غلطیاں بھلا کس سے نہیں ھوتی ، لیکن اپنی غلطیوں کو ماننے کی غلطی کو ئی نہیں کرتا اور یہی بات ھم سب کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ھے ۔ مجھے اٍس بات کا احساس کبھی نہیں ھوتا جو آج ڈونا سے نہیں ملتی ۔ وہ مجھ سے ملنے کے لیئے میری کلینک پر آئی تھی ۔ ڈپریشن بھی ایک عجب ذہنی بیماری ھے جو نہ عمر دیکھتی ھے اور نہ مرتبے کا لحاظ کرتی ھے ۔ سو اُسی سلسلے میں اُس نے آج مجھ سے ملنا تھا ۔ میری ٹیبل پر اُس کی ابتدائی کنسلٹیشن رپورٹ پڑی ھوئی تھی ۔ جیس سے مجھے پتہ چلا کہ ڈونا اکیاون سال کی ھے ۔ دو بیٹے شادی شدہ ھیں اور اٍس وقت وہ اپنی سولہ سال کی بیٹی کے ساتھ حکومت کے دیئے ھوئے گھر میں رھتی ھے اور گزر بسر بھی حکومتی اداروں سے ملنے والی پینشن سے ھوتی ھے ۔
ڈپریشن ویسے بھی عورتوں میں زیادہ ھوتا ھے اور انگریزوں کا نمبر یہاں بھی اول تھا ۔ جس کی کوئی بھی خاص وجہ نہیں لگتی تھی کیونکہ ھمارے کلچر اور ھماری تہذیب بھی اب کم و بیش انہی کی طرح متاثر ھو رھی تھی ۔ تنہا رھنا اور صرف اپنی “ میں “ کی خودغرضی کو ھی پالنا اہم رہ گیا تھا ۔ کئی دوسری اور وجوھات میں زیادہ تر لوگوں کا ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا اور درگزر اور قربانی نہ دینے کو ھی ھمیشہ کوسا جاتا تھا ۔اور بقول انہی لوگوں کے بعد میں یہی احساسٍ جرم ڈپریشن بھی کہلاتا تھا ۔ لیکن وہی پر ھم سب یہ بھول جاتے ہیں کہ جو لوگ ھر طرح سے یعنی معاشی ، سماجی اور جذباتی اور اخلاقی طور پر محفوظ اور مضبوط ھوتے ھیں ، انہیں بھی ڈپریشن ھوتا ھے اور وہ بہت شدید متاثر بھی ھوتے ھیں ۔
سوچ یہ رھی تھی کہ مجھے اب ڈونا سے کیا کیا پوچھنا پڑے گا ؟
جب میں اُسے ویٹنگ روم سے لے کر اپنے کمرے کی طرف آ رھی تھی تو اُس نے راستے ھی میں مجھ سے میرا حال بھی پوچھ لیا اور تھوڑا سا موسم کا حال بھی بتا دیا تھا ، شاید یہ جان کر کہ مجھے اپنی کلینک پر بیٹھے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے اور باھر موسم کئی کروٹیں بدل چکا تھا ۔ اُسی نے مجھے اطلاع دی کہ اب درجہ حرارت گیارہ سے بھی نیچے گرنے والا ھے ، ھوایئں بھی تیز ھو چکی ھیں اور بارش کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ۔ اور میں کوریڈور سے لے کمرے تک کے تین منٹ کے سفر میں ایک مسکراہٹ کے ساتھ صرف ھوں ھاں ھی کرتی رھی ۔
ڈونا مجھے بتا رھی تھی کہ اُس کی شادی سولہ برس میں ھو چکی تھی اور سترہ برس کی عمر میں اُس کا بیٹا ھوا اور اُسے اپنے انتہائی ظالم شوہر کے ساتھ رہنا پڑا اور پورے بیس برس تک اُسی کے ساتھ رھتی رھی اور اُسی دوران اُس کا دوسرا بیٹا بھی ھو گیا اور پھر آخر میں جب اُس کے ھاں بیٹی ھوئی تو اُس کے شوھر نے اپنی اُسی چھ ماہ کی بیٹی کو دودھ نہ پینے پر غصے میں بری طرح سے پیٹ ڈالا اور اتنا مارا کہ اُسے ھوسپٹل داخل کرانا پڑا ۔ ڈونا نے بتایا کہ وہ یہ سب نہیں سہہ سکی اور سب کچھ ھوسپٹل سٹاف کو بتا دیا اور پھر اینٹی ڈومسٹک والینس ٹیم نے اسے بچوں سمیت آیئندہ ٹوٹنے والی کئی اذیتوں سے بچا لیا ۔
میرے اٍس سوال پر کہ وہ یہ سب کیوں سہتی رھی ۔ تو ڈونا نے بتا یا کہ اُسے پتہ ھی نہیں تھا کہ نارمل ریلیشن شپ کیسی ھوتی ھے ۔ اُس کے نزدیک جو کچھ بھی ھوتا تھا وہ سب صحیع ھو رھا تھا کیونکہ اُس نے اپنے ماں باپ کو بھی ایسے ھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے ھی دیکھا تھا ۔ جیسے اُس کی ماں نے اپنے بچوں کی خاطر دکھ تکلیفیں اُٹھائی تھیں بلکل اُسی طرح سے وہ بھی سوچتی تھی کہ اُس کو بھی اپنے بچوں کی خاطر برداشت کرتے رھنا چاھیئے ۔ اُس نے جب مجھے زیادہ تر خاموشی سے صرف سنتے ھی پایا تو بڑی محبت سے پوچھتی ھے “ کیا میں نے کچھ غلط کہا ھے “ ؟ ۔ تو میں نے نفی میں سر ھلا دیا ۔ بھلا کیا کہتی ، گزری تو اُس پر تھی ، سہا تو اُس نے تھا ، وہ بھی ایک نہ دو ، پورے بیس برس ایک ایسی زندگی گزاری تھی جس میں صرف ذلت اور نفرت تھی ۔ اُسے اُس کی برداشت کی سزا یہ ملی تھی کہ وہ باقی ساری عمر کے لیئے خوش ھونا اور اعتبار کرنا بھول گئی تھی ۔
جب میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا واقعی اب تم باقی عمر اکیلی ھی رہو گی تو ڈونا کی آنکھوں میں اداسی آنسوؤں کی صورت اُتر آئی ، پر اُس نے اپنے لفظوں کی ترتیب کو سنبھالے رکھا ۔۔ وہ کہہ رھی تھی کہ مرنے سے پہلے اُس کی ماں نے اُسے سمجھایا تھا کہ “ غلطیاں تو سب کرتے ھیں ، لیکن اُس سے سیکھنے والے لوگ بہت کم ھوتے ھیں اور وہ لوگ وہی ھوتے ھیں جو اپنی غلطیوں پر رنجیدہ نہیں ھوتے اور نہ ھی اُسے روگ بناتے ھیں بلکہ وہ دوبارہ وہی غلطیاں کبھی نہیں دھراتے اور یوں وہ اپنے سفر میں سب سے آگے بڑھ جاتے ھیں “۔
سو اُس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ یہ غلطی اب دوبارہ نہیں کرے گی ۔
پھر لبوں پہ الوداعی مسکراھٹ لیئے میرے دایئں ھاتھ کو تھامتے ھوئے اُسی سکون سے گویا ھوئی “ کتنے اچھے ھیں وہ لوگ جو غلطیاں کرتے ھیں ۔ خود بھی سبق سیکھتے ھیں اور دوسروں کے لیئے بھی مشعلٍ راہ بنتے ھیں “۔۔۔ ایسا کہتے ھوئے اُس کی آنکھوں میں جو چمک تھی وہ مجھے اب بھی اپنے آس پاس محسوس ھو رھی ھے اور میں اُس وقت بھی حیرانگی سے ڈونا کو بس دیکھتی رہ گئی تھی اور اب بھی یہی سوچ رھی ھوں کہ کتنی سادگی سے وہ مجھے زندگی کا سب سے اہم باب پڑھا گئی تھی ۔۔۔ !!!!