17.10.2026, 10:12pm , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 44ویں قسط
08.06.2011, 01:05am , بدھ (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد
کیونکہ چند لمحوں بعد ہمیں اس شخصیت کی زیارت کا شرف نصیب ہونے جا رہا تھا جس نے ایک طرف تو محبت، اخوت، برداشت، بھائی چارے، اتحاد و اتفاق، توکل و قناعت، عدل و انصاف، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مصطفوی پیغام عالمگیر افق پر پھیلایا اور دوسری طرف وہ اقدامات اٹھائے کہ ظلم اور باطل کے ایوانوں کو لرزا کر زمین بوس کر ڈالا۔ شاید یہی شخصیت علامہ اقبال کے استقبالی تصور میں کہیں مجسم تھی، جو انکی انقلابی شاعری کا جیتا جاگتا مصداق بن گئی۔ مثلا” اقبال کے مشہور شعر
 
ہو حلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رمز ِحق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن


میں مؤمن کی دو متضاد صفات کو ہم امام خمینی کے مذکورہ بالا تعارف میں یکجا دیکھتے ہیں۔ اقبال کی شاعری میں مؤمن کا جو قرآنی تصور نظر آتا ہے، امام خمینی کی لاجواب شخصیت اسکا آئینہ نظر آتی ہے۔

امام خمینی (رح) کی سحر انگیز شخصیت کے بارے میں مجھ جیسے کم علم کا قلم اٹھانا سوئے ادب کے مترادف ہے کہ دنیا جہان کے بڑے بڑے دانشور اور اہل قلم اس شخصیت کے بارے میں قلم آزمائی کرتے ہوئے حق توصیف ادا نہ کر سکے، میری کیا بساط! مگر اس تحریر میں اس لاہوتی کردار کے ذکر سے پہلو تہی کرنا نہ صرف ناانصافی بلکہ بددیانتی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ میرے تمام بزرگ اس لحاظ سے خوشقسمت ہیں کہ انہیں اپنی اپنی زندگیوں میں نہ صرف امام خمینی کا دور دیکھنے کو ملا، بلکہ کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جنہیں امام ِ راحل کی قدم بوسی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ میری اس ناقص تحریر کا مدعا عمومی طور پر میرے نوجوان دوست ہی ہیں مگر اگلی چند سطور خصوصی طور پر ان نوجوان دوستوں کے لیئے ہیں جنہیں وہ سنہری دور تو میسر نہ آیا مگر آج اس دور کی قربانیوں کے ثمرات سے وہ بہرہ مند ضرور ہو رہے ہیں۔ آیئے بیسویں صدی کی نابغہءروزگار شخصیت آیت اللہ العظمٰی سید روح اللہ مصطفوی الموسوی الخمینی الہندی کا ایک ہلکا سا تعارف حاصل کرتے ہیں۔

آسمان ِ امامت کے ساتویں تاجدار کاظم آل محمد (ع) کی پاکیزہ نسل سے جاری امام خمینی (رح) کا تمام خاندان ہی خدمت ِ دین ِ الٰہی میں اپنی مثال آپ تھا مگر کسے خبر تھی کہ 17 مئی سنہ 1902 کو قم مقدسہ سے 130 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع قصبہ "خمین" کے مقام پر آیت اللہ سید مصطفٰی موسوی اور حاجیہ آغا خانم کے گھر میں جنم لینے والا یہ بچہ رہتی دنیا تک اس زمین پر اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ جائیگا۔۔۔۔ بیشک خدا ہی علیم و حکیم ہے۔ ویسے تو خمینی خاندان کا اصل تعلق نیشاپور سے تھا مگر اٹھارھویں صدی کے اواخر میں یہ لوگ نیشاپور سے ہجرت کرکے ہندوستان کی اثناءعشری اکثریت والی ریاست اودھ کے دارالخلافہ لکھنؤ کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں کنتور ہجرت فرما گئے۔ یہیں امام خمینی کے دادا سید احمد موسوی الہندی متولد ہوئے۔ آپ آیت اللہ سید میر حامد حسین موسوی کے رشتہ دار تھے۔ بعد ازاں یہ خاندان یہاں سے ہجرت فرما کر کشمیر کی جانب چلا۔ امام خمینی کے چند مکتوبات اس بات کی سند ہیں کہ آپکے بزرگوں کا تعلق کشمیر سے بھی رہا۔ 1830 میں یہ خاندان زیارات کی غرض سے نجف ِ اشرف عراق کی جانب چلا اور پھر کبھی لوٹ کر ہندوستان نہ آیا۔ نجف ِ اشرف میں خمین کی ایک مقتدر شخصیت یوسف خان صاحب سے دوستی ہوئی۔ یوسف صاحب اس خاندان کی دینداری اور وقار سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انکو خمین میں سکونت اختیار کرنے کی دعوت دے ڈالی۔ جسے سید احمد ہندی صاحب نے قبول فرمایا اور تبلیغ ِ دین اور رہائشگاہ کے لیئے خمین کا انتخاب کیا۔ بعد ازاں یوسف صاحب کی ایک دختر کو موسوی خاندان کی بہو بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔  یعنی جہاں سے پرکھوں نے آغاز ِ سفر کیا تھا، اولاد واپس اسی دیار کو لوٹی۔ مگر "ہندی" کا لاحقہ اس خاندان کے افراد کے ناموں کا حصہ ضرور رہا۔ یہاں تک کہ امام خمینی نے اپنے کچھ اشعار میں اس نسبت کو اپنا تخلص بھی قرار دیا ہے۔ یہ مضحکہ خیز بات بھی اب تاریخ کا ایک حصہ ہے کہ جب ایران میں انقلاب اسلامی اپنے عروج پر تھا اور شاہ کی حکومت کی چولیں ہل رہی تھیں تو اس نے امام خمینی کی ہندی والی نسبت کے بارے میں انکا ہندوستانی، یعنی غیر ملکی ہونے کا پروپیگینڈا بھی کیا۔

سنہ 1902 میں امام خمینی کی ولادت خمین ہی میں ہوئی۔ آپ فقط پانچ ماہ کے تھے کہ آپکے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ آپکی پرورش آپکی والدہ، خالہ اور آپکے برادر ِ بزرگ آیت اللہ سید مرتضٰی پسندیدہ نے کمال ِ جاں فشانی سے کی۔ چھہ برس کی عمر میں آپ کو علاقے کے ایک مکتب میں ملا عبد القاسم اور شیخ جعفر کی زیر نگرانی داخل کروا دیا گیا جہاں آپ نے قرآن کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور محض ایک سال کے عرصے میں حافظ ِ قرآن کے منصب پر فائز ہو گئے۔ آپ کی تعلیم، تربیت اور بالیدگی کا سلسلہ یونہی جاری رہا یہاں تک کہ پندرہ سال کے سن (1918) میں آپکی والدہ بھی داغ ِ مفارقت دے گئیں۔ اس دور ِ محرومی میں اپکے بڑے بھائی کا سایہ والدین کی مانند آپکے سر پر رہا۔ آیت اللہ پسندیدہ نے نہ صرف آپکی پرورش کی، بلکہ آپکے استاد کا فریضہ بھی ادا کیا۔ آپ نے اٹھارہویں برس میں قدم رکھا تو آپکی اعلٰی تعلیم کا بندوبست حوزہءعلمیہ اصفہان میں کیا گیا۔ مگر آپ آیت اللہ شیخ عبدالکریم حائری یزدی کی شخصیت سے زیادہ متاثر تھے جنکا مقام ِ تدریس آراک تھا۔ سو 1921 میں آراک کی جانب کوچ کیا اور آیت اللہ حائری کے حوزہءعلمیہ میں داخل ہوگئے۔ اگلے ہی برس آیت اللہ حائری نے اس حوزہ کو آراک سے قم ِ مقدسہ میں منتقل کردیا جو اس وقت سے لیکر آج تک علوم و عقائد ِ آل محمد کی ترویج کا دنیا کا سب سے عظیم مرکز ہے۔ اپنی درسگاہ کی قم میں منتقلی کے ساتھ آپ بھی اسی شہر میں تشریف فرما ہوئے۔ قم میں تعلیم کا زینہ عبور کرتے کرتے متون ِ سطوح ِ عالیہ کے درجہ پر فائز ہوئے اور اسلامی فلسفہ اور منطق کے مضامین میں اپنے ہی اساتید کے معاون بن گئے۔ اسکے علاوہ آپ شریعۃ، فقہ، اخلاق اور عرفان جیسے عمیق مضامین میں بھی تشنگان ِ علم کی سیرابی فرماتے رہے۔ انہی اور دیگر موضوعات پر آپکی تصینف شدہ کتب آج بھی طالبان ِ علم کے لئے مشعل ِ راہ ہیں۔

