17.10.2026, 03:02am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 46ویں قسط
29.06.2011, 08:26am , بدھ (GMT+1)

قمر رضوی اسلام آباد
بہشت ِ زہرہ (س) بھی ایک ایسا عجیب و غریب مقام ہے جس میں اٹھنے والا ایک ایک قدم اپنے تلے ایک علیحدہ اور مکمل تاریخ رکھتا ہے۔ اس عظیم قبرستان میں زیادہ تر انقلاب کے شہداء مدفون ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو دین ِ مبین اور اپنے رہبر کے نام وقف کردیا تھا۔ کیا مقام تھا انکے عقیدے اور اپنے قائد سے عقیدت کا کہ اپنی قیمتی ترین چیز کو آخرت کے عوض قربان کرڈالا۔ یہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے پیغمبر ِ گرامی قدر (ص) کے اس مشن میں اپنا حصہ ڈالا جسکی داغ بیل ڈیڑھ ہزار برس قبل ڈالی گئی تھی۔  مجھے افسوس ہو رہا تھا کہ کاش یہ معلومات میرے پاس پہلے سے ہوتیں تو میرے اس سفر کا اسلوب کچھ اور ہوتا، مگر یہ افسوس زائل ہوتا رہا جب اپنے آقا (ع) کا فرمان زہن میں گونجا کہ سفر کا ایک کارنامہ علم میں اضافہ کرنا بھی ہے، سو اس بار کچھ معلومات ملیں، جو کہ اگلی بار عازم سفر ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ پھر میں نے مصمم ارادہ کیا کہ اگلی بار جب زیارات کے لئے اذن نصیب ہوا تو ان تمام مقامات کا تفصیلی دورہ کروں گا جو اس بار وقت یا معلومات کی کمی کے باعث ادھوری رہ گئی تھیں۔

جب ہم وہاں سے رخصت ہوئے تو میں نے ایک بار پھر ساکنان ِ بہشت ِ زہرہ کی خدمت میں فاتحہ کا ہدیہ پیش کیا اور تصور میں انکی شہادت کے مناظر سوچنے لگا۔ اس تاریخی مقام سے واپسی پر میں نے کھڑکی سے باہر کے نظارے کرنے کی بجائے دفتر سے حاصل شدہ ایک کتاب کی بے ترتیب ورق گردانی شروع کردی اور جو صفحہ میرے سامنے کھلا، اس پر امام خمینی کا وصیت نامہ تحریر تھا۔ اس کا ایک اقتباس پیش ِ خدمت ہے۔

"میں سکون ِ خاطر، مطمئن دل ، خوش و خرم روح اور پرامید ضمیر کے ساتھ بفضل و کرم ِ الٰہی بہنوں اور بھائیوں کی خدمت سے اجازت لے کر اپنے ابدی مقام کی طرف روانہ ہو رہا ہوں۔ مجھے آپ کی نیک دعاؤں کی سخت ضرورت ہے اور خدائے رحمان و رحیم سے میری دعا ہے کہ وہ خدمت میں کوتاہی پر میرے قصور اور غلطیوں کو معاف کرے ، قوم سے بھی مجھے امید ہے کہ وہ میری طرف سے کی جانےوالی اور ہونے والی کوتاہیوں سے درگذر کرے گی اور پوری طاقت، ہمّت اور عزم ِ مصمم کے ساتھ آگے بڑھتی رھے گی۔"

یہ بانیء انقلاب ِ اسلامی ایران، بت شکن ِ دوراں، موسٰیء زماں حضرت امام خمینی (رح) کے الٰہی و سیاسی وصیت نامے کے آخری جملے تھے۔ یہ اس قائد کی زندگی کے آخری تاثرات ہیں جس نے اپنی قوم کو ظلم و ستم کی چکی میں پسنے سے نجات دلائی اور اس کو فحاشی اور برائی کے بھنور میں غرق ہونے سے بچا لیا ۔ اور اب دس سال تک نوبنیاد اسلامی جمہوریۂ ایران کی حکومت کی قیادت و رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے بعد خالق ِ حقیقی سے وصال کی تیاری کرچکا تھا۔ ایک ولیءخدا کے آخری لمحات کے ان معرفت انگیز جملوں کو پڑھ کر میں اشکبار ہو گیا۔ ویسے تو امام خمینی کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دنیا کے بڑے بڑے مفکرین اور دانشوروں کے لئے دعوت تحقیق ہے، جس پر آج تک وہ اپنے تئیں تحقیق کر بھی رہے ہیں اور اس کرشماتی شخصیت کی پرتیں بھی کھولتے جارہے ہیں۔ مگر مجھ کم ظرف اور کم علم کی روح میں ایک کپکپی پیدا کرنے کو محمد و آل محمد (ع) کے اس غلام کے یہ چند جملے ہی کافی تھے جو سراپا فاتح ِ مبین ہوتے ہوئے بھی اس قدر عاجز تھا کہ خدا اور اپنی قوم سے معافی کا خواستگار تھا۔ میں خیالوں میں کھو گیا اور امام خمینی اور انکے جانثاروں کے درمیان زندگی گزارنے لگا۔ سارا راستہ مجھے کچھ ہوش نہ تھا کہ میرے دیگر ساتھی کیا گفت و شنید کررہے ہیں۔ میں کتاب کے اوراق کے زریعے سے تاریخ کا سفر کرتا جارہا تھا اور اپنی روحانی قوت میں ایک نئی طرح کی تازگی محسوس کررہا تھا۔ جو کچھ مجھے ان کتب اور مقالات سے امام خمینی اور ایران کے بارے میں معلوم ہوا،  وہ اگر یہاں بیان کرنا شروع کردوں تو یہ تحریر ایک اور رخ اختیار کرجائیگی اور یہ سفر نامہ، سفرنامہ نہیں، امام خمینی نامہ بن جائیگا۔ اس لیئے باقی کی معلومات حاصل کرنے کے لئے میں اپنے محترم قاریئین کو خود یہ تجربہ کرنے کا مشورہ دوں گا۔

سفر ِ عشق کا ایک اور حسین گوشہ مکمل کرکے ہم اپنی قیام گاہ پر پہنچ چکے تھے۔ کچھ دیر کو کوچے میں رک کر ہم نے کل کے دن کے بارے میں گفتگو کی اور پھر اصغر بھائی اپنے گھر اور ہم دونوں اپنے مہمان خانے کی جانب چل دئے۔ کمرے میں پہنچ کر جب میں بستر پر دراز ہوا تو متعدد احساسات کا مرکب بن چکا تھا جن میں قلق و انبساط اور بیم و رجا زیادہ نمایاں تھے۔ میں خوش تھا کہ مجھے امام خمینی کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا، ساتھ ہی افسوس بھی تھا کہ نامکمل معلومات کی بنا پر امام کے دست ہائے راست یعنی شہدائے انقلاب کی زیارت کو نہ جاسکا۔ مگر دل میں عہد کیا کہ انشاءاللہ جب مستقبل میں بلاوا آئیگا تو ضرور ان تمام مقامات کی زیارت کی جائیگی۔ اسی سوچ کے ساتھ رب ِ کریم نے دل میں امید کی ایک کرن ضوفشاں کردی جسکی روشنی میں میں نیند کا سفر طے کرنے لگا۔

اگلا دن زرا چڑھا تو اصغر بھائی کا ارسال شدہ ایک اور دوست اپنی ٹیکسی لیئے ہمارے دروازے پر موجود تھا، جسکی ذمہ داری ہمیں شام سے پہلے پہلے تہران کی چند مشہور جگہوں کی سیر کروانا تھی۔ یہ ایک قابل ِ غور بات ہے کہ تہران جیسے تاریخی اور جدید شہر کو گھومنے کے لئے یہاں آنیوالے مسافروں کو کچھ روز ضرور مختص کرنے چاہئیں۔ یہ الگ بات کہ ایران میں ورود کرنیوالے بیشتر مسافر زائر ہوتے ہیں اسی لیئے انکی اولین ترجیح زیارات کرنا ہوتی ہیں۔ مگر سیر کرکے اپنے علم میں اضافہ کرنا بھی خالق کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داری ہے، جس سے روگردانی کرکے یقینا” ہم گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چلے تو ہم بھی اپنے گھر سے زیارات کی نیت سے تھے، مگر سیر کرنا بھی پروگرام میں شامل تھا۔ اب چونکہ ہمارے پاس وقت نہایت قلیل تھا، سو ہم نے اپنے گائیڈ کو اس کی نظر میں اہم تریم مقامات میں سے چند ایک تک لیجانے کی درخواست کی۔    

ڈرائیور چونکہ تھوڑی بہت انگریزی سے واقف تھا سو بات چیت میں اتنا مسئلہ درپیش نہ ہوا۔ اس نے ہم سے پوچھا کہ ہم خود کہاں جانا چاہتے ہیں مگر چونکہ ہمیں کچھ خاص اندازہ نہ تھا تو ہم نے اپنی سیر اسکی صوابدید پر چھوڑ دی۔ کچھ ہی دیر میں ہم دونوں کو احساس ہو گیا کہ آدمی سمجھدار تھا، اسی لئے ہمیں لیکر وہ تہران کی مختلف و مشہور سڑکوں پر لئے گھومتا رہا اور سڑک کے ساتھ ساتھ چلنے والی عمارات اور باغات کی نشاندہی بھی کرتا رہا۔ آج ہمارے سامنے تہران کا ایک نیا روپ تھا۔ اپنے تئیں جو سیر ہم نے کی تھی، وہ پانزدہ خورداد اور اس سے متصل بازاروں تک ہی محدود تھی۔ یا جو زیارات کی تھیں، ان کے لئے ہم شام اور رات کے اوقات میں نکلتے تھے۔ اس لیئے تہران کو دیکھنے کا حق ہنوز ادا نہ ہو پایا تھا۔ جبکہ آج ہم نے تہران کا زرا کھل کر مشاہدہ کیا۔

ہمارا ڈرائیور قاسم بھی ایک خوش مزاج نوجوان تھا جو تہران کا شہری ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ ہمارے برابر ہی لطف اندوز ہو رہا تھا۔ دوپہر تک ہم یونہی سڑکوں پر پھرتے رہے۔ ہمیں اپنے واپسی کے ٹکٹوں کو ریکنفرم بھی کروانا تھا سو ماہان ائیر کے دفتر پہنچے۔ اصغر بھائی سے قاسم کی بات کروائی تاکہ وہ اسے فارسی میں ہمارا مقصد تفصیلا” سمجھا دیں اور وہ ائیرلائن کے عملے سے ہمارا کام کروا دے۔ دس منٹ بعد جب وہ مڑ کر آیا تو اس نے ہمارے ہاتھوں میں ہماری واپسی کا پکا پروانہ تھما دیا۔ ایک سرد آہ بھر کی میں نے ٹکٹوں کو دیکھا اور زائرہ کو پرس میں رکھنے کی غرض سے تھما دئے۔ وہاں سے چلے تو تھوڑی ہی دیر میں ایک مسجد نظر آئی۔ ظہرین ادا کرنے کی نیت سے وہاں رکے اور نماز کی ادائیگی کے بعد دوبارہ نامعلوم منزل کی جانب چل پڑے۔ کچھ دیر بعد ایک جگہ پہنچ کر اس نے گاڑی روکی اور ہمیں اترنے کا مشورہ دیا۔ یہ ہماری آجکی سیر کا پہلا پڑاؤ یعنی خزانہ جواھرات ِ ملی تھا۔ یہ خیابان ِ فردوسی پر واقع ایک عجیب و غریب عجائب خانہ ہے جہاں صدیوں کی محنت کے حامل دنیا کے قیمتی ترین زیورات و جواھرات عوام الناس کی نمائش کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ جو نوادرات یہاں محفوظ ہیں، انکی تاریخ اور قیمت کا درست اندازہ ابھی تک نہیں لگایا جاسکا۔ بس اتنا معلوم ہے کہ صفوی دور کے سلاطین کے جمع شدہ پتھر، نگینے، جواھرات اور زیورات اس گھر کی زینت ہیں، جن میں بعد کے ادوار میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ بادشاہوں اور ملکاؤں کے چند ہی تو شوق ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہی سونا، چاندی، ہیرے اور موتیوں کے خزانے بنانا ہے۔ صفوی دور کے وزراء اور ماہرین ِ جواہرات دنیا جہان کا سفر کرتے اور اپنے حکمرانوں کے لیئے یہ جواہرات خرید کر لاتے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ایران سے ہندوستان اور یورپ تک کے سفر کئے اور اپنے حکمرانوں کے خزانوں میں ان نوادرات کی جگہ بنائی۔ بعد کے ادوار کی تاراجی نے ان قیمتی پتھروں کو مٹی میں رول دیا۔ محمود غزنوی اور دیگر بیرونی قوتوں کی دراندازی کے نتیجے میں خزانے کا بڑا حصہ لوٹ مار کی نذر ہو گیا اور ہندوستان اور افغانستان کے محلوں میں جا پہنچا۔ جب اقتدار نادر شاہ کے ہاتھ میں آیا تو اس نے ھندوستان سے اپنے جواہرات کی واپسی کا مطالبہ کیا جسے یکسر مسترد کر دیا گیا۔ مگر جب نادر شاہ نے ھندوستان میں فتح حاصل کی تو لوٹا ہوا تمام سامان اسکے ہاتھ آگیا۔ اس خزانے میں سے اس نے کچھ اپنی فوج میں انعام کے طور پر تقسیم کیا اور کچھ کو ہمسائے ممالک کے حکمرانوں کے حضور۔ اور جو سب سے قیمتی پتھر تھے، امام رضا (ع) کے روضے پر ہبہ کردئے۔ نادر شاہ کے انتقال کے بعد احمد افغان ابدالی نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کیا اور نادر شاہ کا جمع شدہ سارا خزانہ لوٹ لیا۔ سب سے قیمتی جنس جو اس بار ایران سے لوٹی گئی اور آج تک ایران کو واپس نہ مل سکی، وہ "کوہ ِ نور" نامی ہیرا تھا۔ بعد ازاں یہ ہیرا احمد شاہ درانی کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا پنجاب کے راجہ رنجیت سنگھ تک پہنچا۔ جب سلطنت برطانیہ نے ہندوستان پر قبضہ کیا اور مثالی لوٹ مار کی تو ایسٹ انڈیا کمپنی 1850ء میں اپنے ساتھ ہندوستان کے دیگر نوادرات کے علاوہ کوہ نور بھی اٹھا لے گئی جسے ملکہ وکٹوریہ کو فتح ِ ہندوستان کی نشانی کے طور پر پیش کیا گیا۔ کوہ ِ نور آج بھی سلطنت ِ برطانیہ کے پاس ہے، جسکی قیمت کا اندازہ اب تک نہ لگایا جاسکا۔    

لوٹ مار کے اس عفریت سے خزانے کو محفوظ رکھنے کے لئے قاچاری دور میں کافی انتظامات کئے گئے جن میں تمام نوادرات کا حساب اور انکی حفاظت کے لئے خاص اقدامات اٹھائے گئے۔ چند خاص نوادرات کو شہنشاہ کے تاج میں بھی جڑوا دیا گیا۔ خزانے کی حفاظت اور اضافے کا سلسلہ یونہی چلتا رہا بالآخر 1937ء میں باقاعدہ قانون سازی کرکے اس خزانے کو بینک ملی ایران کے حوالے کردیا گیا۔ انقلاب اور ایران عراق جنگ کے دوران اس خزانے کو ایک بار پھر افغان اور ہندوستانی لٹیروں جیسا خطرہ درپیش تھا مگر پاسداران نے اپنی جان پر کھیل کر اس عظیم اور عجیب خرانے کی حفاظت کی۔

آج صدیوں کا سفر طے کرکے یہ بیش قیمت خزانہ ہر خاص و عام کے لئے سجا رکھا ہے جسکی ایک ایک جنس سے اس عظیم قوم کی تاریخ اور اسکو تراشنے والے ہاتھوں کی صناعی عیاں ہے۔ ایک ایک نمونے کے اندر ہزار ہا تلخ و شیریں یادیں پنہاں ہیں جو اس قوم کی اپنی مٹی سے محبت اور اسکے فرزندان کی عقیدت کو سبکے سامنے بیان کرتی محسوس ہوتی ہیں۔ اس عجائب گھر میں داخل ہونے والا ہر فرد دراصل ایک حیرت کدے میں داخل ہوتا ہے۔ ویسے تو اس عجائب گھر کی تفصیلی اور معلوماتی سیر کے واسطے بھی کئی دن درکار ہیں، مگر قاسم نے ہمیں لیجا کر اہم اور قیمتی ترین اجناس دکھائیں جن میں سب سے اہم اور انگلی کو دانتوں میں دبا کر آنکھوں کو دوگنا کھولنے پر مجبور کردینے والا یاقوت تھا۔ اس یاقوت کی خاص بات اسکا رنگ اور حجم ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا اور اپنی اصلی حالت برقرار رکھنے والا یاقوت ہے یعنی اسکو تراشا نہیں گیا۔


 کوہ ِ نور کو تو ہم کبھی نہ دیکھ پائے اور شاید دیکھ بھی نہ پائیں، مگر "دریائے نور" کو ہم نے دیکھ لیا۔ دریائےنور دراصل اس گلابی ہیرے کا نام ہے جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے۔ کوہ نور کی طرح اسکی قیمت کا بھی کوئی اندازہ نہیں۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ اس وقت میں موجودہ دنیا کے اس گوشے میں موجود تھا جہاں میری آنکھوں کے سامنے رکھے ہوئے نوادرات اس قدر بیش قیمت تھے کہ انمول ٹھہرے۔ یعنی انکی قیمت دنیا میں موجود پیمانوں کے بس سے باہر تھی۔ ہم نے تو اس سے پہلے محض کوہ ِ نور کے بارے میں ہی یہ بات سنی تھی کہ یہ انمول ہے۔ ایک اور غلط فہمی یہ تھی کہ کوہ ِ نور ہندوستان کی ملکیت تھا۔ جب خزانہ ملی کی کھڑکی سے معلوماتی کتابچہ حاصل کیا تو نہ صرف یہ تاریخی غلط فہمی دور ہوئی بلکہ کئی اور انمول نوادرات کو ازخود دیکھنے کا موقع بھی میسر آیا۔ تیسری چیز ان دونوں سے بڑھ کر حیران کن تھی اور وہ 34 کلو خالص سونے سے بنا ایک گلوب تھا۔ صرف یہی کچھ ہماری نظروں سے نہ گزرا، کیا کچھ نہ دیکھا اور وہاں بھی بحر ِ حیرت میں غوطہ زن رہے۔ میں نے اپنی زندگی میں پتھروں کا اتنا بڑا خزانہ کبھی نہ دیکھا تھا۔ بلکہ خزانہ بھی کیا دیکھتے، ہم نے تو بس نگینہ فروشوں کے ہاتھوں میں ہی چند عقیق اور فیروزے دیکھے تھے جن کا اصلی ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے۔ اس عجائب گھر کے دفتر سے حاصل شدہ کتاب سے معلوم ہوا کہ اس وقت یہاں 51،366 نگینے محفوظ ہیں جن میں ہیرے، موتی، زمرد، فیروزے، یاقوت، عقیق، الماس، زبرجد، نیلم، حدید اور نجانے کون کون سے پتھر شامل ہیں۔ یہیں ہمیں دیکھنے کو وہ تاریخی شاہی اسلحہ بھی ملا جس میں یہ جواہرات جڑے ہوئے تھے۔

ابھی ہم اس عجائب گھر کی تفصیلی سیر کے لیئے قدم بڑھایا ہی چاہتے تھے کہ جیب میں فون گھرگھرایا۔ نکال کر جو دیکھا تو اصغر بھائی کا فون تھا۔ انہوں نے حکم صادر فرمایا کہ جہاں کہیں بھی ہوں، مغرب سے پہلے پہلے لوٹ آئیں، کیونکہ آج عباسزادہ صاحب خوشقسمتی سے دستیاب ہو گئے ہیں اور آج شام بعد از مغربین ہم انشاءاللہ قم کی جانب روانہ ہوں گے۔

:دیگر مضامین
(28.06.2011) معروف و مقبول سوز خوان،استاد اور محقق سبط جعفر لندن کے دورے پر
(26.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔دسویں قسط
(26.06.2011) معروف مرثیہ نفیس عابدی دل کی شریانوں کے عارضہ میں متبلا ہو گئے
(22.06.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 45ویں قسط
(19.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔نویں قسط
(17.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ آخری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(17.06.2011) ظہور مولائے کائنات پر عالمی اخبار کے لیئے مظہر شہزاد کے موئے قلم کا منفرد تحفہ
(12.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔ آٹھویں قسط
(10.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ تیسری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(08.06.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 44ویں قسط
(06.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ ساتویں قسط
(03.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ دوسری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(31.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 43ویں قسط
(29.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ چھٹی قسط
(28.05.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ پہلی قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(21.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔5ویں قسط
(21.05.2011) بزم اردو لندن کی شام فیض کے نام....ایک یادگار شام
(17.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 41ویں قسط
(14.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔چوتھی قسط
(13.05.2011) ٹورنٹو میں اشفاق حسین کی تین نئی کتابوں کی تقریب رونمائی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں