مشتری ہوشیار باش اے مسلمانوں اپنی آنکھیں کھولو اور اپنی آپ کو نام نہاد ملا سے بچاو
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿١٥٩﴾
ترجمہ
سورہ انعام پارہ 6آیت نمبر 159 (جن لوگوں نے دیں میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکرے ٹکرے ہو گئے ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے کرو پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرئے گا۔ )
اگر حسینّ نہ دین پر شہید ہوجاتے
بھولے بھالے مسلمان یزید ہو جاتے

سوچا تو یہ تھا کہ اس بار تفصیل سے ان ٹریول ایجنٹوں کے کارنامے لکھوں گا جو ان مسلکی ٹی وی چینلوں کے مالکان اور نام نہاد مولویوں کے ساتھ مل کر ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور کیسے یہ سب مل کر عمرے،حج اورزیارات کے نام پرمسلمانوں کو لوٹتے ہیں لیکن اسی ہفتے کچھ حالات بدلے ہیں اور کچھ تفرقہ باز اپنے انجام کو پہنچتے نظر آ رہے ہیں اس لیئے ٹریول ایجنٹوں کے موضوع کو موخر کرتا ہوں۔
مجھے ایک ای میل بھی ملی ہے جس میں ایک صاحب بے یہ الزام لگایا ہے کہ میں ایک دوسرے مسلکی ٹی وی چینل سے پیسے لیتا ہوں اور مخصوص مسلک کے ٹی وی چینلوں اور انکے مالکان اور میز بانوں کے خلاف لکھتا ہوں
دراصل حقیقت یہ ہے اور میں اس سے قبل بھی تحریر کر چکا ہوں کہ میری یہ تحقیق کسی ایک مسلک کے ٹی وی چینل کے لیئے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے اپم مسالک کے علاوہ عیسائیوں، سکھوں،ہندوؤں اور یہودیوں کے حوالے سے ہے۔لیکن یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ جتنا فساد اور تفرقہ مسلم مسالک کے ٹی وی چینلوں نے پھیلا رکھا ہے اور جتنا بے وقوف یہ عام مسلمانوں کو بنا کر خطیر رقم بٹور رہے ہیں ایسا دوسرے مزاہب کے ساتھ نہیں ہے۔

اس ہفتے جو ایک واقعہ رونما ہوا ہے اور جو برطانیہ کے لوگوں کے علم میں ہے وہ اس طرح ہے کہ دوسروں کو استخاروں سے اور قرآنی فالوں سے مسائل کا حل بتانے والا خود اپنے مسلے میں گرفتار ہوا اور پولیس حراست میں عرصہ 6گھنٹے رہنے کے بعد 26 ستمبر تک ضمانت پر رہائی ہوئی ۔ضمانت کے لیئے پھاری رقم اور معروف شخصی ضمانت دینی پڑی تب کہیں ویمبلے کے پولیس اسٹیشن سے وقتی رہائی ملی
ان مبلغ نما تفرقہ باز نے کچھ عرصہ پہلے اپنے موبائل کے پیام میں جن خاتون کو ماں کا درجہ دیا تھا اب پولیس کے سامنے تحریری بیان میں تسلیم کیا ہے کہ ان سے اس کے تعلقات اس خاتون کی مرضی سے تھے اور 4ماہ عرصے کا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ بھی کروایا گیا۔
ضمانت کے بعد شام میں ٹی وی شو میں دنیا کی سب سے عظیم خاتون کے نام پر شو کر کے ناظرین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے کبھ بھی نہیں ہوا ۔
اب تو پوپیس والے نے بھی اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔
سونے پہ سہاگہ کہ اُسی شب کو پروگرام کو بند کر کے اسٹوڈیو سے بھاگنا بھی پڑا کیونکہ جیسا کہ گزشتہ قسط میں تحریر کیا گیا تھا کہ اپنے شراکت دار کی بھی پرواہ کئے بنا ہر کام کرنے کے عادی مجرموں کو ایک شراکت دار نے آ لیا اور ان کو ہر قسم کے اختیارات سے برطرف کرتے ہوئے تین یوم کا نوٹس دیا ہے کہ اگر ان نام نہاد قائدین نے چینلز کا حساب کتاب نہ پیش کیا تو ان کو ایک اور مقدمے کا سامنہ کرنا پڑے گا۔
باوثوق ذرائع سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ اب ان کے مزید کوئی پروگرام نہ تو کسی چینل سے نشر ہو سکیں گے اور علما کی فہرست سے بھی ان کا نام خارج کیا جائے گا۔
کیا علمائے حق کا یہ کام ہے کہ وہ پاک ہستیوں کا لبادہ ناپاک اجسام پر چڑھا کر مسلمانان عالم کو دھوکہ دے رہے ہیں اور اب بھی اس عمل کو تسلم نہیں کرتے کہ وہ کسی کے مجرم ہیں خدا غارت کرئے ایسے نام نہاد ملاؤں کو جو اسلام کو بدنام کر رہے ہیں اور بے گناہ افراد کو گنہگار ثابت کرنے میں اداروں کے عیاش اور بدنام سربراہاں کا ساتھ دیتے ہیں۔ اور جو کہ نہ تو کسی شرح سے واقیفت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کو یہ معلوم ہے کہ فطرہ اور صدقہ کی رقم کا کون مستحق ہے ۔
ان عادی مجرموں کو اب توضیع وسائل تحریر کرنی چاہیئے تاکہ ایک عام مسلمان بھی ان کے ہدف سے واقف ہو جائے کہ ان کے وسائل میں آمدن کیسے بڑھتی ہے۔