جب آپ 25 برس کے ہوئے تو آپکا نکاح آپکے والد گرامی کے ایک قریبی دوست اور تہران کے عالم کی دختر ِ نیک اختر جناب خدیجہ ثقفی سے انجام پایا۔ آپکی پہلی تین اولادیں اپنی ولادت کے بعد ہی اللہ تعالٰی نے واپس بلا لیں۔ اسکے بعد خدا نے آپکو دو فرزند اور تین دختران عطا فرمائیں۔ آپکے بڑے بیٹے مصطفٰی خمینی کو 1977 میں ساواک کے کارندوں نے نجف ِ اشرف میں شہید کرڈالا جبکہ دوسرے فرزند احمد خمینی آُپ کے معتمد کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1995 میں احمد خمینی کا بھی انتقال ہو گیا۔ امام خمینی کو اپنے مقتول فرزند کے بیٹے سید حسن خمینی سے دلی لگاؤ تھا۔ آپ اس بچے کو اکثر اوقات اپنے ساتھ رکھتے۔ آج حجۃ الاسلام سید حسن خمینی ایک عالم دین بھی ہیں اور اپنے دادا کے مزار کے متولی بھی۔

امام خمینی اگرچہ اپنے تعلیم و تدریس کے دور میں سیاست سے قطعا” منقطع تھے مگر آپکے مکتوبات کے تجزئے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ سیاست میں دین کے دخل کو ضروری جانتے تھے۔ آپ سیاست، مذہب، اخلاقیات، فلسفہ اور معاشرت کے مابین کھینچے گئے مصنوعی خطوط کے بالکل بھی قائل نہ تھے۔ 1940 میں آپ نے اس دور میں جاری سیکیولرازم کی وبا کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اس دور میں ایران کے مشہور علماءمخالف مؤرخ احمد کسروی کی لکھی گئی کتاب "اسرار ِ ہزار سالہ" کا "کشف الاسرار" نامی کتاب لکھ کر منہ توڑ جواب بھی دیا۔ آپکے انہی نظریات نے آگے چل کر ملکی اور بین الاقوامی سیاست کے اسلوب ہی تبدیل کر ڈالے۔ یہ 1963 کی بات ہے کہ جب آپ تہران میں ْقیدوبندکے دور سے گزر رہے تھے تو ایک شاہی کارندے نے آپ سے ملاقات کی اور کہا کہ آپ مذہبی شخصیت ہیں، اپنے کام سے کام رکھیں۔ سیاست میں دینی شخصیات کا کیا کام! ساتھ ہی دلیل بازی بھی کی کہ سیاست جھوٹ، فریب، دغابازی، لین دین اور ریاکاری کا دوسرا نام ہے، اس لیئے سیاست کو اہل ِ قصر کے لئے چھوڑ دیں۔ آپ نے اطمنان سے اسکی تمام باتیں سنیں اور فرمایا، "تمہارا بتایا گیا طرز ِ سیاست بے دین لوگوں کی سیاست ہے، جبکہ اسلامی سیاست قطعا” دین سے جدا نہیں۔ اسلامی سیاست عدالت و صداقت کے ساتھ خدا، رسول (ص) اور آل رسول (ع) کی غیر مشروط مؤدت و اطاعت پر مبنی ہوتی ہے۔"

جدا ہو دیں سیاست سے، تو رہ جاتی ہے چنگیزی

آپ نے الٹا اس سے سوال کر ڈالا کہ محمد و آل محمد (ع) جنکی محبت کا ہم دم بھرتے ہیں، کیا وہ خود سیاست سے دور رہے اور صرف خدا کا پیغام پہنچا کر گوشہ نشین ہوگئے؟ نہیں، بلکہ اللہ تعالٰی نے انہیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کا حکم دیا جو تمام برائیوں سے پاک اور احکامات ِ خداوندی کا پابند ہو۔ اس معاشرے کے قیام کے لئے انہوں نے ہرچند جد وجہد کی۔ اس عظیم ذمہ داری کو انہوں نے اہل ِ قصر کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا بلکہ خود عملی اقدامات کیئے۔ سو اسی اسوہ کو مشعل راہ بناتے ہوئے آج ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ کارزار سیاست میں قدم رکھیں اور علوی سیاست سے اس سرزمین کا نقشہ تبدیل کریں۔  

 پھر 1963ہی میں آیت اللہ العظمٰی سید حسین بروجردی کے انتقال کے بعد آپ مرجع ِ تقلید کے عہدے پر فائز ہوئے۔ آپکی تصینف کردہ فقہی کتب اور توضیح المسائل کو گھر گھر مقبولیت حاصل ہوئی۔ 


1920 میں عنان ِ اقتدار سنبھالتے ہی رضا شاہ پہلوی نے علماء کے خلاف ایک محاذ کھول لیا تھا، جس نے ایران کے مذہبی طبقے کے لئے خاصی مشکلات پیدا کیں۔ اسی حکمت ِ عملی کو اسکے بیٹے محمد رضا شاہ نے خوب پروان چڑھایا۔ بالآخر 1960 میں اپنی طاقت کے نشے میں اس نے علماء کو بے بس کرنے کی نیت سے "سفید انقلاب" کے نام سے ایک باقاعدہ مہم کا آغاز کیا۔ سفید انقلاب دراصل مغرب سے درآمد شدہ ایک لائحہءعمل تھا جس میں سرکاری املاک کی فروخت، زمینی اصلاحات، عورتوں کے حقوق ، جنگلات کا قومیانہ اور سرکاری تعلیمی اداروں میں جہالت کے خلاف جہاد جیسے اقدامات تھے۔ بظاہر تو یہ سب احسن اقدامات تھے، مگر علماء اس مغربی سازش کو بھانپ گئے تھے۔ اس نام نہاد انقلاب میں چھپے تباہی کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے امام خمینی نے باقاعدہ سیاست میں قدم رنجا فرمانے کا فیصلہ کیا۔ 1963 میں امریکہ کے حمایت یافتہ اس سفید انقلاب کو لاگو کرنے کی خاطر شاہ نے عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ملک گیر استصواب ِ رائے کروانے کا منصوبہ بنایا۔ دوسری جانب طاغوت کے اس حملے سے نمٹنے کی خاطر امام خمینی نے قم میں موجود جید علمائے کرام کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا اور شاہ کی آمرانہ اور مکروہ حکمت ہائے عملی کا پردو فاش کرتے ہوئے اس نام نہاد ریفرنڈم کے مقاطعہ کا اعلان کیا۔ جوابا” شاہ نے قم کی جانب دھاوا بولا اور شدید الفاظ میں امام خمینی اور دیگر علمائے کرام کی سرزنش کی۔ امام کے اوپر اسکی کسی دھونس کا کوئی اثر نہ ہوا اور وہ انتہائی دلجمعی سے ملت ِ ایران کو اس مصیبت سے چھٹکارا دلانے کے لیئے مصروف عمل رہے۔ آٹھ بزرگ ترین علماء کے دستخطوں کے ساتھ امام ِ راحل نے ایک منشور جاری کیا جس میں شاہ کی سیاہ کاریوں، آئین کی خلاف ورزی، ملک میں جاری بے حیائی کی لہر، حکومتی سرپرستی میں جاری اخلاق باختگی اور شاہ کی امریکہ و اسرائیل کی غلامی کی کھلے الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔ صرف یہی نہیں، حکومت کے خلاف اعلان ِ احتجاج کے طور پر 21 مارچ 1963 کا نوروز بھی نہ منانے کا اعلان کیا گیا۔ ایک عام آدمی کی عقل حیران ہوجاتی ہے کہ زندگی کے کس کس گوشے پر اس غیر معمولی بصیرت رکھنے والے شخص کی نظر تھی، جس سے فائدہ اٹھا کر ملت کو منفعت بخشی جا سکتی تھی۔ عجب مظاہرہ تھا کہ جس دن ایران کی سڑکوں اور گلیوں میں جشن منانے والوں کی وجہ سے تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی تھی، اس دن پورے ایران میں ہو کا عالم تھا۔ 

شاہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بظاہر اتنی طاقت رکھنے کے باوجود اسکا ہر ہر حربہ ناکام ہوتا جائیگا۔ شاہ کا سفید انقلاب تو اپنی موت آپ مر ہی رہا تھا جسکے تابوت میں امام خمینی برابر کیلیں ٹھونکتے جارہے تھے۔ بات یہیں پر ختم نہ ہوئی۔ 3 جون 1963 کو یوم عاشور کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہءفیضیہ قم میں امام خمینی نے یزید اور شاہ کا موازنہ پیش کیا اور دونوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا۔ ساتھ ہی آپ نے شاہ کو خبردار بھی کیا کہ یا تو اپنے آپ کو سدھار لو، ورنہ اس ملک سے کوچ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ بس پھر کیا تھا، یزید جیسی مکروہ شخصیت سے نفرت کا عالم اور عین یوم ِ عاشور پر اسی کا نمائیندہ اپنی ہی سرزمین پر جیتا جاگتا نظر آجائے تو اس قوم کے غم و غصے کا کیا عالم ہوگا! شاہ کی مذمت میں چلائی گئی امام خمینی کی عوامی تحریک نے اسکا دماغی توازن بگاڑ دیا اور وہ اوچھی حرکتوں پر اتر آیا۔ محو ِ احتجاج ایرانی عوام پر سڑکوں پر تشدد کیا گیا اور تین دن کے اندر اندر چار سو غیرتمند جوانوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔  5 جون 1963 بمطابق 15 خورداد کو امام خمینی کو حکومت کی جانب سے گرفتار کیا گیا اور آٹھ ماہ کی قید کے بعد 1964 میں رہا کیا گیا۔ (تہران میں موجود وہ مقام جہاں سے ہم میٹرو میں سوار ہوئے تھے، شاید اسی واقعے کی یاد میں 15 خورداد کہلاتا ہو۔) 

یہ دور یوں بھی اہل تشیع کے لئے سیاسی طور پر ایک اہم موڑ ثابت ہوا کہ شیعہ علماء نے صفوی دور سے لیکر اب تک ہمیشہ شیعہ سلطنتوں کے قیام کو خیر سگالی کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ ہردور میں علماء کا تقاضا فقط اتنا رہا کہ ملک میں فقہ ِ جعفری کی روشنی میں عدل و انصاف کا بول بالا رہے۔ جوابا” بادشاہتیں بھی چلتی رہیں اور انکی جانب سے مذہبی طبقے پر کسی قسم کی قدغن دیکھنے میں نہ آئی۔ مگر اب دور وہ آگیا تھا کہ شاہ کی حکومت ایک آمرانہ طرز عمل اختیار کرتی جارہی تھی جس میں نام نہاد جدیدیت کے نام پر اسلامی اقدار کو پس ِ پشت جبکہ آزادی کے نام ہر فحاشی، عریانی اور اخلاق باختگی کو پروان چڑھایا جا رہا تھا۔ نتیجتا” امام خمینی نے اس شیطانی چکر کے خلاف اعلان ِ جہاد کیا اور اس آمرانہ حکومت کے مقابلے میں ایک اسلامی حکومت کے قیام کا اعادہ کیا۔ 

نومبر 1964 میں امام خمینی کو ایک بار پھر گرفتار کیا گیا جب آپ نے ایرانی حکومت اور امریکہ کو سرزمین ِایران پر امریکی فوجیوں کو سفارتی استثناء عطا کرنے پر سخت الفاظ میں اپنی مذمت کا نشانہ بنایا۔ اب صرف گرفتاری اور نظر بندی سے کام چلتا نظر نہ آیا تو آپ کو ملک بدر کردیا گیا۔ 4 نومبر 1964 کو آپکو تہران سے ترکی کے سرحدی شہر برسا بھیج دیا گیا، جہاں آپ ایک سال سے بھی کم عرصہ تک قیام پذیر رہے۔ اکتوبر 1965 میں آپکو عراق جانے کی اجازت مل گئی اور آپ نجف ِ اشرف میں اپنی انقلابی زندگی کے شب و روز گزارنے لگے۔ مگر یہاں بھی طاغوتی گماشتے عراق کے نائب صدر صدام نے آپکو رہنے نہ دیا اور عراق چھوڑ جانیکا حکم صادر کیا۔ 1978 میں آپ نے سرزمین ِ انبیاء کو خیر باد کہا اور نوفل لا شیتو فرانس کی جانب پرواز کرگئے۔ مجموعی طور پر آپ نے 14 سال جلا وطنی کی زندگی گزاری۔

نجف ِ اشرف میں اپنے قیام کے دوران ستّر کی دہائی کے اوائل میں آپ نے اسلامی نظام ِ حکومت کے موضوع پر دروس کا ایک سلسلہ شروع کیا جسے بعد ازاں کتابی صورت میں "ولایت فقیہہ" کے عنوان سے شائع بھی کیا گیا۔ یہ اس دور کی حکومت سازی کے موضوع پر مقبول ترین اور مؤثر تصینف ثابت ہوئی۔ امام خمینی اپنے متعین کردہ راستے پر بہت محتاط انداز میں چل رہے تھے اور اپنے حلقہءاثر کے باہر اپنے خیالات و نظریات کی تشہیر سے احتیاط برتتے تھے۔ اپنے تئیں تو شاہ نے آپکو جلا وطن کرکے قصہ تمام کرڈالا تھا، مگر اسلامی انقلابی تحریک امام کے مکتوبات اور تقاریر کیسٹوں کی صورت میں ایران کے گھر گھر میں پڑھے اور سنے جاتے تھے۔ ان تقاریر میں شاہ کو واضح طور پر استعماری ایجنٹ، امریکہ کا پروردہ سانپ کہا جاتا اور اسکا سر کچلنے کے اقدامات کے لئے قوم کو گرمایا جاتا۔ امام کی یہی باتیں شاہ کی بظاہر طاقتور حکومت کے غبارے سے ہوا نکالنے کا سبب ثابت ہوئیں۔ 

1975 میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جب صیہونی قوتوں نے ایران کے اسلامی اصلاح پسند انقلابی مفکر، معلم، ادیب، ماہر معاشیات اور فلسفی ڈاکٹر علی شریعتی کو شہید کرڈالا۔ ڈاکٹر شریعتی کے بیشمار کارناموں میں سے ایک کارنامہ ایران کے جوان تعلیم یافتہ طبقے میں احیائے اسلامی کی روح پھونکنا ہے۔ (ڈاکٹر شریعتی کی شخصیت ایک علیحدہ موضوع ہے، جس پر کئی کتب تحریر کی جاسکتی ہیں۔) ڈاکٹر صاحب کی شہادت کے بعد امام خمینی شاہ کے مقابل ایرانیوں کے سب سے محبوب اور واحد روحانی پیشوا کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے۔ جوں جوں بغاوت بڑھتی گئی، آپکی مقبولیت اور اہمیت مزید اجاگر ہوتی گئی۔ جلاوطنی کے آخری ایام میں آپ کے گرد صحافیوں، آپکے حامیوں اور مقتدر شخصیات کا تانتا بندھا رہتا جو آپ سے اعلان ِ انقلاب سننے کو بیتاب رہتے۔ 

پردیس میں بیٹھ کر جاری رہنے والی تحریک کے اثرات نے شاہ کے گرد اپنا گھیرا تنگ کردیا اور اسے فرار کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ بالآخر وہ 16 جنوری 1979 کو دم دبا کر بھاگ گیا۔ یہی وہ وقت تھا جب یہ تحریک اپنے عروج کو پہنچی اور امام خمینی نے اپنی وطن واپسی کی تاریخ کا اعلان کیا۔ اب سب سے بڑا مسئلہ آپکی واپسی کے لیئے طیارے کا انتظام کرنا تھا۔ خدا نے ایک ثروتمند تاجر کے زریعے اس رکاوٹ کو بھی دور کردیا اور آپ کی واپسی کے لیئے تین ملین ڈالر کرائے کے عوض ائیر فرانس سے طیارہ حاصل کیا گیا۔ شاہ کے فرار کے ٹھیک دو ہفتے بعد یکم فروری 1979 بروز جمعرات امام خمینی اپنی سرزمین پر ایک فاتح کی مانند وارد ہوئے۔ مگر یہ کیسا فاتح تھا جسکی نظریں طویل جنگ جیت جانے کے بعد بھی جھکی ہوئی تھیں۔ انبساط نہ فخر۔ کم و بیش تیس لاکھ افراد اس وقت آپکے استقبال کے لئے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ پورا تہران اللہ اکبر اور خمینی زندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ عورت، مرد، بزرگ، جوان، بچہ ہر جنس کا فرد آپکی ایک جھلک دیکھنے کو تڑپ رہا تھا اور آپکے اطمنان اور عاجزی کا یہ عالم تھا کہ چہرے پر کامیابی کی خوشی کے آثار تک نہ تھے۔ ایک صحافی، پیٹر جیننگز نے جو پوچھا کہ اس وقت آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ جواب آیا، "ہیچ"، یعنی "کچھ بھی نہیں!!!" 


اپنی آمد پر آپ نے عوام کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے شاہ پور بختیاری کی حکومت کی معزولی کا اعلان کیا اور سخت الفاظ میں کہا کہ اس حکومت کی دندان شکنی کی جائیگی۔ پس یہی اسلامی انقلابی حکومت کا نقطہءآغاز تھا جب آپ نے 11 فروری 1979 کو عوامی حمایت سے مہدی بازرگان کو عبوری حکومت کا وزیر اعظم مقرر کیا۔ یہی وہ دن ہے جسے اب ملت ِ ایران اپنے قومی دن کے طور پر مناتی ہے۔ ساتھ ہی اس حکومت کو خدا کی حکومت اور مہدی بازرگان کی حکم عدولی کو خدا سے بغاوت کے مترادف قرار دیا۔ امام خمینی کی آغاز کردہ اس اسلامی تحریک نے زبردست پذیرائی حاصل کی اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلح افواج کے سپاہی اور افسران بھی اپنے اپنے ہتھیار چھوڑ کر اس تحریک مین شامل ہونے لگے۔ 30 اور 31 مارچ 1979 کو بادشاہت کے باقاعدہ خاتمے کے لئے عوامی استصواب ِ رائے کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریفرنڈم میں سولہ سال یا اس سے زائد عمر کے مرد و عورت کو ووٹ ڈالنے کی آزادی تھی۔ دنیا نے یہ منظر دیکھا کہ کس طرح ایرانی نوجوانان نے بڑھ چڑھ کر اس انقلاب کی حمایت کی اور اس ریفرنڈم کو 98% ووٹوں سے کامیاب بنایا۔ پرانا آئین منسوخ ہوا اور امام خمینی اور انکے حامی علماء و مفکرین کا مرتب کردہ آئین منظور کر لیا گیا اور یوں نومبر 1979 میں امام خمینی جمہوری اسلامی ایران کے رہبر ِ انقلاب بنے اور سرکاری سطح پر رہبر ِ معظم انقلاب ِ اسلامی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اتنی بڑی تحریک کا بانی و راہنما، جسکے چاہنے والے کروڑوں میں تھے، خود سادگی کا وہ پیکر تھا کہ سنّت بھی فخر کرے۔ آپ نے تمام عمر محمد و آل محمد (ع) کی صادق پیروی میں گزاری۔ ہمیشہ فرش پر توشک بچھا کر سوئے۔ کھانا پینا بھی انتہائی سادہ۔ زیادہ بات نہ فضول گفتگو۔ تین کمروں کے چھوٹے سے مکان میں زندگی گزاری۔ انہی تین کمروں میں سے ایک کمرہ وہ تھا جسمیں نیلے رنگ کا قالین بچھا ہوا تھا اور دنیا جہاں کی مقتدر ترین شخصیات اسی قالین پر بیٹھ کر امام خمینی سے ملاقات کا شرف حاصل کرتی تھیں۔ آپ ایک مذہبی و سیاسی رہنما کے علاوہ ایک بلند پایہ شاعر بھی تھے۔ آپکی بیشمار علمی کتب کے علاوہ آپکی شاعری کے دیوان بھی شائع ہو چکے ہیں۔ امام خمینی کا ایک شعر ذاتی طور پر مجھے بہت پسند ہے۔ فرماتے ہیں کہ 

نوچو سوزد خاک و خاکستر شود
ودل چو سوزد خانہءدلبر شود

یعنی بانسری جل جائے تو راکھ کا ڈھیر ہو جاتی ہے، جبکہ دل جل جائے تو خانہءخدا بن جاتا ہے۔

