ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہو نچے تھے کہ ہم نے عرب اما رات کی سب سے بلند ترین چوٹی کی سیر کی۔ اب ہم اس کے بعد آپکو العین کے دوسرے تفریحی مقامات کی طرف لے چلتے ہیں ۔ مگر ہمیں رات کو واپس ابو ظبی پہونچنا تھا اور اندھیرا پھیل چکا تھا۔ لہذا اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں دیکھ سکے کہ صرف شہیدوں میں نام لکھانے کے لیئے جو قابل ِ دیدمقامات تھے ان کے سامنے سے گزرے ۔سب سے پہلے وہ تارییخی قلعہ باہر سے دیکھاجس میں کبھی موجودہ شا ہ الخلیفہ بن زید بن نیہان کے والدہ ما جد پیدا ہو ئے اور چالیس پہلے تک وہاں مقیم بھی تھے، لیکن جب انہوں نے امارات کا اتحاد بنا یا اور وہ اس کے مرکزی صدر بنے تو انہوں نے ابو ظبی کو اپنے دار الحکومت کے لیئے اس وجہ سے پسندکیا کہ العین ایک سرے پر تھا جبکہ ابو ظبی مر کزی اہمیت رکھا تھا لہذا وہاں پہو نچنا لو گوں کے لیئے مشکل تھا جبکہ یہاں آسان تھا چونکہ وہ عوام کو سہولت دینا چا ہتے تھے لہذا انہوں اسلام آباد بنا نے کے بجا ئے ان کے قریب رہنے کو تر جیح دی؟

اس قلعہ کی ہم تصویر یہاں دے رہے ہیں ۔جو کہ اب میوزیم قرار تو دیا چکا ہے، مگر ابھی پوری طرح مکمل نہیں ہوا ہے جوکہ٢٠١٤ تک مکمل ہو گا۔ اس کے علا وہ دومال ہیں ۔اور دیکھنے کی چیزوں میں اگر وقت ہے تو جنگل میں منگل منا نےکے لیئے بہت سے تفریحی مقامات بھی ہیں جن کے پیکج آپ کہیں سے بھی انٹر نیٹ یا فون سے لے سکتے ہیں ۔اس کے لیئے انہوں ہزاروں سال پہلے کی ٹیکنک اپنا ئی ہو ئی ہے جو وہ دشت میں ہریالی لا نے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔ جسے ہم اپنے پہا ڑی علاقے میں کا ریزیز کہتے، جبکہ اس نظام کووہاں کی مقامی زبان میں فا لیجا کہاجا تا ہے۔ یہ لفظ ہما رے ہاں پہونچا تو مگر اس کی شکل وہ نہیں رہی ۔ اور ہم دریا کے کنا رے خربوزہ تربوز اور ککڑی وغیرہ جوکا شت کرتے ہیں اسے فا لیز کہتے ہیں ۔
چونکہ ہم نے بہت بڑا ریگستاں جو پہلے کبھی تھر پارکر کہلا تا دیکھا ہوا تھا لہذا دوبارہ دیکھنے کی طلب نہیں تھی۔ جب ہندوستان تقسیم ہوا تو پارکر ہندوستان کے حصہ میں چلا گیا اور تھر ہما رے پاس رہ گیا اس صورت میں بھی اس کا جو کوہ نور تھا یعنی نگر پا ر شہر، جو کہ ہزاروں سال پہلے کی تہذیب کا امین ہے جہاں بدھ مت کے مندر ہیں اگر اس کو تفریح گاہ میں تبدیل کردیا جا تا تو دنیا کی کم از کم ایک تہا ئی آبادی اسکی یا ترا ضرور کر تی اور اس سے بے انتہا زرِ مبا دلہ بھی آتا ؟ جانے دیجئے ہم کو ئی بت پرست تھوڑی ہیں بت شکن ہیں ۔
تھر جس میں بہت عرصے تک ریت ہی ریت تھی وہ ہم نے دیکھا ہواتھا، اور وہ منظر بھی دیکھا ہوا تھا کہ وہاں جب با رش ہو جا تی تو، اس کی رتیلی پہاڑیاں کشمیر کا سا سماں پیش کرتی تھیں۔ مگر وہاں پا نی اتنی گہرا ئی میں پا یا جا تا تھا کہ جینا مشکل تھا ۔چونکہ اس علا قے میں ڈیم وغیرہ کچھ نہیں تھے اس لیئے نہریں بھی نہیں تھیں لہذا وہ تالابوں میں بارش کاپانی ذخیرہ کرلیتے تھے اور اسی کو پو رے سال جانور اور انسان ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے اور دنیا بھر کی بیماروں کا شکار رہتےتھے۔

سواری کے لیئے پہلی جنگ ِ عظیم میں جو فوجی ٹرک بیکار ہو گئے تھے وہ وہاں کی سیر اور راہ داری کے لیئے کام آتے تھے۔ جس کو وہاں کی زبان میں کیکڑے یا چھکڑے کہتے تھے۔ اس کے ڈرایئور کی کیبن کی اصلاح کرکے کیبن کی شکل بنا لی تھی ۔لہذا جو عوام کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے، ان کے لیئے وہ فرسٹ کلاس کا کام دیتا تھا، پچھلے حصے میں پہلے بوریاں لادی جا تیں ،پھر بکریا ں اور مرغیاں اور مساوات کا مزید ثبوت دینے کے لیئے ان کے ساتھ انسان بٹھا دیئے جا تے تھے ۔
ان لوگوں کو شکا یت تھی کہ انہیں بہت دشوار گزار سفرر کر کے اپنے ہر کام کے لیئے ضلعی ہیڈ کوارٹرر میر پو ر خاس جا نا پڑتا ہے جو شروع ہی سے اس ضلع کا صدر مقام تھا جو ضلع تھر پار پا کر کہلا تاتھا، گوکہ ایک وجہ یہ بھی تھی، پھر اقرباء پروری کے لیئے مزید اضلا ع کی ضرورت بھی لہذا اب اس کو توڑکر بہت سے اضلاع بنا دیئے گئے۔ تاکہ نہ کچھ رشوت خور انتظامیہ سے بچےنہ ترقی ہو ۔کاش کہ ہمارے حکمراں بھی ان اپنے پڑوسیوں سے سبق لیتے، جنہوں نے چالیس سال کے قلیل عرصے میں خود کو کہیں سے کہیں پہو نچا دیا ۔اور اس ریگستانی علا قہ کو دنیا کے لیئے کشش پیدا کر کے جنت نظیر بنا دیا کیونکہ انہوں خود نے اپنا پرو فا ئل لو رکھا اور بد عنوانی اپنے یہاں پیدا نہیں ہونے دی۔
یہ ہم کہاں اپنا دکھ لے بیٹھے چلیئے اگلی قسط میں آپ کو عرب اما رات کے دا ر الحکومت کی سیر کرا ئیں گے۔۔۔۔ باقی آئندہ