سچ تو یہ ھے کہ جو
مسلمان جنگوں اور دہشت گردیوں میں نہیں مر رھے ھیں وہ اپنے ھی نام نہاد
خطیبوں اور ملاؤں،واعظین،ذاکروں اور علما کے ھاتھوں شرمندگی سے مر رھے ھیں

اپنے
اپنے وطن مولد میں رہنے کے فائدے اور نقصانات تو بلاشبہ ساتھ ساتھ رہتے ہی
ہیں لیکن مجھے برسوں سے آسڑیلیا میں رھتے ھوئے ھمیشہ اٍس با ت کا قلق رھا
کہ آخر یہاں اتنا سکون کیوں ھے ۔ یوں سمجھیئے کہ یہاں کی زندگی میں سنسنی
بس اٍتنی سی ھوتی ھے جیسے یہی کہ آج موٹر وے کے کمپیوٹرز فیل ھونے کی وجہ
سے ٹریفک میں بڑی بدنظمی رھی اور اگر یہی بات اور آگے بڑھ جائے تو
اسمبلیوں میں ٹریفک منسٹر کی ھلکی پھلکی تہذیب کے دائرے میں شامت بھی آ
جاتی ھے اور بس اللہ اللہ تے خیر سلا ۔
ھمارے
ہاں دنیا کے اس کونے میں جسے آسٹریلیا کہتے ہیں جب بھی کبھی خبروں میں
واقعی سنسنی آتی ھے تو وہ صرف مسلمانوں کی وجہ سے آتی ھے ۔ اور یوں پوری
آسٹریلوی قوم حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگتی ھے اور سوچتی ھے کہ انہوں
نے اب تک اتنی عظیم قوم سے کچھ کیوں نہیں سیکھا ۔
ابھی
کل یعنی بدھ چھبیس جون کی ہی بات لے لیجئے کہ جب آسٹریلیاکی پوری قوم
اپنے آسٹریلن کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی پلین میگرا کی جوان سال بیوی
جین میگرا ، جو بریسٹ کینسر کی جانی مانی چیریٹی آگنازئر بھی تھی ، اُن
کی موت کے صدمے سے جاں بلب اور خاموش تھی ۔ عین اُسی وقت آسٹریلیا کے سب
سے بڑی مسجد کے معروف
خطیب شیخ خلیل چامی نے حکومت سے درخواست کی ک
ہ “ تمام مسلمان مردوں کو اسلام کی رو سے ایک سے زائد شادیاں کرنے کی اجازت دی جائے “ ۔
ان
بزعم خویش عالم دین کے اس مطالبے پر نا صرف پورا میڈیا حرکت میں آ گیا
بلکہ حکومتی مشینری تو ھکابکا ھی رہ گئی اور انتہائی تمیزداری سے منسٹر
کو بھی میڈیا پر آ کر حتمی طور پہ یہ کہنا پڑا کہ ایسا ھونا ناممکن ھے ۔
یہ
درخواست اُس خطیب نے دی تھی جو یہاں ھم مسلمانوں کے سربراہ ھیں اور ہم
جیسے بیچارے مسلمانوں کی بھی دینی سطح پر نمائندگی کرتے ہیں۔میں نے خود کو
بیچارہ اس لیئے لکھا ہے کہ عجب طرفہ تماشہ ہے کہ ہم لوگ جو اس معاشرے کے
ستر فیصد سے زائد عوام سے براہ راست رابطے میں رہتے ہیں ہمیں ہی ایسے نام
نہاد اور ‘‘ٹنل ویژن‘‘ والے علما (میں علمائے دین کا لفظ بہت احتیاط سے
استعمال کرتی ہوں) کی وجہ سے ایسے ایسے مدلل سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
کہ بعض اوقات واقعی جواب نہیں بن پاتا۔
میں اب اس سوچ میں ہوں کہ کیا عجب کہ
مسٹر بش کی نئی ریاست عراق سے تعلق رکھنے والے سڈنی کی لوکمبا کے اسلامی
ویلفیئر سنٹر کےان مولانا یا علامہ شیخ خلیل چامی کواسلام میں سوائے چار
شادیوں کے کوئی اور بات منوانے کے لیئے اہم لگی ھی نہیں ھو ۔ اب
یہ بھی کہیں سچ ھی نہ ھو کہ ھر بیرون ٍ ملک میں ایسے ھی خطیب ھوتے ھوں جو
اسلام کو صرف شادیوں تک ھی محدود جانتے ھیں ۔ اُن کے نزدیک اسلام کی ساری
ایسی باتیں جن کا تصور غلط طور پر غیر مسلموں کے ذہنوں سے چپکا ھوا ھے
اسے ھی سچ کرنا جہاد کرنا ھو اور شائد وہ اٍسی تعلیمات کو پھیلانے کے
لیئے اپنے ملکوں سے بھی آئے ھوں ۔

اب
آپ ھی بتایئے فلسطین سے لے کر افغانستان تک جتنے بھی مسلم ملک دنیا میں
پڑتے ھیں ، وہاں پر ھی کیا بلکہ ھر طرف صرف مسلمان ھی زیادہ تر مر رھے
ھیں اور جہاں نہیں مر رھے ھیں وہاں کے مسلمانوں کو شادیوں کی پڑی ھوئی
ھے ۔ ایسے مسلمانوں کا فلسفہ حیات یہ ھے کہ جو مرتا ھے مرے ھمیں کیا لینا
دینا اُن سے ، کم از کم ھم تو سکون سے رھیں ۔ سکون بھی کیوں ، عیاشی سے
رھیں ، کھائیں پیئیں ، موج کریں ۔ اور بہت زیادہ اسلام کے خیر خواہ ھوئے
تو بس اتنی سی سوچ ھے کہ اپنی ایک سے زائد وہ شادیاں جو وہ چوری چھپے
کیئے بیٹھے ھیں اور اب بچے بھی کئی پیدا ھو چکے ھیں انہیں اپنا نام دنیا
کے سامنے دے سکیں اور اٍس بات کو نمٹا کر اپنی زندگی بقول اُن کے
اسلامی طور پر گزار سکیں ۔ ھم
نے تو یہ سنا اور پڑھا ہے کہ ایک سے زائد شادیاں کرنے کے لیئے اسلام میں
اتنی کڑی شرائط ھیں کہ سچا اور اچھا مسلمان بس یہ سوچتا ھے کہ ایک ھی
نبھا لوں تو بہت ھے ۔ کیا اٍس پس منظر میں غیر مسلم یہ
سمجھنے میں حق بجانب نہیں ھیں کہ مسلمان انتہائی خود غرض ، دھوکہ باز ،
ناجائز فائدہ اُٹھانے والا صرف ایک عیاش ھے ورنہ وہ قران کی پہلی آیت کے
مطابق حکومت سے علم سیکھنے کی درخواست کرتا ، علم سیکھانے کی آزادی کی
خواہش کرتا ، علم اپنے بچوں میں بانٹنے کے لیئے ایک اسکول، یونیورسٹی
میں اوپشنل سبجیکٹ کے طور پر دینیات،عربی ، فارسی ، اردو کی ضد کرتا ۔
آج سب سے زیادہ ضرورت غیرمسلموں کو یہ بتانے کی ہے کہ ھمارا اسلام صرف ایک سے زائد شادیوں کامذہب نہیں ھے
اور نہ ھی عورتوں پر جذباتی اور جسمانی تشدد کا مذہب ھے بلکہ اسلام علم
دوست مذھب ھے جو زندگی کے ھر مرحلے پر سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ سیکھاتا
ھے اور دکھ سکھ میں اپنی ملکیت بانٹنے کا درس دیتا ھے ۔ سچ تو یہ ھے کہ جو
مسلمان جنگوں اور دہشت گردیوں میں نہیں مر رھے ھیں وہ اپنے ھی نام نہاد
خطیبوں اور ملاؤں،واعظین،ذاکروں اور علما کے ھاتھوں شرمندگی سے مر رھے ھیں۔
آپ
میں سے اگر کوئی جانتا ہے تو ضرور بتائے کہ ہم کب تک کسی خلیل چامی یا
ڈاکٹر اسرار جیسے کے بیانات کی وجہ سے ضمیر کی سولی پر لٹکے رہیں گے اور
ان کے ایسے بیانات اور مطالبات کے جواب اپنے غیر ملکی ہم وطنوں کو دیتے
رہیں گے؟ میں نہیں جانتی کہ اب اور کس کس طرح سے مرنا ھو گا ۔