ان کاروائیوں میں اتنی دیر ہوئی کہ جہاز کی روانگی سے صرف پانچ منٹ پہلے ہم جہاز میں داخل ہوسکے ۔ لیکن ہماری طرح اور بھی کئی مسافر تھے، اس لیے پورے ایک گھنٹے تاخیر کے بعد تمام مسافر جہاز میں پہنچے تب جہاز روانہ ہوا۔دہلی میں ائیر انڈیا اور امیگریشن آفیسر کے اس سلوک اور برتاؤ سے ہم بہت بد حظ اور پریشان ہوئے ۔ اب رات کا ایک بج چکا تھا ۔

بھلا ہو ڈاکٹر اشتیاق کا کہ انھوں نے کئی رو ز پہلے ہی ہم تینوں کے لیے فرنٹ رَو کی سیٹیں ریزرو کر ا لی تھیں اس لیے ہم لوگ بہت آرام سے بیٹھ گئے اور اب ذہن پہ یہ بار تھا کہ پندرہ گھنٹے کا سفر کیسے کٹے گا۔لیکن ہم تین احباب تھے اس لیے باتوں باتوں میں سفر خوشگوار ہوتا جارہاتھا۔ ڈاکٹر اشیتاق سے اکثر خوش گپی بھی ہوتی رہی ۔یہ ہماری زندگی میں پہلی ایسی رات تھی جو بیس گھنٹے کی تھی۔تقریبا ً بارہ ہزار کیلو میٹر کی دوری اور پانچ ٹائم زون سے گزرنا تھا ۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہم لوگوں کو اس کا احسا س بھی نہیں ہوا۔ہندستان میں اس وقت شام کے پانچ بج رہے ہوں گے اور امریکہ میں اس وقت صبح کے ساڑھے سات بجے تھے ۔ پرواز میں یہ اعلان ہواکہ ہم اب جلد ہی نیو یارک کے جان کنیڈی ائیر پورٹ پرلینڈ کرنے والے ہیں ۔ ہمارا اشتیاق بڑھا سوچا نیو یارک کاطائرانہ منظر دیکھ لیں لیکن اس قدر بادل اور کہرا تھا کہ اوپر سے کچھ نظر نہیں آیا، کچھ ہی لمحوں کے بعد ہمارا جہازکینڈی ائیر پورٹ پر لینڈ کر گیا۔
کچھ ہی دیر میں ہم امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑے تھے ۔ یہاں پہنچ کر دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں کہ اب نجانے یہاں کیا سلوک ہو؟ دل ہی دل میں ڈھیر ساری دعائیں پڑھیں ۔ لیکن جو ہم نے سُنا تھا سب غلط ثابت ہوا ۔امیگریشن کاؤنٹر پر کوئی سوال نہیں پوچھا گیااور نہ تلاشی کے لیے کسی مشین سے گزرنا پڑا۔ اس طرح ہم جلد ہی وہاں سے باہر نکلے چونکہ دو گھنٹے کے بعد واشنگٹن کے لیے فلائٹ لینا تھا اس لیے باہر نکلتے ہی خود کار( بغیر ڈرائیور) میٹرو پر سوار ہوئے اور ٹرمینل سیون پر پہنچے۔ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد یونائٹید کی فلائٹ پر سوار ہوئے ۔ جہاز دیکھ کر حیرت ہوئی کیونکہ یہ چھوٹا جہاز تھا جس میں صرف34 سیٹیں تھیں وہ بھی آدھی سے زیادہ خالی ۔ خراب موسم کے سبب ہچکولے کھاتےتقریباً ایک گھنٹے میں ہم لوگ واشنگٹن ڈیلس ائیر پورٹ پہنچ گئے ۔ یہاں ڈاکٹر لکھن گوسائیں کی اہلیہ ہمارے استقبال کے لیے موجود تھیں ۔ ڈاکٹر لکھن گوسائیں جو جان ہاپکینس یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین لینگویج پروگرام میں ہندی اردو کے استاذ اور اور اس شعبے کے کارڈینٹر بھی ہیں ۔ انتہائی مخلص دوست ، جے این یو میں طالب علمی کے زمانے میں ہم ساتھ ساتھ تھے ۔بہت دنوں کے بعد ان سے ملنے کا اتفاق ہو رہا تھا۔
ہم بہت خوش تھے لیکن ہم سے زیادہ وہ لوگ خوش تھے ۔ دہلی سے روانگی سے قبل ہی ان کے کئی فون آچکے تھے ، انھوں نے بار بار ہمیں امریکہ کے سفر کے حوالے سے اہم ہدایتیں دیں ۔ ان کی اہلیہ شیلی نے بھی کئی بار فون پر بات کی اور ہمارے منع کرنے کے بعد بھی وہ ائیر پورٹ آئیں ۔ان کے اس اخلاص کو دیکھ کر ہمیں بے حد خوشی ہوئی کیونکہ امریکہ میں کہاں کسی کے پاس اتنا وقت ہوتا اور اگر کسی کے پاس وقت بھی ہوتا ہے تو وہ امریکی مزاج میں ڈھل جاتا ہے ۔ لیکن ڈاکٹر لکھن اور ان کی اہلیہ تو بالکل نہیں بدلے تھے ، وہی مشرقی مزاج اور انداز، مہمانوں کے استقبال کا وہی والہانہ انداز۔یہ سب دیکھ کر ہمیں مشرقی تہذیب کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔دہلی سے نکلے ہوئے اب تک تیس گھنٹے سے بھی زائد ہوچکے تھے ۔ شیلی نے جلدی سے ہمارے لیے کھانا تیار کیا اتنے میں ڈاکٹر لکھن یونیورسٹی سے گھر آگئے ۔ ہم کچھ زیادہ ہی بھوکے تھے اس لیے کھانے پر ٹوٹ پڑے ۔کھانے سے فارغ ہوکر ہم گیسٹ روم میں آگئے ۔ ہم تھکے ہوئے تھے اس لیے سوچا جلد ہی سو جائیں گے مگر ڈاکٹر لکھن سنگھ نے جو دلچسپ گفتگو شروع کی تو محفل زعفران زار ہوگئی ۔
یونہی خوش گپیوں میں دوپہر سے شام ہوگئی ۔واشنگٹن میں یہ ہماری پہلی رات تھی سوچا کچھ چہل قدمی ہوجائے ۔ یہ طے کیاگیا کہ ہم رات میں وائٹ ہاؤس دیکھیں گے کیونکہ ہم لوگوں کا قیام اسی 16 اسٹریٹ پر تھا جس پر وائٹ ہاؤس واقع ہےاور قیام گاہ سے محض ایک دو کیلو میٹر کی دوری پر تھا ۔ لہذا ہم باہر آئے لیکن اس قدر سرد ہوائیں چل رہی تھیں کہ ہمت نہیں ہوئی اورواپس گیسٹ ہاؤس آگئے ۔ ہمیں بالکل بھوک نہیں لگی تھی لیکن شیلی اور ڈاکٹرلکھن کے اصرار نے مجبور کردیا ۔ڈاکٹر رضوان اور اور ڈاکٹر اشتیاق تو نیند کے غلبے میں تھے لیکن میں ڈاکٹر لکھن کی دلچسپ گفتگو میں محو تھا ۔ ان کی گفتگو سے امریکہ کے حالات ،امریکہ میں اردو ہندی تعلیم کے اداروں اور اساتذہ کے حوالے سے گفتگوہوتی رہی ۔

تقریبا دس سال سے لکھن امریکہ میں ہیں اس لیے امریکی تہذیب و تمدن پر ان کی گہری نظر ہے ساتھ ہی ساؤتھ ایشیا ئی ممالک کے احوال پر بھی بڑی گہری نظر رکھتے ہیں ۔ان سے گفتگو کے بعد میری کئی غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں تقریبا ً تمام ممالک کی زبانیں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں خاص طور پر ان ممالک کی زبان و تہذیب پر گہری نظر ہے جو ممالک آج سیاسی اوراقتصادی اعتبار سے اہم ہیں ۔میں نے ائیر پورٹ پر ہونے والے سلوک اور تلاشی کے حوالے سے جاننا چاہا تو انھوں نے یہ بتایا کہ یہاں کی ایجنسیاں بہت باخبر ہوتی ہیں اس لیے ہر آنے والے کی انھیں پوری خبر رہتی ہے ، با وجود اس کے جن پر ذرا بھی شبہ ہوتا ہے انھیں مزید تفتیش کے لیے روک لیتے ہیں ۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی یہ پالیسی ہوتی ہے کہ ہر دو تین آدمیوں کے بعد کسی ایک کو وہ ضرور روک لیتے ہیں ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہاں آنے والے نفسیاتی دباؤ میں رہیں۔
ان کی یہ بات ہمیں اس لیے بھی درست لگی کہ ہم لوگوں نے خود دیکھا کہ ہم سے آگے لائن میں کھڑے دو تین لوگوں کو کسی الگ روم میں لے جایا گیا اور تفتیش کی گئی ۔اس کے علاوہ جن پر انھیں کوئی شک ہوتا ہے یا کسی کے حوالے سے کوئی خبر رہتی ہے تو ملتے جلتے نام والے لوگ بھی تفتیش کے عتاب کا شکار ہوتے ہیں۔امریکہ سے واپسی پر نیو یارک ائیر پورٹ پر تلاشی کا ایک عبرتناک منظر دیکھنے کو ملا ، ایک نوجوان کی سر عام جس طرح تلاشی لی جارہی تھی وہ بے عزتی سے کم نہیں تھی۔بار بار طرح طرح سے تلاشی لی گئی ۔حالانکہ اس کے پاس سے کچھ بر آمد نہیں ہوا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کسی اطلاع کی بنیاد پر اس کی یہ درگت ہوئی ۔حالانکہ ویزا دیتے وقت بھی امریکی ایمبیسیاں ہر طرح کا احتیاط برتتی ہیں اکثر لوگوں کو مہینوں کے بعد ویز ملتا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے میرے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوا۔ مجھے دوسرے دن ہی دس سال کا ویزا مل گیا ۔
میری اور ڈاکٹرلکھن کی گفتگو طویل ہوتی جارہی تھی ، میرے دوست ڈاکٹر رضوان اور ڈاکٹر اشتیاق صوفے پر ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے ۔ ہمیں اس کا خیال بھی نہیں رہا اور ہم محو گفگتو تھے بات یہ تھی کہ ہند وپاک اور کئی اہم ممالک کے سفید پوشوں کی بات ہورہی تھی ۔یہ مذہبی اور سیاسی سفید پوشوں کی کہانی تھی کہ کس طرح وہ اپنے اپنے ملکوں کا سودا یہاں آکر کرتے ہیں اور اپنے ملک میں واپس جاکر سب سے بڑے محب وطن کہلاتے ہیں ۔ یہ میری حیرت ہی تھی کہ میری آنکھوں سے نیند غائب ہوگئی کیونکہ وہ بڑے صحافی اور سیاسی لیڈران جو اپنے اصولوں کے لیے مشہور ہیں وہ کس طرح چند ڈالر کے عوض سب کچھ بیچ ڈالتے ہیں ۔اس گفتگو سے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ واقعی زمانہ بدل گیا ہے ، معیار اور اصول اور ملک و قوم کے تئیں وفادار ی اب دیکھاوا ہے کیونکہ یہ وفادرای کا ٹھیکہ چلانے والے یہاں آکر اسی کا سوادا کرتے ہیں ۔ہماری باتیں ختم نہ ہوتیں اگر ہم اپنے احباب کی جانب نہ دیکھتے ، وہ تکلف میں کبھی آنکھ کھولتے اور بند کرلیتے ۔لہٰذا ہم نے آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