میں گزشتہ عشرہ سے زیادہ کا عرصہ ہو اکہ کسی مذہبی عبادت گاہ میں داخل نہیں ہوا اور اس کی وجہ صرف اور صرف یورپ اور برطانیہ کے نام نہادعلما کا کردار ہے جو صرف اور صرف ان ممالک میں اپنی معاشی حالت کو دور کرنے آتے ہیں اور میں بذات خود ایسے کئی افراد کو جانتا ہوں جو اس ملک میں سائیکل خریدنے کے قابل نہ تھے اور آج نئے ماڈل کی مہنگی گاڑیوں میں گھومتے پھرتےہیں، اپنے عزیر اقرابا کو ایشائی ممالک سے بلاتے ہیں اور یہاں پر ان کے پروگرام رکھواتے ہیں اور اداروں کے سربراہان سے بھاری رقم ادا کرواتے ہیں اس طرح ان کے ان عزیز اقرابا کی مدد بھی ہو جاتی ہے اور ان کا کمیشن بھی بن جاتا ہے۔ اسی قسم کی بات ان افراد کے ساتھ بھی دیکھنے میں آئی جو رہبر حج بن کر حجاج کے ہمراہ جاتے ہیں۔ اور اپنا کمیشن وصول کرتے ہیں اور اعمال حج بھی پوری نہیں کرواتے ۔
لیجئے اس بارایک اور شیشہ دکھاتا چلوں ۔یورپ کے ایک ملک سے ایک صاحب نے فون کر کے بتایا ہے کہ وہاں ابھی حال ہی میں ایک مسلکی ایسوی ایشن کے انتخاب ہوئے جو کہ ایک بند کمرے میں ہوئے اور چند افراد نے آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کر لیا کہ فلاں نام نہاد عالم اورانکے پٹھو جو کہ مولویوں کی.. دلالی.. کا کام بھی کرتے ہیں وہ اس ایسوی ایشن کے صدر بن گیا اور معتمد ایک ایسے فرد کو بنایا گیا جو کہ نہ تو دین سے کوئی تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی مولوی ہے
اب اس عمل سے اندازہ کر لیجئے کہ اگر یورپ میں ایسے افراد مسلمانوں کی رہبری کریں گےجو کسی طرح بھی ان عہدوں کے حق دار نہیں ہیں اور ان معتمد صاحب کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ بھی کسی نہ کسی غیر منکوحہ کو ہمشیہ ساتھ رکھتے ہیں جب کہ ایک بار وہ اپنی گھر اسی سبب سے اجاڑ چکے ہیں۔
اگر عام اور معصوم مسلمانوں کوایسے مبلغ اور دینی رہبر ملتے رہے اور ہم اللہ اور اسے کے بہتریں رہبر اعظم حضرت محمد صلی علیہ و آلہ وسلم اور ان کی آل پر امداد یا چندہ اور مذہبی اداروں کی تنظمیوں کی مدد کرتے رہے تو نہ جانے ہم کہاں جا کر ٹھہریں گے اور یہ افراد ہمارے جیب اسی طرح خالی کرتے رہیں گے۔ ہمیں اپنی آنکھیں کھولنی چاہییں
اگلی کسی قسط میں ایسے ہی ایک مسلکی ٹی وی چینل کی بکرا عید کی کارگزاری کا ذکر کریں گے کہ کیسے درجنوں افراد سے قربانی کے نام پر ہزاروں پاونڈ،ڈالر اور یورو اکٹھے کیئے اور کیسے ایک بکرے کی قربانی کر کے سینکڑوں لوگوں کے نام صرف ایک بکرے پر پڑھ دیئے گئے
کسی شاعر نے کیا خوب کیا ہے
وہاں کیا ذکر کے قابل ہے دل اپنا دماغ اپنا
جہاں جام سفالی سے بھی بدتر ہوا ایاغ اپنا
یہاں اپنی بھری محفل بھی ہے مرہون تاریکی
کچھ اہل دل خلا میں بھی جلا آئے چراغ اپنا
~تیرا مقام فقر ہے اجلال حیدری
تیرا متاع ناز حسینی غنضفری
آئین ساز سروری دو جہاں ہے تو
واللہ تیرے دل میں ہے آحساس کمتری
مزید معلومات کے لئے انتظا ر کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے
نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد
عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی
مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی
اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے