17.10.2026, 03:02am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 43ویں قسط
31.05.2011, 03:41pm , منگل (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد
گاڑی سڑک پر دوڑتی رہی اور میرا طائر تخیل ایثری کائنات کی وسعتوں اور بلندیوں میں محو ِ پرواز رہا اور میں بھی تاریخ کے انہی ادوار میں کہیں کھو کر رہ گیا۔ میں نے سوچ کی نگاہ سے دیکھا کہ چار معصوم اماموں کا شاگرد اور خونی رشتہ دار اپنے آئمہءھدٰی کی خدمت میں پیش ہے اور انکے سامنے اپنے عقائد کی تکرار کرکے اپنی تصحیح چاہ رہا ہے۔ کیا مظاہرہ ہے حفظ ِمراتب اور اپنی کم علمی کے اعتراف کا۔ اور ایک ہم ہیں۔ چودہ صدیاں بعد چار کتابیں پڑھ کر یا اسکی بھی زحمت کیئے بغیر اپنے آپ کو نہ صرف عالم ِکامل سمجھتے ہیں بلکہ باقی ماندہ جہان کو جاہل ِمطلق گردانتے ہیں۔ معصومین (ع) کی ہزار ہا احادیث اور سیرت کے بیشمار نمونوں کو ہم تک پہنچانے والے شاہ عبدالعظیم جیسے شاگرد کی پیروی میں کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم بھی اپنے دور کے علمائے باعمل کے سامنے زانوئے ادب طے کریں اور ان کے علم اور تجربے کی روشنی میں اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح چاہیں، جبکہ ہمارے چہار اطراف ملبوس ِحق میں چھپے دینی قزاق ہمارے عقائد پر ڈاکے ڈالنے میں مصروف ہیں۔ آج کا دور قطعا” وہی دور ہے جسکی نشاندہی صادق ِآل محمد (ع) نے اس انداز میں فرمائی تھی کہ آخری دور ایسا ہوگا کہ جب ایمان ناپید ہو جائیگا اور ایمان کے نام پر خرافات و لغویات کو دین سمجھا جائیگا۔ اس دور میں جب کوئی مؤمن رحلت فرمائے گا تو فرشتے حیران ہوا کریں گے کہ کیونکر ممکن ہوا کہ یہ بندہءخدا حالت ِایمان میں دنیا سے رخصت ہوا۔ اصحاب و شاگردان نے امام سے اس عالم میں دین کی حفاظت کا نسخہ دریافت فرمایا تو مولا نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو چاہیئے کہ زیادہ سے زیادہ دعائے غریق، یعنی " یا اللہ یا رحمٰن یا رحیم۔ یا مقلب القلوب ثبت قلبی علٰی دینک " کی تلاوت کیا کریں۔  خدا ہمیں صراط ِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے اور ہمارا خاتمہ بالایمان کرے۔ آمین۔

تاریخ کے ان پیچ و خم سے گزرتا ہوا میرا تخیل اور تہران کی سڑکوں کے پیچ و خم کو عبور کرتی ہوئی ہماری گاڑی کچھ ہی دیر میں واپس اپنی منزل تک پہنچ گئے۔ ہم اپنی قیام گاہ سے تھوڑا پہلے ہی اتر گئے کہ موسم خاصا خوشگوار تھا جو طبیعت کو ٹہلنے پر مائل کررہا تھا۔ دوسرے، عباسزادہ صاحب کے گھر کو جانیوالا موڑ بھی یہیں تھا۔ سو ہم عباسزادہ صاحب سے رخصت ہو کر سبک رفتاری سے خیابان ِعدالتخواہ پر ٹہلتے ہوئے اپنے شبستان کی جانب بڑھنے لگے۔ اس وقت میرا دل دو عنوانات سے زیادہ جذباتی انبساط کا شکار تھا۔ ایک تو یہ کہ آجکی شب ِ جمعہ کی ابتدائی ساعات کیا خوب گزری تھیں اور دوسرے یہ کہ کل کا جمعہ میں نے تہران یونیورسٹی میں ادا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اپنا یہ منصوبہ میں نے گاڑی سے اترتے ساتھ ہی اصغر بھائی کے گوش گزار کیا، کیونکہ پچھلا جمعہ حرم ِ امام (ع) میں ادا نہ کرنے کا قلق ہنوز من کو ملول کئے ہوئے تھا۔ اپنی اس محرومی کا مداوا کرنے کا یہ ایک بہترین موقع تھا کہ دنیا کے چند عظیم الشان اجتماعات ِ جمعہ میں سے ایک اجتماع سے استفادہ حاصل کیا جائے۔ یوں بھی عرصہءدراز سے اس روح پرور اجتماع کے چرچے سنے اور انٹرنیٹ پر دیکھے تھے کہ پورا تہران امڈ آتا ہے جب اس قوم کا رہبر یونیورسٹی کی مسجد کے منبر پر آتا ہے، تعلیمات ِ محمد و آل محمد (ع) سے اس قوم کا سینہ گرماتا ہے اور دور ِ حاضر کے سیاسی اور سماجی منظر نامے سے سبکو آشنا کرتا ہے۔ کمال ِ اطمنان سے عوام کا جذبہ آسمان تک پہنچا دیتا ہے۔ پورا تہران لبیک یا حسین کی صداؤں سے گونج اٹھتا ہے اور اس قوم کا بچہ بچہ سپاہ ِ امام کے سپاہی کے طور پر اپنے امام کو دعوت ِ ظہور دیتا ہے۔ نتیجتا” شیطان ِ بزرگ کے سینے پر سانپ لوٹ جاتے ہیں۔ اس منظر کی روح پروری کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کردیتا ہے، چہ جائیکہ بذات ِ خود اس منظر کا حصہ بن جایا جائے۔ اصغر بھائی نے مجھے جمعے میں لیجانے کی حامی تو بھری مگر ساتھ ہی ایک مسئلہ بھی سامنے رکھ دیا کہ کل چھٹی ہونے کے باوجود انہیں ایک ضروری کام کے سلسلے میں دفتر جانا ہے۔ وہاں سے فارغ ہو کر ہی جمعے میں جا پائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ تہران یونیورسٹی کے امام ِ جمعہ متعین ہیں۔ رہبر ِ معظم صرف خاص مواقع پر ہی منبر پر آتے ہیں۔ انکی دینی، سماجی، سیاسی اور بین الاقوامی مصروفیات اسقدر زیادہ ہیں کہ وہ ہر جمعہ پڑھانے کا وقت نہیں نکال سکتے۔ اصغر بھائی کی یہ باتیں سن کر مجھے قدرے مایوسی تو ہوئی مگر دل کو یہ اطمنان رہا کہ رہبر ِ معظم نہ سہی، یقینا” کسی اور بزرگ عالم کا خطبہ سننے اور انکی اقتداء میں نماز ادا کرنے کا موقع تو میسر آہی جائیگا۔ اسی اثناء میں ہماری منزل آگئی اور ہم کل گیارہ بجے ایک دوسرے سے ملنے کا پیمان کئے رخصت ہوگئے۔

وہ رات میں نے دانشگاہ ِ تہران میں تصوراتی نماز جمعہ ادا کرتے ہوئے گزاری۔ ایک اور عظیم اعزاز حاصل کرنے کے ولولے نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ میں بھی دنیا کے ان چند غیر ایرانی خوش قسمت حضرات کی صف میں کھڑا ہونے جا رہا تھا جنہیں تہران یونیورسٹی کے جمعہ میں شرکت کا موقع نصیب ہوا تھا۔ رات آنکھوں میں کٹی اور جب صبح ہوئی تو میں جمعے کی سنتیں ادا کرتا ہوا آجکی نماز کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔ جمعے کا وقت تیزی سے نزدیک آتا جارہا تھا کیونکہ تہران میں بھی زوال کا وقت گیارہ بجے کے گھنٹے میں ہی تھا اور ایران بھر میں جمعہ ایک لمحہ ضائع کیئے بغیر اپنے صحیح ترین وقت پر ادا کیا جاتا ہے۔ میں تیار ہو کر اپنی قیام گاہ کے برآمدے میں اپنے ساتھی کے انتظار میں ٹہلنے لگا۔ وہ انتظار کی گھڑیاں گزارنا دوبھر ہوئی جارہی تھیں۔ گیارہ بج چکے تھے اور وقت تیزی سے گزرتا جارہا تھا۔ مگر اصغر بھائی کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ میں مسلسل انہیں فون کرتا رہا مگر جواب ندارد۔ ظہر کی اذانوں سے تہران کی فضائیں گونجنا شروع ہوگئیں جن کے ہر کلمے کے اختتام پر میرا دل ڈوبتا جارہا تھا۔ شدید مایوسی کے عالم میں میں اپنے کمرے میں لوٹ آیا اور بجھے ہوئے دل کے ساتھ ظہرین ادا کی۔ دل کے ملال کا وہ عالم تھا جو بیان کی قید میں سمانے سے معذور ہے۔ میں چپ چاپ بستر پر دراز ہو گیا اور پنکھے کو تکتا اور سوچتا رہا کہ کیا کیا نہ سوچا تھا ان گھڑیوں کے بارے میں، جنہیں اس وقت میں بستر پر پڑا گزار رہا تھا۔ یہ کیا ہو گیا میرے ساتھ کہ تمام منصوبہ ہی چوپٹ ہو گیا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے بہ دل ِ نا خواستہ اٹھایا تو دوسری جانب سے اصغر بھائی نے مّعذرت کے ڈھیر لگادیئے کہ کس طرح دفتر میں اچانک کام بڑھ گیا اور اسی ہلچل میں نہ وہ دفتر سے بروقت نکل پائے اور نہ ہی مجھ سے بات کرسکے۔ خیر اب کچھ ہو تو سکتا نہیں تھا۔ اس وقت مولا علی (ع) کا وہ معرکۃ الآرا فرمان سمجھ میں گونجنے لگا کہ مجھے اپنے پروردگار کی پہچان اپنے منصوبوں کی ناکامی نے کرروائی ہے۔ میں نے بھی اپنے منصوبے کا پایہءتکمیل تک نہ پہنچنا اس انداز میں قبول کیا کہ یقینا” اس میں کوئی مصلحت پوشیدہ ہے۔ اور اس مصلحت کا کھوج لگاتے ہوئے میں متبسم ہوگیا کہ انشاءاللہ خداوند ِ قدوس کی جانب سے آئیندہ بھی اس دیار کا سفر مقدر ہوگا جب نہ صرف تہران، بلکہ مشہد ِ مقدس اور قم میں بھی نماز ِ جمعہ کی ادائیگی کا موقع ضرور میسر آئیگا۔ اس سوچ نے میری پژمردگی کو آنا” فانا” فنا کردیا اور میں خوشی سے جھومنے لگا۔ ساتھ ہی اصغر بھائی نے آجکی شام کو چند مزید خوبصورت مقامات پر گزارنے کا عندیہ دے کر میرے انبساط کو دوچند کردیا۔

دوپہر اور سہپہر تو جیسے تیسے گزریں اور شام ہوتے ہی اصغر بھائی مع عباسزادہ صاحب ہماری چوکھٹ پر آن کھڑے ہوئے۔ ہم دونوں تو پہلے سے ہی تیار بیٹھے تھے، سو چل پڑے جمعے کی اس حسین شام میں حضرت بی بی شہر بانو (ع) کی زیارت کو۔ آپ کے بارے میں تاریخ میں کئی روایات ملتی ہیں، جن میں سے معتبر ترین روایت آپکا بادشاہ ِ ایران یزدگرد بن شہریار بن ہرفرین بن نوشیروان عادل کسرٰی کی دختر، امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کی بہو، سید الشہداء امام حسین (ع) کی زوجہ اور سید الساجدین امام علی بن حسین (ع) کی والدہء ماجدہ ہونا ہے۔ مؤرخین نے آپ کے شجرے، حیات ِ مبارکہ اور وصال کے بارے میں مزید روایات کی ہیں، جن سے آپکی ذات کے مذکورہ بالا حوالہ جات اور آپکا کاروان ِ کربلا میں شامل ہونا شک کی نذر ہوتے ہیں۔ مثلا” کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ آپکا وصال امام سجاد (ع) کی ولادت کے بعد ہی ہوگیا تھا۔ مگر آپکی حیات ِ طیبہ کے متعلق امام عابد (ع) کا وہ بیان بہت مشہور ہے، جس میں کسی نے آپ سے عرض کی کہ آپ تو حقوق والدین میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ پھر بھی اپنی والدہ کے ساتھ ایک دسترخوان پر کھانا کیوں نہیں نوش فرماتے۔  آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس طعام پر ماں کی نظر ہو اور میرا ہاتھ اسکی جانب بڑھ کر ماں پر سبقت لے جائے تو میں گستاخی کا مرتکب ہو کر نافرمانوں میں شامل ہونے سے ڈرتا ہوں۔ (اللہ اکبر۔ انداز ِ تربیت ِ امت پر میں قربان جاؤں)

بہر حال ان علمی، تاریخی اور تحقیقی مسائل کا شکار ہونا اس وقت ہمارا مطمع نظر نہیں۔ بی بی شہر بانو (ع) کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ واقعہء کربلا کے بعد آپ حکم ِ خدا سے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئیں۔ اس دور کے لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ تہران کے نزدیک ایک پہاڑی پر جاکر ٹھہریں اور اپنی بقیہ زندگی اسی پہاڑی کے ایک غار میں محو ِ عبادت گزار دی، جہاں کچھ عرصہ بعد اپکا وصال ہو گیا۔ دوسری روایت کے تحت آپ نے اس پہاڑی پر پہنچ کر خدا سے دعا کی کہ زمین شق ہو جائے اور وہ اس میں سما جائیں۔ خدا نے آپکی دعا کو قبول فرمایا اور ایسا ہی ہوا۔ آپکی چادر کا پلو زمین کے دونوں حصوں کے دوبارہ ملنے پر اوپر ہی رہ گیا، جو بعد ازاں اپکی شناخت کا زریعہ بنا۔ اسی مقام پر مقامی لوگوں کے ہاتھوں ایک چھوٹا سا قبہ تعمیر کیا گیا جو بعد میں ایک مزار کی صورت اختیار کرگیا۔ طویل عرصے تک اس پہاڑی پر پہنچنا ایک ناممکن حد تک مشکل کام رہا مگر سڑک کی تعمیر سے اب یہاں پہنچنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ اب یہ بات بعید از قیاس ہے کہ کوئی زائر تہران جائے اور مزار ِ بی بی شہر بانو پر نہ جائے۔ اس بی بی کے باعث ایرانی قوم بہت فخر محسوس کرتی ہے کہ انکی قوم کی ایک خاتون نہ صرف خاندان  ِ اہلبیت میں شامل ہوئی، بلکہ کربلا جیسے عظیم معرکے میں بھی پیش پیش رہی۔
   
راستے میں ہی مغرب کا وقت ہو گیا تھا اور رات آہستہ آہستہ چھاتی جارہی تھی۔ جب ہماری گاڑی اس پہاڑی کے دامن تک پہنچی اور اس پر چڑھنا شروع ہوئی تو مصائب ِ بی بی کا تصور کرکے میری آنکھیں بھر آئیں۔ سانحہءکربلا کا ازخود نظارہ، پردیس کی جانب طویل اور صبر آزما سفر، تنہائی، خوف، بھوک، پیاس، موسم کی شدت اور یہ سنگلاخ پہاڑی کہ جس پر کوئی ماہر کوہ پیما بھی چرھنے سے پہلے سوچے ۔۔۔ کس طرح اس مظلومہ بی بی نے مصائب کے یہ پہاڑ سر کیئے ہوں گے۔ گاڑی پوری قوت سے پہاڑی کے پیچ و خم عبور کرتی جارہی تھی اور ہر ہر موڑ پر میرے دل سے بی بی کے مصائب پر ہوکیں اٹھ رہی تھیں۔ چھاتی ہوئی رات کے اندھیرے نے منظر کو اور بھی خوفناک بنا دیا تھا۔ یہ سوال ذہن کی دیواروں پر ہتھوڑوں کی مانند ضربیں لگا رہا تھا کہ تنہا اس بی بی نے کیونکر یہ مصائب کے پہاڑ سر کئے ہوں گے۔ اسی ذہنی کشمکش کے دوران ہماری منزل آگئی اور میں گاڑی سے اترتے ساتھ ہی دور پہاڑی کے روشن گوشے کی جانب ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے لگا۔ ہماری طرح اور بھی کئی زائرین وہاں اپنے مقدر سنوارنے میں مصروف تھے۔ ہم سب ایک قافلے کی صورت میں پارکنگ سے مزار تک کا سفر طے کرنے لگے۔ سیڑھیاں چڑھ کر جب مرکزی داخلی دروازے تک آئے اور اس کی چوکھٹ پر لگے اذن ِ دخول کی عبارت کی جانب نظر کی تو پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی۔ آنکھ اور عبارت کے درمیان بہنے والے دریائے اشک نے منظر کو دھندلا دیا اور میں شکستہ زبان سے اپنے آقا کی والدہ سے اجازت طلب کر کے ان کے حرم میں داخل ہوا۔ دیگر زیارات سے یہ مقام یوں مختلف ہے کہ یہاں ملول دل کے ساتھ ساتھ قدم بھی لڑکھڑا جاتے ہیں۔ انہی بھاری قدموں سے چلتا ہوا میں اندر پہنچا اور سیدھا جا کر ضریح سے لپٹ گیا۔ جی بھر کے گریہ کیا اور بی بی کے حضور اپنا پرسہ پیش کیا۔ زیارات کے مناسک ادا کیئے اور وہیں مغربین بھی ادا کی۔ ان تمام مقامات ِ مقدسہ کا یہ ایک عجیب کرشمہ ہے کہ وقت ِ آمد دل گھبراہٹ اور بھاری پن کا شکار ہوتا ہے اور جیسے ہی آپ چار آنسو بہاتے ہیں، یہ یوں ہلکا ہو جاتا ہے گویا ابھی وجود میں آیا ہو۔ حسب ِ معمول میں نمازوں اور زیارات سے فارغ ہو کر ایک کونے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور ماحول کی جاذبیت مین اپنا وجود جذب ہوتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ ایک مؤمن محراب میں بیٹھا دعائے توسل کی تلاوت میں مشغول تھا، جس سے دیگر حضرات بھی محظوظ و فیضیاب ہو رہے تھے۔ دعا کے اختتام پر تبرک کی چائے بھی آگئی اور ہم نے اسی لطف اندوزی سے چائے نوش کی جو کہ اسکا حق تھا۔

باہر نکلے تو تہران کی مخصوص ہوا اندھیری رات میں اس کوہ ِ رے کے رخساروں سے ٹکرا کر عجیب قسم کی آوازیں پیدا کررہی تھی۔ میں بی بی کی چوکھٹ پر کھڑا تھا، جبکہ میرے سامنے روشنیوں سے جگمگاتا ہوا تہران تھا۔ جس سڑک کے زریعے ہم یہاں تک پہنچے تھے، وہ اپنے اطراف میں کھڑے بجلی کے کھمبوں کی بدولت مکمل روشن تھی۔ چودہ سو سال قبل اس اندھیرے کا کیا عالم ہوگا جب پہاڑی پر چڑھنے کا کوئی راستہ بھی نہ ہو۔ بس اسی سوچ نے بار بار جسم پر کپکپی طاری کی۔ ہم زائرین کے دو تجربہ کار راہنما اب ہمیں لیکر اس غار کی جانب چلے، جو بی بی کا معبد و مصلٰی تھا۔ آپکے مدفن کے سامنے ہی چند گز کے فاصلے پر یہ غار آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے ۔ غار کی چوکھٹ پر پہنچ کر ہم نے اسکو بوسہ دیا اور پا برہنہ ہو کر اس میں داخل ہوئے۔  غار کے نوکدار اور پتھریلے فرش، دیواروں اور چھت کو مس کرکے اپنے چہرے اور سینے پر تبرکا” مل لیا۔ عباسزادہ صاحب نے اصغر بھائی کے توسط سے اس غار کے متعلق ایک افسانہ ہمارے گوش گزار کیا کہ اگر پتھر کو اسکی دیوار سے رگڑتے ہوئے کوئی دعا مانگی جائے اور وہ پتھر دیوار سے چپک جائے تو یہ  اس بات کی دلیل ہے کہ دعا ضرور قبول ہوگی۔ چنانچہ میں نے بھی زمین سے ایک پتھر اٹھایا، اسے دیوار سے رگڑتے ہوئے دعا مانگنا شروع کی اور اسکی چپک کا امتحان لیئے بغیر اسے اس عظیم عبادتگاہ کی نشانی کے طور پر اپنی جیب میں رکھ لیا، اس سوچ کے ساتھ کہ جس عظیم بی بی کے دربار میں ہم حاضر ہیں، اسکے ہوتے ہوئے بیجان پتھروں کا وسیلہ کسی گناہ سے کم نہیں۔ یا ام الامام ! آپ سے التجا ہے کہ جس طرح آپ نے اپنے دربار میں حاضر ہونے کا موقع فراہم کیا،
اسی طرح ہم پر اپنی نظر التفات قائم رکھیئے گا اور اپنے والی اور عظیم فرزند کے واسطے ہم گناہگاروں پر اپنی چارد کا پاک سایہ رکھئے گا۔ وگرنہ ہم گناہگاروں کے پلے تو کچھ بھی نہیں۔

چند لمحے اس خوفناک اور اندھیرے غار میں گزار کر ہم باہر برآمد ہوئے تو تازہ سانسیں میسر ہوئیں۔ اب وقت تھا یہاں سے کوچ کرنے کا۔ چنانچہ ہم چلے اور گاڑی میں بیٹھ کر ایک اور عظیم یادگار کی یادیں لیئے روانہ ہو گئے۔ پہاڑی کی ڈھلان سے گاڑی یوں اترنا شروع ہوئی گویا کسی پہاڑی کے دامن سے کوئی جھرنا بہہ رہا ہو۔ ابھی گاڑی نے پہلا ہی موڑ مڑا تھا کہ سڑک کی ایک جانب لگے ہوئے ایک بورڈ نے دل کو خوشی کے مارے بلیوں اچھال دیا۔ بورڈ پر لکھا تھا "زیارت قبول"۔ ویسے تو یہ عبارت زائرین کے لئے ایک نیک تمنا  کا اظہار تھا، مگر اسے پڑھ کر ایسے محسوس ہوا کہ جیسے سچ مچ یہاں آنا اس بارگاہ میں شرف قبولیت پا گیا ہو۔ ویسے بھی مجھے یقین ہے کہ خانوادہءرسول وہ کشادہ در ہے، جو ہر مخلص کے لئے ہمہ وقت کھلا ہوا ہے۔

یہ لمحات میری زندگی کے قیمتی ترین لمحات میں سے چند تھے، جب میں سعادتوں پر سعادتیں سمیٹتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ یہ سفر بلاشبہ میری زندگی کا اہم ترین سفر تھا، جہاں نہ صرف زیارات کا اعزاز نصیب ہورہا تھا بلکہ قدم قدم پر علم میں اتنا اضافہ ہو رہا تھا، جو آج سے پہلے تصور میں بھی نہ آیا تھا۔ اسی سفر کی اگلی کڑی اسی تہران کے ایک اور گوشے سے جڑی ہوئی تھی، جب مجھے معلوم ہوا کہ آجکی ہماری اگلی منزل پچھلی صدی کی سب سے حیران کن شخصیت جناب سید روح اللہ خمینی الموسوی کا مزار مبارک ہے۔ یہ سن کر ہی میرے رونگٹے کھڑے ہونا شروع ہوگئے۔........جاری ہے

:دیگر مضامین
(29.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ چھٹی قسط
(28.05.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ پہلی قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(21.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔5ویں قسط
(21.05.2011) بزم اردو لندن کی شام فیض کے نام....ایک یادگار شام
(17.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 41ویں قسط
(14.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔چوتھی قسط
(13.05.2011) ٹورنٹو میں اشفاق حسین کی تین نئی کتابوں کی تقریب رونمائی
(10.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 40ویں قسط
(08.05.2011) سسکیوں بھرا آنگن ۔۔۔۔از؛ سید مصباح حسین جیلانی ۔سڈنی
(05.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔تیسری قسط
(02.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 39ویں قسط
(27.04.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔دوسری قسط
(24.04.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 38ویں قسط
(18.04.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔پہلی قسط
(14.04.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 37ویں قسط
(12.04.2011) قومی ہیروز کی خدمات کا اعتراف ایک نئی روایت کا آغاز۔از؛ محمد احمد ترازی
(11.04.2011) کیا ہم امریکہ کے غلام ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔زرقا مفتی
(29.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 36ویں قسط
(28.03.2011) سٹاک ہولم میں مسٹر اینڈ مسز اعجاز چو ہدری کی بیٹی ھُما کی شادی
(22.03.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 35ویں قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں