جب سے خدا نے آدم (ع) کو خلق کیا اور ان کے صلب سے ھابیل اور قابیل پیدا ھوئے , تب سے اختلافات اور جھگڑوں نے انسانوں کے درمیان سر اٹھا رکھا ھے ۔ سو جنگ اور جھگڑے انسان کے لئے ایک فطری تقاضا سے بن گئے ھیں ۔ اور جوں جوں تاریخ کا سلسلہ دراز ھوتا ھے اختلافات اور جھگڑے بڑھتے ھی دکھائی دیتے ھیں کم ھوتے کہیں نظرنہیں آتے ھیں ۔
انسان
ی تاریخ چاھے حضرت عیسیٰ کی باز گشت تک ھو یا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت تک ھو ، کوفہ ھو کہ مکہ سب کچھ پہلے دن کی طرح ویسے ھی چلتا جا رھا ھے اور جھگڑے امن کی بجائے جنگ کا روپ لے رھے ھیں ۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو انسانی اختلافات کو سات اہم ترین حصوں پر تقسیم کیا جا سکتا ھے
نسلی اختلافات
قبائلی اختلافات
زمینی اختلافات
قومی اختلافات
مذہبی اختلافات
.سیاسی اختلافات
۔لسانی اختلافات
ان اختلافات کے پس منظر میں بدگمانی ھر فساد کی جڑ رھی ھے ۔ اور دو فریقین کے درمیان یہی بدگمانی ایک دوسرے کے خلاف اھانت آمیز اور شرانگیز سلوک کا باعث رھی ھے اور پھر جس کے جو بس میں ھوتا رھا وہ کر گزرتا رھا ۔ اور انہی رنجشوں اور جھگڑوں کی دردناک تصویر ترقی پزیر ملکوں میں جنگ اور جنازوں کی شکل میں ھر جگہ دیکھی جا سکتی ھے۔
اسی رسہ کشی کے دوران طاقتور کا سب سے کاری وار کسی کمزور کو مزید کمزور کرنا ھوتا ھے ۔ انسانی اور اخلاقی دیوالیہ اس وقت نکلتا ھے جب قومیں جہالت کے اندھیروں میں دکھیل دی جاتی ھے ۔ انہیں علم حاصل کرنے سے روک دیا جات
ا ھے ۔ اسی ضمن میں کبھی عوامی کتاب خانوں کو نذر آتش کر دیا جاتا ھے اور کبھی جو ضرورت پڑے تو طباعت اور نشر و اشاعت پر پابندی بھی عائد کردی جاتی ھے۔
ایسی ھی تاریخ سے مسمانوں کی زوال کی تاریخ بھری پڑی ھے ۔
برصغیر کی سر زمین پر سیاسی اختلاف کے گہرے بادل اُس وقت سے ھی مسلمانوں کی تاک میں پیچھے ھو لیئے تھے جب غیر مسلموں نے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اپنے لئے ایک مظبوط قلعہ بنایا تھا اور پھر امذھبی بٹوارے کا شوشہ چھوڑ کر انسانی خون بہایا گیا تھا ,پھر ان ٹکڑوں کو بھی مستحکم نہ رہنے دیا اور پاک وبھارت کوعدم استحکام کی سولی پر چڑھا کر فرقہ وارانہ لسانی ، زمینی ، قومی ، مذھبی جھگڑوں میں الجھا کر ایسٹ پاکستان، بابری مسجد اور کشمیر جیسے مسائل پر ایک دوسرے کو نفرت کی جنگ میں جھلسا دیا اور پھر نسلی اختلافات کی راکھ ایسے اڑی کہ پاکستان کو بھی دوٹکڑوں میں تقسیم کرادیا۔
آج پاکستان کے ستانوے فیصد اور انڈیا کے چودہ فیصد مسلمانوں کوملا کر دنیا بھر میں 1.5 بلین سے زائد مسلمان ھیں لیکن انہیں اپنے ھی ملکوں کے حصے بخروں نے مسلمانوں ھی کو اتنا بے دست و پا کردیا ھے کہ وہ ھر حصے میں اپنے مذھبی و قانونی حقوق سے محروم ھیں ۔ ھر خطے میں چور ڈاکؤں کا راج ھے ، بد امنی ، لاقانونیت ، اسلحے کے بے دریغ
استعمال نے بدامنی اور عدم تحظ کے احساس کو جنم دیا ھے ۔جس سے تمام ترقی پذیر ریاستوں میں بشمول مسلم اور غیر مسلم صرف بھوک اور بیماری سے لڑ رھے ھیں ۔ اُنہیں علم اور ھنر کی طاقت سے محروم کیا جا رھا ھے تاکہ نسل در نسل غلام پیدا کیاجاسکیں ۔
پھر انہی غلاموں کی پسماندگی میں مزید اضافہ کرنے کے لئے طاقتور ملک کے لیئے ضروری ھو جاتا ھے کہ کسی بھی طرح سے کسانوں کے غلے کے ڈھیروں کو نذر آتش کر دیا جائے ,تجارتی کشتیاں کبھی ڈبو دی جائیں تو کبھی بحری قزاقوں کے ھاتھوں لوٹ لی جایئں ,تجارتی اور صنعتی مراکز میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑکا دی جائے , اچانک ھی کوئی دریاؤں کے بند توڑ کر پلوں کو بم سے اڑا دے اور بستیوں کی بستیاں ویران کر دی جائیں ،کسی دن اچانک ھی دہشت گردوں کی فصل تیار ھو جائے اور پھر وہ سب ھو جائے جو کبھی کسی نے سنا نہ ھو اور دیکھا نہ ھو۔
اور حکمران اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیئے انہی طاقتور دشمنوں سے جا ملیں اور ھر جائز اور ناجائز کام سے اپنی ساکھ اور املاک کو بچا لیں ، قومی خزانہ میں خورد برد اور لوٹ کھسوٹ کی ایسی صورتحال پیدا کر دیں کہ ملک کے پاس اپنے د
فاع ,ملکی معیشت اور ترقیاتی امور کے لئے کوئی رقم قومی خزانے میں نہ بچے اور پھر یہی سارے ترقی پزیر ملک آئی ایم ایف کی ناجائز شرائط پر ملکی اثاثے اور انسانوں کے مستقبل گروی رکھ دیں ۔
دوستو چاھے آپس کی علم دشمنی ھو کہ خود غرضی یاپھر جہالت ھو یا انانیت ، چاھے ھنگو کے فسادات ہو یا کراچی کے حالیہ اختلافات
چاھے گزرے ھوئے کل میں گجرات کے فسادات تھے یا آسام و نیپال کے اختلافات تھے لیکن درحقیقت ترقہ پذیرملکوں کو آپس میں ھی لڑوایا گیا تھا ۔
بلکہ دور کیوں جاتےھیں حالیہ ممبئی کی دہشت گردی کو ھی لے لیجیئے یا پھر بنکاک کے ابتر حالات کے بعد یونان میں گزشتہ تین روز سے شدت اختیار کرتے ھوئے قومی فسادات کی بات کر لیتے ھیں ۔ سب میں ایک ھی قدر مشترک ھے اور وہ ھے ترقی پزیر ملکوں کی لاقانونیت اور تعلیم و ھنر سے دوری اورقوموں میں بڑھتا ھوا عدم تحظ کا احساس ھے جس نے آپس کے نظریاتی اختلافات کوپر امن سلجھانے سے پہلے ھی جھگڑوں میں بدلا ، پھر جھگڑوں کو جنگ میں بدل ڈالا.
لیکن کتنے افسوس کی بات ھے کہ ھم میں سے ابھی تک کسی کو بھی اس بات کی سمجھ نہیں آ رھی ھے کہ یہ ترقی یافتہ ملکوں کی اپنی ھی بقا و سلامتی کے لیئے تیار کی ھوئی اُن کی اپنی ھی ایک سازش ھے کہ ترقی پذیر ملکوں میں جنگ جاری رہے۔جنازے اٹھتے رہیں اور جھگڑے ہوتے رہیں اور وہ خود جہاں کہیں بھی ھوں خوش و خوشحال رہیں اور اُن کے اسلحے کی فیکٹریاں چلتی رہیں ۔