اسلامی انقلاب کی شاندار کامیابی کو امام کی دوراندیش شخصیت نے محض ایران کی سرحدوں تک مقید نہ رہنے دیا، بلکہ اسلام ِ ناب کی اصل صورت کو دیگر ممالک تک پہنچانے کا اعادہ بھی کیا۔ آپکا اولین پیغام اتحاد بین المسلمین تھا۔ آپکی بابصیرت آنکھ دیکھ رہی تھی کہ چودہ صدیوں سے مسلمانوں کے زوال کا واحد سبب فرقہ بندی اور عدم ِ اتفاق ہے۔ مسلمانوں کے عقائد اور فروعات مختلف سہی مگر تمام مسلمانوں کا رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو مشترک ہے۔ اسی نقطہءاشتراک کو نقطہءاتحاد بناتے ہوئے آپ نے ہرسال 12 تا 17 ربیع الاول کے میلاد ِ رسول ِ گرامی قدر کے مبارک موقع کو دنیا کے طول و عرض میں ہفتہءوحدت کے طور پر اور رمضان المبارک کے جمعۃ الوداع کو فلسطینی مظلومین کی حمایت کے طور پر یوم القدس کے عنوان سے منانے کا اعلان کیا۔ مگر افسوس کہ دیگر اسلامی ممالک کو شاید یہ پیغام ِ اخوت پسند نہ آیا اور انقلاب کے ایک سال بعد شیطان ِ بزرگ کی جانب سے صدام کے زریعے مسلط کی گئی جنگ میں اکثر نام نہاد مسلم ریاستوں نے ظاہرا” صدام اور اصلا” امریکہ کا ہی ساتھ دیا۔ اس جنگ کا مقصد انقلاب ِ اسلامی کو اسکے بچپنے میں ہی ختم کرکے ایران کو عالمی سطح پر ایک تنہا اور مفلوج ریاست کے طور پر چھوڑ دینا تھا۔ اس مقصد کے لیئے ایران کے پڑوس عراق پر قابض اپنے ایک گماشتے صدام کا انتخاب کیا گیا جس نے پہلے مرحلے میں تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ خوزستان پر چڑھائی کی جو بعد ازاں تمام ایران میں دراندازی کی صورت میں باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ یہ صبرآزما جنگ آٹھ سال تک مسلسل جاری رہی  جس میں املاک کا جو نقصان ہوا سو ہوا، ساڑھے نو لاکھ قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ایران کو برداشت کرنا پڑا۔ اس جنگ میں تمام اصول و قواعد کو پاؤں تلے روند ڈالا گیا اور عراق کی جانب سے کھلے عام کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے۔  

بچپن کی یتیمی، لڑکپن کی جاں سوز مشقتیں، نگر نگر کے سفر، حصول علم کی ریاضتیں، کارزار سیاست کے خارزار میں گل پاشی، قید و بند کی صعوبتیں، طویل جلا وطنی، پردیس کے دکھ، درس و تدریس، مسلط کردہ جنگ، تبلیغ دین اور رہبریءامت کے جان لیوا فرائض کی ادائیگی نے اس مرد ِ درویش کی صحت کو رو بہ زوال کرنا شروع کردیا۔ طرح طرح کی بیماریاں جسم کو سرطان کی صورت میں کھانا شروع ہو گئیں۔ اس ضعیف العمری میں آپکو سرطان کی جراحت کے تکلیف دہ مرحلے سے بھی گزرنا پڑا مگر اندرونی زخموں سے خون رسنا بند نہ ہوا۔ محض گیارہ روز ہسپتال میں گزارنے کے بعد 3 جون 1989 کو 86 برس کی عمر میں آپکا وصال ہو گیا۔

_________________________________________________________________________________________________________________
آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو دنیا کے طول و عرض میں امام خمینی کی بائیسویں برسی منائی جارہی ہے۔ قاریئین سے التماس ہے کہ اس عظیم روح کی شادمانی کے لیئے سورۃ فاتحہ کا ہدیہ ضرور ارسال فرمائیں۔ شکریہ۔

:دیگر مضامین
(06.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ ساتویں قسط
(03.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ دوسری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(31.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 43ویں قسط
(29.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ چھٹی قسط
(28.05.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ پہلی قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(21.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔5ویں قسط
(21.05.2011) بزم اردو لندن کی شام فیض کے نام....ایک یادگار شام
(17.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 41ویں قسط
(14.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔چوتھی قسط
(13.05.2011) ٹورنٹو میں اشفاق حسین کی تین نئی کتابوں کی تقریب رونمائی
(10.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 40ویں قسط
(08.05.2011) سسکیوں بھرا آنگن ۔۔۔۔از؛ سید مصباح حسین جیلانی ۔سڈنی
(05.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔تیسری قسط
(02.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 39ویں قسط
(27.04.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔دوسری قسط
(24.04.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 38ویں قسط
(18.04.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔پہلی قسط
(14.04.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 37ویں قسط
(12.04.2011) قومی ہیروز کی خدمات کا اعتراف ایک نئی روایت کا آغاز۔از؛ محمد احمد ترازی
(11.04.2011) کیا ہم امریکہ کے غلام ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔زرقا مفتی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں