16.10.2026, 09:19pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔ آٹھویں قسط
12.06.2011, 06:23am , اتوار (GMT+1)

شمس جیلانی ۔ وینکور
ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہو نچے تھے کہ ہم نے عرب اما رات کی سب سے بلند ترین چوٹی کی سیر کی۔ اب ہم اس کے بعد آپکو العین کے دوسرے تفریحی مقامات کی طرف لے چلتے ہیں ۔ مگر ہمیں رات کو واپس ابو ظبی پہونچنا تھا اور اندھیرا پھیل چکا تھا۔ لہذا اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں دیکھ سکے  کہ صرف شہیدوں میں نام لکھانے کے لیئے جو قابل ِ دیدمقامات تھے ان کے سامنے سے گزرے ۔سب سے پہلے وہ تارییخی قلعہ باہر سے دیکھاجس میں کبھی موجودہ شا ہ الخلیفہ بن زید بن نیہان کے والدہ ما جد پیدا ہو ئے اور چالیس پہلے تک وہاں مقیم بھی تھے، لیکن جب انہوں نے امارات کا اتحاد بنا یا اور وہ اس کے مرکزی صدر بنے تو انہوں نے ابو ظبی کو اپنے دار الحکومت کے لیئے اس وجہ سے پسندکیا کہ العین ایک سرے پر تھا جبکہ ابو ظبی مر کزی اہمیت رکھا تھا لہذا وہاں پہو نچنا لو گوں کے لیئے مشکل تھا جبکہ یہاں آسان تھا چونکہ وہ عوام کو سہولت دینا چا ہتے تھے لہذا انہوں اسلام آباد بنا نے کے بجا ئے ان کے قریب رہنے کو تر جیح دی؟

اس قلعہ کی ہم تصویر یہاں دے رہے ہیں ۔جو کہ اب میوزیم قرار تو دیا چکا ہے، مگر ابھی پوری طرح مکمل نہیں ہوا ہے جوکہ٢٠١٤ تک مکمل ہو گا۔ اس کے علا وہ دومال ہیں ۔اور دیکھنے کی چیزوں میں اگر وقت ہے تو جنگل میں منگل منا نےکے لیئے بہت سے تفریحی مقامات بھی ہیں جن کے پیکج آپ کہیں سے بھی انٹر نیٹ یا فون سے لے سکتے ہیں ۔اس کے لیئے انہوں ہزاروں سال پہلے کی ٹیکنک اپنا ئی ہو ئی ہے جو وہ دشت میں ہریالی لا نے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔ جسے ہم اپنے پہا ڑی علاقے میں کا ریزیز کہتے، جبکہ اس نظام کووہاں کی مقامی زبان میں  فا لیجا کہاجا تا ہے۔ یہ لفظ ہما رے ہاں پہونچا تو مگر اس کی شکل وہ نہیں رہی ۔ اور ہم دریا کے کنا رے خربوزہ تربوز اور ککڑی وغیرہ جوکا شت کرتے ہیں اسے فا لیز کہتے ہیں ۔

 چونکہ ہم نے بہت بڑا ریگستاں جو پہلے کبھی تھر پارکر کہلا تا دیکھا ہوا تھا لہذا دوبارہ دیکھنے کی طلب نہیں تھی۔ جب ہندوستان تقسیم ہوا تو پارکر ہندوستان کے حصہ میں چلا گیا اور تھر ہما رے پاس رہ گیا اس صورت میں بھی اس کا جو کوہ نور تھا یعنی نگر پا ر شہر، جو کہ ہزاروں سال پہلے کی تہذیب کا امین ہے جہاں بدھ مت کے مندر ہیں اگر اس کو تفریح گاہ میں تبدیل کردیا جا تا تو دنیا کی کم از کم ایک تہا ئی آبادی اسکی یا ترا ضرور کر تی اور اس سے بے انتہا زرِ مبا دلہ  بھی آتا ؟ جانے دیجئے ہم کو ئی بت پرست تھوڑی ہیں بت شکن ہیں ۔

 تھر جس میں بہت عرصے تک ریت ہی ریت تھی وہ ہم نے دیکھا ہواتھا، اور وہ منظر بھی دیکھا ہوا تھا کہ وہاں جب با رش ہو جا تی تو، اس کی رتیلی پہاڑیاں کشمیر کا سا سماں پیش کرتی تھیں۔ مگر وہاں پا نی اتنی گہرا ئی میں پا یا جا تا تھا کہ جینا مشکل تھا ۔چونکہ اس علا قے میں ڈیم وغیرہ کچھ نہیں تھے اس لیئے نہریں بھی نہیں تھیں لہذا وہ تالابوں میں بارش کاپانی ذخیرہ کرلیتے تھے اور اسی کو پو رے سال جانور اور انسان ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے اور دنیا بھر کی بیماروں کا شکار  رہتےتھے۔

 سواری کے لیئے پہلی جنگ ِ عظیم میں جو فوجی ٹرک بیکار ہو گئے تھے وہ وہاں کی سیر اور راہ داری کے لیئے کام آتے تھے۔ جس کو وہاں کی زبان میں کیکڑے یا چھکڑے کہتے تھے۔ اس کے ڈرایئور کی کیبن کی اصلاح کرکے کیبن کی شکل بنا لی تھی ۔لہذا جو عوام کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے، ان کے لیئے وہ فرسٹ کلاس کا کام دیتا تھا، پچھلے حصے میں پہلے بوریاں لادی جا تیں ،پھر بکریا ں اور مرغیاں اور مساوات کا مزید ثبوت دینے کے لیئے ان کے ساتھ انسان بٹھا دیئے جا تے تھے ۔

ان لوگوں کو شکا یت تھی کہ انہیں بہت دشوار گزار سفرر کر کے اپنے ہر کام کے لیئے ضلعی ہیڈ کوارٹرر میر پو ر خاس جا نا پڑتا ہے جو شروع ہی سے اس ضلع کا صدر مقام تھا جو ضلع تھر پار پا کر کہلا تاتھا، گوکہ ایک وجہ یہ بھی تھی، پھر اقرباء پروری کے لیئے مزید اضلا ع کی ضرورت بھی لہذا اب اس کو توڑکر بہت سے اضلاع بنا دیئے گئے۔ تاکہ نہ کچھ رشوت خور انتظامیہ سے بچےنہ ترقی ہو ۔کاش کہ ہمارے حکمراں بھی ان اپنے پڑوسیوں سے سبق لیتے، جنہوں نے چالیس سال کے قلیل عرصے میں خود کو کہیں سے کہیں پہو نچا دیا ۔اور اس ریگستانی علا قہ کو دنیا کے لیئے کشش پیدا کر کے جنت نظیر بنا دیا کیونکہ انہوں خود نے اپنا پرو فا ئل لو رکھا اور بد عنوانی اپنے یہاں پیدا نہیں ہونے دی۔

یہ ہم کہاں اپنا دکھ لے بیٹھے چلیئے اگلی قسط میں آپ کو عرب اما رات کے دا ر الحکومت کی سیر کرا ئیں گے۔۔۔۔ باقی آئندہ

:دیگر مضامین
(10.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ تیسری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(08.06.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 44ویں قسط
(06.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ ساتویں قسط
(03.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ دوسری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(31.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 43ویں قسط
(29.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ چھٹی قسط
(28.05.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ پہلی قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(21.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔5ویں قسط
(21.05.2011) بزم اردو لندن کی شام فیض کے نام....ایک یادگار شام
(17.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 41ویں قسط
(14.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔چوتھی قسط
(13.05.2011) ٹورنٹو میں اشفاق حسین کی تین نئی کتابوں کی تقریب رونمائی
(10.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 40ویں قسط
(08.05.2011) سسکیوں بھرا آنگن ۔۔۔۔از؛ سید مصباح حسین جیلانی ۔سڈنی
(05.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔تیسری قسط
(02.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 39ویں قسط
(27.04.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔دوسری قسط
(24.04.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 38ویں قسط
(18.04.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔پہلی قسط
(14.04.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 37ویں قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں