نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل تھا۔ الفریڈ سویڈن میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روس میں گزارا۔ ڈائنامائٹ الفریڈ نوبل ہی نے ایجاد کیا۔ اس کے علاوہ متعدد دوسری ایجادات کا سہرا بھی اسی کے سر ہے۔ اپنی زمینوں اور ڈائنامائٹ سے کمائی گئی دولت کے باعث 1896ء میں اپنے انتقال کے وقت نوبل کے اکاؤنٹ میں 90 لاکھ ڈالر کی رقم تھی۔
موت سے قبل اس نے اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ اس کی یہ دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران میں طبیعات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔
اس وصیت کے تحت فوراً ایک فنڈ قائم کر دیا گیا جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔ 1968ء سے نوبل انعام کے شعبوں میں معاشیات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نوبل فنڈ کے بورڈ کے 6 ڈائریکٹر ہیں جو دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں اور ان کا تعلق سویڈن یا ناروے کے علاوہ کسی اور ملک سے نہیں ہو سکتا۔
نوبل فنڈ میں ہر سال منافع میں اضافے کے ساتھ ساتھ انعام کی رقم بھی بڑھ رہی ہے۔ 1948ء میں انعام یافتگان کو فی کس 32 ہزار ڈالر ملے تھے، جب کہ 1997 میں یہی رقم بڑھ کر 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔
نوبل انعام کی پہلی تقریب الفریڈ کی پانچویں برسی کے دن یعنی 10 دسمبر 1901ء کو منعقد ہوئی تھی۔ تب سے یہ تقریب ہر سال اسی تاریخ کو ہوتی ہے۔
پاکستان کا واحد نوبل انعام فزکس کے میدان میں1979میں مرحوم ڈاکٹر عبدالسلام کو ملا۔ڈاکٹر عبدالسلام پنجاب کے شہر جھنگ میں 1926 میں پیدا ہوۓ اور اکتوبر 1996 میں وفات پائی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے 14 سال کی عمر میں پورے پنجاب میں میٹرک میں پہلی پوزیشن لی،گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹر ڈگری اور 1949 میں کیمبرج یونیورسٹی سے ریاضیاور فزکس میں گریجویشن کی۔ نظریاتی فزکس میں 1951میں کیمبرج یونیورسٹی سے ایچ ڈی کی۔ گورمنٹ کالج لاہور میں1951 سے 1954 تک ریاضیکے پروفیسر رہے اور پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے لیئے بھی کام کیا۔معروف پاکستانی ماہرِ طبیعات ڈاکٹر عبدالسلام نے دس دسمبر 1979ءکو سویڈن کے بادشاہ کارل گستاو (Carl Gustav XVI)کے ہاتھوں فزکس میں نوبل انعام کی جو سند وصول کی تھی وہ اٹلی میں ڈاکٹر سلام کے قائم کردہ سائنسی تعلیم کے بین الاقوامی مرکز میں تھی۔ اس مرکز کا نام Abdul Salam International Centre for Theoretical Physicsہے۔ اس مرکز سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ سائنسدان فیض یاب ہو چکے ہیں جن میں اکثریت کا تعلق ترقی پذیر ملکوں سے تھا۔
اس ادارے نے ڈاکٹر عبدالسلام کی جس پاکستانی کالج میں ابتدائی تعلیم مکمل ہوئی اور جس کالج میں وہ 1951ءسے1954ءتک ریاضی کے پروفیسر رہے، اس کالج کو خراج عقیدت کے طور پر ڈاکٹر عبدالسلام کا نوبل انعام سرٹیفیکٹ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو عطیے کے طور پر 2007میں دیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام کو گورنمنٹ کالج لاہور سے اپنی وابستگی پر ہمیشہ فخر رہا اور اب ان کو دیے گئے نوبل انعام کی سند

اسی ادارے کی لائبریری کے میوزیم میں آویزاں ہوگئی ہے۔
مارچ دو ہزار چار کو ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں معروف شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے نوبیل تمغے اور اعزازی سرٹیفکیٹ سمیت ان کی گھڑی، سونے کی انگوٹھی، قیمتی پینٹنگز اور مزید چند چیزیں چوری ہوگئی ہیں۔ٹیگور کو نوبل انعام انکی شاعرانہ تخلیق گیتا نجلی کے لیۓ 1913 میں دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ تمغہ اور سرٹیفکیٹ اس عمارت سے چوری ہوئے ہیں جہاں بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور رہا کرتے تھے۔ شانتی نکیتن کے قصبہ میں اتریان نامی کمپلکس میں جہاں ٹیگور کا گھر تھا اور اب وشوا بھارتی یونیورسٹی بھی قائم ہے، ایک عجائب گھر قائم کیا گیا تھا۔
مئی دوہزار پانچ میں سویڈن نے ہندوستان کو رابندرناتھ ٹیگور کے نوبل انعام کی دونقول پیش کر دی ہیں۔ہندوستان میں سویڈن کے سفیر نے یہ تمغہ وزیرخارجہ نٹور سنگھ کو وشوبھارتی یونیورسٹی کی ایک تقریب میں پیش کیا۔ مشہور ادیب، مصور و دانشور رابندر ناتھ ٹیگور کا تمغہ گزشتہ برس یونیورسٹی کے عجائب گھر سے چوری ہوگیا تھا۔
ج
ولائی دو ہزار پانچ میں دنیا کے سب سے بڑے اعزاز نوبل امن پرائز کے لیے نامزد کی گئی ایک ہزار خواتین میں سے انتیس کا تعلق پاکستان سے تھاجبکہ بھارت سے اکاون، بنگلہ ادیش سے سولہ، سری لنکا سے بارہ اور نیپال سے نو خواتین کو نامزد کیاگیا ۔پاکستان سے پہلی مرتبہ خواتین کو امن نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
پاکستان سے

نامزد خواتین میں عورت فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگار احمد، انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اسٹڈیز پریکٹس کوئٹہ کی بانی ڈاکٹر قرۃ العین بختیاری، خدمت خلق کے حوالے سے مشہور بلقیس ایدھی، ڈرامہ آرٹسٹ مدیحہ گوہر، وومین ایکشن فورم کی سربراہ انیس ہارون، انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر، ایڈووکیٹ حنا جیلانی، کلاسیکل ڈانسر شیما کرمانی، شرکت گاہ سے منسلک خاور ممتاز، ڈرامہ نویس کشور ناہید، جسٹس ماجدہ رضوی، سابق صحافی اور خیرپور کی ضلع ناظم نفیسہ شاہ کے نام شامل تھے۔
دس دسمبر دو ہزار پانچ کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل محمد البرادی کو نوبل انعام دیا گیا جوایجنسی اور اس کے سربراہ کوایٹمی اسلحہ کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کی گئی کوششوں کے اعتراف میں ملا۔اس انعام میں ایک انعامی سند، سونے کا تمغہ اور

تقریباً سات لاکھ پاؤنڈ کی انعامی رقم شامل تھی جسے ایجنسی اور اس کے سربراہ کے درمیان تقسیم کیاگیا۔
دوہزار چار میں کینیا کی خاتون ونگری ماتھی کو ماحول اور انسانی حقوق کے لیے کام کے صلے میں نوبل کا امن انعام دیا گیا ۔ونگری ماتھی جو کینیا کی حکومت میں وزیر کے عہدے پر فائز ہیں پہلی افریقی خاتون ہیں جن کو نوبل امن انعام ملا۔
دوہزار تین میں نوبل انعام برائے امن ایران سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن کو دینے کا اعلان ہوا
شیرین عبادی ایران

میں ایک معروف وکیل ہیں اور وہ ملک کی پہلی خاتون جج تھیں۔ تاہم انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد ان کو اس عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ۔نوبل کمیٹی نے اپنے بیان میں شیرین عبادی کو ایک جرات مند انسان قرار دیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ بلا خوف نا انصافی کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
دوہزار دو میں امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کو امن کے نوبل پرائز سے نوازا گیا ۔ناروے کی پانچ رکنی نوبل کمیٹی نے ایک سو چھپن امیدواروں میں سے مسٹر کارٹر کا انتخاب کیا ہے۔ انہیں نوبل امن انعام سے اس لئے نوازا گیا ہے کیونکہ وہ بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لئے برسوں تک انتھک کوششوں میں مصروف رہے ہیں۔

دوہزار چھ میں بنگلہ دیش کے چھوٹے قرضے دینے والے گرامین بینک اور اس کے بانی محمد یونس کو اس سال کا امن کا نوبل انعام دیا گیا۔انعامات کے بارے میں فیصلہ کرنے والی سویڈن کی نوبل کمیٹی کے مطابق محمد یونس اور ان کے قائم کردہ ادارے کو یہ انعام غربت کے خاتمے کے لیے کام پر دیا گیا۔
اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ علامہ اقبال اور مہاتما گاندھی کو نوبل انعام کیوں نہیں ملا؟معروف ڈرامہ نگار،محقق اور براڈکاسٹر عارف وقار نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے ‘‘علامہ اقبال کے مداحوں کو اس بات کا ہمیشہ قلق رہا ہے کہ ہندوستان کے اوّلین نوبیل انعام کا اعزاز اقبال کی بجائے ٹیگور کو حاصل ہوا۔ شاید اس ’زیادتی‘ کی تلافی ہو جاتی اگر بعد کے برسوں میں اقبال کو بھی اس انعام کا مستحق قرار دے دیا جاتا لیکن 1913 سے 1938 تک کے 25 برسوں میں ایک بار بھی نوبیل کمیٹی کی توجہ اقبال پر مرکوز نہ ہو سکی۔
چونکہ نوبیل کمیٹی کی تمام دستاویزات اور خط و کتابت پر پچاس برس تک اِخفاء کی پابندی رہتی ہے اس لیے سن ساٹھ کے عشرے تک یہ محض ایک راز تھا اور اس پر ہر طرح کی چہ می گوئیاں ہوتی تھیں۔اسےایک سوچی سمجھی سازش بھی قرار دیا جاتا تھا ۔علامہ اقبال کو نوبیل پرائیز سے کیوں محروم رکھا گیا تھا۔
1963 میں پرانے دستاویزات کے سامنے آنے پر کھُلا کہ کمیٹی نے کوئی سازش نہیں کی تھی اور نہ ہی علامہ اقبال کی نامزدگی کا جھگڑا کبھی پیدا ہوا تھا۔لیکن اگر بنگال کے شاعر رابندر ناتھ کا نام کمیٹی کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے تو اقبال کی نامزدگی میں کیا قباحت تھی؟ پرانے دستاویزات اس سلسلے میں کوئی واضح رہنمائی نہیں کرتے۔
سن 1914 کےاوائل میں تیار ہونے والی ایک رپورٹ میں نوبیل کمیٹی کے چئر مین ہیرلڈ ہئیارن نے جِن خیالات کا اظہار کیا ہے اُس سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں چھڑنےوالی جنگ کی ممکنہ تباہ کاری کو دیکھتے ہوئے کمیٹی سوچ رہی تھی کہ نوبیل انعام ایسے ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیئے جو جنگ اور تباہی کے پرچارک ہوں۔
ہیرلڈ ہئیارن نے مختلف ماہرین کی آراء پیش کرنے کے بعد رپورٹ میں خیال ظاہر کیا کہ ادب کا نوبیل انعام دیتے وقت اس امر کو بطور خاص مدِّ نظر رکھنا چاہیئے کے یہ انعام کسی قوم پرستانہ مصنف کو نہ چلا جائے یعنی کسی ایسے قلم کار کو جو ایک مخصوص قوم کے ملّی جذبات کو ابھار کر دنیا پرچھا جانے کی ترغیب دے رہا ہو۔
اگرچہ پہلی جنگِ عظیم سے قبل بھی یورپ کے سلسلے میں اقبال کسی خوش فہمی کا شکار نہیں تھے لیکن جنگ کے بعد یورپ کے بارے میں اُن کی تلخی مزید بڑھ گئی۔
1907 کی ایک غزل میں اقبال نے کہا تھا:دیارِ مغرب کے رہنے والو، خدا کی بستی دُکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہی زرِ کم عیار ہوگانکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھاسنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگاتمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گیجو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگاانیس سو چودہ کی ایک رپورٹ میں نوبیل کمیٹی کے چیئرمین خیال ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی اتھل پتھل ایک عارضی مرحلہ ہے، ادب کو اِن وقتی

مصلحتوں سے ماوراء ہوکر عالمی اور دائمی اقدار کا دامن تھامنا چاہیئے۔
کم و بیش یہی وہ خیالات تھے جن کی بنیاد پر مہاتما گاندھی کے نوبیل پرائز کا راستہ بھی عرصہ دراز تک رُکا رہا لیکن گاندھی کےکیس میں کم از کم چار مرتبہ ان کا نام کمیٹی کے سامنے آیا اور اس پر خاصی بحث بھی ہوئی بلکہ نئی تحقیق کے مطابق تو 1948 میں انھیں انعام ملنے ہی والا تھا کہ ان کی ناگہانی موت واقع ہوگئی۔
علامہ اقبال کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ 1913 میں ٹیگور کو انعام ملنے کے ربع صدی کے بعد تک اقبال زندہ رہے لیکن نوبیل کمیٹی نے کبھی اُن کے نام پر غور نہیں کیا۔ اقبال کی شہرت کا سورج اس وقت نصف النہار پر تھا اور یہی وہ زمانہ تھا جب اقبال کو حکومتِ برطانیہ نے ٰ سر ٰ کا خطاب عطا کیا تھا، اگرچہ یہاں بھی ٹیگور انہیں مات دے گئے کیونکہ ٹیگور کو سر کا خطاب سات برس پہلے 1915 ہی میں مِل گیا تھا۔
آپ نے شاید کبھی یہ نہ سنا ہو کہ نوبل انعام پانے والوں کو ہتھکڑیاں بھی لگی ہیں۔ جی دوہزار تین میں ایسا ہوا ہے۔واشنگٹن میں جنگ کے خلاف مظاہرے میں دو نوبل پرائز یافتہ افراد اور دو پادریوں کو پولیس نے اس وقت گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا دیں جب مظاہرین نے پولیس کی طرف سے متعین کردہ حد کو پار کرنے کی کوشش کی۔
مے ریڈ کوریگن میگوایر جن کو انیس سو چھتر میں نوبل پرائز دیا گیا تھا اور جوڈی ولیمز جن کو انیس سو ستانوے میں نوبل پرائز دیا گیا تھا ۔