اس اچانک پروگرام کے لئے ہم شعوری طور پر تیار نہ تھے مگر حکم ایسا تھا کہ جسے انکار کسی صورت کیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ کسی بھی زائر کا ایران میں آنا اور قم کی زیارت کے بغیر واپس چلے جانا ناممکنات میں سے ہے۔ قبل اسکے کہ ہم قم کا محلاتی اور معاشرتی تعارف حاصل کریں، ایک نظر معصومین (ع) کی جانب سے کرائے گئے تعارف پر ڈالتے ہیں۔
امیر المؤمنین امام علی (ع) قم اور اہل قم کی توصیف کچھ اس طرح فرماتے ہیں۔
"قم والوں پر خدا کا درود و سلام ہو۔ انکے شہروں کو خدا شاداب رکھے۔ خدا ان پر برکات نازل کرتا ہے اور انکی سئیات کو حسنات سے تبدیل کردیتا ہے۔ وہی اہل ِ رکوع و سجود و خشوع و قیام و صیام ہیں۔ وہی فقہا، علماء اور اہل ِ فہم و ادراک ہیں۔ وہی صاحبان ِ دین و ولایت اور اچھے عبادت گزار ہیں۔ خدا ان پر درود و سلام اور اپنی رحمتیں نچھاور کرے۔"
قم کی فضیلت و قداست میں متواتر روایات موجود ہیں جن میں اسکا حرم ِ معصومین (ع) ہونا ثابت ہے۔ صادق ِ آل محمد امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں،
"آگاہ رہو کہ خدا کا ایک حرم ہے، اور وہ ہے مکہ۔ مدینہ، رسول ِ اکرم (ص) کا حرم ہے۔ حضرت علی (ع) کا حرم نجف ِ اشرف ہے اور میرا اور میری اولاد کا حرم قم ہے، جو چھوٹا نجف ہے۔" مزید فرمایا کہ
"جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں۔ میری اولاد میں سے ایک خاتون فاطمہ بنت موسٰی (س) قم میں وفات پائے گی جسکی شفاعت سے میرے شیعہ وارد ِ جنت ہوں گے۔"
ایک اور مقام پر آپ (ع) نے ارشاد فرمایا،
"جب شہر فتنے کا شکار ہو جائیں تو تم قم اور اسکے اطراف میں پناہ لینا کیونکہ بلائیں اس شہر سے دور ہیں۔"
آپ (ع) ہی کا ارشاد ِ اقدس ہے کہ
"خاک ِ قم مقدس و مطہر ہے۔ اس کے باشندے ہم میں سے ہیں۔ جو ظالم و جابر سلطان قم کی جانب نظر کرے گا اسکی گوشمالی میں عجلت ہو گی۔ یہ اس لئے ہے کیونکہ مؤمنین اپنے بھائیوں سے خیانت نہیں کرتے، اور اگر اسکے مرتکب ہوئے تو خدا ان پر ظالموں کو مسلط کردیتا ہے۔ واضح رہے کہ اہل ِ قم ہمارے قائم (عج) کے ناصران اور حق کا پرچار کرنے والے ہیں۔" اسکے بعد جانب آسمان نگاہ کرتے ہوئے فرمایا،
"یا اللہ! انہیں ہر فتنے سے محفوظ رکھ اور ہر خطرے سے بچا لے۔"
امام جعفر صادق (ع) ہی کا قم کے بارے میں ایک اور فرمان ذی وقار ہے کہ
"قم کے اوپر ایک فرشتہ اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہے۔ جو جابر اور ظالم اسکی طرف بری نگاہ کرتا ہے، اللہ اسکے ارادے ایسے خاک میں ملا دیتا ہے جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔"
جبکہ امام رضا (ع) کا قم کے بارے میں ارشاد ہے،
"جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے تین اہل ِ قم کی طرف کھلتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ۔ دراصل وہی خوش نصیب ہیں۔"
اسکے علاوہ بھی بیشمار احادیث و روایات قم اور اہل ِ قم کی توصیف میں وارد ہوئی ہیں۔ اب ہم سے بڑھ کر کون مسافر خوشقسمت ہو گا کہ جسے خدا کی جانب سے اس عظیم المرتبت شہر کی خاک کی بوسہ گری کا شرف حاصل ہونے جا رہا تھا۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم جنت کے تین دروازوں پر دستک دینے جارہے تھے۔
اب ہم نے کہیں اور جانے کی بجائے سیدھا اپنی قیام گاہ کی جانب رخ کیا کیونکہ دن ڈھلنے کے قریب تھا اور دوسرے شہر میں قیام کی غرض سے جانے کے لیے کچھ نہ کچھ تیاری بھی کرنا پڑتی ہے۔ گو کہ ہمارے قیام کا بندوبست پہلے سے وہاں موجود تھا مگر پھر بھی سفر کے اپنے ہی کچھ تقاضے ہوتے ہیں جنہیں وہ بہر صورت پورا کرواتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم زائر سرائے شاہ ِ خراسان پہنچ گئے اور قاسم کو الوداع کیا۔ کمرے میں پہنچ کر سامان باندھنا شروع کیا اور تمام سامان کی فہرست کے مطابق توثیق کرنے کے بعد مطمئن ہو کر بیٹھ گئے۔ اسی دوران اصغر بھائی بھی آگئے اور ہم نے شام کی چائے کا لطف اٹھایا۔ تھوڑی ہی دیر میں مغرب کا وقت ہو گیا اور ہم نماز سے فارغ ہوکر عباس زادہ صاحب کا انتظار کرنے لگے۔ چند لمحوں میں وہ بھی تشریف لے آئے اور ہم سر افرازی کا ایک اور زینہ عبور کرنے کے نیت سے گاڑی میں سوار ہوگئے۔ یہاں ہمیں مہمان خانے کے تمام عملے نے پرتپاک طریقے سے رخصت کیا اور ہر ایک نے خصوصی دعاؤں کی ذمہ داری ہمارے کاندھوں پر دھردی جسے ہم نے بخوشی قبول کیا۔
تہران کی گلیوں اور سڑکوں پر رات کا اندھیرا تیزی سے چھاتا جارہا تھا جسے شہر کی مصنوعی روشنیاں اپنے اندر جذب کرتی جارہی تھیں۔ میری دانست میں اصغر بھائی تھوڑی دور تک ہمارے ساتھ جارہے تھے جبکہ یہ میری غلط فہمی ثانت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ وہ ہمیں قم تک چھوڑنے جارہے ہیں۔ اس عجیب قسم کی مہربانی نے ہم دونوں کو ایک متربہ پھر حیرت زدہ کردیا کہ آخر ہم اس اجنبی کے لگتے کیا تھے جو اس نے خدمتوں کی انتہا کردی۔ ہماری توقعات کے برعکس اس اجنبی کا جواب یہاں بھی عجیب سا ہی تھا کہ آپکی بدولت مجھے بھی قم کی زیارت کا شرف حاصل ہو جائیگا، وگرنہ مصروفیات ِ شب و روز نے ان عنایات کو سمیٹنا بھی دوبھر کردیا ہے۔ مزید حیرت ہمیں یہ جان کر بھی ہوئی کہ ان دونوں صاحبان کا قم میں قیام کا کوئی ارداہ نہ تھا۔ بس عباسزادہ صاحب کے پاس آج کی شام کوئی مصروفیت نہ تھی تو ان دونوں نے ہمیں قم لیجانے کا پروگرام بنا لیا۔ ہمیں قم چھوڑ کر نہ صرف انہوں نے تہران واپس آنا تھا بلکہ صبح اپنے اپنے دفتروں کو بھی جانا تھا۔ ہم سوائے شکریہ ادا کرنے کے اور کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے۔
ہماری گاڑی تیزی سے تہران کی سرحدوں کی جانب بڑھتی جارہی تھی اور میرے دل کی دھڑکن ایک عجیب سی بے قاعدگی کا شکار ہوتی محسوس ہورہی تھی۔ قم کے بارے میں ابھی تک نجانے کیا کیا سنا تھا۔ سوچنے لگا کہ جنت کا یہ ٹکڑا کیسا ہوگا جسے یہ لقب خود معصوم ہستوں نے عطا فرمایا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہماری گاڑی شہر کو چھوڑتی ہوئی تہران قم شاہراہ پر آگئ جسکے ساتھ ہی ٹریفک کا شور کچھ کم ہونا شروع ہوا۔ نظروں کے سامنے ایک لمبی شاہراہ تھی جسکے اطراف میں کچھ ویران اور کچھ آباد مناظر تھے۔ ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑتی ہوئی تیز رفتار گاڑیاں اپنی اپنی منازل کی جانب گامزن تھیں۔ اور بھی بہت سے خوش نصیبوں کی مانند ہماری منزل بھی نہایت حسین تھی۔ "قم" میری زندگی کا ایک اور حسین خواب کچھ ہی دیر میں تعبیر کی صورت پانے کو تھا۔
قم ایک پاک و پاکیزہ اور مذہبی شہر ہے جو تہران سے کم و بیش 140 کلو میٹر کے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے خشک و سپاٹ مگر مؤمن کے دل کی طرف صاف پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ اسکا کل رقبہ 12300 مربع کلومیٹر ہے، جسکے شمال میں شہررے، ورامین اور جلگہ واقع ہیں۔ جنوب میں محلات و دلیجان، مغرب میں اشتیان و ترفش جبکہ مشرق میں کاشان اور صحرائے نمک واقع ہیں۔ اسی صحرا سے اتصال کے باعث اس شہر کا موسم سردیوں میں شدید گرم اور سردیوں میں شدید سرد ہے۔ کوئی بیرونی سائر جو گرمی کے موسم میں یہاں آئے تو اس شدت کی گرمی پائے گا کہ وہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اگلے موسم میں یہاں برف بھی پڑ سکتی ہے اور اگر کوئی سردی کے موسم میں آئے تو وہ اسکا یقین ہی نہ کرے کہ یہاں لو بھی چلتی ہوگی۔ البتی یہاں موسم ِ بہار انتہائی خوبصورت اور معتدل ہوتا ہے۔ بعض صاحبان علم کا یہ کہنا ہے کہ خدا نے اس مطہر شہر کو ظالم و جابر کے شر سے محفوظ رکھنے کی خاطر اس علاقے کی آب و ہوا کو مرغوب نہیں بنایا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس شہر میں کبھی کسی جابر سلطان نے سکونت اختیار نہیں کی۔ آج جس مقام پر یہ شہر آباد ہے، ازمنہءقدیم میں یہ یہاں پر آباد نہ تھا۔ اور نہ ہی یہ کسی شہری منصوبہ بندی کے تحت وجود میں آیا تھا۔ یہ مجمع البحرین اور ایک سرسبزوشاداب علاقہ تھا جہاں صحرا نشین گلہ بان اپنے مویشی چروانے کے لیے آیا کرتے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے یہاں مستقل سکونت اختیار کرنا شروع کردی۔ ان خانہ بدوشوں کے گھروں کو "کومہ" کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ ہلکی سی تخفیف کے بعد "کم" اور معرب ہوکر "قم" بن گیا۔
بحار الانوار میں ایک روایت اس نام کے سلسلے میں یہ ملتی ہے کہ جب رسول ِ مقبول (ص) معراج پر تشریف لے گئے تو اس سرزمین پر شیطان کو حالت ِ افسوس میں دوزانوں بیٹھا ہوا پایا تو آپ (ص) نے فرمایا کہ "قم یا ملعون" یعنی "اے ملعون یہاں سے اٹھ جا۔" اسی حکم ِ قم کی بنا پر اسکا نام قم پڑ گیا۔
ساتویں صدی میں جب مغلوں نے ایران پر حملہ کیا اور فتح حاصل کرتے ہوئے اصفہان تک جا پہنچے تو راستے میں موجود قم بھی تباہی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ اسکے بعد تیموریوں نے بھی یہاں مظالم کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہاں تک کہ نویں صدی میں قم ایک بار پھر ایک چھوٹی سی بستی کی صورت میں ابھرا جس نے صفوی دور میں بے پناہ ترقی حاصل کی۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد افغان یورشوں نے اسے پھر سے متاثر کیا۔ فتح علیشاہ قاچار کے دور میں قم کو ایک بار پھر زندگی ملی۔ ایک تایخی روایت کے بقول فتح علی شاہ نے بادشاہی ملنے سے قبل منت مانی تھی کہ اگر وہ بادشاہ بن گیا تو اہل ِ قم سے ٹیکس وصول نہیں کرے گا اور اسکی تعمیر و ترقی کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ جب خدا نے اسے سلطنت عنایت کردی تو اس نے پہلی منت تو پوری نہ کی البتہ شہر کی تعمیر و ترقی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا جس میں ایک اہم کام روضہء بی بی معصومہ (س) کی توسیع تھا۔ ترقی کا یہ دور جاری تھا کہ محمد شاہ کا زمانہ آیا اور قم ایک مرتبہ پھر تنزلی کا شکار ہوا۔ محمد شاہ کے برعکس ناصر الدین شاہ قاچار نے اقتدار سنبھال کر اسے ایک مرتبہ پھر توجہ دی۔ الغرض حادثات ِ زمانہ سے گزرتا ہوا یہ شہر 1340ھ تک پہنچا جب بی بی معصومہ (س) کے طفیل اسکے نصیب جاگے اور آیت اللہ عبدالکریم حائری (ر) نے یہاں حوزہءعلمیہ کی تاسیس کی۔ جسکے نتیجے میں اسکی عظمت اور شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ دوردراز کے علاقوں سے طلبا نے یہاں کا رخ کرنا شروع کیا۔ تعلیم کے میدان میں تو یہ شہر تیزی سے آگے بڑھنے لگا مگر حکومت کی جانب سے اسے مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ آیت اللہ حائری کی وفات کے بعد اس سفینہءعلم کو آیت اللہ بروجردی (ر) کے مقدس ہاتھ نصیب ہوئے جنہوں نے اسکی ترقی اور فروغ کے لئے شبانہ روز محنت کی۔ ثقاتی، مذہبی اور علمی ترقی کے علاوہ آپ نے یہاں معاشرتی فلاح کے بیشمار منصوبے شروع کئے جن میں ہسپتالوں، مدرسوں، مساجد کی تعمیر اور شہری ترقیاتی کام شامل تھے۔ یہ کام اپنی مدد آپ کے تحت ہوئے، حکومت نے زرہ بھر تعاون نہ کیا۔ یہاں کے علما، طلبا اور دیگر باشندے اپنے شہر کی ترقی کے لئے مل کر کام کرتے۔ اس خلوص کا یہ نتیجہ سامنے آیا کہ یہ شہر علمائے تشیع کا مرکز بن کر ابھرا۔ اس مادر ِ علمی کے دامن میں ابنائے ملت پرورش پانے لگے جنہیں مادر ِ علمی کے ساتھ ساتھ مادر ِ وطن کے حق کا بھی پورا پورا احساس تھا۔ یہیں سے امام خمینی (ر) کی ولولہ انگیز قیادت میں اس تاریخی تحریک نے جنم لیا جس نے ڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کے بت کو پاش پاش کرڈالا۔ اس سرزمین کے فرزندان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اپنے دین اور اپنے وطن کا ایسا دفاع کیا کہ آج انکا وطن آزاد اور حوزہءعلمیہ آباد ہے۔ آج کے قم کی رونقیں، سہولتیں، مسرتیں اور خوزہءعلمیہ کی روشنی جو اپنے طلبا کے طفیل پوری دنیا کو روشن و منور کررہی ہے، بلاشبہ ان تمام شہدا کے خون کی مرہون منت ہے۔
صدیوں کا سفر طے کرکے آج قم یہاں تک پہنچا کہ علم اسکے کوچوں میں پھلتا پھولتا ہے۔ عزت و وقار کا احساس اسکی فضاؤں سے ہوتا ہے اور دانش کی قندیلیں یوں روشن ہیں کہ چہاردانگ ِ عالم کو جگمگا رہی ہیں۔ ہم نے بھی ڈیڑھ گھنٹے کا سفر طے کیا اور اس شہر کی روشنیوں نے ہمیں یوں خوش آمدید کہا کہ دل باغ باغ ہو گیا۔ میری حیرت کے لیئے اسکی سڑکوں، گلیوں ، کوچوں اور بازاروں میں چلتے ہوئے ہر شخص کا سراپا کافی تھا۔ جس شخص پر نظر پڑے، سر پر عمامہ اور کاندھے پر عبا۔ ہماری گاڑی آگے بڑھتی جارہی تھی اور میری حیرت اور خوشی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ کچھ مزید چل کر میرے ایک معصومانہ سوال نے روحانی ماحول کو بھی ظریفانہ رنگ دے دیا۔