
گودسے لیکر گور تک انسا ن آتے جاتے ، چلتے پھرتے، سفرمیں اسے کہیں بھی حادثے کاسامناہوسکتاہے، ایسے میں اسے ایک ایسے ہمدردکی ضرورت ہوتی ہے جو اسے ابتدائی طبی امداد کے بعد زیادہ شدیدحالت میں ہسپتال تک پہنچائے ۔صرف ایک انسان ہی کیا، انسانوں کا ایک گروہ، مخصوص علاقہ کے لوگ کسی بھی آفت ناگہانی کا شکارہوجاتے ہیں توانہیں بھی بے شمارایسے ہمدردوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان ابتدا ئی طورپر ٹریٹمنٹ کرنے کے علاوہ انہیں شدید حالت میں محفوظ طریقے سے ہسپتال بھجواسکیں۔ موجودہ میں ایسا فریضہ بے شمار لوگ، تنظیمیں انجام دے رہی ہیں۔ ان میں سے کوئی رفاحی ادارے،تنظیمیں ہیں تو وہاں حکومتی سطح پرقائم ادارے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
یوں تو عموماًحکومتی اداروں سے لوگ خائف رہتے ہیں لیکن بعض اداروں کی کارکردگی کی بدولت اس نقطہ نظر میں تبدیلی رونماہوئی ہے۔ ایسے ہی اداروں میں ریسکیو1122 بھی بنیاد ی اہمیت کاحامل ادارہ ہے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے دور میں قائم ہونیوالے اس ادارے نے قیام سے لیکر اپنی بے مثال کارکردگی کی وجہ سے لوگوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ صرف پنجاب ہی نہیں ملک بھر میں جہاں کہیں بھی ضرورت پڑی ادارہ کے کارکنان جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ عموماً خیال کیاجاتاہے چونکہ یہ ادارہ سرکاری ہے اس لئے اگر اس سے منسلک عملہ یا کارکنان جانفشانی سے کام کرتے ہیں تو انہیں تنخواہ بھی تو ملتی ہے لیکن یہ خیال پاکستان جیسے معاشرے میں اس وقت ردہوجاتاہے جب ریسکیو1122سے منسلک عملہ اپنی جان دائو پرلگاکر پوری ایمانداری سے فرائض انجام دیتا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں گذشتہ برس کے تباہ کن سیلاب کے دوران بھی دیگر رفاحی اداروں کی طرح ریسکیو1122کاکردار قابل ستائش رہا۔دیگر اضلاع کی طرح پنجاب کے دو دراز اورپسماندہ ضلع بھکر میں بھی ریسکیو1122 کی سروسز کاآغاز ایک سال قبل ہوا اور اس دوران ریسکیو بے حد متاثر کن رہی۔
ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے مقامی انچارج انجینئر نویدا قبال نے بتایا کہ ریسکو 1122کی ایک سالہ شاندار کارکردگی 3047پر ریسکو مدد کو پہنچی اور ملکی سطح پر آنے والے سیلاب میں ضلع بھکر کے مختلف علاقوں سے 700 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتالوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ 909ٹریفک حادثات میں متاثرین کی مدد کی
ریسکو انچارج ایمر جنسی آفیسر نوید اقبال نے بتایا کہ پندرہ جون 2010سے پندرہ جون 2011تک بھکر میں ریسکو کی کارکردگی شاندار رہی اور ریسکو بھکر نے اپنی محنت اور لگن سے جہاں متاثرین کو بھرپور رلیف پہنچایا وہاں عوام میں ریسکو کی افادیت کھل کر سامنے آئی ۔
نوید اقبال نے بتایا کہ ایک سالہ پریڈ میں ٹوٹل 3047حادثات میں ریسکو بھکر نے مدد کی جن میں 909ٹریفک حادثات اور 57آگ لگنے کے واقعات میں ریسکو بروقت پہنچی جبکہ گیارہ عمارات منہدم ہونے اور 1895میڈیکل ایمر جنسی کی مدد کی گئی نوید اقبال نے ریسکو بھکر سنٹر کی مزید معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طورپر روزانہ 8کالیں ریسکو کیلئے آئی اور 6.37پر رسپانس دیا گیا اور اس عرصہ میں کل 4175افراد کو ریسکو کیا گیا اور پہلے روز 1312کالیں آئی اور اس عرصہ میں 92اموات ہوئی جس پر ڈیڈ باڈی کی مدد کی گئی اور کل 14144کالیں وصول ہوئی ہیں جن میں اطلاع کیلئے 1286کالیں وصول کی گئی جن میں 566کالیں غلط ثابت ہوئی جبکہ کمیونٹی سیفٹی آفیسر عذرا شاہد نے ریسکو کی آگاہی کیلئے کل 55لیکچر دیتے جن میں 30000شہریوں نے بھی شمولیت کی انہوں نے عوام میں آگہی پیداکرنے کیلئے سرکاری، پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں جاکر لیکچر دئیے تو این جی اوز اور دیگر کئی اداروں کو ٹریننگ بھی دی۔
انہوں نے حقیقی معنوں میں پوری جانفشانی سے فرائض انجام دیکر ایک نئی مثال قائم کی نوید اقبال نے مزید بتایا کہ ہنگامی دنوں سیلاب اور حادثات کے مواقع پر ریسکو نے ٹائم ضائع کیے بغیر متاثرین کی بروقت مدد کرکے انسانی ہمدردی کا ثبوت دیا۔نوید اقبال کو لوگوں سے شکوے بھی رہے خاص طورپر گھریلوخواتین کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ وہ ریسکیوکانمبر1122ملاکر یا توریسیور بچوں کو تھمادیتیںیا پھر ریسیور ایک سائیڈ پر رکھ کرگویا ہمارا مذاق اڑاتی رہیں اسی طرح لوگوں میں آگہی کے باوجود یہ سمجھاجاتا تھا کہ ریسکیو کا کام مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنا ہے اس لئے معمولی سی تکلیف پر بھی ریسکیو کو کا ل کرلیاجاتا اب میڈیا کی بدولت اس تاثر میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم ابھی بھی ضرورت ہے کہ لوگوں کو آگاہ کیاجائے کہ ریسکیو1122عملہ ایسے مریض کو ہی ہسپتال لے جاتا ہے جو انتہائی تکلیف د ہ حالت میں یا دل کامریض جسے ہارٹ اٹیک ہوچکا ہو اسے ہی ہسپتال منتقل کیاجاتا ہے۔
دوسری ایک اور غلط فہمی یہ بھی عوام میں پائی جاتی ہے کہ کسی بھی حادثے کی صورت میں ریسکیو عملہ زخمی کو فی الفورہسپتال منتقل کردے۔ ایسا نہیں ہوتا بلکہ ریسکیو عملہ ابتدائی طبی امداد دینے اورمرہم پٹی کے بعد ہی زخمی کو ہسپتال منتقل کرتاہے اگر ایسا نہ کیاجائے تو بعض ایسے مریض جن کا خون ضائع ہورہاہو توان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے ۔ حادثے کے مقام پر پہنچ کر ہم ابتدائی طبی امداد دیتے ہیں تو لوگ خواہ مخواہ مشتعل ہوجاتے ہیں کہ نہیں جی زخمی کو فی الفور ہسپتال منتقل کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو عملہ کے علاوہ ہم نے 400والینٹئر بھی تیار کئے ہیں جو کسی بھی ناگہانی صورتحال میں معاونت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جب کبھی ریسکیو کے کنٹرول روم سے کسی ایمرجنسی کے سلسلہ میں رابطہ کیاجائے تو کنٹرول روم آپریٹرکو حادثے ،مریض کے متعلق مکمل معلومات دی جائیں تاکہ پوری آسانی سے ریسکیو ایمبولینس یا دوسری ضروری وہیکلز بھی روانہ کی جاسکیں۔