میں تخت سلیمان کہاں مانگ رہا ہوں
جس قوم سے احساس زیاں مانگ رہا ہوں
اس شب کے اندھیرے میں ابھی روشنی پھؤٹے
میں وقت سحر حکم ازاں مانگ رہا ہوں
مشتری ہوشیار باش اے مسلمانوں اپنی آنکھیں کھولو اور اپنی آپ کو نام نہاد ملا سے بچاو
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ﴿١٥٩﴾
ترجمہ
سورہ انعام پارہ 6آیت نمبر 159 (جن لوگوں نے دیں میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکرے ٹکرے ہو گئے ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے کرو پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرئے گا۔ )
اندازِ بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات
گزشتہ قسط میں آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ایسے ہی ایک مسلکی ٹی وی چینل کی بکرا عید کی کارگزاری کا ذکر کریں گے کہ کیسے درجنوں افراد سے قربانی کے نام پر ہزاروں پاونڈ،ڈالر اور یورو اکٹھے کیئے اور کیسے ایک بکرے کی قربانی کر کے سینکڑوں لوگوں کے نام صرف ایک بکرے پر پڑھ دیئے گئے
مگر معزز قارئین اس بار بھی اس تحریر کو آپ کے حوالے نہ کر سکوں گا کیونکہ گزشتہ قسط میں جس گرفتاری کا تذکرہ کیا گیا تھا اور بر طرفی کا واقعہ زیر قلم کیا آپ حضرات نے جس انداز اور دل چسپی سے اس کو پڑھ کر میل ایم ایس ایم کے ذریعے اپنے پیامات دئے اور ایک عام مسلمان کی معلومات میں جس انداز سے اضافہ ہوا اس پر آپ سب کا شکر گزار ہوں اور اس بات کو لے کر چلتے ہوئے لکھنا چاہتا ہوں کہ ان دو دنوں میں جو کاروائی ہوئی آپ سب کی زیب نظر کرتا ہوں
شراکت کی ہانڈی جوراہا میں آگئی ہے اور بندر بانٹ کے لئے رسہ کشی جاری ہے۔

ایک مسلکی چینل کے دو مالکان آپس میں رسہ کشی کرتے ہوئے مد مقابل ہو گئے اور ایک دوسرے پر قانونی چارجوئی کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی آپس میں صلح کروانے کی ناکام کوشش میں بھی ناکام ہو گئے اور کچھ ابھی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔
مجھے ایک ای میل بھی ملی ہے جس میں ایک صاحب بے یہ الزام لگایا ہے کہ میں ایک دوسرے مسلکی ٹی وی چینل سے پیسے لیتا ہوں اور مخصوص مسلک کے ٹی وی چینلوں اور انکے مالکان اور میز بانوں کے خلاف لکھتا ہوں یہ بات میں نے گزشتہ قسط میں تحریر کی تھی
لندن کے ایک اخبار میں گرفتار شدہ تفرقہ باز زنانی نام نہاد مُلا کے گھر سے طلائی زیورات اور بھاری رقم کی برآمدگی اس بات کی ثبوت ہے کہ کون دوسرے مسلکی ٹی وی چینل سے رقم وصول کر کے ان کے خلاف لکھتا ہے۔ اور اگر میں یہ بات تحریر کروں کہ لندن کے ایک اخبار کے ایڈٹیر سے رابطہ کیا گیا اور اس کو رقم کی آفر بھی کی گئی اور کہا گیا کہ اس خبر کو روک دو تو اخبار کے ایڈٹیر صاحب نے تمام چٹہ بٹہ کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا
اس میں انہوں نے اپنے بھائی کے ذریعے اپنے ہی نام نہاد دفتر کے ایک اہکار کو استمعال کیا تو اہل کار اپنا سا منہ لے کر واپس آگیا۔
صحافت ابھی اتنی بھی بدنام نہیں ہوئی جس طرح نام نہاد ملا
اس وقت میں اگر 1989 میں ماضی کے دریچے میں چھانکوں تو مجھے ایک سیشن جج کی تصویر نظر آئی ہے جو کہ کسی اسلامی ملک کی اعلی عدالت میں اس منصب پر فائز تھا اور جب وہاں پر کچھ امریکی پٹھوں نے نہیتے اور بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا تو اس غیر عادل سیشن نے ان امریکی پٹھوں کو پھاری رشوت لے کر اس اسلامی ملک سے فرار کروایا اور خود راتوں رات وہاں سے فرار ہو کر پاکستاں اور اس کے بعد اس ملک میں آ دھمکا
مجھے ایک ضرب مثل یاد آ رہی لے کہ کٹورا پہ کٹورا بیٹا باپ سے بھی گورا ۔

