15.10.2026, 12:24pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

سیاسی استخارے اور ھم بیچارے
14.10.2008, 11:43am , منگل (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
سب کہتے ھیں کہ کاروبارٍ دنیا کب رکا ھے ۔اُس وقت بھی چلا ھے جب کوئی نہیں تھا ۔ اور یہ بھی سب کہتے ھیں کہ برا وقت بھی اسی طرح گزر جاتا ھے جیسے اچھا وقت نہیں رھتا ۔

لیکن دوستو مجھے تو ھمیشہ ھی یوں لگا ھے جیسے برا وقت ٹھہر جاتا ھے ۔ کسی کے کہنے سننے سے  بھی نہیں جاتا ۔ جیسے یہی دیکھیئے کہ ھم عوام اپنی ھی حکومت کی نظر میں  ایک مدت سے بھولی ہوئی ہیں اور جیسے کوئی بھول جانے والی چیز سمجھی جاتی رھی ھیںاور اگر سچ پوچھیں توابھی تک ھر حکومت ھر دور میں اٍس سے زیادہ عوام کو نہ کچھ سمجھتی ہے اور اُسے اس سے زیادہ کوئی وقعت دیتی ہے۔

اگر آپ سب کو یاد ھو تو جب پاکستان بنا تھا تو ایک مشرقی پاکستان تھا اور ایک مغربی پاکستان تھا ۔ اور اُسے دولخت کرنے کے لیئے بھی جو جو کھیل کھیلے گئے اُس سے کچھ لوگ تو ابھی تک لا علم ھیں ۔

اور پھر اٍس وقت پشاور میں جو امن بچانے کے لیئے لشکرٍاسلام اور انصار ٍاسلام پر بم بارود برسایا جا رھا ھے اور جسے  بچاؤ کی تدبیر بتائی جارھی ھے وہ بھی کوئی ایسا معمہ نہیں جو ناقابل حل ہو اور اکثر احباب اس سے آشنا ہیں کہ ہم کسی کی جنگ اپنے گھر کے اندر لڑ رہے ہیں اور اپنے ہی جوان مروا رہے ہیں اور جماعت اسلامی کے رھنما جناب سراج الحق آج ٹی وی پر بتا گئے ھیں کہ یہ سب امریکہ کو خوش کرنےکے لیئے کیا جا رھا ھے ۔

سیاسی استخارے والوں کا اپنا حساب کتاب ہے اور تسبیح کے دانے ہاتھ میں ہلاتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ بڑی سرکار سے کوئی مہمان ھونے کو ھے اور پاکستانی لیڈر خوب جانتے ھیں کہ اُنہیں انسانی خون منہ کو لگا ھوا ھے سو اُس کا انتظام  ھو رھا ھے ۔ کبھی مالاکنڈ تو کبھی سوات تو کبھی شمالی وزیرستان کے گھر تو کبھی باڑہ اور شلوبر کی خیبر ایجینسیاں ۔

دیکھیئے عوام کو پھر پتہ نہیں چل سکا کہ دھشت گردی کے نام پر دو ارب ڈالر ھضم کرنے والے پاکستانی لیڈروں کے لیئے یہ ناگزیر تھا کہ یہ ڈرامہ رچایا جائے بلکہ اتنی خوبصورتی کے ساتھ کھیلا جائے کہ دوبارہ کچھ اور ارب ڈالر بھی شاباشی میں لیئے  جا سکیں ۔اب اٍس کے لیئے چاھے پاکستان لخت لخت ھو جائے یا عوام پر زندگی اتنی تنگ کر دی جائے  کہ خود ھی موت چنتی پھرے ۔

عوام تو اتنی بھولی ھے  کہ وہ زرداری سے  یہ تک پوچھنا بھول گئی کہ کیا تم پاکستان کے  ھیڈ آف دی اسٹیٹ ھو۔  جو ھر جگہ عوامی خرچ پر پردان منتری بن جاتے ھو ۔ کبھی  کہتے ھو کہ پی سی او کے ججز کو نہیں مانتے ھو تو پھر ایک ہی سانس میں اُن کے لیئے فنانس کی منظوری بھی دیتے ھو ۔ اور پھر یہ بھی  کہتے ھو کہ جسٹس افتخار کو ابھی تک آیئنی مانتے ھو اور پھر انہیں عدالتوں میں آنے بھی نہیں دیتے ھو  ۔ حیرت ھے کہ دوغلا پن عدل ٹھہرا ۔ اور سب مل کر کہتے ھیں کہ  ججز کی بحالی پاکستان کی بحالی ھے مگر زرساری کو اپنے ہی مقدمات کی رام کہانی یاد ہے کہ انہیں ضمانت پر فلاں جج نے رہا نہیں کیا تھا۔

دوستو یہ سچ ھے کہ زرداری جیسے ھنر مند کم ھی اٍس دنیا کو نصیب ھوئے ھیں ۔ انہوں نے مشرف سے محبت کر کے صرف پایا ھی پایا ھے کھویا کچھ نہیں۔ ہاں جو بے نظیر کی صورت میں کھویا ہے تو وہ ساری قوم نے کھویا ہے،غربت کی چکی میں پسے عوام نے کھویا ہے،برصغیر کی عورتوں نے کھویا ہے۔

زرداری کا تو یہ حال ہے کہ پہلے تو اُن سے اپنی پسند کے ججز بدلوائے ، اپنے سارے داغ دھوئے اور جب تک پاک دامن صاف ستھرے نہیں ھو گئے اُس وقت  تک انہوں نے ججز کے بارے میں یا مشرف کے خلاف کبھی کوئی بیان نہیں دیا ۔ اب جبکہ سب پکے کاغذوں پر چھپ گیا ھے  کہ وہ سیاسی حج کر چکے ھیں تو پھر نواز شریف کے ھمنوا ھو گئے ۔ اور بجٹ کی منظوری کے لیئے اُن کے حتمی ووٹوں سے عوام کی خوشحالی کے لیئے مہنگائی میں چار چاند لگا دیئے ۔

 اور اٍس سارے قصے میں ھم پھر بیچارے  کے بیچارے کہ زرداری سے پوچھنا بھول گئے  کہ میر مرتضی کا کیس لڑنے والا جج ایکسٹینشن  پر  آئی جی سندھ کیوں اور کیسے ھو گیا ۔ اور یہ بھی  کہ ھمارے خرچوں پر جو اُن کا کیس انگلینڈ ، سویئٹزر لینڈ اور نیب میں لڑا گیا تھا وہ سب کیا تھا ۔ کیا فقط ایک کھیل تھا لیکن  اُس کھیل پر صرف ھونے والے کروڑں پاکستانی روپے کس کے تھے ؟

اور اب یہ بھی پوچھنا یاد نہیں رھا کہ ھمارا صدر کہاں ھے ۔ کس کونے میں پڑا ھے ۔ کوئی بیان نہ کوئی شاھی فرمان ۔ جہاں دیکھو وہاں صرف رحمان ملک اور شیری رحمان ھی نظر آتی ھیں اور تو اور ڈمی پی ایم مثلٍ یوسف بھی شازونادر ھی نظر آتے ھیں ۔ لگتا ھے کہ یہی جمہوریت ھے کہ جن کو کبھی سامنے آنے کا موقع نہیں ملا اب اُن کی باری ھے ۔اور ہاں کیا اس قوم کو رحمان ملک کے بارے میں کچھ بتایا جائے گا کہ یہ حضرت کون تھے،پاکستان سے کیسے اور کیوں لندن گئے،کیسے وہاں سیاسی پناہ میں رہنے کے باوجود لندن کے مہنگے ترین علاقے میں بے نظیر کے میزبان رہے اور وہ جو مانچسٹر میں ایک ٹی وی چینل کھولا تو اس کی رقم کہاں سے آئی۔

اب کہانی یوں ھے سرحد پاور سوات میں  جو مرضی ھوتا رھے ، بہت ھوا تو رحمان ملک اس مسلے کو دیکھ لینگے آخر مشیر برائے داخلی امور کیوں ھیں ۔ ججز کو بھی تو وہی دیکھتے آئے ھیں اور زیادہ بیان بازی کی ضرورت ھوئی تو شیری رحمان کس مرض کی دوا ھیں ۔ زرداری تو ‘‘ڈو ناٹ ڈسٹرب ‘‘کا بورڈ لگائے اندر باھر کے جوڑ توڑ میں مصروف ھیں ، انہیں صدر بننے سے غرض ۔ نواز شریف کو پرائم منسٹر بننے کی خواہش جو بھی نہ کرائے کم ھے اور اٍس کے لیئے وہ مشرف تک کو“  آمر “  کہنے کے لیئے پی پی پی کی طرف دیکھتے ھیں ۔

 حقیقت یہ ھے کہ کوئی بھی اپنے آپ سے آگے نہیں سوچ رھا ۔ اپنے مفادات کی جنگ میں ھر چیز جائز سمجھتے ھوئے   زرداری مشرف کو کبھی گلے لگاتے ھیں تو کبھی مشرف اُن کے قدموں کو مظبوط کرنے کے لیئے خود ھی عوامی مسلم لیگ بنواتے ھیں ۔ تو وہی  نواز شریف  اندورنٍ خانہ تو زرداری کے ساتھ مل کر “ تم صدر میں پی ایم  “  کا کھیل کھیلتے ھیں اور سب کے سامنے اعتزاز احسن کے ساتھ جمہوریت کی بحالی کے نعرے لگاتےھیں اور بیچاری  پھر بھولی اور بھولنے والی عوام کو یاد نہیں رھتا کہ فیصلہ کُن پوزیشن تو نواز لیگ کے پاس ھی ھیں ۔

اٍس سارے کھیل اور کہانی کے پسں منظر میں سب کا سانجھا دشمن یعنی اُن راہ کا روڑا صرف مشرف ھے جسکے دم سے یہ اتحاد قائم و دائم ھے اور اٍسی اتحاد کا نام جمہوریت رکھا گیا  ھے۔  تو دوستو سیاسی استخارے سچ بتلا رھے تھے کہ مشرف ھی دراصل جمہووریت کا دوسرا نام ھے اور اُن کا ھونا پاکستان کی سلامتی کے لیئے ناگزیر ھے ، ورنہ سچ تو یہی تھا کہ

اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کر دیا
وگرنہ تو میرا نہ تھا اور میں تیرا نہ تھا

:دیگر مضامین
(14.10.2008) لانگ مارچ کا ایک دور اندیشانہ اختتام
(14.10.2008) غلطیاں یا مشعلٍ راہ
(14.10.2008) مقدمہ اب چُپ رھنے والی عوام پر چلایا جائے
(14.10.2008) وہ کھلاڑی جو کچھ مختلف کر سکتے ھیں
(14.10.2008) جیتے گا کون ایسی سیاست کی جنگ میں
(14.10.2008) بے چینی ، بے اعتباری ، عدم تحفط اور کتنے الزام
(14.10.2008) دوست ھوتا نہیں “کیوں “ ھر ھاتھ ملانے والا
(14.10.2008) میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے
(14.10.2008) صدر+وزیراعظم=زرداری
(14.10.2008) تین مئی آزادی ٍصحافت کاعالمی دن
(14.10.2008) ھر چیز میزان میں اچھی لگتی ھے
(14.10.2008) دوستو مبارک ھو اب تعلیم کی ھمیں کوئی ضرورت نہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں