16.10.2026, 08:16pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔نویں قسط
19.06.2011, 06:24am , اتوار (GMT+1)

شمس جیلانی ۔ وینکور
علامہ اقبال  نے کبھی فرمایا تھا کہ جب اسلام کی نشاہ ِ ثانیہ ہو گی تو تہران مشرق کا جینوا بنے گا ۔ ایران تو میں نے ابھی تک نہیں دیکھا مگر سنا ہے کہ وہاں بھی ترقی ہو رہی ہے اور چونکہ ایران سے اسرائیل کی وجہ سے دنیا سے ٹھنی ہو ئی ہے، اس لیئے اس کی اچھی خبریں بھی با ہر نہیں آتیں ہیں،لہذا کچھ پتا نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا بنا رہا ہے؟ مگر ابو ظبی کے دیدہ ور فرماںرواں ضرور اس راہ پر چل رہے ہیں۔کہ وہ عملی طور پر جینوا تو بن چکے ہیں کہ کئی سیا حوں کہ لیئے کئی سیون اسٹار ہوٹل بنا چکے ہیں۔اور جس طرح سے وہ تیزی سے اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ وہ وقت دور نہیں ہے کہ وہ مسلمان ملکوں میں سب کو جلد ہی پیچھے چھوڑ دیں گے؟ کیونکہ انہوں نے دنیا کے تیسرے بڑے تیل کے ذخا ئر رکھنے کے با وجود دولت کو عیاشیوں پر خرچ نہیں کیا، اپنا طرز زندگی سادہ رکھا، اپنی دولت اپنے ملک کے بجا ئے غیرمکی بینکوں میں جمع نہیں کرا ئی بلکہ دوسرے ملکوں کے بینک خود خرید لیئے ۔ پیسہ اپنی زمین پر خرچ کیا اور دنیا کے سیا حوں کو ایک ایسا مر کز فرا ہم کر دیا جس میں اس سے کہیں زیادہ ہے جو یورپ میں ہے۔

 جبکہ یو رپین ملکوں کو قدرت نے خوبصورتی پہلے ہی سے عطا کی ہو ئی تھی ،انہوں نے صرف اسے سنبھالا، مگر ہمیں جہاں کہیں کچھ ملا بھی اسے بھی تباہ کر دیا ۔لیکن یہاں معاملہ دوسرا تھا کہ سوائے تپتے ہو ئے ریگستان کے ان کے حصہ میں کچھ نہیں آیا سوائے تیل کے ذخا ئر کے۔ اس میں بھی یہ اکیلے نہیں ہیں اور بھی کئی مسلمان ملک ہیں،ان کو بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تیل سے نوازا مگرانہوں نے اسے اپنی عیا شیوں پر خرچ کرنے کو ترجیح دی اور یاتو دنیا کا سب سے بڑا ً جواری ً کہلانے پر خرچ کیا،یا پھر مقدس مقام کو تجارتی بنا نے پر صرف کیا ۔ اب حرم کے اطراف کی بلنڈنگوں سے آنکھیں چکا چوند تو ہو تی ہیں، مگر وہ چکا چو ند ان سہولیات کو نگل گئی جو فاقہ مست قسم کے مسلمانوں کو حج کی سہولتیں فراہم کرتی تھیں ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب حج لاکھوں کا سودا ہوگیا، جو عام مسلمان کا کام نہیں رہا  جبکہ وہاں پہلے وہ مسافر خانے تھے جو ربا طیں کہلاتی تھیں، جنہیں ڈھاکر ان کی جگہ ہوٹل بنا دیئے گئے جو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے حرم کو چاروں طرف سے گھیرے ہو ئے تھیں ،جن کو تمام دنیا کہ خصوصا ً ہندو پاک کے والیان ریاست اور رو سا ءنے بنو اکر عوام کی رہا ئش کا مفت انتظام کر دیا تھا اوروہ ساری وقف اللہ تھیں جوکہ صدیوں سے چلی آرہی تھیں ۔ اس کی وجہ وہ ہدا یت تھی جو میرے آقا محمد مصطفیٰ (ص) نے فر ما ئی تھی کہ زائرین سے رہا ئش کے لیئے کو ئی کرا یہ نہ وصول کیا جا ئے؟ لہذا اس کے بعد سے جو خدام ِ کعبہ تھے وہ کھانے اور رہا ئش کا حجاج کا انتظام کا مفت کر تے تھے اور جو کچھ کو ئی دے جا تا وہ قبول کر لیتے۔ جبکہ ان رباطوں سے رہائش آسان ہو گئی تھی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جو صاحب ِ ثروت ہیں ان کے لیئے تو حرم کے چاروں طرف شاندار ہو ٹل ہیں، مگر جو جتنا غریب ہے اتنی ہی حرم سے دور رہا ئش پزیر ہے۔ کیونکہ ان مسا فر خانوں کو ڈھا کر چاروں طرف وہ ہو ٹل تعمیر کر دیئے گئے جس میں شاہی خاندان یا تو مالک ہے یا حصہ دار ہے۔
دیکھئے ہم پھر بہک گئے دومسلمان ملکوں کا تقابل کرتے ہو ئے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ابھی جو بیچینی کی لہر آئی اس نے سارے مسلمان ملکوں کو تو متا ثر کیا مگر چونکہ امارات کے عوام مطمعن تھے، لہذا وہاں کی فضا خوشگوار رہی۔

چلیئے واپس آتے ہیں، ہم وینکور سے عرب اما رات کے لیئے چلے تھے ،تو ہم مغربی میڈیا کے اس پرو پیگنڈے سے بہت متا ثر تھے کہ یو آئی ای تو بس دیوالیہ ہو نے کے قریب ہے ،لوگ ہزاروں کی تعداد میں کا ریں جو انہوں نے اقساط پر بینکوں سے لی ہو ئی تھیں ہوا ئی اڈے پر کھڑی کر کے اپنے ملکوں کو فرار ہو گئے ہیں ۔ ان تمام عمارتوں کی تصاویر دیکھ چکے تھے جن پر کام رک گیاتھا اوراب بھوت بنگلہ بنی ہو ئی تھیں ۔ مگر ابو ظبی کے ایر پو رٹ پر پہونچ کر جب شہر میں دا خل ہو ئے تو ہمیں آنکھیں ملکر دیکھنا پڑا کہ چاروں طرف جاری تعمیرات کے آثار دکھائی دے رہے تھے کام رات کی وجہ سے بند تھا اور جیسے سے ہی صبح ہو ئی تو چاروں طرف سے مشینوں کے چلنے کی آوازیں آنے لگیں ۔ کیونکہ ہم جہاں ٹھیرے ہو ئے تھے یعنی الرا حہ بیچ وہ نیااور زیر تعمیر علاقہ ہے، جہاں بے انتہا تعمیرات ہو رہی ہیں ۔ہمارے گھر کے سامنے ہی ً الدار ٹا ور ً تھا جو کہ ابھی زیر تعمیر ہے یہ ایک تعمیراتی کمپنی الدار کا ہیڈ آفس ہے جو کہ بجا ئے رواجی شکل کے عربی زبان میں ً عدسہ ً کی شکل میں ہے اورر چا رسو فٹ بلند ہے۔ اسے اردو میں بھی عدسہ کی شکل کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں بھی یہ لفظ مستعمل ہے جبکہ قدیم عربی میں عدسہ مسور کی دا ل کو بھی کہتے تھے اور عدسہ آنکھ کے تا رے کو بھی کہا جا تا ہے۔

 اگر چا ہیں تو اسے آپ آئینہ کے طور پر اسلامی دنیا کو آنکھیں کھولنے کے لیئے دکھا سکتے ہیں۔ لیکن ہمارا رخ آج بجا ئے حال کے مستقبل کی طرف ہے جس کانام “ مصدر سٹی “ہے جو کہ الرا حہ بیچ کے قریب اور پریسیڈنٹ ایر پو رٹ ( جوکہ دوسرے ملکوں کے سربراہوں کو رسیو کرنے کے لیئے شاہ بنوا رہے ہیں، کیونکہ ان کا سکو ریٹی کا مسئلہ ہے جبکہ انہیں اپنا نہیں ہے۔ کیونکہ وہ اپنے ہوائی اڈوں کا ما حول ہٹو بچو سے خرا ب نہیں کرناچاہتے ) اسی کے قریب دنیا کا ایک بہت بڑا عجوبہ ہے وہ بھی ابھی زیر تعمیر ہے جو کہ اس علاقے میں واقع ہے جو تیل سے بھرا ہوا ہے۔یہاں ہم اس لیئے چل رہے ہیں کیونکہ ہم آپ کو وہاں وہ دکھانا چا ہتے ہیں جو زندہ قوموں کی پہچان ہے۔ یعنی آلودگی سے پاک دنیا کاپہلا شہر جو کہ با ئیس بلین امریکن ڈالر سے تیار ہو رہا ہے اس میں پچیس فی صد ابو ظبی نے دیا ہے باقی یو این کے انوائر منٹ فنڈ سے ملنا ہے۔ یہ منصوبہ٢٠٠٦ بنا تھا اور اس کو مکمل ہو نا تھا ٢٠٠٩ میں لیکن عالمی کساد بازاری کی وجہ سے کام تھوڑا سست ہو گیا ہے اور ٢٠١٤ تک متوقع ہے۔ مگر پھر بھی ابو ظبی وہ پہلاملک ہو گا جو دنیا کو یہ پہلا منصوبہ دے گا۔جو لوگ جو دور اندیش نہیں ہیں وہ اس پر ہنسیں گے کہ دنیا کو تیل سپلا ئی کرنے والاتیسرا بڑا ملک آئندہ کے با رے میں سوچ رہا ہے۔ جس میں وہ رواجی انر جی کے بجا ئے سورج سے انر جی حاصل کریگا۔

اس سلسلہ میںایک نیا شہر آباد کیا جارہا ہے جسے ریت کی یلغار سے سے محفوظ رکھنے کے لیئے ایک بہت ہی اونچی دیوار اس کے چو طرفہ ہو گی جو حرارت کو بھی کنٹرول کرے گی۔ اس شہرکے بارے میں ان کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ گندگی اورہر قسم آلودگی سے پاک ہوگا اور ہر معاملہ میں خود کفیل بھی۔ اور ہاں یہاں نہ تو کا روں کا دھواں ہو گا نہ شور۔ یہاں سب سے زیادہ اگست میں گرمی پڑتی ہے جو کہ پچاس ڈگری تک چلی جاتی ہے اس کو انہوں نے قدیم اور جدید طرز تعمیر کے امتزاج سے اس حد تک کم کرنا ہے کہ وہاں لوگ پیدل آجا سکیں جس کے لیئے ڈھکے ہو ئے بازار اور گلیا ں ہو نگی ،جیسے کہ زمانے قدیم میں ہر شہر میںشاہی بازار ہوا کرتے تھے ۔ اور فا صلہ دو سو میٹر سے زیادہ کہیں کا بھی نہیں ہو گا اور اندرونی +مد رفت کے لیئے وہ سا ئیکلیں استعمال کریں گے ۔اور ہر مقام کو وہاں سے تیز رفتار خود کار ٹرافک کے ذریعہ ان کو ملحق رکھا جا ئے گا۔

یہاں ایک یونیورسٹی میسا چیو سسٹ ٹیکنیکل یو نیورسٹی سے منسلک ہو گی جو کہ دنیا کو تحقیقاتی سہو لیات فراہم کرے گی ۔ ابتدائی طور پر یہاں پانچ ہزار لوگوں کی رہا ئش کا بندو بست ہو گا جو بڑھا کر ایک  لاکھ تک کر نے کی گنجا ئش ہو گی۔ پندرہ سو کمپنیوں کئے دفا تر ہو نگے۔ اور صنعتی علا قہ بھی ہو گا۔ اس طرح وہ اپنی بجلی اور تیل بچا کر دنیا کومزید عرصہ کے لیئے فروخت کر نے کے قابل ہو سکیں گے۔ جبکہ وہ اپنی ضروریات سولر انرجی اور دوسرے ذرا ئع سے پو ری کر یں گے۔ کیونکہ ً مصدر ً کے معنی ہی سورس انگریزی میں اور اردو میں ذرائع کے ہیں۔۔۔۔۔ باقی آئندہ

:دیگر مضامین
(17.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ آخری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(17.06.2011) ظہور مولائے کائنات پر عالمی اخبار کے لیئے مظہر شہزاد کے موئے قلم کا منفرد تحفہ
(12.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔ آٹھویں قسط
(10.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ تیسری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(08.06.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 44ویں قسط
(06.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ ساتویں قسط
(03.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ دوسری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(31.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 43ویں قسط
(29.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ چھٹی قسط
(28.05.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ پہلی قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(21.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔5ویں قسط
(21.05.2011) بزم اردو لندن کی شام فیض کے نام....ایک یادگار شام
(17.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 41ویں قسط
(14.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔چوتھی قسط
(13.05.2011) ٹورنٹو میں اشفاق حسین کی تین نئی کتابوں کی تقریب رونمائی
(10.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 40ویں قسط
(08.05.2011) سسکیوں بھرا آنگن ۔۔۔۔از؛ سید مصباح حسین جیلانی ۔سڈنی
(05.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔تیسری قسط
(02.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 39ویں قسط
(27.04.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔دوسری قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں