15.10.2026, 12:23pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

اب اور کس کس طرح سے مرنا ھو گا
14.10.2008, 11:45am , منگل (GMT+1)

نگہت نسیم۔ سڈنی
سچ تو یہ ھے کہ جو مسلمان جنگوں اور دہشت گردیوں میں نہیں مر رھے ھیں وہ اپنے ھی نام نہاد خطیبوں اور ملاؤں،واعظین،ذاکروں اور علما کے ھاتھوں شرمندگی سے مر رھے ھیں
اپنے اپنے وطن مولد میں رہنے کے فائدے اور نقصانات تو بلاشبہ ساتھ ساتھ رہتے ہی ہیں لیکن مجھے برسوں سے آسڑیلیا میں رھتے ھوئے ھمیشہ اٍس با ت کا قلق رھا کہ آخر یہاں اتنا سکون کیوں ھے ۔ یوں سمجھیئے  کہ یہاں کی زندگی میں سنسنی بس اٍتنی سی ھوتی ھے جیسے یہی کہ آج موٹر وے کے کمپیوٹرز فیل ھونے کی  وجہ سے ٹریفک میں بڑی  بدنظمی رھی اور اگر  یہی  بات اور آگے بڑھ جائے تو اسمبلیوں میں ٹریفک منسٹر کی ھلکی پھلکی تہذیب کے دائرے میں شامت بھی آ جاتی ھے اور بس اللہ اللہ تے خیر سلا ۔

 ھمارے ہاں دنیا کے اس کونے میں جسے آسٹریلیا کہتے ہیں جب بھی کبھی  خبروں میں واقعی سنسنی  آتی ھے تو وہ صرف مسلمانوں کی وجہ سے آتی ھے  ۔ اور یوں پوری آسٹریلوی قوم حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگتی ھے اور سوچتی ھے کہ انہوں نے اب تک  اتنی عظیم قوم سے  کچھ کیوں نہیں سیکھا ۔

ابھی کل یعنی بدھ چھبیس جون کی ہی بات لے لیجئے کہ جب آسٹریلیاکی پوری قوم اپنے  آسٹریلن کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی پلین میگرا کی جوان سال بیوی جین میگرا  ، جو بریسٹ کینسر کی جانی مانی  چیریٹی آگنازئر بھی تھی  ، اُن کی موت کے صدمے سے جاں بلب اور خاموش  تھی ۔ عین اُسی وقت آسٹریلیا کے سب سے بڑی  مسجد کے معروف خطیب شیخ خلیل چامی نے حکومت سے درخواست کی کہ “ تمام مسلمان مردوں کو  اسلام  کی رو سے ایک سے زائد شادیاں کرنے کی اجازت دی جائے “ ۔

ان بزعم خویش عالم دین کے اس مطالبے پر نا صرف پورا میڈیا حرکت میں آ گیا بلکہ حکومتی مشینری تو ھکابکا  ھی رہ گئی اور انتہائی تمیزداری سے منسٹر کو بھی میڈیا پر آ کر حتمی طور پہ یہ کہنا پڑا کہ ایسا ھونا ناممکن ھے ۔

 یہ درخواست  اُس خطیب نے دی تھی  جو یہاں ھم مسلمانوں کے سربراہ ھیں اور ہم جیسے بیچارے مسلمانوں کی بھی دینی سطح پر نمائندگی کرتے ہیں۔میں نے خود کو بیچارہ اس لیئے لکھا ہے کہ عجب طرفہ تماشہ ہے کہ ہم لوگ جو اس معاشرے کے ستر فیصد سے زائد عوام سے براہ راست رابطے میں رہتے ہیں ہمیں ہی ایسے نام نہاد اور ‘‘ٹنل ویژن‘‘ والے علما (میں علمائے دین کا لفظ بہت احتیاط سے استعمال کرتی ہوں) کی وجہ سے ایسے ایسے مدلل سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات واقعی جواب نہیں بن پاتا۔

میں اب اس سوچ میں ہوں کہ  کیا عجب کہ مسٹر بش کی نئی ریاست عراق سے تعلق رکھنے والے سڈنی کی لوکمبا کے اسلامی ویلفیئر سنٹر کےان مولانا یا علامہ شیخ خلیل چامی کواسلام میں سوائے چار شادیوں کے کوئی اور بات منوانے کے لیئے اہم لگی ھی نہیں ھو ۔ اب یہ بھی کہیں سچ ھی نہ ھو کہ ھر بیرون ٍ ملک میں ایسے ھی خطیب ھوتے ھوں جو اسلام کو صرف شادیوں تک ھی محدود جانتے ھیں  ۔ اُن کے نزدیک اسلام کی ساری ایسی باتیں جن کا تصور غلط طور پر غیر مسلموں  کے ذہنوں سے چپکا ھوا ھے اسے ھی سچ کرنا جہاد کرنا ھو اور شائد وہ اٍسی تعلیمات کو پھیلانے کے  لیئے اپنے ملکوں سے بھی  آئے ھوں  ۔

اب آپ ھی بتایئے فلسطین سے لے کر افغانستان تک جتنے بھی مسلم ملک دنیا میں پڑتے ھیں ،  وہاں پر ھی کیا  بلکہ  ھر طرف صرف  مسلمان ھی زیادہ تر مر رھے ھیں اور جہاں نہیں مر رھے ھیں  وہاں کے  مسلمانوں کو شادیوں کی پڑی ھوئی ھے ۔ ایسے مسلمانوں  کا فلسفہ حیات یہ ھے کہ جو مرتا ھے مرے ھمیں کیا لینا دینا اُن سے ، کم از کم  ھم تو سکون سے رھیں  ۔ سکون بھی کیوں ، عیاشی سے رھیں ، کھائیں پیئیں ، موج کریں ۔ اور بہت زیادہ  اسلام کے خیر خواہ ھوئے تو بس اتنی سی سوچ ھے کہ اپنی ایک سے زائد وہ شادیاں  جو وہ چوری چھپے کیئے بیٹھے ھیں اور اب  بچے بھی کئی پیدا ھو چکے  ھیں انہیں اپنا نام دنیا کے سامنے دے سکیں اور اٍس بات کو نمٹا کر  اپنی زندگی بقول اُن کے اسلامی طور پر گزار سکیں ۔

 ھم نے تو یہ سنا اور پڑھا ہے کہ ایک سے زائد شادیاں  کرنے کے لیئے اسلام میں  اتنی کڑی شرائط ھیں کہ سچا اور اچھا مسلمان  بس یہ سوچتا ھے کہ ایک ھی نبھا لوں تو بہت ھے ۔

 کیا اٍس پس منظر میں غیر مسلم یہ سمجھنے میں حق بجانب نہیں ھیں کہ مسلمان انتہائی خود غرض ، دھوکہ باز ، ناجائز فائدہ اُٹھانے والا صرف ایک عیاش ھے ورنہ وہ قران کی پہلی آیت کے مطابق  حکومت سے علم سیکھنے کی درخواست کرتا  ، علم سیکھانے کی آزادی کی خواہش کرتا  ، علم اپنے بچوں میں بانٹنے کے لیئے ایک اسکول،  یونیورسٹی میں اوپشنل سبجیکٹ کے طور پر دینیات،عربی ، فارسی ، اردو کی ضد کرتا ۔

 آج سب سے زیادہ ضرورت غیرمسلموں کو  یہ بتانے کی ہے کہ ھمارا اسلام صرف ایک سے زائد شادیوں کامذہب نہیں ھے اور نہ ھی عورتوں پر جذباتی اور جسمانی تشدد کا مذہب ھے بلکہ  اسلام علم دوست مذھب ھے جو زندگی کے ھر مرحلے پر سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ سیکھاتا ھے اور دکھ سکھ میں اپنی ملکیت بانٹنے کا درس دیتا ھے ۔ سچ تو یہ ھے کہ جو مسلمان جنگوں اور دہشت گردیوں میں نہیں مر رھے ھیں وہ  اپنے ھی نام نہاد خطیبوں اور ملاؤں،واعظین،ذاکروں اور علما کے ھاتھوں شرمندگی سے مر رھے ھیں۔

آپ میں سے اگر کوئی جانتا ہے تو ضرور بتائے کہ ہم کب تک کسی خلیل چامی یا ڈاکٹر اسرار جیسے کے بیانات کی وجہ سے ضمیر کی سولی پر لٹکے رہیں گے اور ان کے ایسے بیانات اور مطالبات کے جواب اپنے غیر ملکی ہم وطنوں کو دیتے رہیں گے؟

میں نہیں جانتی کہ اب اور کس کس طرح سے  مرنا  ھو گا ۔

:دیگر مضامین
(14.10.2008) رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ھے
(14.10.2008) سیاسی استخارے اور ھم بیچارے
(14.10.2008) لانگ مارچ کا ایک دور اندیشانہ اختتام
(14.10.2008) غلطیاں یا مشعلٍ راہ
(14.10.2008) مقدمہ اب چُپ رھنے والی عوام پر چلایا جائے
(14.10.2008) وہ کھلاڑی جو کچھ مختلف کر سکتے ھیں
(14.10.2008) جیتے گا کون ایسی سیاست کی جنگ میں
(14.10.2008) بے چینی ، بے اعتباری ، عدم تحفط اور کتنے الزام
(14.10.2008) دوست ھوتا نہیں “کیوں “ ھر ھاتھ ملانے والا
(14.10.2008) میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے
(14.10.2008) صدر+وزیراعظم=زرداری
(14.10.2008) تین مئی آزادی ٍصحافت کاعالمی دن
(14.10.2008) ھر چیز میزان میں اچھی لگتی ھے
(14.10.2008) دوستو مبارک ھو اب تعلیم کی ھمیں کوئی ضرورت نہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں