن ہماری طرح اور بھی کئی مسافر تھے، اس لیے پورے ایک گھنٹے تاخیر کے بعد تمام مسافر جہاز میں پہنچے تب جہاز روانہ ہوا۔دہلی میں ائیر انڈیا اور امیگریشن آفیسر کے اس سلوک اور برتاؤ سے ہم بہت بد حظ اور پریشان ہوئے ۔ اب رات کا ایک بج چکا تھا ۔