ان جج صاحب نے بھی اس ملک میں آتے ہی ایک خاتون سے وقتی طور پر نکاح کر کے اس ملک کے یہاں کے کاغزات بنوائے اور 1992 میں ان کی آل اولاد جو کہ اس ملک میں ان کے نام کو روشن کر رہی ہے وارد ہوئی ۔ جو جو حضرت جج صاحب کی رگوں خون کی کی رگوں میں جوش مارتا ہے وہ ان کی اولاد کی بھی رگوں میں جب چوش مارتا ہے تو وہ بھی اسی قسم کی حرکت پر اتر آتے ہیں۔
خبر گرم ہے کہ گرفتار شدہ مولوی کی شادی عنقریب لاہور میں ہونے والی ہے مگر اب تو ضمانت پر ہیں تو ملک سے کسی طرح باہر سفر کریں گے۔ اور اب تو وہ تمام طلائی زیورات جو مسلمانوں نے محمد و آل محمد کے نام پر قربان کئے تھے پولیس کے قبضہ میں ہیں۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ٹی وی عدم ادائیگی کی بنا فضا میں پرواز نہیں کر رہا تھا اور یہ ملا اپنے گھر میں رقم اور طلائی زیور دبا کر پیٹھے ہوئے تھے ۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ جس دن ٹی وی دوبارہ شروع ہوا ان چینلز والوں کو ہاتھ دراز کرتے ہوئے پایا گیا اور وہ رقم بھی نہ جانے کہاں گئی ہو گی جو انہوں نے گزشتہ ہفتے اپنی گرہ میں ڈالی ہے۔
گزشتہ اقساط میں آپ کو یہ بات بھی مل جائے گی کہ سٹاف اجرت کے بارےمیں ایک بار پھر پریشان ہے کہ ان کو عرصہ دوماہ کی اجرت بھی ابھی تک ادا نہیں کی گئی۔ یہ بات ابھی ابھی ایک حضرت نے فون کر کے بتائی ہے۔
قارئین میرا یہ تو موضوع نہیں ہے اپنے اصل مقصد کی طرف آتا ہوں
جو کہ مسلہ آج کل چل رہا ہے وہ یہ کہ میں نے اپنی گزشتہ کسی قسط میں تحریر کیا تھا کہ ان مسلکی چینلز کے مالکان جو ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں کی پرواہ نہیں کرتے اور ایسا ہی کچھ آج کل چل رہا ہے ایک مالک دوسرے سے حساب کا طالب ہے اور مولوی کا حساب کتاب سے کیا تعلق اس کو تو صرف مسلمان کی جیب پر نظر رکھنا ہے۔ اسے تو فکر ہے کہ صدقہ اور زکواتہ کیسے وصول کرنی ہے۔
حرام کھانے پر تلے ہوئے ان نام نہاد دینی رہنماؤں سےکوئی پوچھنے کی جرات نہیں کرتا حتیٰ کہ مساجد کے سربراہاں بھی اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ یہ ملا ہیں یا فساد کی جڑ، مگر ان کو تو اپنی صدارت کی فکر ہے وہ اپنے کام میں مست اور مولوی اپنے کام میں مست۔
بہر حال یہ تو ثابت ہو چکا کہ تمام مسلمان جو اپنی رقم بطور امداد ان غلط ہاتھوں میں دیتے ہیں وہ کہاں جاتی ہے اور کس طرح خرچ کی جاتی ہے اور کیسی بے دردی سےاس کا استمعا ل ہو رہا ہے
اے مسلمانان عالم اب تو اپنی شعور کو بلند کرو اور ان نام نہاد مولویوں سے بچو نام اسلام پر یہ تم کو لوٹ رہے ہیں اور بے وقوف بنا رہے ہیں۔
کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں
ایک بھی صاحب شعور نہیں۔
اگر یوں کہوں تو غلط نہ ہو گا
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام وائے تمنائے خام!

اگلی کسی قسط میں ایسے ہی ایک مسلکی ٹی وی چینل کی بکرا عید کی کارگزاری کا ذکر کریں گے کہ کیسے درجنوں افراد سے قربانی کے نام پر ہزاروں پاونڈ،ڈالر اور یورو اکٹھے کیئے اور کیسے ایک بکرے کی قربانی کر کے سینکڑوں لوگوں کے نام صرف ایک بکرے پر پڑھ دیئے گئے امید کرتا ہوں کہ میں آئندہ قسط میں اپنی بات کو مکمل کر کے آپ تک پہنچا دوں گا۔
نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد
عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی
مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی
اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے