
برطانیہ میں مقیم اردو ادب کا ایک بڑا نام، شاعر،ادیب، محقق اور نقاد سید
عاشور کاظمی اتوار چھ جون 2010کو 78 برس
کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے اور انہیں پیر سات جون 2010کو برمنگم
میں ہینڈز ورتھ کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیاتھا اور اسی مناسبت سے اتوار پانچ جون 2011کو انکی پہلی برسی کا اہتمام انکی بہن شبانہ کاظمی نے سید عاشور کاظمی کے دولت کدے پر برمنگھم میں کیا۔
اتوار پانچ جون کی دوپہر دو بجے سید عاشور کاظمی کے دوستوں،مداحوں اور احباب نے انکی روح کو ایصال ثواب کے لیئے قرآن خوانی کی اور سورہ یاسین پڑھی گئی جسمیں تمام مسالک اور مزاہب کے احباب نے شرکت کی

اس موقع پر ہونے والی مجلس عزا کی نظامت معروف شاعر سید سجاد حیدر نے کی اور اس امر پر زور دیا کہ ہم سید عاشور کاظمی کے شایان شان انکی یاد میں کوئی تقریب منعقد کرنے میں ناکام رہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ مجلس عزا کے آغاز پر سید سجاد حیدر نے سید الشہدا امام حسین کے حضور ہدیہ عقیدت پیش کیا جس کے بعد جناب حسن رضا نے مرحوم عاشور کاظمی کا کلام پیش کیا
لندن سے تشریف لائے منقبت خوان سید اصغر کرمانی نے کلام دبیر پیش کیا جسکے بعد معروف سوز خوان اور منقبت خوان سید آصف رضا نے اپنی پرسوز آواز میں سید عاشور کاظمی کا کلام پیش کیا۔
لندن سے تشریف لائے معروف شاعر،ادیب،صحافی اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے اس موقع پر سید عاشور کاظمی کو خراج عقیدت پیش کیا اور قلم کے عنوان سے مرثیہ نوتصنیف پیش کیا
آخر میں مولانا سجاد نقوی نے دعا کروائی اور بعد ازاں نیاز امام پیش کی گئی
عاشور
کاظمی اہم تصانیف میں'' ترقی پسند ادب 50 سالہ سفر، مرثیہ نظم کی اصناف
میں، چھیڑ خوباں سے، سخن گسترانہ بات، بیسویں صدی کے اردو اخبارات اور
رسائل مغربی دنیا میں، بیسویں صدی کے اردو نثر نگار مغربی دنیا میں، 1857
کے غداروں کے خط،فسانہ کہیں جسے اور صراط منزل'' شامل ہیں