16.10.2026, 01:24am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔11ویں قسط
28.06.2011, 12:10am , منگل (GMT+1)

افضال بن غنی،لندن

‎مشتری ہوشیار باش اے مسلمانوں اپنی آنکھیں کھولو اور اپنی آپ کو نام نہاد ملا سے بچاؤ

‎إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ  إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ  ﴿١٥٩﴾
‎ترجمہ
 
‎سورہ انعام پارہ 6آیت نمبر 159 (جن لوگوں نے دیں میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکرے ٹکرے ہو گئے ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے کرو پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرئے گا۔ )

معذرت کے بعد معزز قارئین سے ایک بار پھر تحریر لے کر حاضر خدمت ہوں کیوں کہ ایک تو میں گزشتہ ہفتوں کے لئے ملک سے باہر تھا اور اپنی ریسرچ کو آگے پڑھانے کے لئے کئی افراد سے اطلاعات بھی اکھٹا کرنے میں مصروفیت تھی اور دوسرے مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام کے ظہور اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز کے حوالے سے عالمی اخبار میں خصوصی مضامین شائع ہورہے تھے جس کے بارے میں اخبار کی انتظامیہ نے مجھے پہلے ہی مطلع کر دیا تھا

چند روز تک قسط نہ آنے پر مختلف حلقوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ شاید ہم بھی ضمیر فروشوں کی طرح بک گئے ہیں یا پھر ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے سلسلہ منقطع کر دیا ہے۔ سچ تو ہے کہ شاید اس سے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ مختلف حلقوں اور لوگوں سے جو مواد ملا ہے ہم اگر ایک سال تک بھی یہ سب تحقیق لکھیں تو یہ مواد ختم نہ ہو

ہم اسوقت بھی انفرادی یا شخصی جنگ میں پڑنے کی بجائے زیادہ تر کردار اور ان منفی کارناموں کی بات کر رہے ہیں جنکی ہمارے پاس سند یا ثبوت موجود ہے یا پھر جس سے عام مسلمان اور مومن کو بے خبری میں نقصان پہنچ رہا ہے

تو لیئجے گیارویں قسط حاضر ہے

ایک تو یہ فیس بک بھی کیا اچھی چیز ہے کہ ادھر واقع ہوا اور لوگوں نے اس پر اطلاعات مہیا کرنی شروع کر دی۔ مبارک باد کے پیغامات اور نئی زندگی کے لئے مبارک باد اور تہنیت کے پیام ملنے لگتے ہیں ان معصوموں کو کیا معلوم کہ ہم جیسے بے پڑھے لکھے لوگ اس سے فائدہ اٹھا کر قارئین کے لئے خبر حاصل کرتے ہیں۔

چلئے کسی کا گھر برباد کر کے نام نہاد ملا اپنے گھر میں بہو لانے میں کامیاب تو ہو گیا اب یہ معلوم نہیں کہ یہ ہانڈی کتنی دیر تک رہے گے ہماری تو دعا ہے کہ اب یہ گاڑی اسی طرح چلتی رہے اور کسی کی بیٹی یا بہن کا گھر برباد نہ ہو مگرانکا کیا اعتبار

یہ تو تھی خوشی کی خبر اب چلتے ہیں اصل مدعا کی طرف۔۔۔ گزشتہ دنوں میں ملک سے باہر تھا کل ہی واپس آیا تو چند میل اور محبت نامے جو حاصل ہوئے اس کا احباب کا شکریہ اور پھر اس بات کی یاد دہانی کرتا ہوا چلوں کے ان مولویوں کی گیڈر بھبکی سے وہ ڈرے جس نے ان کا اصل نہ دیکھا ہو۔ جب اس ملک میں آتے ہیں تو ترلے منت کر کے ویزا لگواتے ہیں اور بعد میں چند معصوم مسلمانوں  اور خاص کر جوان نسل جو اپنے لئے محنت مزدوری کر کے کماتے ہیں اس کو قرانی آیات سنا کر اپنے مطلب کے ترجمے کر کے ورغلاتے ہیں اور اس سے رقم ادھار مانگ کر سب سے پہلے اپنے ٹوٹے پھوٹے دیہاتی مکانات کو عالی شان مکانات میں تبدیل کرواتے ہیں اور پھر اگر قرض کی رقم اگر کوئی فرد طلب کر لے تو اُس پر آنکھیں نکلانے لگتے ہیں ثبوت کے طور پر گئی مثالیں موجود ہیں

یہ جو تصویر آب کی نظروں کے سامنے ہے اس پر اگر غور کریں توان میں سے کئی ناموں سے آپ بھی واقف ہوں گے۔ اور یہ لوگ بھی اپنے درمیان موجود کالی بھیڑوں کو پہچانتے ہیں اور صاف طور پر اس بات کا برملا اظہار کر رہے ہیں کہ انہی کے درمیان ایک شخص کسی طرح اس منصب کا اہل نہیں ۔

 اس خط میں جو کچھ لکھا ہے اس پر تو ہر گز عمل نہیں ہوا  نام نہاد ملا تو 8مارچ کے بعد بھی پرگروام کرتا رہا ہے کیا یہ کھلا اعلان بغاوت نہیں ہے۔ اور اس کے بعد ان نام نہاد مولویوں نے کیا ایکشن لیا ہے اس نام نہاد ملا کے خلاف جبکہ کہ وہ عالم اسلام کی دی ہوئی رقم بٹور کر ملک سے بھی فرار ہو گیا ہے اور شادی بھی رچا لی ہے اور جس کی بیٹی سے شادی رچائی ہے وہ بھی تو ایک ملا ہی ہے۔


  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ڈرامہ ملت اسلامیہ کو گمراہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اگر اس خط کا کوئی جواب ہے تو ان دستخط شدہ افراد کی اخلاقی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ قوم و ملت  کو اس امر سے آگاہ کریں کہ ان کے تحریر شدہ خط کا رد عمل کیا ہوا۔
جب کے ہمارے علم میں تو یہ بات ہے کہ جس دن وہ گرفتا ر ہوا تھا اسی روز رات کو اس کائنات کی سب سے عظیم خاتون دختر پیامبر اکرم کے نام پر پروگرام کر رہا تھا۔  جب کہ یہ گرفتاری تو مئی کے آخر یا جون کے شروعات میں ہوئی کیا یہ اخلاقی جرم نہیں۔

میں نے اپنی کسی تحقیقی تحریر میں پہلے بھی تحریر کیا تھا کہ یہ نام نہاد ملا تو خمس صدقہ اور خیرات کی رقوم کو بھی ہڑپ کر جاتے ہیں اس کو منہ بولیتا ہوں ثبوت اس تصویر سے صاف ظاہر ہے۔

اس کی عبارت کچھ اس طرح سے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی اے نامی فرد نے جو لکھا کہ  تصویر میں تحریر ملاحظ کیئجے

یہ مذہبی اور فرقہ واریت پھلانے والے کسی طرح سے معصوم عوام اور مسلمانوں کو ورغلاتے ہیں اور اپنے فون نمبر تک بھی ظاہر نہیں کرنے اپنے پھائی کے ذریعے سے رابطے کرتے ہیں۔ اور اپنے ایجنٹ کے ذریعے عام اور سادہ لوح عوام کو لوٹتے ہیں۔

اگلی قسط میں ایک شہادتی عکسی ثبوت پیش کریں گے جس میں اپ کو نظر ائے گا کہ عوام کے واجبات جو ان نام نہاد ملاؤں نے ادا کرنے ہیں اور وہ یہ رقم لے کر اس ملک سے فرار اختیار کر چکے ہیں۔  جو رقم اور کمپنی کے نام اس میں درج ہیں وہ افراد ان افراد کو ڈھونڈنے میں مصروف عمل ہیں۔ اگر کسی صاحب کو اس بارے میں علم ہو تو آپ عالمی اخبار کے ادارے سے رابطہ کر کے اطلا ع بھی دے سکتے ہیں۔

آج بھی میں ایک چینلز پر دیکھ رہا تھا کہ باکستان یا ہندوستان سے نامور افراد جو اس ملک کی طرف کسی نہ کسی غرض سے سفر کرتے ہیں ان کو کسی طرح اسلام کے نام پر استمعال کیا جاتا ہے جب کہ نہ تو اس مسافر کی تھکان اتر باتی ہے اور لا کر اس کو چندہ اکٹھا کرنے کے لئے یٹھا دیا جاتا ہے وہ صاحب تو اپنی طرف سے نیک کام میں شرکت کرنے ہیں۔ مگر ان کو کیا معلوم کہ اس کہ عقب میں جو کام کر رہا ہے اس کی نیت کیا ہے،

یہ چندہ۔خیرات۔صدقہ جمع کرنے کا گھناؤنا کاروبار کسی ایک مسلک کے چینل پر نہیں بلکہ مسلمانوں کے لگ بھگ تمام بڑے مسالک کے ٹی وی چینلوں پر ہو رہا ہے۔ کہیں مسجد بنانے کے نام پر، کہیں پانی کے لیئے کنواں کھدوانے کے نام پر اور کہیں یتیم بچوں کے لیئے گھر بنوانے کے نام پر۔ ان خیراتی اداروں اور مسلکی ٹی وی چینلوں نے ملی بھگت کے ساتھ یہ پروگرام شروع کر رکھے ہیں

جیسا کہ میں نے اوپر تحریر کیا کہ خمس اور صدقات کی رقم پر جتنا زور دیا جاتا ہے حق دار کو تو صرف اس رقم کا مشکل سے دس فیصد ہی ملتا ہو گا۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جو فرد یا ایجنٹ اس رقم کو موصول کر کے ادارے یا اس کے سربراہ تک پہنچا رہا ہے اس کو فوری طور پر پچس فیصد  بطور کمیشن اس فرد ادا کر دیا جاتا ہے اور بچیس فیصد اُس ادارے کو ادا کیا جاتا ہے جس ادرارے میں وصول کندہ ملازم یا اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔ اور پچاس فیصد کا معلوم نہیں کہ کہاں جاتا ہے۔

صدقات کی رقم کو بھی مذہبی ادارے کے فنڈ میں شامل کر دیا جاتا ہے اور اگر کوئی ادارے کی جانب سے کوئی پروگرام ہو تو اس رقم کا کھانا پکا کر کھلایا جاتا ہے جو اس کے قطعا مستحق نہیں ہیں۔ اور بعض پر تو صدقہ ویسے ہی حرام ہے۔ مگر اس کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔


اگر ایک اور رخ سے اس چینلز کے پیش کردہ پروگراموں کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک نام نہاد ملا کو نکال کر دوسرے کو بٹھا دیا گیا ہے اور مزے کی بات تو یہ کہ جب ان کو کوئی ایجنٹ  فون کرکے یہ کہتا ہے کہ آپ تو سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں یعنی شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ گہیوں کے ساتھ گھن کی بھی شامت آتی ہے۔ اور یہ سب کون سے دودھ کے نہیائے ہوئے ہیں یہ سب تو اپنی غربت دور کرنے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔

  چند سال پہلے ماضی کی کھڑکی میں میں اگر جھانکوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب جنوبی لندن کے کسی ادارہ میں ملازم تھے اور ان کے استاد کسی ایشیائی ملک سے یہاں پر اپنے علاج یا کیس اور غرض سے تشریف لائے اورخدا بھلا کرنے ان حضرات کا جو اب بھی علم اور علم والوں کے قدر دان ہیں ان حضرت نے ادارے کے ملازم سے پوچھا کہ کیا آپ جو ان پروگراموں ادارے سے غیر حاضر ہوتے ہیں اس کی اجازت اس ادارے کی انتظامیہ سے حاصل کرتے ہیں اور ان ایام کی تنخواہ بھی وصول کرتے ہیں تو جواب میں کہا گیا کہ استاد محترم نہیں ایسا نہیں ہے نہ تو میں اجازت لیتا ہوں اور بلکہ میں تو ان ایام کی تنخواہ بھی وصول کرتا ہوں

 فوری طور پر استاد محترم ان صاحب پر برہم ہوئے اور کہا کہ کیوں اپنی آخرت کو خراب کرتے ہو اور یہ رقم تو حرام ہے تم پر

 میرا مقصد صرف  اور صرف واقعہ کو تحریر کرنے کا یہ تھا کہ صاحب علم و دانش تو اس حد تک سوچتے ہیں۔  آپ اپنی غربت ضرورت دور کئیجے مگر محنت کر کے، اپنا پسینہ اور خون ایک کریں اور پھر دیکھں کہ آپ کی دنیا بھی عزت کرے گی اور دین بھی ۔ اورآپکو اس طرح کسی سے بھی اپنا منہہ چھپانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی

اس قسط کا اختتام اس بات پر کرنا چاہتا ہوں کہ دس اقساط میں میں نے ابھی تک کسی کا نام نہیں لکھا اور جو نام شائع ہوئے ہیں وہ لندن کے ایک اخبار''یوکے ٹائم'' میں شائع ہوئے ہیں اور اطلاع ہے کہ یہ سارا مضمون ایک ٹریول کمپنی کے ایک مالک نے شائع کروایا ہے جس نے اخبار کو نصف صفحے کا اشتہار دیا ہے اور جو خود بھی ایسے ہی الزامات کا سامنا کر رہا ہے اور حج کے دوران اسکے قصے بھی لندن میں بے شمار لوگوں کی زبانوں پر ہیں۔ میرا اپنے قارئین سے وعدہ ہے کہ ان ٹریول ایجنٹوں کو بھی نہیں چھوڑنا اور انکے کالے کرتوت بھی لوگوں کے سامنے لائے جائیں گے۔اس سلسلے میں کچھ لوگوں نے ہمیں اپنی شہادتیں وڈیو میں ریکارڈ کروائی ہیں جنہیں جلد ہی یہاں انہی تحریروں کے ساتھ لگاؤں گا

باقی آئندہ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے


:دیگر مضامین
(23.06.2011) تاریخ امام جعفر الصادق علیہ السلام۔از؛ سید مصباح حسین جیلانی ۔سڈنی
(21.06.2011) برطانیہ کے شہر بولٹن میں مولائے کائنات علی علیہ السلام کے یوم ظہور کا میلاد
(18.06.2011) ممتاز ادیب و محقق نور احمد میرٹھی حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے
(17.06.2011) لندن کے حسینی مشن میں ظہور امام علی علیہ السلام کے موقع پر ایک پرنور محفل میلاد
(16.06.2011) سانسوں میں رواں ہر دم ہے جواں ہر دل میں عیاں دھڑکن ہے علی
(15.06.2011) کسے را میسر نہ شد ایں سعادت ۔ با کعبہ ولادت با مسجد شہادت
(14.06.2011) عظمت ماں کے عنوان سے ماہ پارہ صفدر کے گھر پر محفل میلاد
(11.06.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ دسویں قسط
(06.06.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ نویں قسط
(03.06.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ آٹھویں قسط
(03.06.2011) غدیر خم کے موقع پر پیغمبر اسلام احمد مجتبی (ص) کا خطبہ مبارک
(31.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ ساتویں قسط
(28.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ چھٹی قسط
(27.05.2011) مولاي یا صلي وسلم دائماً أبداً ۔ قاری خوشی محمد کی آواز
(25.05.2011) لن شوپنگ میں بنت رسول سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ کے یوم ظہور کی محفل
(22.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔پانچویں قسط
(19.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔چوتھی قسط
(17.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔تیسری قسط
(15.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔دوسری قسط
(13.05.2011) برطانیہ:مسلکی ٹی وی چینلوں نے تفرقہ بازی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔پہلی قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں