اردو کے ممتاز صحافی، کالم نویس اور افسانہ نگار ڈاکٹر رضوان احمد کاپٹنہ میں انتقال ہوگیا۔موصوف کی عمر لگ بھگ 65سال تھی۔ پسماندگان میں ایک بیٹی کی علاوہ اہلیہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر رضوان احمد کاشمار زود نویس قلمکاروں میں ہوتا تھا۔موصوف وائس آف امریکہ کی اردو سروس کیلئے پٹنہ سی نامہ نگار کی طور پر فرائض انجام دیتے رہے تھے۔ ان کی مضامین’مجھی بولنے دو‘ کی مستقل کالم کی تحت ملک کی مقتدر اردوروزناموں میں شائع ہوتے تھے۔ ڈاکٹر رضوان احمد نے بحیثیت صحافی جوخدمات انجام دیں وہ اپنی جگہ، انہوں نے ایک افسانہ نگار کی حیثیت سی بھی ادب نوازوں کی درمیان قدرومنزلت حاصل کی۔
ان کی رحلت کی اطلاع دیتے ہوئے راجیہ سبھا کی رکن اور ممتاز صاحب قلم پروفیسر جابر حسین نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان احمد کی انتقال سے اردو صحافت اور ادب کو جو نقصان پہنچا ہی وہ ناقابل تلافی ہے۔ انہوں نی بتایاکہ ابھی 29 مئی کو میری ان سی پٹنہ میں ملاقات بھی ہوئی تھی۔ اگرچہ وہ صاحب فراش تھے لیکن لمبی گفتگو کی درمیان کہیں سی بھی یہ محسوس نہیں ہوا تھا کہ قلم کایہ سپاہی چند دنوں بعدہی داعی اجل کو لبیک کہے گا۔
پروفیسر حسین نی کہاکہ ڈاکٹر رضوان احمد نہ صرف ایک معتبر صحافی تھے، مستند افسانہ نگار تھے بلکہ اردو کے ایک سچے خدمت گذار بھی تھے۔
ڈاکٹر رضوان احمد کا اصل نام رضوان احمد خاں تھا اور ان کی پیدائش 9 ستمبر 1947 کو ہوئی تھی۔ وہ مشہور شاعر غبار بھٹی کے بیٹے تھے اور ان کا آبائی وطن اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی کا قصبہ موئی تھا۔ڈاکٹر رضوان احمد نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز پٹنہ میں روزنامہ ’عظیم آباد ایکسپریس‘ سے کیا تھا اور ’مجھی بولنے دو‘ کی عنوان سی ان کا مقبول عام کالم ملک کی کئی موقر روزناموں میں شائع ہوتا تھا۔
’آزادی کی بعد اردو صحافت‘ کی موضوع پر نہایت بسیط مقالہ لکھنے پرپٹنہ یونیورسٹی نی انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی تھی۔ڈاکٹر رضوان احمد کو علاوہ علمی، ادبی اور سماجی موضوعات پر لکھنے کا ملکہ حاصل تھا۔
ان کی اہم تصنیفات میں یونان کی شہزادی، مسدود راہوں کی مسافر، بادل چھٹ گئے، فصیل شہر، خاص طور پر قابل ذکرہیں۔
ڈاکٹر رضوان احمد ’آل انڈیا اردو ایڈیٹرز کانفرنس‘ کی بانیوںمیں سئ تھےاور انہیں1976میں اس کا تنظیمی سکریٹری بنایاگیا تھا۔ انہوں نے دنیا کی متعدد یونیورسٹیوں میں صحافت کی موضوع پر لیکچرر دیئے۔ یوپی، بنگال اور بہار کی اردو اکیڈمیوں نے انہیں ایوارڈوں سی نوازا تھا۔
ان کی نماز جنازہ بعد نماز عشا دریا پور مسجد میں ادا کی گئی اور شاہ گنج قبرستان میں تدفین عمل میں آئی جس میں اہل خاندان کی علاوہ ہر شعبہ حیات سی تعلق رکھنے والے سینکڑوں سوگواروں نے شرکت کی۔
ان کے ایصال ثواب کےلئی جمعرات 02 جون کی صبح بعد نماز فجر فقیر باڑہ مسجد میں قل اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا ہے۔
حال ہی میں انہیں سفر حج سی واپسی پر گہری صدمےسے اس وقت دوچار ہوجانا پڑا تھا، جب ان کاجواں سال بیٹا مختصر علالت کی بعد چل بسا تھا۔ اس صدمے سے ڈاکٹر رضوان احمد ایسئ ٹوٹے کہ پھروہ جانبرنہ ہوسکے۔ان کے انتقال کی خبر عام ہوتی ہی صحافتی، سیاسی اور ادبی حلقوںمیں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور مدیران قومی تنظیم ایس ایم اشرف فرید، ایس ایم اجمل فرید، ایس ایم طارق فرید سمیت ممتاز سیاستدانوں ، صحافیوں اور ادیبوں نے گہری رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
اپنی تعزیتی پیغامات میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار ، بہار قانون ساز کونسل کی سابق چیئر مین اور رکن پارلیمنٹ پروفیسر جابر حسین، ممتاز ادیب و ناقد پروفیسر وہاب اشرفی، شفیع جاوید، پروفیسر ممتاز احمد، آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس کی صدر اور سابق ایم پی م افضل، اور خازن مودود صدیقی، پروفیسر محبوب عالم، ڈاکٹر ہمایوں اشرف، پروفیسر مسعود الرحمان، سید قمر اسماعیل اورسرکردہ صحافی سید عبد الرافع نے بھی موصوف کی رحلت پر گہری صدمے کااظہار کیاہے