|
وہ کھلاڑی جو کچھ مختلف کر سکتے ھیں
14.10.2008, 11:36am , منگل (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
یکم جولائی دو ھزار سات میں شیعب اختر نے ایک انٹرویو میں یہ تاریخی جملہ “ میں کچھ چیزیں مختلف کرنا چاھتا ھوں “ کہہ کر کم ازکم اپنے حصے کی تو زمہ داری اُٹھا لی تھی ۔اور یقین جانیئے اب ھماری باری ھے کچھ ایسا کہنے کی کہ پاکستانی عوام اب کچھ مختلف کرنا چاھتی ھے ۔ ۔دنیا اُس وقت شائد یہ سمجھ رھی ھو گی کہ شعیب اختر نے یہ بیان مذاق میں دیا ھوگا یا کچھ لوگ یہ سوچ رھے ھونگے کہ شائد کسی نشے میں ایسا کہہ دیا ھو گا ۔ لیکن اُس کے بعد کے حالات نے یہ ثابت کر دیا ھے کہ شعیب اختر کی یہ بات اور کئی کہی ھوئی باتوں کی طرح “ اقوالٍ زریں “ ثابت ھوئی ھے ۔
اٍسی قول کو نباھنے کے لیئے حسبٍ توفیق سارے ھی کھلاڑیوں نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا ھے ۔اور فعل کی مد میں اتنے فعال ھو گئے کہ آئے دن کے اسکینڈلز سے بھی بے نیاز ھو گئے۔ کہتے ھیں کہ اسکینڈلز یا تو جیلسی کی بنا پر بنائے جاتے ھیں یا حادثاتی ھوتے ھیں ۔ اب جیلسی والی بات بھی تھوڑی سی دل کو لگتی ھے کہ لوگ ھمارے کرکٹرز کی پاکستانی آزادی سے جلتے ھیں ۔ وجہ یہ ھے کہ اول تو ھم اُن پر چارجز لگنے ھی نہیں دیتے ، اور اگر کبھی لگ بھی جائیں تو اتنی سفارشیں خُورد رُو جنگلی جھاڑیوں کی طرح پتہ نہیں کہاں سے اُگ آتی ھیں کہ کھلاڑیوں کے سارے کارناموں کو چھپا لیتی ھیں ۔ اور اُن پر مقدمہ ھوا نہ ھوا سب ایک ھی سا لگتا ھے ۔ ایسی جنگلی جھاڑیاں چونکہ اور دوسرے ممالک میں نایاب ھیں تو وہ ھماری دریا دل پاکستانی قوم سے بھی کرود رکھتے ھیں اور ھمیشہ ھی اٍس بات پر حیراں رھتے ھیں کہ عوام آخر سب کچھ بھول کیسے جاتی ھے ؟
اب رھی بات حادثاتی اسکینڈلز کی بات تو پاکستانی کھلاڑی وہ ھیں جن کا نام نہ صرف پاکستانی کرکٹ بلکہ دنیائے کرکٹ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا ۔ بہت پہلے ایک دفعہ غالباً انیسو تیرانوے میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ کھیلتے ھوئےوسیم اکرم ، مشتاق احمد اور عاکف جاوید کچھ مختلف کرتے پائےگئے تھے جس کی وجہ سے انہیں تھانے جانا پڑا تھا اور بعد میں جاوید میانداد نے سب کوضمانت پر چھڑوایا تھا ۔
ھم سب کو اٍس حادثاتی اسکینڈل کو بھولے ھوئے ابھی کچھ ھی عرصہ ھوا تھا کہ شعیب نے یکے بعد دیگرے اتنا کچھ مختلف کر دیا کہ پاکستان کی تاریخ ھی مختلف ھونے لگی ۔ جیسے محمد آصف کے ساتھ ڈوپ ٹیسٹ میں پکڑے جانا ، پھر محمد آصف ھی کو جوھانسبرگ میں اپنے بیٹ سے اتنی زور سے مار بیٹھنا کہ یہ بات حادثاتی ھوتے ھوتے ایکدم ھی اتنی سنجیدہ ھو گئی کہ شعیب اختر کو سارے میچوں پر پابندی کے ساتھ ایک لاکھ بھی حرجانے میں دینا پڑا ۔ افسوس یہ رھا کہ شعیب اختر پر بین اور جرمانہ شرما حضوری میں پاکستانی بورڈ کو لگانا پڑا ورنہ اگر گھر کی بات ھوتی تو گھر ھی میں رھ جاتی ۔ لیکن شعیب کی کچھ مختلف کرنے کی عادت اور خواہش نے انہیں ھمیشہ ھی خبروں میں رکھا ھے ۔ ویسے اُن کی صیحع قدرو قیمت انڈیا ھی جان پائی ھے، جہاں وہ نہ صرف بکے ھیں بلکہ بین ھٹوا کر کھیلے بھی ھیں اور دنیا کو اپنے مختلف ھونے کا ثبوت بھی دیاھے ۔
اب شعیب ملک بھلا کیسے پیچھے رھتے اُن کی شہرت کو عائشہ صدیقی نے شادی اور طلاق کی خبروں سے میڈیا میں “ اٍن “ رکھا ۔سنا ھے کہ یہ بھی صرف اسکینڈل ھی تھا پر فائدہ کس کو ھوا یہ ابھی تک راز میں ھے ۔ راز تو باب وولمر (کوچ) کی موت بھی تھی جو کچھ لوگوں کے لیئے ابھی بھی ھے ۔ بات کوچ کی ھو رھی ھے تو آج کل پاکستانی کرکٹ کے کوچ “جیف لاسن “ جو آسٹریلیا کے صرف ایک کھلاڑی رہ چکے ھیں جو مایہ ناز کھلاڑی کی فہرست میں کبھی نہیں رھے ۔ انُکو انکی مایہ ناز ھونے کی یہ خواہش کچھ عرصہ پہلے پاکستان لے آئی تھی ۔ سنا ھے آج کل دبئی میں اپنے مایہ ناز کھلاڑی محمد آصف کی کمی کو بہت محسوس کر رھے ھیں ۔
جیسا کہ آپ سب جانتے ھیں کہ محمد آصف ایک بار پھر حادثاتی اسکینڈل کا شکار ھو چکے ھیں ، جنہیں اُنکے چاھنے والے ٹورنامنٹ میں شامل دوسری ٹیموں کی جیلسی بتا رھے ھیں ۔ اور یہ بات قطعاً ماننے کو تیار نہیں کہ گیارہ ٹیسٹ اور اٹھایئس ون ڈے کھیلنے والا انٹرنیشنل لیول کا فاسٹ باؤلر اتنا بھولا اور نادان ھو سکتا ھے کہ اُنہیں اُن کے ھی دوست حکیمی نسخے میں افیون رکھ کر کھلا دیں اور انہیں پتہ بھی نہ چلے ۔ اور ستم یہ کہ محمد آصف یہ بھی چاھے کہ جب لوگ اور بورڈ والے ایئرپورٹ پر اُنہیں جھومتے جھامتے دیکھیں تو حیران بھی نہ ھوں اور نہ ھی کوئی تفصیل پوچھیں ۔ اور پوچھنے پر اُن کی خاموشی کو بے گناہی کے کھاتے میں ھی رکھا جائے ۔
یہ بھی حادثہ ھی تو تھا فیصل آباد کے ٹیسٹ میں شاھد آفریدی “ پچ “ ٹیمپر کرتے ھوئے پکڑے گئے ۔ لگتا ھے کے کہ بورڈ کے احکامات ، کوششیں اور منت سماجت تک اُن کے کام نہیں آ رھی اور پاکستان کا ھر کھلاڑی کچھ نہ کچھ ایسا مختلف کرنا چاھتا ھے جس سے زیادہ سے زیادہ بورڈ اور کوچ کو زیرٍ بار کیا جاسکے تا کہ وہ پاکستان کی بربادی میں سیاستدانوں کے شانہ بشانہ چلتے ھوئے اُن کا ھاتھ بٹا سکیں ۔
اٍسی بات کو جناب محمد ادریس صاحب جو ھمدرد دوا خانہ فیصل آباد کے ڈسٹری بیوٹر ھونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دنیائے اردو کمنٹری میں گزشتہ چار دہائیوں سی ایک منفرد اور اعلی مقام رکھتے ھیں ۔ اور پاکستان کے مختلف جریدوں میں اسپورٹس کالم بھی لکھتے ھے ۔ کل فون پر بات کرتے ھوئے بڑی افسردگی سے کہہ رھے تھے کہ “ یہ سب نیا نہیں ھوا کہ کوئی ڈوپ میں ملوث ھوا ھو، جیسا کہ پہلے آسٹریلیا کے شین وارن اور انڈیا کے مہندر ناتھ پکڑے گئے تھے ، لیکن شرم کی بات یہ ھے کہ اٍس ڈوپ میں بھی پاکستانی کھلاڑی ھی سب سے زیادہ ملوث رھے ھیں ۔ اور انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اُن کی سمجھ نہیں آتا کہ ورلڈ لیول کی کرکٹ کھیلتے ھوئے ھمارے رویئے ورلڈلیول کے کیوں نہیں ھوتے ۔ کسی بھی ملک اور قوم کے لیئے اٍس سے بڑا کیا حادثہ ھوسکتا ھے کہ اُن کے قومی ھیروز اپنے مطبوط کندھوں پر اپنے ملک کا معمولی سا بوجھ بھی نہ سہار سکیں۔
اُن سے بات کے بعد تو بس اب یہی جی چاھتا ھے کہ ھم سب یہ بھول ھی جایئں کہ ھماری بھی کوئی کرکٹ ٹیم تھی ۔ کوئی شعیب اختر تھا یا کوئی محمد آصف تھا ۔ جب بارہ کھلاڑی ھماری خواہشیں اور پاکستان کی عزت سرٍ بازار اچھال سکتے ھیں تو سولہ کڑوڑ پاکستانی بارہ کھلاڑیوں کو کیوں تاراج نہیں کر سکتی ۔ اب وقت آگیا ھے کہ ھم سب اپنے ٹی وی اور سٹیلائٹس بند کر کے صرف “ گلی کی کرکٹ “ کھیلتے ھوئے اُن بچوں کو دیکھیں جن کی شفاف آنکھیں پاکستانی ٹیم میں کھیلنے کی خواہش اور دل پاکستان کے پیار سے بھرے ھوئے ھیں اور میرا دل کہتا ھے یہی ھیں وہ کھلاڑی جو کچھ مختلف کر سکتے ھیں ۔
|