امریکہ کی زندگی کے حوالے سے کچھ نئی باتوں کا انکشاف ہوا۔ ایک بات جو بڑی اچھی لگی وہ یہ کہ ہم لوگ ڈیوس اینڈ ایلکنس کالج کے جس ‘ گریس لینڈ اِن ’ میں ٹھہرے ہوئے تھے وہ ایک تھری اسٹا ر ہوٹل کے برابر کی سہولیات کا حامل تھا ۔ معلوم یہ ہواکہ اس کالج میں ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم ہوتی ہے اور یہاں پڑھنے والے طلبہ و طالبات ہی اس کا پوار مینجمنٹ

سنبھالتے ہیں۔ سارا کام انھیں کے ذمے ہوتا ہے ۔اس طرح ان کی یہ پریکٹیکل ٹرینگ بھی ہوجاتی ہے اور گیسٹ ہاؤس کو کسی طرح کا اقتصادی بوجھ بھی نہیں ہوتا ہے۔شاید ہمارے یہاں کے طالب علم اس کو کسی طرح گوارا نہیں کریں ۔لیکن یہ وہاں کی تہذیب کا حصہ ہے کہ کوئی کچھ بھی کام کرے ان کے لیے باعث شرم نہیں کیونکہ بہت سے طلبہ چھٹیوں میں کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں کام کرلیتے ہیں ، خود اس کالج کی شاندار کینٹین میں ہم لوگوں نے دو تین وقت کا کھانا کھایا جو ایک اچھے ہوٹل کے کھانے سے کسی طرح کم نہیں تھا۔ معلوم یہ ہواکہ کچھ طلبہ و طالبات یہاںپارٹ ٹائم کام کرتے ہیں یہ ان کے لیے شرم کا سبب نہیں ۔ کینٹین کا انتظام بھی ایسا کہ ہر طرح کے کھانے اور مشروبات موجود تھے ۔
خود سے کھانا لینا ہے اور کھانے کے بعد پلیٹیں بھی اٹھا کر متعینہ جگہ پر رکھنا ہے۔ اس طرح بہت سے طالب علم اس کینٹین میں جز وقتی کام کر کے اپنی تعلیم کا خرچ نکالتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں اسکولوںمیں پڑھنے والے تمام طلبہ و طالبات کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کمیونٹی سروس کریں ۔ یہ ان کے کریکولم ( تعلیم سرگرمیوں ) کا حصہ ہوتا ہے۔وہ طالب علم جو کمیونٹی سروس میں حصہ نہیں لیتے ان کو سرکاری نوکریاں ملنی مشکل ہوتی ہیں ۔ اس کمیونٹی سروس میں جھاڑو دینے سے لے کر صفائی ستھرائی کا کوئی بھی کام ہوسکتا ہے۔یہ پہلو ہمیں بہت اچھا لگا کہ جہاں ہم پڑھتے ہیں وہاں کسی کام کو کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے اور یہ ہماری مستقبل کی زندگی کی ٹرینگ بھی ہوتی ہے۔
البتہ ہماری تہذیب سے جو چیز بالکل منفرد تھی وہ یہاں کی آزادانہ زندگی ۔ جہاں لڑکے لڑکیوں کا بے تکلف اختلاط ہر جگہ نظر آیا ۔ ظاہر ہے یہ ان کی زندگی کا حصہ ہے ۔ لیکن یہاں بھی ایک بات نظر آئی وہ یہ کہ جو لوگ روایتی عیسائی ہیں ، ان کے یہاں مشترکہ زندگی کچھ جھلک ملتی ہے۔وہ اپنی بچیوں کی شادیاں جلد ہی کر دیتے ہیں ۔ ہمیں ائیر پورٹ پر جو خاتون لینے آئیں تھیں وہ ریسرچ اسکالر تھیں ، ان کی عمر تیس سے بھی کم تھی اور وہ شادی شدہ تھیں ۔ ان کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ ان کے یہاں ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں کا خیال ہے ۔ حالانکہ ہمارا یہ عام تصور ہے کہ امریکہ میں بچے بڑے ہوتے ہی اپنے من کے مالک ہوتے ہیں۔ ایسا ضرور ہے لیکن روایتی قسم کی فیملی کچھ مختلف ہے۔ وہاں گیسٹ ہاؤس میں ایک پمفلیٹ دیکھنے کو ملا جس کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ یہاں لڑکے لڑکیاں اپنے ساتھی کا انتخاب خود کرتی ہیں اور اس میں کوئی سماجی برائی نہیں ۔ کسی دوست کے ساتھ ڈیٹ پر جانا اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا اس کے بعد یہ طے کرنا کہ ان کے ساتھ شادی ہوسکتی ہے یا نہیں؟

ہمیں اس وقت اور حیرت ہوئی کہ ایک ہندستانی پروفیسر نے اپنی بیٹی کے بارے میں بتایا کہ وہ پڑھ لکھ کر بڑے اچھے عہدے پر فائز ہے لیکن ہمارے کہنے کے باوجود وہ ڈیٹ پر جانے کا وقت نہیں نکال پا رہی ہے۔ ان کی اس بات سے بھی اندزہ ہوا کہ یہ آزادی امریکی زندگی کا حصہ ہے ۔ خیر ہم اس پمفلیٹ کا ذکر کر رہے تھے جو پولیس انتظامیہ کی جانب سے تھا جس کے سرورق پر لکھا تھا ‘‘Dating Violence “اور اندرونی صفحات پر بہت سی تاکیدیں لکھی ہوئی تھیں جو ڈینٹنگ کے اصولوں کے مخالف ہو سکتی ہیں۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ڈیٹینگ کے بہانے بہت سے کرائم بھی ہوتے ہیں اور اس کے کئی اصول بھی ہیں ۔یعنی ڈیٹینگ پر گئی لڑکی کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کیا جاسکتا اور نہ اسے کسی بات کے لیے مجبور کیا جاسکتا ہے ۔یہ اور کئی طرح کی ہدایات اس میں درج تھیں۔
بہر کیف یہ ان کی تہذیب کاحصہ ہے ۔ اس کے علاوہ ان میں اور مشرقی تہذیب میں جو نمایاں فرق نظر آیا وہ یہ کہ وہ مہمانوں کا استقبال بھی مصنوعی انداز میں کرتے ہیں ۔ جو لوگ ان کے انداز سے واقف نہیں ہیں انھیں بڑی مایوسی ہوگی کیونکہ ہم مہمانوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں لیکن وہ ہماری طرح مہمانداری اور ضیافت نہیں کرتے۔ہاں ایک بات جو مجھے بہت اچھی لگی وہ یہ کہ جس طرف نکلیں کوئی بھی مل جائے وہ آپ کو ہیلو ضرور کہے گااور جواب میں مُسکرائے گا۔ حالانکہ یہ ہماری تہذیب ہے کہ کسی سے ملو تو سلام میں پہل کرو لیکن ہم اپنی تہذیب بھولتے جارہے ہیں ۔خیر تین دن کے سمینار کے بعد ہم نیویارک کے لیے روانہ ہوئے۔
اس سفر میں امریکہ کے تین شہروں ویسٹ ورجینیا، واشنگٹن اور نیو یارک کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ ان تینوں شہرو ں کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں تینوں شہروں کی زندگی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھی۔ورجینا روایتی طرز کا شہر ہے۔ واشنگٹن سیاسی سرگرمیوں کا شہر اور نیو یارک مختلف تہذیب و ثقافت کا شہر ہے۔‘‘نیویارک امریکہ کا سب سےبڑا شہر ہے اور دنیا کےعظیم ترین شہروں میں سےشمار ہوتا ہے جو دریائے ہڈسن کے کنارے واقع ہے۔ نیویارک کاروبار، تجارت، فیشن، طب، تفریح، ذرائع ابلاغ اور ثقافت کا عالمی مرکز ہےجہاں کئی اعلیٰ نوعیت کےعجائب گھر، آرٹ گیلریاں، تھیٹر، بین الاقوامی ادارےاور کاروباری مارکیٹیں ہیں ۔ اقوام متحدہ کاصدر دفتر بھی اسی شہر میں ہےجبکہ دنیا کی کئی معروف بلند عمارات بھی اسی شہر کی زینت ہیں۔ یہ شہر دنیا بھر کےسیاحوں کےلئےباعث کشش ہے۔’’ 1952ءمیں اقوام متحدہ کےدفاتر کےقیام نےاسےدنیا بھر کےشہروں پر سیاسی برتری دلائی۔نیو یارک 11 ستمبر 2001ءکودہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنا اور شہر کی بلند ترین عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کےتباہ ہونےسے اس کی شہرت اور بھی بڑھ گئی۔ ویکی پیڈیا کے مطابق ‘‘نیویارک کو دنیا بھر کےذرائع ابلاغ کادارالحکومت بھی کہلاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں عالمی معروف ادارےاور ٹائمز اسکوائر ،ٹائم وارنر، نیوز کارپوریشن، ہیرسٹ کارپوریشن اور وایا کوم اسی شہر سےتعلق رکھتےہیں۔
دنیا بھر کی آزاد فلموں میں سےایک تہائی نیویارک میں پیش کی جاتی ہیں۔ 200سےزائد اخبارات اور 350 جرائد کےدفاتر شہر میں موجود ہیں۔ صرف کتب کی طباعت و اشاعت کی صنعت سےہی 13 ہزار افراد وابستہ ہیں۔ شہر امریکہ کے4 بڑےنشریاتی ٹیلی وژن اداروں اےبی سی، سی بی ایس، فوکس اور این بی سی اور دیگر کئی معروف کیبل ٹیلی وژن چینلوں بشمول ایم ٹی وی، فوکس نیوز، ایچ بی او اور کامیڈی سینٹرل کا ہیڈکوارٹر ہے۔انگریزی کے علاوہ اردو کے کئی ہفتہ وار اخبار بھی نیو یارک سے شائع ہوتے ہیں۔ نیویارک شہر بین الاقوامی کاروبار اور تجارت کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہےاور اسےعالمی اقتصادیات کےتین مراکز (نیویارک، لندن اور ٹوکیو) میں سےایک قرار دیا جاتاہے۔ تجارت، انشورنس، ریئل اسٹیٹ، ذرائع ابلاغ اور آرٹس کےعلاوہ شہر کےدیگر اہم شعبہ جات میں ٹیلی وژن اور فلم انڈسٹری، طبی تحقیق اور ٹیکنالوجی، غیرمنافع بخش ادارےاور جامعات اور فیشن شامل ہیں۔ نیویارک شہر پانچ علاقوں پر مشتمل ہے: مین ہٹن،بروکلن، کوئنز،برنکس،اسٹیٹن جزیرہ ۔ یہ پانچوں علاقےانتہائی گنجان آباد ہیں جس کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتاہےکہ اگر انہیں الگ شہر بھی سمجھا جائےتو یہ تمام دنیا کے50 گنجان آباد ترین علاقوں میں شامل ہوں گے۔’’

ہم لوگ نیو یارک میں مین ہٹن کے ڈاؤن ٹاؤن علاقے میں ایک ہوٹل میں رکے ۔ انٹر نیٹ کے ذریعے ہی ہم لوگوں نے اس ہوٹل کو بُک کرایا تھا ۔ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اس کے منیجر ہندستانی ہیں اور دہلی کے لاجپت نگر کے رہنے والے ہیں ۔ جب ہم یہاں پہنچے تو رات کاایک بج چکا تھا ۔ موسم سرد تھا اور ہلکی بارش بھی ہورہی تھی ۔ ہوٹل میں کھانے کا کچھ انتطام نہیں تھا اس لیے ہم لوگ باہر آئے ۔ دوسری اسٹریٹ پر ایک میکڈونل پہنچے لیکن کھانے میں کوئی چیز سبزی کی نہیں تھی ،کچھ بر گر تھے بھی تو اس میں بھی گوشت کی آمیزش تھی جو حلال نہیں تھا، ہمارے بار بار حلال پوچھنے پر اس نےڈیلنسی اسٹریٹ پر ساہیوال ڈیلی کا پتہ بتایا ۔وہاں پہنچ کر ہمیں خوشی ہوئی ، دوکان مالک بھائی عبد الماجد بڑے تپاک سے ملے اور ہفتوں کے بعد دال ، چاول اور گوشت دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور کھانے کا مزہ بھی آیا ۔ بھائی ماجد صاحب نے اپنی جانب سے ایک اور سبزی بھی کھلائی اور عمدہ چائے پلائی اور ہم سے بہت کم پیسے بھی لیے۔ جس تپاک سے ہمارے پاکستانی بھائی ملے کہ ہم کبھی نہیں بھول سکتے اور معاً خیال آیاکہ کاش ہم ہندستانی اور پاکستانی اسی طرح اپنے ملکوں بھی ملتے ۔
نیویارک کی پہلی صبح ہمارے لیے اور بھی سردی لے کر آئی ۔ لیکن ہم لوگ سیر کو نکل پڑے ۔ہر جگہ شہر کا میپ دستیاب تھا اور ٹرانسپورٹ کی رہنمائی بھی اس لیے ہم ڈاکٹر رضوان جو تجربہ کار سیاح ہیں کی رہنمائی میں نکل پڑے۔ میٹرو کے ذریعے پہلے گراؤنڈ زیرو میموریل دیکھنے گئے ۔ جو عمارت تباہ ہوئی تھی اس جگہ تعمیر کا کام تیزی سے جاری تھا۔ اور نیا ٹریڈ سینٹر اسی کےبالمقابل نئی آب و تاب کے ساتھ پرانی عمارت سے بھی زیادہ اونچی اور مضبوط کب کی بن چکی ہے ۔ یہ عمارت اسٹیل اور شیشے سے بنی ہوئی ہے ۔ باقی کئی عمارتیں زیر تعمیر ہیں ۔ اسے دیکھنے کے بعد ہم نے نیو یارک کے کئی علاقوں کو دیکھا اور خاص طور پر اسٹیچو آف لیبرٹی کو ۔ یہاں پہنچ کر اندازہ ہواکہ کس طرح سیاحوں کو اٹریکٹ کیا جاتا ہے ۔ فیری ( پانی کا جہاز) ہر آدھے گھنٹے پر مفت میں سیاحوں کو اس جزیرے کی سیر کراتی ہے جہاں اسٹیچو آف لیبرٹی ہے۔ انتہائی عمدہ انتظام ، دیکھ کر طبعیت خوش ہوئی ۔
اس کے بعد ہم لوگوں نے اپنے عزیزوں کے لیے یہیں سے تحائف بھی خریدے ۔مجوعی طور پر نیو یارک مشترکہ تہذیب وثقافت کا ایک خوبصورت شہر ہے اور اس کا امتیاز بھی یہی ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کے لوگ اس شہر میں موجود ہیں ۔لیکن کم وقت میں تمام مقامات کو دیکھنا ممکن نہیں تھا ۔ کیونکہ ۱۳ اپریل کی صبح دہلی کے لیے ہماری واپسی تھی ۔ دو دنوں میں اس شہر کو نہیں دیکھا جاسکتا ۔لیکن اہم مقامات کو دیکھ کر 13 اپریل کو ہم لوگ دہلی کے لیے روانہ ہوئے ۔ اس دفعہ امریکی وقت کے حساب سے ہمارا جہاز شام کے پانچ بجے نیو یارک سے روانہ ہوا۔ کچھ ہی دیر میں رات ہو گئی ۔ لیکن یہ رات صرف چار پانچ گھنٹے کی تھی ۔ اس کے بعد تمام راستے دن ہی دن تھا۔مگر سورج کی روشنی اتنی تیز تھی کہ ہم باہر نہیں دیکھ سکتے تھے۔اللہ کا شکر ہے کہ ہم خیر وخوبی سے 14اپریل کی شام دہلی واپس آگئے۔اور اب امریکہ کو نئے سرے سے دیکھنے کی کوش کر رہا ہوں۔