16.10.2026, 03:24am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

احمد فراز ، اٍس بے بصر عہد کی زندہ مثال
14.10.2008, 11:49am , منگل (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
دوستو آج مجھے اپنے کئی پرانے دوستو کی ای میلز ملی جس میں انہوں نے ایک انجمن بنانے کا اعلان کیا ھے اور حکومت کی بے حسی پر احتجاج کیا ھے کہ ملک کے نامور شاعر جن کا شمار ملک کے عظیم ترین اثاثوں میں ھوتا ھے وہ آٹھ جولائی سے شکاگو کے ھسپتال میں زیر علاج ھیں اور حیات و موت کی کشمکش میں مبتلا ھے ۔
 
انہیں حکومتٍ پاکستان نے نہ ھی طبی اخراجات اُٹھانے کا سندیسہ دیا ھے اور نہ ھی اٍس خواہش کا اظہار کیا ھے کہ حکومت ٍ پاکستان انہیں اپنے خرچے پر اسلام آباد لانا چاھتی ھے تاکہ اُن کا علاج پاکستان میں ھو سکے ۔

دوستو یہ بات ایک ایسے شخص کی ھو رھی ھے جسے ھم اور آپ “ احمد فراز “ کہتے ھیں ۔ اور جن کے آنے سے مشاعروں میں جان پڑ جایا کرتی تھی وہی احمد فراز آج اپنی جان سے جا رھا ھے ۔ جی دوستو یہ بات میں اُسی شخص کی کر رھی ھوں جس نے ساری عمر جمہوریت کے گیت گائے اور اُس کی بحالی کے لیئے کئی سرکاری اعزازات سرکار کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے تھے کہ انہیں لے کر وہ اپنے نظریوں سے آنکھ نہیں ملا سکے گے ۔

آج وہی احمد فراز ایک جمہوری حکومت میں اپنے نظریاتی حامیوں کی بے حسی کی نظر ھو رھا ھے ۔ سرکار اپنے سرکاری اور غیر سرکاری دوروں پر کروڑوں خرچ کر سکتی ھے پر جن لوگوں نے ساری عمر اپنے ملک کی سفارت کی ھوتی ھے ، اُن کے لیئے طبی اخراجات تو دور کی بات ھے ۔ اُن کے منہ سے تو اہل ٍخانہ سے ہمدردی کے چند لفط بھی نہیں نکلتے ۔ بقول جناب صفدر ھمدانی صاحب کے دیکھو جی یہ بے بصر عہدٍ ھے . ۔شاید اٍسی کم ظرفی اور بے حسی نے بے بصری کو جنم دیا ھے

ٍ بے بصر عہد کا لفظ میرے بابا جی یعنی جناب صفدر ھمدانی صاحب کا ھے ۔ انہیں بابا کا لقب تحفے میں میرے بہت ھی محترم عزیز بھائی نصر ملک ( ڈنمارک ) نے دیا ھوا ھے ، پھر ھارون عباس (گروپ ایڈیٹر القمر ) کہنے والوں شامل ھو گیا بلکہ وہ تو “بابا جی “ کہتا ھے جب بھی وہ بے بصر عہد لکھتے ھیں تو میًں اُن سے ھمیشہ ھی پوچھتی ھوں کہ آپ عہد کو “بے بصر “ کیوں لکھتے ھیں تو وہ جواب میں یا تو خاموشی اختیار کر لیتے ھیں یا پھر کہہ دیتے ھیں آپ کو لگتا ھے کہ جتنے کی آپ حقدار ہیں اتنا آپ کو ملتا ھے ؟ ۔۔اور اُس کے بعد میں طویل خاموشی کا حصہ ھو جاتی ھوں ۔ سوچتی ھوں کہ مرنا تو برحق ھے پر ایک عہد کا ایسے مرنا برق ھے ۔۔

آج مجھ سے احمد فراز کی صورت میں جیتی جاگتی اٍس عہد کی بے بصری دیکھی نہیں جا رھی ۔ کتابی احمد فراز جس کو میں کئی دہایئوں سے جانتی ھوں . جہاں اُن کے لکھے ھوئے لفط میری آنکھوں کو رہ رہ کر بے چین کر رھے ھیں ۔ تو وھی مجھے جیتا جاگتا فراز جسے میں نے کئی بار سڈنی کے مشاعروں میں سنا تھا ۔ اُن سے باتیں کی تھی اور اُن کی باتیں سنی بھی تھی , بہت یاد آ رھی ھیں ۔ ایک دفعہ مرحوم جناب احمد قاسمی صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر میری کتاب “ گرد بادٍ حیات “ پر تبصرہ بھی کیا تھا احمد فراز کی سب سے اچھی بات یہ ھے کہ اُن سے مل کر زندگی ھر دفعہ ایک نئی جہتوں کے ساتھ ملتی ھے ۔ احمد فراز جس کے نا م پر ماؤں نے اپنے بچوں کے نام رکھے تھے اُسی فراز کو آج صرف وہی محبتیں اور دعایئں مل رھی ھیں ۔

اٍس وقت مجھے جناب صفدر ھمدانی صاحب کا لکھی ھوئی ایک بہت ھی  سچی بات یاد آ رھی ھے ۔ لکھتے ھیں “ میں اکثرسوچتا ہوں کہ اس بے بصر عہد میں جو لوگ شاعری کو جزو حیات سمجھ کر کرتے ہیں وہ سوائے اپنا خون جلانے کے اور آنکھوں کی بینائی کو متاثر کرنے کے اور کیا حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے معاشرے میں جہاں حقیقی یعنی جینوئن ادب اور ادیب کسی ترجیحی فہرست میں نہیں، جہاں کتاب پڑھنے کا شوق ناپید ہو گیا ہے،جہاں کتاب خریدنے کا رواج نہیں،جہاں شاعر اور ادیب کو پاگل کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے وہاں شعر لکھنے کی بجائے شعر کہنے والے لوگ خود کوکس طرح ہر وقت سولی پر لٹکائے رکھتے ہیں۔“

چونکہ حقیقی یعنی جینوئن ادب اور ادیب کسی ترجیحی فہرست میں نہیں ھوتا تو پھر بھلا احمد فراز جیسا شعر کہنے والا اٍس بے بصر عہد کی زندہ مثال کیسے نہ ھوتا ۔

:دیگر مضامین
(14.10.2008) بین المذہبی کانفرنس یا امریکی نیاز مندی
(14.10.2008) اب اور کس کس طرح سے مرنا ھو گا
(14.10.2008) رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ھے
(14.10.2008) سیاسی استخارے اور ھم بیچارے
(14.10.2008) لانگ مارچ کا ایک دور اندیشانہ اختتام
(14.10.2008) غلطیاں یا مشعلٍ راہ
(14.10.2008) مقدمہ اب چُپ رھنے والی عوام پر چلایا جائے
(14.10.2008) وہ کھلاڑی جو کچھ مختلف کر سکتے ھیں
(14.10.2008) جیتے گا کون ایسی سیاست کی جنگ میں
(14.10.2008) بے چینی ، بے اعتباری ، عدم تحفط اور کتنے الزام
(14.10.2008) دوست ھوتا نہیں “کیوں “ ھر ھاتھ ملانے والا
(14.10.2008) میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے
(14.10.2008) صدر+وزیراعظم=زرداری
(14.10.2008) تین مئی آزادی ٍصحافت کاعالمی دن
(14.10.2008) ھر چیز میزان میں اچھی لگتی ھے
(14.10.2008) دوستو مبارک ھو اب تعلیم کی ھمیں کوئی ضرورت نہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں