15.10.2026, 08:45am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

دنیا بھر کی طرح لندن میں بھی اداروں اور گھروں میں امام جعفر صادق ع کی نیاز
13.06.2012, 08:20am , بدھ (GMT+1)

سید اکمل حسین۔لندن
ماہ رجب المرجب ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز المعروف کونڈوں کی نیاز
 لندن میں نذر امام جعفر صادق کا اہتمام

عالمِ اسلام بالخصوص  ایشیا اور  عرب ممالک میں رجب  المرجب کے مہینے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی نذر اب گزشتہ کئی صدیوں سے ایک مکمل تہوار بن چکا ہے اور اس نذر کو برصغیر پاک و ہند میں ''کونڈوں کی نیاز'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

رجب المرجب کے مہینے کی دو اہم چیزیں دنیائے اسلام میں اب ایک مستقل تقریب کی اہمیت اختیار کر چکی ہیں ۔ان میں سے ایک تیرہ رجب کو مولائے متقیان امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہے اور دوسری بائیس رجب کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی نذر ہے جسے پاکستان اور ہندوستان میں ''کونڈوں کی نیاز'' سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ایک اہم تاریخ اور بھی اسی رجب کہ ماہ میں موسوم ہے وہ ہے ٢٥ رجب المرجب کو شہادت امام موسی کاظم علیہ السلام ۔

دنیا بھر کی طرح لندن میں بھی یہ نیاز یوں تو رجب کے سارے مہینے میں ہوتی ہے لیکن بائیس رجب کو اسکا خاص اہتمام ہوتا ہے اور عزا خانوں اور دینی اداروں کے علاوہ نجی طور پر سینکڑوں گھروں میں یہ نیاز دی جاتی ہے

اس برس اس نذر کا اہتمام راقم کے غریب خانہ پر سے ہوا جس میں احباب،دوستوں اور عام مومنین نے شرکت کی ۔دوروز قبل معروف شاعرہ اور ادیبہ عبیدہ سید کے گھر پر بھی نیاز کا اہتمام کیا گیا تھا

اسی روز والتھم اسٹو ایسٹ لندن اور ساوتھ لندن کے علاوہ ہنسلو کے علاقوں میں بھی گھروں اور عبادت خانوں پر بھی اہتمام نذر امام جعفر صادق علیہ السلام کا اہتمام کیا گیا تھا۔
 

نیاز کا یہ سلسلہ رجب کے آخری ایام میں بھی جاری ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ ایران،افغانستان،قطر،بحرین،کویت ،شام اور متعدد دیگر عرب ممالک کے علاوہ مغربی ممالک میں مقیم مومنین پوری عقیدت سے اس نیاز کا اہتمام کرتے ہیں۔

یوری ممالک کے ساتھ امریکہ،آسٹریلیا،افریقہ کے ممالک میں اور خاص طور پر برطانیہ میں مقیم گھرانے پوری عقیدت سے اس نیاز کا اہتمام کرتے ہیں۔

اس نیاز سے منسلک معجزہ کچھ اس طرح ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
22 رجب معجزہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
کسی شہر میں ایک لکڑہارا نہایت مفلس و نادار رہتا تھا۔وہ ہر روز جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور فروخت کر کے بمشکل اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ افلاس سے تنگ آکر ایک روز اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ برائے روزگار باہر جاتا ہوں ۔ عجب نہیں کہ پروردگار رحم فرمائے۔اور ہماری مصیبت دور ہو یہ کہہ کر لکڑہارا معاش کی تلاش میں دوسرے شہر گیا ۔لیکن بدقسمتی سے وہاں بھی تقدیر نے ساتھ نہ دیا۔ ہر وقت دل میں سوچتا کہ کچھ پیسے ہو جائیں تو اپنے شہر جاؤں اور بال بچوں کی خبر لوں لیکن کچھ نہ ہو سکا۔ اسی فکر و پریشانی میں بارہ سال بیت گئے۔ اور اس عرصے میں نہ تو اس نے بال بچوں کو کچھ بھیجا نہ اُن کی خبر لی۔

لکڑہارے کی بیوی اپنے خاوند کے چلے جانے کے بعد کچھ دنوں تک اسی فکر میں رہی کہ میرا خاوند خرچ بھیجے گا۔لیکن جب اس نے عرصے تک خبر نہ لی اور اس بیچاری پر فاقے گزرنے لگے تو لا چار ہو کر اس نے وزیر کے محل میں جاروب کشی کی نوکری کرلی۔ اور اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے لگی۔ ایک روز لکڑہاری نے خواب میں دیکھا کہ میں وزیر کے محل میں جھاڑو دے رہی ہوں کہ یکایک مولا و آقا ئے دوجہاں جناب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام مع اپنے اصحاب کے صحن خانہ ء وزیر میں تشریف لائے ہیں ۔آپ نے اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ۔آج کیا تاریخ ہے؟۔ اور کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ نے عرض کیا ۔یا مولا آج شبِ 22 رجب المرجب ہے ۔تب حضرت نے اپنی زبان معجز بیان سے ارشاد فرمایا ۔ کہ کوئی شخص کیسی ہی مشکل میں مبتلا ہو یا کسی ایسی حاجت نے پریشان کر رکھا ہو حسب دستور سوا سیر میدے کی پوریاں پکا کر دو کونڈوں میں رکھ کر ہمارے نام کی نذر22 رجب بوقت صبح نماز سے فارغ ہو کر دلوا ئے اور حق سبحانہ ْ تعالیٰ کی درگاہ میں ہمارے واسطے سے حاجت طلب کرے ۔

جس وقت خواب میں لکڑہاری نے حضرت کا یہ کلام سنا اُسی وقت بصدق دل نذر کرنے کی نیت کی اور 22 رجب کی صبح نماز سے فارغ ہو کر اس نذر کو موافق حکمِ جناب امام علیہ السلام پورا کیا۔

اب ذرا لکڑہاری کے شوہر کا حال سنئیے ۔ یہاں تو 22 رجب المرجب بوقت صبح یہ لکڑہاری نزرِ امام علیہ السلام دلا رہی تھی اور وہاں لکڑھارا درخت پر چڑھا ہوا لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے کلہاڑی چھوٹ کر زمین پر گری۔ ۔اُس نے جو کلہاڑی کو نکالا تو دفینے کاشبہ ہوا ۔اور اس جگہ کو اس نے کھودا تو معلوم ہوا کہ شاہی خزانہ دفن ہے۔ اُس نے اس وقت تو اس کو اسی طرح پوشیدہ کر دیا پھر تھوڑا تھوڑا لاتا رہا اور سامان سفر تیار کرنے لگا۔ اور سارے دفینے کو نکال کر بڑے کر ّو فر سے عازمِ وطن ہوا۔

اپنے رہنے کے لئے ایک عالیشان مکان بنوایا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام سے زندگی گزارنے لگا۔ ایک روز لکڑہاری نے اپنے شوہرسے سرگزشت بیان کی ۔ جب اس نے مہینے کی تاریخ اور وقت بتایا تو وہی وقت او ر وہی دن تھا۔جب لکڑہارے کو دفینہ ملا تھا۔ لکڑہارا بھی صدق دل سے ایمان لے آیا۔

ایک روز وزیر اعظم کی بیوی محل کی چھت پر کھڑی ہواخوری کر رہی تھی کہ اس کو ایک عالیشان مکان نظر آیا ۔اس نے اپنی کنیزوں سے دریافت کیا کہ یہ کس کا مکان ہے؟ کنیزوں نے بتایا اس لکڑہارے کا جس کی بیوی یہاں جاروب کشی پر ملازم تھی۔ یہ سن کر وزیراعظم کی بیوی نے لکڑہارے کی بیوی کو بلایا اور مفصل حالات دریافت کئے۔

اس نے تمام حالات بیان کئے مگر وزیر اعظم کی بیگم کو یقین نہ آیا۔ بلکہ دل میں یہ خیال آیا کہ اس کے شوہر نے رہزنی کی ہے جس کی بدولت مالدار ہوا ہے۔

وزیر کی بیگم کا یہ خیال فاسد دل میں لاناتھا کہ اُسی وقت وزیراعظم پر مصیبت آئی۔کہ وزراء میں ایک وزیر اس کا دشمن تھا اس نے موقع پا کر بادشاہ سے چغلی کی کہ اس نے غبن کیا ہے ۔حضور عالی جناب اسے طلب فرمائیں ۔بادشاہ نے اسی وقت وزیر اعظم کو بلا کر حساب طلب کیا۔وزیر اعظم صحیح حساب نہ دے سکا ۔چنانچہ بادشاہ غضبناک ہو گیا۔وزیر اعظم کا سارا مال و اسباب ضبط کر لیا گیا اور اس کو اور اس کی بیوی کو نکال باہر کیا ۔وہ دونوں بھوکے پیاے چلے جارہے تھے کہ تربوز کا کھیت نظر آیا۔ وزیر اعظم نے اپنی بیگم سے دو درہم لے کرجو اتفاق سے اس کے پاس رہ گئے تھے اس کا تربوز خرید کر رومال میں باندھ لیا۔کہ کسی جگہ اطمینان سے بیٹھ کر کھائیں گے۔

 اتفاق سے جس دن وزیراعظم پر عتاب آیا تھااسی دن شہزادہ بھی شکار کو گیا تھا ۔اور رات تک واپس نہ آیا۔ تو بادشاہ نے پریشان ہو کر وزیروں سے مشورہ کیا ۔کہ ساری رات گزر گئی اور ابھی تک شہزادہ واپس نہیں آیا۔اسی وزیر نے جس نے وزیر اعظم کی چغلی کھائی تھی بادشاہ سے عرض کیا مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے بوجہ دشمنی موقع پاکر شہزادے کو قتل کر دیا۔یہ سنکر بادشاہ نے وزیر اعظم کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔سپاہی گئے اور وزیر اعظم اور اس کی بیوی کو پکڑ لائے۔ا

س وقت تک وزیر اعظم نے تربوز کو نہیں کھایا تھا ۔بلکہ اسی طرح رومال بندھا ہوا تھا۔اسی حالت میں گرفتار ہو گیا۔بادشاہ نے دیکھا کہ رومال سے سرخ خون چھلک رہا ہے۔رومال کھول کر دکھایا گیا تو بادشاہ کی نظروں میں شہزادے کا سر نظر آیا۔بادشاہ اپنے بیٹے کا سر دیکھ کر رونے لگا اور حکم دیا کہ رات بھر وزیر اعظم کو قید میں رکھو صبح اس کو قتل کر دینا۔ وزیر اعظم اور اس کی بیوی جیل خانے بھیج دئیے گئے۔ وزیر اعظم نے اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ یہ بات ابھی تک معلوم نہ ہو سکی کہ ہم پریہ ناگہانی مصیبت کیسے آگئی۔ ۔کون سا گناہ ہم سے ایسا سرزد ہوا ہے جس کی سزا بھگت رہے ہیں ۔

اس پر وزیر اعظم کی بیگم نے لکڑہارے کا قصہ من و عن بیان کیا اور کہا کہ مجھے اس نذر کا اور حکم امام جعفر صادق کا یقین نہ آیا۔وزیر اعظم نے اپنی بیوی سے کہا اس سے بڑھ کر اور خطا کیا ہو گی کہ تو نے امام جعفر صادق  کے حکم کو جھٹلایا۔توبہ کر ۔ امام کا فرمانا درست ہے ۔الغرض دونوں رات بھر گریہ و زاری کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہے ۔صدق دل سے اس نیاز کی نیت بھی کی۔ خداوند عالم نے ان کی دعا قبول کر لی۔ اور علیٰ الصبح شہزادے نے شکار سے واپس آکر بادشاہ کی قدم بوسی حاصل کی۔

بادشاہ نے شہزادے سے دریافت کیا

اے نورِ چشم ۔ تم اتنے عرصے تک کہاں رہے ؟ ۔ عرض کیا حضور شکار نہ ملنے کی وجہ سے میں نے باغ میں قیام کیا تھا۔بادشاہ نے شہزادے کو محل کے اندر جانے کی اجازت دی اور وزیر اعظم اور اس کی بیوی کو طلب کیا اور رومالِ سر کو بھی طلب کیا جس میں برائے تربوز کے شہزادے کا سر نظر آیا تھا۔اس رومال کو خود کھولا اور دیکھا کہ اس میں تربوز ہے۔ بادشاہ سخت متعجب ہوا اور وزیر اعظم سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے

وزیر اعظم نے جو قصہ اپنی بیوی سے سنا تھا من و عن بیان کر دیا۔ بادشاہ نے یہ سن کر لکڑہارا اور اس کی بیوی کو طلب کیا اور اُن سے حالات دریافت کئے ۔انہوں نے تمام حالات بیان کر دئیے جس کو سن کر بادشاہ بھی صدق دل سے ایمان لے آیا اور وزیر اعظم کو پھر اپنے عہدے پر فائز کر دیا اور چغل خور وزیر کو سزا دے کر نکال دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالی ہماری مرادیں امام صادق علیہ السلام کے وسیلے سے پوری فرمائے ۔ نماز صبح کے بعد اس کہانی کو پڑھیں اور اس کے بعد بسم اللہ ۔تین بارمحمد و آلِ محمد  پر درود پڑھیں ۔تین بار سورۃ الحمد ۔ تین بار سورۃ قل ہو اللہ احد ۔ پھر تین بار درود شریف پڑھ کر نیاز دیں اور امام جعفر صادق علیہ السلام کو ھدیہ کریں اور اللہ سے اپنی حاجت طلب کریں امام کا واسطہ دے کر انشا اللہ مراد پوری ہو گی

:دیگر مضامین
(12.06.2012) مرکز اہلبیت بولٹن میں میلاد علی علیہ السلام کے موقع پر سید اکمل حسین کا تحت اللفظ
(07.06.2012) حضرت علی کرم اللہ وجہہ ۔۔ بہ کعبہ ولادت با مسجد شہادت
(05.06.2012) ظہور حضرت علی کرم اللہ وجہہ ....... از : شمس جیلانی
(04.06.2012) خاتم الانبیاء کے خاتم الخلفاء سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ۔از؛ محمداحمدترازی
(02.06.2012) عالمی اخبار کاحسب سابق رجب المرجب اور شعبان المعظم کے موقع پر خصوصی شعبہ
(02.06.2012) سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ اکتالیسویں قسط از شمس جیلانی
(30.05.2012) چنگاری فورم جرمنی اور پاک یورو جرنلسٹس فورم کی جانب سے بھگت سنگھ پر اہم تقریب
(29.05.2012) صحافی سید بدر سعید کی کتاب ’’خودکش بمبار کے تعاقب میں‘‘ کی تقریب رونمائی
(28.05.2012) ناموراُردووکشمیری شاعررساجاودانی کے یومِ وفات 27 مئی ،2012کے موقع پر شام رسا
(27.05.2012) عالمی شہرت یافتہ ہیڈیل برگ یونیورسٹی میں ساوتھ ایشیا شعبے کی پچاس سالہ تقریبات
(25.05.2012) میراجی یعنی ثنا اللہ 25 مئی 1912ءکو لاہور میں پیداہوئے تھے
(22.05.2012) پاک یورو جرنلسٹس نے شاعر،ادیب اور نقاد سید شبیہ الحسن ہاشمی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے
(08.05.2012) برلن میں ایک بین الاقوامی مشاعرہ ، بزم ادب برلن کی جانب سے منعقد ہوا
(07.05.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم کی افتتاحی تقریب کے موقع پرفورم کے صدر دانیال رضا کا خطاب
(05.05.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر مالیاتی مشیر سید جمال الدین کا خطاب
(04.05.2012) مشتری ہشیار باش کہ میں افضال بن غنی حیات ہوں اور ابھی تک اگلے جہان نہیں سدھارا
(02.05.2012) دو مئی 2011۔ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو امریکی فوجیوں نے ہلاک کر ڈالا۔ایک سال مکمل
(01.05.2012)  فرانس میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ سوچا جا رہا ہے کہ کون بنے گا صدر ؟
(29.04.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم کی افتتاحی تقریب کی صوتی اور بصری رپورٹ
(28.04.2012) یوکرین سے عالمی اخبار کے نامہ نگار خصوصی نعمان عالم کی صوتی رپورٹ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں