15.10.2026, 11:01pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

تاریخ امام جعفر الصادق علیہ السلام۔از؛ سید مصباح حسین جیلانی ۔سڈنی
23.06.2011, 12:20am , جعمرات (GMT+1)

مصباح حسین جیلانی ۔سڈنی

رجب المرجب کی عظیم برکات میں سے ایک برکت یہ ہے کہ اس ماہ میں پاک و ہند کے مسلمان  آسمان ولایت کے چھٹے تاجدارامام جعفر الصادق علیہ السلام کی نسبت سے نیاز و نذر دیتے ہیں اور اپنی منتیں مانتے اور اتارتے ہیں۔  اس حوالے سے ہم نے اس موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے بہتر جانا کہ  مومنین  کرام کی توجہات امام علیہ السلام  کی تاریخ و سیرت کی جانب مبذول کرائی جائیں تا کہ ہم ان کی نسبت سے زیادہ   نہیں تو کم از کم واجبی  معلومات اکٹھی کر سکیں اور  خود کو انکی سیرت  پر گامزن کرنے کی ایک کوشش کر سکیں۔

آپکا اسم مبارک جعفر، لقب الصادق اور، کنیت ابو عبد اللہ  ہیں۔ آپ کے والد ماجد حضرت امام محمد ابن علی الباقر علیہ السلام اور والدہ ماجدہ  ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر ہیں۔ آپ کی تاریخ ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی تاریخ ظہور یعنی 17 ربیع الاول اور سال میلاد 83 ھجری ہے۔  آپ نے زندگی کے ابتدائی بارہ برس اپنے جد بزرگوار حضرت امام سید الساجدین علی زین العابدین علیہ السلام کے سایہ ٴ علم و رحمت میں گزارے اور ان سے براہ راست  مستفیض ہوئے۔ اسطرح آپ نے واقعہ کربلا کے بعد اپنے جد بزرگوار کے حالات خودبراہ راست مشاہدہ کئے اور ان کو گریہ و بُکا کرتے ہوئے خود دیکھا۔ آپ نے واقعہ کربلا کی تاریخ اپنے جد نامدار اور والد بزرگوار سے براہ راست سنی  اور واقعات نقل فرمائے ہیں۔ آپ نے اپنے باپ و دادا کوعزاداری حسینی پر گریہ و عزاداری کرتے دیکھااور اسی عزاداری کو آپ نے مزید فروغ دیا۔ زیارات امام حسین ؑ و زیارت جامعہ جیسی بزرگ زیارات اور روز عاشور کے اعمال کی کثرت آپ سے  روایت شدہ ہیں۔  آپ زیارت امام حسین ؑ کے لئے  خصوصی اہتمام کرتے تھے اور سخت ترین شورش اور بد امنی و خوف کے زمانے میں بھی آپ کو کوئی شے سفر کربلا سے نہیں روک سکتی تھی۔   صرف یہی نہیں، بلکہ آپ کو زائرین امام عالیمقام کا اسقدر خیال تھا کہ آپ نے کربلا معلیٰ میں  کھجور کاایک باغ لیکر اسکا پھل تمام زائرین کے واسطے مفت وقف کر ڈالا۔ یقیناً آپ اس باغ کی مسلسل دیکھ بھال پر اخراجات بھی اٹھاتے تھے اور آج بھی یہ شریعہَ ء امام  صادق ؑ کے نام سے کربلا میں موجود ہے اور زائرین وہاں سے تبرکات کی کھجوریں لیتے ہیں۔

آپ کے پدر  بزرگوار امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت  7 ذوالحجہ 114 ھجری کو  مدینہ منورہ میں ہوئی اور اس وقت امام صادق  ؑ کی عمر مبارک 31 برس تھی۔  دوسرے آئمہ کی طرح آپ کا نام اور لقب بھی  خود رسول پاک ؐ  بتا کر گئے تھے تا کہ اہالیان   و جویان حق کو  منارہ ہائے ہدایت  تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہ ہو اور سند و نص رسول کے ساتھ  اصل وارثان دین  کو پہچان کر اپنی آخرت سنوار سکیں۔

آپ تعلیم وتربیت کے لئے کسی دنیاوی مدرسے میں زانوئے تلمذ طے کرنے نہیں گئے، اور صاحب ِ علم لدنی تھے جو انہیں اپنے  بابا و جد سےبراہ راست  خون میں وراثت کی طرح عطا ہوا تھا۔ جیسا کہ ایک دفعہ ایک  طبیب ہندی جب مولا سے بیش قیمت معلومات سن  چکا  تو حیران ہو کر اس نے سوال کیا کہ آپ نے کس مدرسہ سے تعلیم حاصل کی تو امام صادق  نے فرمایا کہ(  کسی مدرسے سے نہیں،) اپنے دادا سے جنہوں نے رسول اللہ سے سیکھا تھا اور انہوں براہ راست اللہ تعالیٰ سے لیا تھا۔ علامہ ابن حجر مکی جیسے شخص نے بھی آپ کے علمی مقام کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ  عالم بے  نظیر تھے اور یکتائے زمانہ ہستی تھے۔

آپکا عہد: آپکا عہد  نہایت پُر آشوب، فتن زدہ اور مبازرات سے پُر دور تھا جہاں آپ نے  دس اموی خلفاء کی  کی ایک قطار کو خون محمدی ؑ سے اپنی شکم پُری کرتے دیکھا اور دوسری طرف  بنی عباس کی آل محمد علیھم السلام کے نام پر سیاسی چالیں اور دھوکہ دہی سے پُر دو خلافتیں دیکھیں۔ اسی عہد میں ایک طرف خود خانوادہ آل ابیطالب علیھم السلام میں قیام بالسیف کی تحاریک جوش مار رہی تھیں، جبکہ  علوی تحریک کے نام سے خود شیعان علی ؑکا ایک گروہ  آئمۃ الھدیٰ  کی پُر امن اور خاموش   حکمت عملی سے برگشتہ ہوچکا تھا اور الگ سےایک خونی تحریک چلا رہا تھا جسکا آل محمد سے کوئی ربط تو نہ تھا، لیکن اسکے اثرات سے یہ خانوادہَ  عصمت و طہارت محفوظ بھی نہ تھا۔ دوسری طرف دشمنان اہل بیت اور خوارج کے فتن زور و شور پر تھے۔ اسلام دوسری صدی میں داخل ہو رہا تھا اور اسکی سلطنت کی حدود روم و ہند کو تاراج کر چکی تھیں۔ حکمران  خلافت کے نام پر شمشیر و سناں کے ذریعے اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کر رہے تھے  یا طاوَس و رباب سے اپنی فتحمندی  کے جشن منا رہے تھے جبکہ امام علیہ السلام کی نظریں   اسلام کے مستقبل پر جمی ہوئی تھیں اور آپ  اپنے والد محترم امام  محمد باقر ؑ  کی روش پر اس عہد میں علوم دین و دنیا کی ترویج کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مبارزین کے ساتھ مناظر و علمی مباحث  میں مشغول تھے  تا کہ مسلمان علمی میدان میں زمانہ جاہلیت کی تصویر نہ بنے رہ جائیں۔   آپ کو در پیش  مصائب و آلام اور مبارزات کا تذکرہ ہم آئیندہ سطور میں کریں گے۔، انشاَاللہ۔

آپ کے عہد کے اموی خلفاء کی فہرس یوں ہے:

عبد الملک بن مروان، ولید بن عبد الملک، سلیمان بن عبد الملک، عمر بن عبد العزیز،  یزیدبن عبد الملک،  ہشام بن عبد الملک، ولید بن یزید بن عبد الملک،  یزید الناقص، ابراھیم بن ولید بن عبد الملک،  اور مروان  بن محمد بن مروان بن الحکم الموسوم بہ مروان الحمار۔ مروان الحمار آخری اموی بادشاہ تھا جسکا اختتام  ذوالحجہ 132 ہجری کے آخری دنوں میں ہوا۔   اسکے بعد بنی ہاشم  اور آل محمد علیھم  السلام کے حقوق کے نام پر قائم تحریک  کے نتیجے میں بنی عباس کی ظالم و سفاک حکومت کی داغ بیل پڑی اور انکا پہلا بادشاہ سفاح بن محمد بن علی بن  عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب ہوا اور   اسکے بعد  اسکا بڑا بھائی منصور دوانقی المعروف بن ابو جعفر منصور دوانقی ہوا جو کہ امام جعفر الصادق علیہ السلام کا قاتل بھی ہے۔   

امویوں کے حالات: شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد خلافت بنی امیہ کے درمیان 132 ھجری تک رہی۔ یزید ناپاک کے بعد پہلا اموی خلیفہ مروان بن الحکم  تھا اور آخری مروان الحمار تھا۔  یہ سبھی لوگ انتہائی سرکش، مطلق العنان اور مثل فرعون تھے جن کو اسلام سے کوئی سروکار تھا ہی نہیں۔  سوائے عمر بن عبد العزیز اور مروان  الحمار کے یہ سبھی  حرام کار، فاسق و فاجر، شارب الخمر  ، نفس ذکی کے قتل، سنن اسلام کے پامال کرنے والے اور آل محمد کے خون کے دشمن تھے۔  عمر بن عبد العزیز نے اپنے عمل سے آل محمد ؑ سے قدرے نرمی کا مظاہرہ کیا، جبکہ مروان الحمار خوارج کے فتن  اور عباسی تحریک کے سبب آل محمد کو کوئی خاص تکلیف نہ دے سکا، ورنہ اسکی آل محمد سے دشمنی اور بغض کسی سے کم نہ تھا۔ مروان الحمار کو حمار اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اسکا زیادہ تر وقت  خوارج  اور عباسیوں کے ساتھ جنگ میں گدھے کی پشت پر ہی گزر گیا۔

ولید بن عبد الملک امام سید الساجدین علیہ السلام کا قاتل تھا  جس نے زہر دے کر امام علیہ السلام کو شہید کروایا ( بحوالہ نور الابصار و صواعق محرقہ)۔  اسی شخص نے مدینہ آمد پر حضرت حسن مثنیٰ  بن امام حسن علیہ السلام  سے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کا گھر زبردستی خالی کرایا اور انہیں مدینے سے باہر رہنے پر مجبور کر دیا۔  اسکے اس حکم کی تکمیل  والی مدینہ عمر بن عبد العزیز نے کی تھی۔اسکے بعد سلیمان بن عبد الملک کا عہد خود امویوں کے درمیان  درباری جنگوں میں گزر گیا اور عمر بن عبد العزیز کا عہد نسبتاً  اہل البیت ؑ کے لئے نرمی کا دور تھا۔  لیکن ہشام بن عبد الملک  اور اسکے تابعین کو خاص طور پر اہل البیت علیھم السلام سے بیر تھا۔  ہشام  نے حاکم مدینہ ابراھیم بن ولید بن عبد الملک کو خاص زہر بھجوا کر امام محمد باقر علیہ السلام کو قتل کروایا( جنات الخلود، صواعق محرقہ)۔  

لیکن وارثان دین کی عظمت دیکھئے کہ اپنے خوان کے پیاسوں کے دربار میں جب کبھی  اسلام کی عزت و ناموس کو کوئی مبارزہ درپیش ہوا،  ان بزرگواروں نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ لوگ ہمارے خون کے دشمن ہیں، بلکہ آپ نے ہمیشہ دین اسلام کی یاوری کی۔ ہشام بن عبد الملک  کو آل محمد سے خاص بیر تھا، لیکن جب سلطنت روم  نے اپنے سکے کے استعمال کے عوض کثیر خراج یا اہانت رسول  ؐ کی دھمکی دی تو امام محمد باقر علیہ السلام نے اسلامی ٹیکسال کی بنیاد رکھ کر سلطنت روم کو بے بس کر دیا اور یوں نام نہاد خلیفہ کی عزت اسلام کے صدقے خاک میں ملتے ملتے رہ گئی۔  اسی طرح عبد الملک بن مروان کے عہد میں جب دشمنان دین نے ایک مناظرے میں تمام اہل اسلام کو لاچار کر دیا تو  اس نے امام محمد باقر علیہ السلام کو مدد کے لئے طلب کیا۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنی جانشینِ بر حق امام جعفر صادق علیہ السلام کو مناظرے کے لئے روانہ کیا اور آپ نے اپنی کم عمری کے زمانے میں یہ مناظرہ صرف ایک سوال پر جیت کر اسلام کی حقانیت آشکار کر دی  اور مخالفین کو اسلام قبول کرتے بنی۔

لیکن اہل البیت علیھم السلام کی عظمت و رفعت دیکھ کر  بنی امیہ  بجائے حق کے طرفدار ہوتے، ان کی دشمنی میں اضافہ ہی ہوتا گیا اور آل ابیطالب ؑ پر زندگی کے دروازے بند ہوتے چلے گئے۔   ہشام نے امام باقر علیہ السلام کو قتل کروایا اور امام سجاد علیہ السلام کا قصیدہ گو مشہور شاعر  فرزدق بھی اسی کے دور میں فوت ہوا جو ممکنہ طور پر اسی  کی زہر کا اثر تھا۔ ہشام نے اپنا جا نشین  ولید کو بنایا جو یزید بن معاویہ کی تصویر تھا۔ اس شخص نے خانہ کعبہ کی چھت پر بیٹھ کر قرآن پاک کو پھار ڈالا اور کہا کہ جا اپنے خدا سے میری شکایت کر لینا۔ اسی نے اپی کنیز کو حالت جنابت میں لباس خلافت پہنا کر نماز کی جماعت اس سے کراوئی۔ اس نے حضرت یحیٰ بن زید بن علی زین العابدین کو انتہائی بے دردی سے شہد کروایا۔  ولید کو اس کے بھائی یزید نے اسکے فسق و فجور کے سبب قتل کروا کر خلافت پر قبضہ کر لیا۔

ولید ملعون کے بعد یزید ناقص اور ابراھیم کو زیادہ مہلت نہ ملی اور وہ خانہ جنگیوں کا شکار ہو کر رہ گئے۔ ورنہ ابراھیم نے ہی امام باقر علیہ السلام کو زہر دینے کا  کام سر انجام دیا تھا جو بناء بر روایات آپ ؑ کی زین میں بھر کر دی گئی تھی۔  ابراھیم کے بعد مروان الحمار حکمران ہوا جس نے  ولید پلید کے قتل کے جرم میں یزید ناقص  کی لاش کو قبر سے  نکلوا کر سولی پر لٹکوایا۔ اس ملعون کو   صالح بن علی عباسی نے 132 ھجری میں مصر کے  مقام بوصیر پر قتل کر ڈالا اور عباسی خلافت کی داغ بیل ڈالی گئی۔

جناب زید بن علی زین العابدین کی تحریک:  جناب زید بن علی ؑ نے اپنے پدر بزرگوار کو واقعہ کربلا کے بعد مسلسل غمناک و اندوہ گیر دیکھا اور اپنے والد سے سنا کہ کسطرح سے مخدرات عصمت کو پابجولاں کنیزوں کی طرح  بے توقیر پھرایا گیا تھا۔  یہ صدمات خانوادہء  عصمت کے دلوں سے محو ہونے والے نہ تھے۔ لیکن اس سب پر مستزاد یزید ناپاک کے تابعین امویوں کی آل محمد سے دشمنی کسی  طرح کم نہیں ہو رہی تھی۔ واقعہ حرہ میں اہل مدینہ کی ذلت و رسوائی کی تاریخ ایک طرف  تو دوسری طرف اہل البیت و اہل حرم کی بار بار دربار دمشق میں طلبی اور نوجوانوں  و بزرگ کا  یکسان مجبور رہنا دوسری طرف   خون کو جوش دلانے کو کافی تھے۔  قبر مطہر امام حسین ؑ کو پامال کرنے کی اموی کوششیں اور زیارت قبر پر پابندیوں کے سبب کوفہ کے 25 ہزار افراد نے زید بن علی زین العابدین علیھما السلام کے ہاتھ پر ثارۃ الحسین ؑ ( قصاص خون حسینیؑ)  کے نام پر بیعت کی اور ہشام بن عبد الملک کے عہد میں خروج کیا۔ اس وقت امام جعفر   الصادق علیہ السلام نے اپنے عم بزرگوار کے مشورہ کرنے پر انہیں  اپنی دور بینی و  علم لدنی کی بنیاد پر بتایا کہ آپ کو فائدہ نہیں ہوگا، تاہم میں آپ کو قیام کا مشورہ دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں۔  چونکہ امام علیہ السلام نے اپنے چچا پر کوئی حجت بھی قائم نہ کی تھی، اس لئے انہوں نے قیام کرنے  میں  آزادی  جانی۔ تاہم  تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ زید علیہ السلام نے امام ِ صادق کے امر ولایت میں کوئی شک نہ کیا اور ان کو اپنا ولی الامر منصوص من اللہ تسلیم کرتے تھے۔ بلکہ آپکا قیام آل محمد کی خوشنودی کی غرض سے ہی تھا اور امام صادق علیہ السلام کی طرف سے خاموشی حقیقت میں نیم رضا مندی تھی۔

بلکہ جناب جابر بن عبد اللہ الانصاری سے روایت ہے کہ خود رسول اللہ نے امام حسین ؑ کو زید بن علی ؑکے قیام اور شہادت کی خبر سے مطلع فرمایا تھا۔ ( کتاب مقاتل الطالبین ص 130)۔ اس لئے جناب  زید کے مقام شہادت سے امام صادق علیہ السلام با خبر تھے، اور ان کو قیام سے منع نہ فرمایا۔ زید علیہ السلام کے ساتھ کوفیوں نے حسب دستور دغا کیا اور آپ  122 یا 123 ہجری میں نہایت  بے دردی سے اسی ساتھیوں کے ساتھ شہید کر دئیے گئےاور آپکی نعش مبارک چار سال تک کوفے میں یوسف  بن عمر سقفی  حاکم شہر نے لٹکائی رکھی۔ اس کے بعد آپ کے بیٹے یحیٰ ؑ پر بھی زندگی تنگ کر دی گئی اور وہ در بدر چھپتے چھپاتے  دیس بہ دیس  مہاجرت کرتے ہوئے ہرات کے علاقے میں مار دئیے گئے۔  اور ان کی لاش جلا دی گئی۔  یہ دونوں واقعات امام  علیہ السلام کے لئے عظیم صدمات تھے۔ جناب زید کے تبحر علمی کو امام ابو حنیفہ نے بھی تسلیم کیا کیونکہ وہ  امام باقر علیہ السلام کے مدرسے میں  جناب زید سے بھی مستفیض ہوتے رہتے تھے۔ بلکہ کچھ موَرخین کے نزدیک  امام ابو حنیفہ نے جناب زید کی بیعت کر رکھی تھی اور بعد میں منصور عباسی حاکم ہوا تو اس  نے سی   بیعت کی پاداش میں انہیں جیل  بھیجا دیا تھا اور 150 ہجری میں منصور ہی کی زہر سے انکا انتقال ہوا   ۔

جناب زید کی شہادت پر امام صادق علیہ السلام نے سوگ کیا اور آپ کے لئے دعا کی۔ لیکن اس مسئلے نے  امام الصادق ؑ کے لئے ایک اور مشکل بھی کھڑی کر دی۔ قصاص حسینی ؑ کے طرفدار شیعوں نے مقام امامت کو نظر انداز کر تے ہوئے محض قیام کے سبب جناب زید کو اپنا امام ماننا شروع کر دیا اور یوں  زیدیہ فرقہ کے نام سے ایک ایسا سیاسی گروہ وجود میں آگیا جو بظاہر تو شیعان علی ؑ ابن ابیطالب تھے، لیکن امام وقت کے دشمن و مخالف تھے اور خود جناب زید کو ان سے کوئی سروکار نہ تھا۔ صرف یہی نہیں، باقاعدہ ایک علوی تحریک نے مدینہ و کوفہ میں سر اٹھانا شروع کردیا اور امام وقت پر دباوَ ڈلانا شروع کردیا کہ وہ  ثارۃ الحسین ؑ کے لئے قیام کریں۔ جبکہ آئمۃ الھدیٰ ،اللہ کے امر کے سوا کوئی کام نہیں کرتے اور ثارۃ الحسین ؑ کا کام چونکہ صرف حضرت بقیۃ اللہ علیہ السلام و عجل اللہ تعالیٰ فرجہ  الشریف کے لئے مخصوص ہے، اس لئے امام سید سجاد علیہ السلام سے لیکر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام تک سبھی معصومین نے قیام سے در گزر فرمایا ہے۔ ورنہ قیام کے  حقدار سید سجاد ؑسے بڑھ کر کون ہو سکتے تھے جن کو جناب مختار ثقفی اور ابراھیم بن مالک اشتر جیسے  باوفا و با صفا جنگجو  ساتھی بھی میسر تھے۔  ۔ لیکن امامؑ بنظر امامت ان سب حامیوں اور مددگاروں کی کم مائیگی اور ارادوں کی کمزوری کو دیکھ رہے تھے، اس لئے خاموشی کو بہتر جانا۔ یہی علوی تحریک آگے چل کر امام موسی الکاظم ؑ اور امام علی الرضا ؑ کے لئے مزید مشکلات و مصائب کا سبب بنی  اور فاطمی خلافت کے نام پر اسماعیلی مذھب کا قیام عمل میں ٓ گیا اور نظریہَ   امامت و مھدیت کو مذاق بنا دیا گیا۔

  امام جعفر صادق علیہ السلام علم لدنی کی بنیاد پر آنے والی مشکلات اور اپنے جانشین اہل حق آئمہ کے مصائب سے آگاہ تھے۔ آپ جانتے تھے کہ تمام عسکری تحریکات یا تو خود ایک دھوکہ ہیں یا ان کے ساتھ دھوکہ ہوگا، اس لئے آپ نے خاموشی کا حکمت عملی اپنائی رکھی اور  آپ کسی بھی عسکری تحریک میں مصروف ہونے کی بجائے  اہل اسلام کی علمی تربیت میں مصروف رہے تا کہ لوگوں کو حق کی شناخت ہو سکے اور وہ دین اسلام کو رہتی دنیا تک مضبوط بنیاد فراھم کر دی جائے۔

عباسی خلافت کا قیام اور امام کی کنارہ کشی:  یہاں  عباسی تحریک پر ایک    مختصر نوشت پیش کر رہے جس کا   مقصد عباسیوں کے حالات پر لکھبا نہیں، بلکہ امام جعفر صادق ؑ کے عہد  میں درپیش مسائل کا اجاگر کرنا  ہے۔

 عباسی  حضرت عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلبؑ  کی اولاد تھے اور عملاً تو واقعہ کربلا سے لیکر بعد تک کہیں وہ لوگ خانوادہَ نبوت کا ساتھ دیتے ہوئے نظر نہیں  آتے، بلکہ ایک عرصہ تک گوشہ نشین رہے، لیکن امام صادق علیہ السلام کے دور میں جب اموی خانہ جنگیوں کے سبب سے دم توڑ رہے تھے تو عباسیوں نے  آل محمد ؑ کے پامال حقوق کی بحالی کے لئے ایک پُر زور تحریک شروع کی۔ در اصل سن 100 ھجری میں محمد بن علی بن عبد اللہ  بن عباس اور جناب عبد اللہ المحض بن حسن المثنیٰ بن امام حسن المجتبی ٰ ؑ  نے  بنی ہاشم کے چند سرکردہ افراد کو جمع کیا (جن میں محمد بن علی کےپسران ابو العباس اور منصور  سر فہرست تھے)،  تا کہ بنو امیہ کے مظالم کے خلاف قیام کیا جا سکے ۔انکی یہ تحریک فاطمی تحریک کہلائی جوآگے چل کر عباسی تحریک میں بدل گئی۔ اسی محفل کے بعد امام صادق ؑ کو خبر کی گئی تو انہوں نے قیام کی حکمت عملی سے اختلاف کیا ۔

حقیقت میں  عباسی تحریک کی داغ بیل تو پہلے دن ہی پڑ گئی تھی کیونکہ عباسیوں کا  مقصد یہی تھا اور وہ آل ابیطالب ؑ  کی مظلومیت کا صرف سیایسی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ اسی لئے شروع میں تو انہوں نے محمد نفس ذکیہ بن عبد اللہ محض  کی بیعت کی لیکن آگے چل کر انہوں نےمحمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس  کی بیعت کرلی اور اس کو بنی عباس نے اپنا امام مشہور کردیا اور اس کے بعد اسکے فرزند ابراھیم کی بیعت کی گئی (132 ھجری)۔

  یہ بھی علم امام کے سبب ہی تھا جس وجہ سے امام صادق علیہ السلام نے اس تحریک کے حقیقی مقاصد بھانپتے ہوئے اس کا ساتھ دینے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ بنی ہاشم کو منع بھی کیا۔  کچھ لوگوں نے اس قیام کو مھدیت سے تعبیر کرنے کی کوشش کی کیونکہ اس میں محمد بن عبد اللہ المحض  المعروف بہ نفس ذکیہ شامل تھے اور لوگوں نے عبد اللہ المحض  کے کہنے پر نفس ذکیہ کی بیعت بھی کر لی اور انہیں  مہدیء موعود  ماننے لگے۔ لیکن  امام علیہ السلام کو خبر ہوئی تو آپ   نے واضح طور پر فرمایا کہ ہمارے قائم کا زمانہ ابھی بہت دور ہے، اس لئے عبد اللہ اگر تم خود جہاد بالسیف کرو تو  بسبب بزرگی لوگ تمہارا ساتھ دے سکتے ہیں لیکن نفس ذکیہ کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ لیکن جب عبد اللہ المحض نے اپنے بیٹے کے حق میں ضد کی تو مولا نے  ابو العباس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ خلیفہ ہوگا، پھر اسکا بھائی اور پھر اسکی اولاد اور عبد اللہ تمہارے دونوں  بیٹے مارے جائیں گے۔  اس کے بعد امام ؑ چل کر جانے لگے تو ابو العباس دبے قدم آپ کے پیچھے آ کر پوچھنے لگا کہ جو آپ نے کہا کیا واقعی درست ہے تو مولاؑ نے اسکی تصدیق کر دی۔ اسی دن سے ابو العباس نے حصول خلافت کے منصوبے سے زیادہ بھر پور طور سے کام شروع کر دیا۔

ادھر دوسری طرف شام میں محمد حنفیہ کے پوتے ابو ہاشم کئی شیعان علی کے ساتھ رابطے میں تھے اور وہاں کافی  مضبوط  حیثیت قائم کر کے اپنے حق میں بیعت لے چکے تھے جبکہ مروان الحمار ظاہری طور پر انکو تحفظ دیتا تھا کیونکہ انکی قیادت سے امام بر حق کی مرکزیت کو نقصان پہنچتا تھا۔  محمد بن علی بن عبد اللہ عباسی 101 ہجری میں شام گیا  تاکہ وہاں  پر محمد حنفیہ ؓکے  پوتے ابو ہاشم سے مدد طلب کرے اور انکی مضبوط حیثیت کا فائدہ اٹھا سکے۔ تاہم جب وہ وہاں  پہنچا تو پتہ چلا  کہ مروان الحمار نے انکو زہر دے کر قتل کر دیا ہے تو   اس نے خود کو ابو ہاشم کا نائب  مشہور کر کے ان کے وکلاء سے اپنے حق میں بیعت لے لی۔

یوں اپنی امامت کا آغاز کر کے محمد بن علی عباسی نے عبد اللہ المحض کے بیٹے محمد نفس ذکیہ کی کی گئی بیعت کو ناقص کر ڈالا اور   اسکے بعد اسکے بیٹے ابراھیم کی بیعت کی گئی (132 ہجری)۔ اسطرح امام ؑ نے عبد اللہ المحض کو جو بات بتائی تھی، اس پر عمل کا آغاز ہو گیا۔   تاہم ابراھیم بن محمد جلد ہی  مروان الحمار کے ہاتھوں مارا گیا تو   ابو العباس عبد اللہ  السفاح بن محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس ( ابراھیم کا بھائی) کے ہاتھ موقع  آیا کہ مزید لوگوں کے جذبات سے فائدہ اٹھائے۔ آل محمد کے حقوق  کا جھانسہ دے کر اس نے ابو مسلم خراسانی کو   خراسان بھیجا تا کہ وہ شیعوں کو بر انگیختہ کر سکے۔ جناب زید اور جناب یحیٰ بن زید کی شہادت نے بھی اسکی تحریک کو مزید قوت دے دی۔    اس نے خراسان کے شیعوں کے جذبات کو خوب ابھارا تا کہ عراق میں بنو امیہ کو کمزور کرنے میں ایرانی فوج کام  آ سکے۔  گو کہ ابو مسلم خراسانی امام صادق علیہ السلام کا متعقد بتایا  جاتا ہے، تاہم  اسکا کردار تاریخ میں عباسیوں کے درباری کے طور پر محفوظ ہے اور وہ صرف دل سے آل محمد سے ہمدردی رکھتا تھا لیکن عملاً اپنے مفاد کے لئے سرگرم تھا۔

صورت حال کا مزید فائدہ اٹھاتے ہوئے  عباسیوں کی طرف سےایک شخص ابو سلمہ جعفر بن سلیمان کوفی کو آل محمد ؑ  کا نمائندہ مشہور کردیا گیا حالنکہ وہ عباسیوں ہی کا لگایا ہوا شجر تھا۔  ابو مسلم خراسانی اور ابو سلمہ کی تحاریک کے نتیجے میں عبد اللہ السفاح کو اچھی خاصی مردمی کمک مل   گئی اور  اپنے چچاصالح بن علی  عباسی کی قیادت میں ایک  فوج نے مروان الحمار سے باقاعدہ جنگ چھیڑ دی جس نے بالآخر مروان کو شکست دے کر ابو العباس کا مقصد پورا کر دیا۔۔ ابو سلمہ نے ابراھیم کے قتل کے بعد جانے کس خیال سے اور کیسی دھوکہ دہی سے امام جعفر صادق علیہ السلام  سمیت تین  ہاشمی شخصیات کو ایک ہی خط لکھا کہ حالات سازگار ہیں، آپ تشریف لے آئیں تو ہم آپکی بیعت کر لیں، لیکن امام علیہ السلام نے اس خط کو پڑھنے سے پہلے ہی پارہ پارہ کر دیا۔  ایسا ہی خط ابو محمد  عبد اللہ بن حسن  نامی شخص کو بھی لکھا گیا جسے تاریخ مسعودی نے اولاد امام حسین علیہ السلام سے لکھا اور دیگر مورخین نے اسے اولاد حسن مثنیٰ سے لکھا ہے کیونکہ     اولاد امام حسین ؑ میں ایسا کوئی نام مذکور نہیں ہے اور آپ کے واحد بچ جانے والے بیٹے سید سجاد تھے۔

جیسا کہ پہلے ذکر آیا کہ عبد اللہ المحض بن حسن مثنی بن  امام حسن المجتبیٰ علیہ السلام  بھی امویوں کے خلاف سر گرم تھے او رسن 100 ھجری میں انہوں نے ہی سفاح اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فاطمی تحریک کی بنیاد رکھی تھی، اس لئے یہ وہی شخصیت ہیں۔  تاہم عبد اللہ بن حسن مثنیٰ کے ابو سلمہ سے ملنے سے پہلے ہی  مصر سے مروان الحمار کے قتل کی خبر  آگئی اور ابو سلمہ نے جمعے کے روز ابو مسلم خراسانی کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کر دیا کہ ہمارے درمیان  ابو العباس عبد اللہ بن  محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس سے بہتر خلافت کا کوئی امید وار نہیں ہے، جبکہ آل محمد ؐ خود تو گوشہ نشین ہیں اور ان بکھیڑوں میں پڑنا ہی نہیں چاہتے، سو اسطرح عبد اللہ کی بیعت  3 ربیع الاول یا 12 ربیع الآخر ۱۳۲ ہجری کو کر لی گئی۔

 یہاں سے آل محمد علیھم السلام پر نئے مظالم کے دور کا  آغاز ہوتا ہے۔  یہ  اسکے مظالم کے سبب ہی ہے کہ عبد اللہ جو ابو العباس الفتاح کے نام سے تخت نشین ہوا، تاریخ میں السفاح ( خون خوار) کے نام سے محفوظ رہ گیا۔ (مروج الذھب ج ۳)

 

امام صادق علیہ السلام کی مشکلات اور سادات کا قتل عام:

عباسی خلافت کے قیام سے ایک طرف سادہ لوح شیعوں نے یہی سمجھنا شروع کر دیا کہ یہ حکومت اہل البیت علیھم السلام کے حکم اور انکی رضامندی سے قائم ہوئی ہے، یوں  شروع شروع  میں عراق وخراسان کےشیعہ بھی اس حکومت کی اطاعت دل و جان سے کرنے لگے۔ جناب زید اور جناب یحیٰ کی دردناک شہادتیں کم غم نہ تھیں کہ شیعوں کا بکھر جانا اور مرکز ہدایت سے دور ہوجانا ایک اور صدمہ بن گیا۔   وہ علوی تحاریک جن کا مقصد صرف بنی ہاشم اور خاص طور اولاد ابیطالب ؑ کے حقوق کے لئے کام کرنا تھا وہ دب کر رہ گئیں اور عباسی مضبوط ہوتے گئے جیسا کہ عبد اللہ محض اور انکی اولاد کو در بدر چھپنے پر مجبور کر دیا گیا۔۔

سفاح خود تو امام صادق علیہ السلام کو کوئی تکلیف نہ دے سکا کیونکہ ابھی اسکی تحریک کو آل محمد ؑ کا نام استعمال کئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا ثانیا وہ جانتا کہ اوئل تحریک سے ہی امام حکومت کے شوق سے بیزار تھے۔ ثالثاً اسے امام کی اسکے حق میں سچ ثابت ہونے والی پیشگوئی بھی ان  کی روحانی قوت سے خائف رکھتی تھی جس کے سبب اسے حکومت ملی تھی۔ پھر خارجی  اور اموی یورشیں ابھی جاری تھیں جنہوں نے سفاح کو  مصروف رکھا۔ تاہم اسکو پہلے دن سے کھٹکا تھا کہ اس تحریک کا آغاز اس نے محمد نفس ذکیہ کی بیعت سے کیا ہے اور وہ   اسکے خلاف پھر کہیں حقوق اہلبیت ؑ کی تحریک نہ اٹھا  دے۔
 اس  لئے انہیں دبانے کے لئے اس نے بے شمار شیعان علیؑ اور  اپنے ساتھیوں تک کو قتل کیا جن میں ابو سلمہ کو ابو مسلم خراسانی کے ساتھ مل کر سازش سے قتل کر دیا گیا کیونکہ اس نے ابراھیم کی موت کے وقت خانوادہء اہل البیت ؑ     کو آگے بڑھ کر بیعت لینے کی دعوت دی تھی۔

ساڑھےچار سال کی حکومت کے بعد سفاح مر گیا تو اسکا بڑا بھائی منصور دوانقی سریر اقتدار پر براجمان ہوا۔

منصور دوانقی:  منصور کا نام ابو جعفر عبد اللہ  اور لقب منصور من اللہ تھا۔ دوانقی اسکا تاریخ میں مشہور لقب ہوا ہے جو اسکی  بخیل اور حریص طبیعت کے سبب سے ہوا، کیونکہ وہ اپنے عمال سے ایک ایک پیسے کا حساب لینا نہیں چوکتا تھا اور دونقی سے مراد  ہے ایک درہم کے چھٹے حصے والا۔  اس کے اس لقب سے ہی تاریخ میں اسکا کردار معین کرنا کوئی دشوار کام نہیں ہے۔ ( بحوالہ تاریخ الخلفاء)۔

یہ شخص انتہائی عیار انسان تھا اور اسکو عبد اللہ المحض اور اہل البیت ؑ سے مسلسل خوف لا حق تھا۔ اس لئے اس نے  مقتدر ہوتے ہی  خانوادہَ ابیطالبؑ کے افراد کو چن چن کر مارنا شروع کیا۔ اسکو اولاد امام حسن المجتبیٰ سے عبد اللہ المحض کے سبب سے خاص بیر تھا۔  اس نے امام مالک تک کو تازیانے لگوائے کیونکہ انہوں نے سادات کے  حقوق کے لئے  بیعت کی تھی۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ کو اس لئے قید کیا کیونکہ انہوں نے جناب زید کی بیعت کی تھی۔ بعض موٴرخین نے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ ؒکو زہر بھی منصور نے آل محمد سے انکی محبت کے سبب سے دی


منصور نے جہاں سادات کے ساتھ محبت کرنے والوں پر مظالم ڈھائے وہیں سادات کو ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ۔  اس نے حسنی و حسینی سادات کو چن چن کر قتل کروایا اور ان کے خون سے گارا بنا کر دیوارین تعمیر کیں۔ 143 ہجری میں اسنے مکے کا سفر کیا اور  شہر اوسط میں آباد حسنی سادات کو تہہ تیغ کیا۔  سادات کو زندان میں   سڑا سڑا کر مار دیا اور  جو باقی بچے وہ اپنے خاندان کی لاشوں کے تعفن سے مرنے لگے۔  ایسے میں  میں عبد اللہ المحض نے اپنے بیٹوں کے ساتھ  روپوشی اختیار کر لی اور انکے دونوں بیٹے محمد و ابراھیم دنیا جہان میں روپوشی اختیار کرتے کرتے ہندوستان تک آئے لیکن یہاں بھی  سند ھ سے ملتان تک اموی عہد سے ( محمد بن قاسم کی مہم جوئی کے زمانے سے ) اہل بیت دشمن حکومت موجود تھی، سو مجبوراً وہ لوگ چھپتے چھپاتے  مدینے لوٹ گئے۔  

منصور نے مدینے سے حسنی سادات کے کم و بیش پچھتر افراد کو گرفتار کیا  جن میں بچے اور بوڑھے سبھی شامل تھے اور ان کو بے پالان اونٹوں پر گلوں میں طوق ڈال کر    پا بہ زنجیرساتھ لیجانے لگا۔ اس وقت یہ اسیروں کا قافلہ مسجد نبوی ؐ کے دروازے باب جبریل ؑ کے سامنے سے گزر رہا تھا جب امام جعفر صادق ؑ نے مجبور و بیکسوں کا یہ سسکیوں بھرا قافلہ دیکھا تو آپ آبدیدہ ہو گئے اور زار و قطار رونے لگےاور فرمایا کہ میں ان مجبوروں کی ضرور مدد کرتا اگر قدر و قضا اجازت دیتے تو۔

آپ ؑ کی حالت سخت متغیر ہو گئی اور آپ کے شانہ اقدس سے ردا گر گئی اور آپ مسلسل بیس روز تک شدید بخار کا شکار ہو گئے اور گھر والوں کو آپ کی جان کی فکر پڑ گئی۔  آپ نے فرمایا  کہ آج کے دن سے حرم خدا کی ناموس محفوظ نہ رہے گی۔( حفاظت رسول و خانوادہء رسول کا بیعت عقبیٰ کی صورت میں) وہ اسکو بھول گئےہیں اور اے بار الٰہا ان سے اسکا سخت مواخذہ کرنا۔  بالآخر 145 ہجری تک منصور نے محمد نفس ذکیہ اور ابراھیم کو بھی  جنگی مقابلوں میں قتل کر ڈالا اور عبد اللہ المحض پر زندان کی چھت گرا دی گئی،  لیکن پھر بھی سادات کی جان خلاصی نہ ہوئی.

 ایک دن  منصور نے اپنے دیوان خاص میں بیٹھے ہوئے کہا کہ میں  نےآل محمد کے سب افراد تو ٹھکانے تو لگا دئیے لیکن انکا سردار ابھی بھی باقی ہے۔ اس کے مصاحب نے پوچھا کہ وہ کون تو بولا کہ جعفرؑ ابن محمد ؑ۔ پھر کہا کہ  بقسم آج ہی میں انکا سر قلم کردوں گا۔  پھر اس نے اسی بد نیتی سے امام علیہ السلام کو طلب کیا اور جب مولاتشریف لائے تو ہیبت و عظمت امام سے کانپنے لگا اور اپنے مقصد سے خود ہی باز رہا۔

منصور نے کم و بیش سات بار مام علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا اور آپ کے سامنے ہمیشہ اسکی طاقت اسکا ساتھ چھوڑ جاتی رہی۔ ایک بار اسی بد نیتی سے اس نے امام ؑ کو حج کے موقع پر کہا کہ آپ لوگوں کو میرے خلاف بھڑکاتے ہیں، امام ؑ نے گواہ طلب کیا تو اسنے ایک خوشامدی مخبر پیش کیا۔  جب امام ؑ نے اس سے قسمیہ گواہی مانگی اور وہ  جھوٹی گواہی دے گیا تو  وہ اسی جگہ گر کر ہلاک ہو گیا اور منصور ہونک ہو کر تکتا رہ گیا۔

حکمت امام: متذکرہ بالا حالات کی روشنی میں دیکھیں تو منصور ہمہ وقت امام علیہ السلام کی جان کے در پے تھا، لیکن حکمت امام ؑاور ہیبت الٰہیہ کے سبب اسے کبھی جراَت نہ ہوئی کہ امام کے سامنے کھل کر  آ سکے۔  اپنے خاندان کے مصائب و آلام سے یقیناً امام ؑ کا دل شکستہ تھا، لیکن آپ کے پیش نظر جو الوہی مقاصد تھے، وہ ان مسائل سے کہیں زیادہ عظیم تر تھے ۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ حدود زمام مسلم اقتدار وسیع ہونے سے روم و ہند تک حکماء اور فلسفی  عرب آن کر حقیقت اسلام پہچاننے کی کوششوں مصروف تھے۔ ایوان ہائے اقتدار کے پاس ہوس و لالچ  اور طمعہ گیری  یا کشت و خون کے سوا کچھ نہیں تھا، جو اہل خرد کے نزدیک مایوسی کے سوا کوئی پھل نہیں دیتے۔ ایسے میں امام علیہ السلام  اگر حکومتی سازشوں کا شکار ہو جاتے تو نسل انسان اسلام کے مستقبل سے مستقلاً مایوس ہو جاتی ۔ امام کی بنیادہ ذمہ دار ی دین کا تحفظ اور  رشد و ہدایت ہے۔ اس لئے امام صادق علیہ السلام اس ذمہ داری سے کسی طرف غفلت نہیں برت سکتے تھے۔

آپ کو اپنے پدر نامدار امام محمد باقر علیہ السلام کے قائم کردہ جامعہ کو اپنی تجلیات علمی سے آباد رکھنا تھا تا کہ لوگ  طرفین جہان سے آن کر یہاں سیریاب ہوتے رہیں اور توحید نمائی کا عظیم کام جاری رہے۔آپ نے اپنے مدرسہ میں صرف دین و فقہ کی ہی تعلیم نہیں دی، بلکہ آپ نے علم الابدان، علم الھندس، علم الکیمیاء و طبعیات، علم الرمل و جفر،  علم منطق الطیر( پرندوں کی بولی) علم النجوم  اور علم طب شامل ہیں۔

صرف فقہ کے علماء میں آپ کے مدرسہ سے فیض پانے والے کابرین میں امام ابو حنیفہ، امام سجستانی، سفیان ثوری اور  امام مالک شامل ہیں۔ مشہور سائنسدان جابر بن حیان بھی آپ ہی کا شاگرد تھا، جسکی کتب آج بھی مغرب کے کتب خانوں میں  بطور سند موجود ہیں اور اسکی تحقیقات کو بنیاد بنا کر سائینس کے نئے ابواب کھولے گئے ہیں۔  آپ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں بیان کی جاتی ہے اور یہ صفحات اس بات کے متحمل نہیں کہ ان طویل فہارس میں جایا جا سکے۔  تاہم تمام اہم افراد (تقریباً چار ہزار) کی فہرست شیخ طوسی کی کتاب رجال  اور دیگر کتب تاریخ سے  دیکھی جا سکتی ہے۔

فقہء جعفری کی ترویج:  ایک غلط العام تصور عموماً یہ پایا جاتا ہے کہ امام صادق ؑ کو باقی آئمہ کی نسبت زیادہ پر امن دور نصیب ہوا، اس لئے آپ نے زیادہ تبلیغات کیں اور یوں آپ کی زبان  توحید ترجمان سے  جو مسائل شرعی بیان ہوئے وہ فقہ جعفری کے نام سے مشہور ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے  کہ امام صادق ؑ کا دور بھی اسی قدر پُر آشوب تھا جسطرح باقی معصومین ؑ کا۔ یہ درست ہے کہ  بنی عباس و امیہ کی باہمی جنگ سے یہ لوگ الجھے ہوئے تھے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ لوگ کسی طرح بھی آل محمد کے خون سے ہاتھ رنگنا نہیں بھولے تھے۔ ایسے میں  اما  م  صادق ؑ کی خاموشی اور برداشت اپنے درجہء کمال پر پہنچی ہوئی نظر ٓتی ہے جس کے سبب ہر دفعہ آپ کے دشمنان آپ پر ہاتھ ڈالنے ڈرتے رہے۔ یہ بیعنہ اسی طرح ہے جسطرح امام حسین ؑ کے قاتلین اللہ کے انتظام کے سبب سے سید سجاد ؑ کو  اسیر بنا کر بھی ان سے سوال بیعت نہ کر سکے، اسی طرح  اموی و عباسی خلفاء اللہ  کی منشاء سے امام ؑ کے سامنے دب جاتے رہے۔ اس میں امام کی خاموشی، برداشت اور صبر و رضا سے بھری حکمت عملی  کو بھی بڑا عمل دخل حاصل تھا جو انہوں نے اپنے جد نامدار امام  سیدالساجدین علی زین العابدین ؑ  اور پدر  بزرگوار امام محمد باقر ؑ سے وراثت میں پائے تھے۔


 جن نئے نئے مبارز کا اسلام کو سامنا تھا، ان کا جواب ہی  بدلتی ہوئی دنیا میں اسلام کو حیات نو بخش سکتا تھا اور ان کا  جواب دینا  کلمہء لا الہ الا اللہ کو تا حشر بنیاد فراہم کرنے کے برابر کی ذمہ داری  تھی۔ مثلاً امام ؑ نے کچھ ایسے مسائل حل فرمائے جو آج کے جدید تقاضوں میں بھی اسلام کو دین زندہ ثابت کرتے ہیں۔ ان میں  بالائے زمین کرُّوں میں اوقات نماز و روزہ کے متعلق سوالات کے جوابات اور جراحت و پیوند کاری کے وہ  اساسی مسائل  ہیں جن کی بنیاد پر آج کے جدید مسائل کی گتھیاں سلجھانا بھی مجتہدین کے یہاں مشکل نہیں ہے۔  اس لئے اپنے خاندان کے مصائب و آلام پر بھی آپ ؑنے زبان نہ کھولی اور کسی بیعت کرنے کی پیشکش کو قبول نہ کیا اور اپنا کار امامت جاری رکھا۔


جو  فقہ ، امام ؑ کے نام سے مشہور ہوئی حقیقت میں یہی فقہی و شرع محمدی ہے اور ثقۃ الاسلام علامہ بشیر انصاری مرحوم ؒکے نزدیک در اصل فقہ جعفری انتہائی غلط العام اصطلاح ہے۔

 کیونکہ اس سے عمومی تصور یہی ملتا ہے کہ فقہء جعفری امام ؑ کی اپنی ایجاد ہے، جو کہ سراسر غلط ہے۔  فقہء  ہائے حنفی، مالکی اور حنبلی و شافعی  اہل سنت کے مجتہدین کے نام سے مشہور ہیں  جو کہ انکی اپنی ایجادات تھیں ، جبکہ وہ قیاس و اجماع جیسے اختلافی منابع سے  دین کی گتھیاں سلجھاتے رہے۔ جبکہ امام صادق ؑ  مجتہدنہیں، بلکہ منصوص من اللہ مفترض الطاعۃ امام تھے جو مسائل اپنے کسبی علوم و مجاہدے کی بجائے علم لدنی اور حقائق کی بنیاد پر حل فرماتے تھے اور آپکا کوئی مسئلہ اس سلسلہء عصمت کی کسی کڑی پر   امام علی ؑ سے لیکر امام مھدی ؑ تک اختلاف کا شکار نہیں ہوتا، جبکہ باقی  تمام مجتہدین کے ہاں مسلسل تقسیم ہے۔

     اس لئے فقہء جعفری کا اصل نام  فقہ محمدی ہے اور یہی فقہ علوی ہے، فقہء حسنی و حسینی ہے اور فقہ مھدوی ؑ ہے۔  امام صادق ؑ کو باقی اجتہادی علماء و فقہاء وآئمہ کی صف میں گننا محض کم علمی و نادانی ہے اور آپ کا مقام اس سے کہیں بلند تر ہے۔  یہ چیز ہمیں باقی فرائق اسلامی کے یہاں اچھی طرح اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ امام ؑ نے کسی فقہ کی بنیاد نہیں رکھی، بلکہ فقہء محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صرف شرح کی ہے اور اگر کسی اور نے کسی مسئلے کو خود ایجاد کیا ہے تو وہ بدعت ہے اور اسکی ذاتی اختراع ہے جس پر اللہ کی قبولیت کی کوئی سند موجود نہیں ہے۔

اخلاق کریمہ و سنت: روایات میں مذکور ہے کہ آپ کا لقب صادق خود رسول اللہ کا عطا کردہ ہے اور اسی لقب کو آپ کے مخالفین نے بھی تسلیم کیا ہے۔ آپ کی سنت بلکہ رسول اللہ ؐ کی سنت ہے جیسے آپ کا روز میلاد حضور پاک ؐ کے روز میلاد سے جا ملا ہے، اسی طرح القابات و سنت بھی نبیء کریم سے مماثلت رکھتے ہیں۔

آپ ؑانتہائی صابر، شاکر، و بردبار اور مہربان شخصیت تھے۔ امام کی کریمانہ مہربانی کا واقعہ صرف اس بات سے لگائیں کہ ایک دفعہ ایک کنیز سے کھانا رکھتے وقت دستر خوان پر گر گیا جس سے آپ کا اور مہمان کا لباس خراب ہو گیا۔ یہ دیکھ کر کنیز خوف زدہ ہو گئی تو امام ؑ نے فوراً فرمایا کہ تم  مجھ سے خوف زدہ ہو، حالانکہ قابل خوف صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اس لئے میں تمہیں آزاد کرتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال و دولت دنیا سے بھی خوب نوازا تھا، لیکن آپکی دولت  اپنے اجداد کی طرح ہمیشہ غرباء و مساکین میں تقسیم ہوتی رہتی تھی۔ ایک دفعہ آپ  قحط کے خوف کے دنوں میں آپ کے ایک عامل نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا اناج موجود ہے جو قحط کے زمانے میں ہماری ضرورت پوری کر سکتا ہے۔ یہ جان کر  آپ نے تمام اناج فورا فروخت کرنے کا حکم دے دیا  اور فرمایا کہ اگر قحط آیا تو ہم بھی باقی لوگوں کی طرح وقت گزاریں گے۔ آپ ہمیشہ مالدوروں کی نسبت غرباء کی زیادہ قدر کرتے تھے۔  آپ اپنے باغوں میں خود بھی کام کرتے تھے ۔ آپ گیہوں کے ساتھ جو کو ملا کر اپنی روٹی بنواتے تا کہ غریبوں کے حقوق کا خیال رکھا جا سکے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے کم علمی کے سبب غلطی سے آپ پر چوری کا شک کیا، آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہاری کتی رقم گم ہوئی ہے تو اس نے کہا کہ ایک ہزار دینار، جو مولا ؑ نے اسے سبب کریمی سے عطا کر دئیے۔ وہ  شخص اپنی جگہ لوٹا تو اسکے پیسے سامان میں ہی اسے مل گئے اور شرمندہ ہو کر امام ؑ کے پاس انکی رقم لوٹانے  آ گیا تو مولا ؑ نے کہا ہم آل محمد دی ہوئی چیز واپس نہیں لیا کرتے۔

آپ اپنے جد  امیر المؤمنین امام علی ؑ کی طرح شب بیدار صاحب مصلیٰ تھے اور علم و حکمت سے پُر آپ کے فرامین آج بھی زمانے کے لئے مشعل راہ ہیں۔  

مناظر و معجزات: آپ ؑ کی زندگی اہل قدریہ، دہریوں، اور غیر مذاھب کے علماء سے مناظر سے بھری پڑی ہے۔ آپ کا ایک مشہور معجزانہ مناظرہ ہم نے مندرجہ بالا صفحات میں  بیان بھی کیا جب آپ نے عبد الملک کے دربار میں اہل قدریہ سے ایک سوال کی جست میں جیت لیا۔ اسی طرح ابو شاکر دیصانی کے ساتھ آپ کا مناظرہ جس میں اس نے سوال  کیا کہ کیا خدا تما م دنیا کو ایک انڈے میں سمیٹ سکتا ہے جبکہ انڈا نہ گھٹے نہ بڑھے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس نے دلیل طلب کی تو فرمایا کہ آنکھ کی پُتلی میں تمام دنیا آ جاتی ہے جو گھٹتی ہے نہ بڑھتی ہے اسی طرح اللہ چاہے تو اپنی قدرت سے  کائینات کو ایک انڈے میں سما سکتا ہے۔اسی طرح ایک ہندی طبیب سے آپ کا مناظرہ تاریخ میں موجود ہے جومنصور کے دربار میں آپ کے تبحر علمی کے سامنے سرنگوں ہو کر  اسلام لے آیا۔

آپ کی زندگی میں بیشمار معجزات نقل کئے جاتے ہیں۔ تاہم اختصار کی غرض سے ہم صرف دو امثلہ پر ہی اکتفاء کریں گے۔  ایک معجزہ طبیب ہندی کے ساتھ مباحثے کے بعد اس وقے پیش آیا جب منصور نے  آپ کی عزت و توقیر دیک کر حسد سے آپ کے گھر کو آگ لگوادی جو خدام کی کوشش کے باوجود  بجھنے کا نام نہ لیتی تھی۔ ایسے میں آپ نے گھر سے نکل کر آگ کی طرف منہ کر کے کہا کہ میں انکی اولاد ہوں جو زمین  و آسمان کی بنیاد کے سبب ہیں اور میں براھیمؑ  خلیل اللہ کا فرزند ہوں، پھر آپ نے وہ آگ صرف اپنی عبا کے دامن سے بجھا دی۔

اسی طرح  ایک دفعہ منصور نے کچھ جنگلی لوگ اکٹھے کئے اور انہیں تربیت دی کہ جب وہ اشارہ کرے وہ آنے والے پر ٹوٹ کر اسے قتل کر دیں، یوں جنگلیوں کا عمل منصور کو قتل کے الزام سے بری کر دیتا۔ منصور نے حسب  اراداہ   ایک رات امام ؑ کو  تنہا طلب کیا اور جنگلیوں کو تیار رکھا کہ  آنے والے پر ٹوٹ کر حملہ کریں اور اسے مار دیں۔ لیکن جب امام ؑ آئے تو وہ جنگلی ہتھیار  پھینک کر آپ کے قدموں میں گر گئے۔ منصور نے  بہانے سے امام ؑ کو واپس بھیجا اور جنگلیوں سے پوچھا کی تمہیں کیا ہوا جو اسے سلام کرنے لگے۔ تو وہ بولے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ یہی تو وہ ہیں جو ہمارا خیال رکھتے ہیں، ہمیں رزق پہنچاتے ہیں اور  ہماری خبر گیری کرتے ہیں۔ یہ سن کر منصور ڈر گیا۔

شہادت: منصور دوانقی ہمہ وقت امام ؑ کو قتل کرنے کے منصوبوں میں مصروف رہتا تھا۔ اس کے کئی وار ناکام ہو چکے تو اس نے ایک روز امام ؑ کو زہر دلوا کر شہید کردیا۔( صواعق محرقہ)۔ گو کہ اکثر تواریخ میں آپکی اسیری کا ذکر موجود نہیں ہے، لیکن سید نجم الحسن کراروی نے علامی اربلی ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ آپ کو قید کیا گیا اور اسی دوران زہر دے دی گئی۔ آپ  بروایت 15 یا 25 شوال 148 ہجری کو خانوادہ عصمت و طہارت کو محزون و مغموم چھوڑ کر خلاق دوعالم کے پاس پہنچ گئے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ سعودی حکمرانوں نے باقی افراد آل ابیطالب ؑ کے ساتھ آپکی قبر کا نشان بھی مٹا دیا ہوا ہے۔

آپکی دس اولادیں تھیں  جن میں سات پسران اور تین دختران ہیں۔ امامت آپکے فرزند حضرت موسیٰ الکاظم ؑ کے لئے منصوص تھی۔   آپکے  بیٹے اسماعیل کے نام پر آپ کے بعد اسماعیلی فرقہ ایجاد ہوا جس نے امام موسیٰ الکاظم ؑ کی اطاعت کا  انکار کیا۔  اسماعیل بڑے فرزند تھے جنکی رحلت زمانہء امامؑ میں ہی  بحکم و حکمت الٰہیہ ہو گئی تو لوگوں نے ان کے فرزند محمد کو اپنا امام مان لیا اور ان کے نام پر مصر میں فاطمی  سلطنت کی داغ بیل بھی ڈالی۔

چند اقوال زریں: علوم  دین و دنیا میں جسقدر قیمتی فرمودات   آپ  سے نقل  ہوئے ہیں شاید ہی تاریخ عالم میں  رسول اللؐہ اور آپؑ  کے علاوہ کسی اور ایک فرد سے  اس  اسقدر فیوضات جاری ہوکر محفوظ ہوئے ہوں۔ کتب خانے اور دفاتر تحریر آپ کے ارشادات عالیہ سے چہار دانگ عالم میں روشنائی پھیلا رہے ہیں۔ آپ نے کم از کم پانچ سو سے زیادہ مقالات تحریر کئے ، اور کئی کُتب تحریر کیں، جن میں جفر و جامعہ اورا ھلیلچہ نامی کتب آج بھی زمانے میں  محفوظ ہیں۔  مشاق اور  صاحبان کمال جفارین جفر و جامعہ سے آج بھی استفادہ کر کے خفیہ مسائل کی گتھیاں سلجھاتے ہیں جبکہ ھلیلیچہ علم طب پر آپ کے ارشادات پر مبنی کتاب تھی جو مکمل تو نہیں لیکن  اسکی جزیات آج بھی دستیاب ہیں۔ مورخین و فقہاء آپ کے ارشادات پر تحقیقات کر کے فقاہت و اجتہاد کے درجہ جات پاتے ہیں اور مرجع خلائق ہستی بن جاتے ہیں۔

 تبرک کے طور پر ہم  چند فرمودات امامؑ پیش خدمت ہیں:

۱۔ خط کا جواب ایسے ہی واجب ہے جیسے سلام کا جواب دینا واجب ہے۔

۲۔ چاہ کُن را چاہ درپیش۔ ( یہ مشہور کہاوت در اصل قول امام ہے کہ کسی کے لئے کنواں کھودنے والا خود اس میں گرتا ہے)۔

۳۔ جو تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے اسکی عزت کرو اور جو تمہیں ذلیل سمجھے اس سے خود داری برتو۔

۴۔ انسان کے بیوی بچے اسکے اسیر اور قیدی ہیں، نعمت کی وسعت پر انہیں بھی وسعت دینی چاہئیے، ورنہ زوال نعمت کا اندیشہ ہے۔

۵۔ دنیا میں لوگ باپ دادا کے نام سے جانے جاتے ہیں، لیکن  آخرت میں اعمال سے پہچانے جائیں گے۔

۶۔ جب روزی تنگ ہو تو استغفار  زیادہ کیا کرو تو اکہ ابواب رزق کھل جائیں۔

۷۔شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لئے لوگوں پر احسان کرو۔

۸۔ عمل نہ کرکے جنت کا امیدوار رہنا بے وترکی کمان سے تیرمارنا ہے۔

۹۔ تقوی سے زیادہ فضیلت والا کوئی زاد راہ نہیں،خاموشی سے بہتر کوئی چیز نہیں ، جہالت سے بڑھکر ضرر رساں کوئی دشمن نہیں اور جھوٹ سے زیادہ ہلاک کرنے والا کوئي مرض نہیں۔

۱۰۔ زمین کبھی بھی حجت خد اسے خالی نہیں رہ سکتی ، قائم ہمارے فرزندوں میں سے ہوگا۔ ( جو آخری حجت ہوگا)۔

منابع و مصادر:

آپ کی مکمل سوانح و سیرت کے لئے ہزاروں صفحات کی کتب بھری پڑی ہیں جو کما حقہ‘  آپ کی تاریخ نویسی کا کام انجام نہیں دے سکیں۔ اس لئے اس مختصر مضمون میں ہم نے آپ کے عہد کے صرف چند بڑے بڑے واقعات و نقل کیا ہے۔

 ہمارے منابع و مصادر معلومات میں

تاریخ مسعودی جلد ۳،

صواعق محرقہ ،

تاریخ الخلفاٴء،  اور

مقاتل الطالبین

شامل ہیں۔  اسکے علاوہ ہم نے  کتاب چودہ ستارے از علامہ نجم الحسن کراروی سے بھی استفادہ کیا ہے۔  تاہم  مزید معلومات کے خواہشمند  کتب سیر و حدیث کی طرف رجوع کر سکتے ہیں جن میں قابل ذکر حلی المتقین از علامہ مجلسی،  اصول کافی از علامہ یعقو کلینی، کتاب نور الابصار از مؤمن بن حسن مؤمن الشبلنجي، دمع الساکبہ از حاج ملا باقر بہبہانی، مقاتل


:دیگر مضامین
(21.06.2011) برطانیہ کے شہر بولٹن میں مولائے کائنات علی علیہ السلام کے یوم ظہور کا میلاد
(18.06.2011) ممتاز ادیب و محقق نور احمد میرٹھی حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے
(17.06.2011) لندن کے حسینی مشن میں ظہور امام علی علیہ السلام کے موقع پر ایک پرنور محفل میلاد
(16.06.2011) سانسوں میں رواں ہر دم ہے جواں ہر دل میں عیاں دھڑکن ہے علی
(15.06.2011) کسے را میسر نہ شد ایں سعادت ۔ با کعبہ ولادت با مسجد شہادت
(14.06.2011) عظمت ماں کے عنوان سے ماہ پارہ صفدر کے گھر پر محفل میلاد
(11.06.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ دسویں قسط
(06.06.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ نویں قسط
(03.06.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ آٹھویں قسط
(03.06.2011) غدیر خم کے موقع پر پیغمبر اسلام احمد مجتبی (ص) کا خطبہ مبارک
(31.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ ساتویں قسط
(28.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ چھٹی قسط
(27.05.2011) مولاي یا صلي وسلم دائماً أبداً ۔ قاری خوشی محمد کی آواز
(25.05.2011) لن شوپنگ میں بنت رسول سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ کے یوم ظہور کی محفل
(22.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔پانچویں قسط
(19.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔چوتھی قسط
(17.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔تیسری قسط
(15.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔دوسری قسط
(13.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔پہلی قسط
(02.05.2011) اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957 کو سعودیہ عرب کے دارلحکومت ریاض میں پیدا ہوئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں