15.10.2026, 09:59pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

امیر کبیر حضرت شاہ ہمدان رحمتہ اللہ علیہ
13.12.2008, 01:02am , ہفتہ (GMT+1)

ڈاکٹر نذیر احمد
عالم، عارف حق آگاہ ، بزرگ صوفی ، درویش ، مبلغ دین ، ولی کامل ، مفکر دین اور فارسی وعربی ادبیات کے مایہ افتخار ادیب اور شاعر میر سید علی ہمدانی? الملقب بہ سید السادات امیر کبیرحضرت شاہ ہمدان رحمتہ اللہ علیہ کی ذات گرامی اور ہمہ جہت شخصیت کے اعجاب آور علمی اور دینی کارناموں سے واقف ہیں۔ کشمیر میں دین اسلام کو رواج دینے اور فارسی زبان وادب اورتہذیب وثقافت کے سفیر کبیر کی حیثیت سے آپ نے روئے زمین کے اس حصے میں جو اہم خدمات انجام دیں وہ بھی آپ جیسے اسلام دوست اور ادب شناس عالم سے پوشیدہ نہیںہیں۔ شاہ ہمدان? کا جو قرض حسنہ فرزندانِ اسلام پر عائد ہے اسے ہم ادا نہیں کرسکتے بالخصوص ظلمات سے نور کی طرف لے جانے میں انہو ں نے ہماری جورہنمائی فرمائی ہے اور مختلف جہتوں سے فرمائی ہے اس کی یاد کا اگر ہم تذکرہ ہی کریں تو وہ بھی ایک بہت بڑی بات اور کسی حد تک ادائے فریضہ ہوگی۔

امیر کبیر شاہ ہمدان کا مزار
’’درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر اپنے تخت سلطنت پر متمکن ہوا جو رات پر ڈھانک دیتاہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑے چلا آتاہے جس نے سورج چاند اور تارے پیدا کئے۔ یہ سب اس کے تابع فرمان ہیں۔ ‘‘(قرآن حکیم سورہ اعراف آیت 54)

حضرت آدم علیہ السلام جنت میں تھے۔ خداوند تعالیٰ وہاں نافرمانی کرنے پر ان سے ناخوش ہوئے اور ان کو اپنی مشیت سے جنت سے نکال کر زمین پر روانہ کیا۔ زمین پر حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی پرستش اور توبہ کی یہاں تک کہ شیطان سے آئندہ بچانے کی غرض کی۔

اس وقت سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان پیغمبر پیدا کئے تاکہ وہ ہمیں صحیح راستے پر ڈال کر صرف ایک خدا کی پرستش کرنے کا راستہ ہمیں دکھائیں اور ہمیں شیطان کی گمراہیوں سے بچالیں۔

آخری پیغمبر جن کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان پیدا کیا ’’ رحمتہ اللعالمین‘‘ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے ہمارے پاس قرآن حکیم اور تعلیمات اسلام یعنی ’’ سنت ‘‘ کی نعمت لائی۔

پیغمبر برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس اسلامی مشن کی تبلیغ بزرگ اولیائ کرام نے کی جو کہ عام طور پر آل رسول ہی تھے۔ ان ہی بزرگ اولیائے کرام میں سے ایک بلند مرتبت شخصیت حضرت شاہ ہمدان میر سیّد علی ہمدانی? ہیں۔

حضرت میر سید علی ہمدانی ? وہ بلند مرتبت شخصیت ہیںجو پہلی بار ماہ ربیع الاول 774ھ مطابق 1372ئ میں دین اسلام کی تبلیغ کرنے کی غرض سے کشمیر آئے اور لوگوں کو نبی برحق کی سچی تعلیمات سے آگاہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب براعظم ایشیائ کے بہت بڑے حصے پر تاتاریوں کی حکومت تھی اور ہندوستان پر خاص کر تغلق خاندان میں سے فیروز شاہ تغلق حکمرانی کررہا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جبکہ ہماری پرانی وسطی قوم مصیبت ، غربت ، جہالت اور استحصالیت میں مبتلا تھی۔ یہی وہ وقت تھا ہماری قوم کو ذات پات کی تمیز نے برباد ی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب کشمیریوں کی ایذائ سانی اور استحصالی افسوںگری کے پیشے پر کیا جاتا تھا۔ اس پر چھوٹے بڑے اور خاص وعام جوگی اور پچاری عملدرآمد کرتے تھے۔

حضرت میر سید علی ہمدانی ? نے کشمیر ی قوم کو خوف، غیریقینی جہالت ، غریبی اور ذات پات کی غیر مساویانہ زندگی سے آزاد کردیا۔ آپ نے ایک اچھی سوسائٹی میں امن وامان کی باعزت زندگی گزارنے ، مساویانہ انسانی حقوق اپنانے کی ایک نئی امید پیدا کردی۔ آپ نے اسلامی تعلیمات کی تبلیغ سے پہلی بار ہماری قوم میں خوشحال زندگی استحکام اور بھائی چارے کا انقلاب لایا۔

حضرت میر سیّدعلی ہمدانی نے اپنا بین الاقوامی مشن 738 میں 24سال کی عمر میں شروع کردیا۔ آپ نے ایشیائ[L:4 R:4] کے ان دوردراز ممالک میں سفر کیا جہاں دین اسلام کو مقامی تضادات اوراس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا۔ جہاں مسلمان عام طور پر شریعت نہ سمجھنے اور شریعت کی مختلف تشریحات کی وجہ سے نظریاتی اختلافات میں مبتلاتھے،آپ نے ان سارے تضادات اور غلط فہمیوں کو مقامی علمائ کے ساتھ بحث وتمحیص کرنے اور اپنی تحریرات اور تعلیمات سے دور کردیا۔

حضرت میر سید علی ہمدانی ? نے کشمیری قوم کو نہ صرف روحانی اور اخلاقی تعلیم سے نوازا بلکہ سماجی اور اقتصادی طور پر مستفید فرمایا۔ آپ نے مبلغین کی جماعت کے ساتھ دنیا کے مختلف حصوں سے تجربہ کار فنکاروں، انجینئروں اور دستکاروں کو بھی لایا جنہوں نے کشمیریوں کو مذہب کے علاوہ فنکاری ،زراعت اور مختلف دستکاریاںبھی سکھادیں۔ جب ہی اس وقت سے کشمیر مشہورہوا۔

کشمیر کے لوگ مختلف دستکاریوں مثلاً پشمینہ سازی ، کتائی ، قالین بافی ،شالبافی ، چکندروزی، پیپرماشی ،لکڑی پر نقش گیری ، چاندی اور تانبے کی برتن سازی اور ان پر نقش گیری ، جلد سازی ، خطاطی ، جالکدوزی ، سوزن کاری وغیرہ وغیرہ میں بلند پایہ کے ماہرین بن گئے۔

حضرت میر سید علی ہمدانی ?نے ایشیائ[ خاص کر اس وقت کے روس ، چین ،افغانستان اور کشمیرمیںتہذیبی انقلاب لایا ، یہاں تک کہ وہاں کے لوگ بھی آپ کو اپنے بین الاقوامی مشن کی وجہ سے یاد کرتے ہیں۔ (بحوالہ سوویٹ دیش ، اگست 1962ئ میچو)

حضرت میر سید علی ہمدانی? نہ صرف مذہبی بلکہ ملکی اور سماجی مصلح بھی تھے۔ آپ نے اچھی سوسائٹی میں رہ کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،آفاقی بھائی چارے ، دیانتداری اور مساویانہ جذبے کے تحت کشمیریوں کوملکی انتظامیہ چلانے کے طور وطریقے سکھادیئے جیساکہ آپ کی تصانیف خاص کر آپ کی مشہور کتاب ۔ ۔ ۔ ذخیرۃ الملوک ۔ ۔ ۔ سے ظاہرہے۔(یہ اسلامی سیاسیات کے علم کی ایک مستند کتاب ہے)

حضرت میر سید علی ہمدانی? ایک بڑے سیاح تھے۔ آپ نے تقریباً تین بار سارے دنیا کی سیر کی۔ آ پ نے کشمیر کے سارے علاقوں لیہہ ، کرگل ،اسکردو اور گلگت کی سیاحت کی۔ جہاں کہیں بھی آپ گئے وہاں آپ نے خانقاہیں ، مسجدیں ، درالمطالعے اور دستکاریوں کے صنعتی ادارے کھول دیئے۔ یہ کام آپ نے خاص کر کشمیر،روس ، چین ،انڈونیشیائ[L:4 R:4] ، سری لنکا ، شمالی ہندوستان اور پاکستان میں انجام دیا۔

حضرت میر سید علی ہمدانی ? آٹھویں صدی ہجری میں اس اسلامی تہذیب کے انقلاب نے ایشیائ[L:4 R:4] اور یورپ کے بہت سے حصوں میں اسلام کو استحکام بخش دیا۔

حضرت شاہ ہمدان? اسلام کی بلند پایہ شخصیتوں میں سے ایک بلند مرتبت شخصیت ہیں۔ آپ نے 71سال کی عمر میں سوموار کے دن 5ماہ ذی الحجہ 786ھ کو تاجکستان روس کے شہر ختلان ،جہاں آپ کا روضہ مقدس ہے ، جاتے ہوئے کنز پکھلی (پاکستان)کے مقام پر انتقال فرمایا۔

796ھ میں حضرت شاہ ہمدان کے فرزند ارجمندحضرتِ میر محمد ہمدانی ? اپنے والد بزرگوار کے مشن کو مکمل کرنے کے لئے تین ہزار اسلامی علمائ[L:4 R:4] لے کرکشمیر آئے اور یہاں متواتر بائیس سال تک تشریف فرما رہے۔

یہ ذکر کرنا اہم ہے کہ بہت سی خانقاہیں کشمیر میں آپ کے فرزند ارجمند حضرتِ میر محمد ہمدانی? نے تعمیر کیں۔ آپ کے پاس ایک بدخشانی لعل تھا۔ جس کے عوض آپ نے اس وقت کے کشمیری بادشاہ سکندر سے تین گا?ں ترال ،نون ونی اور وچی 796ھ میں خریدے اور ان تینوں جگہوں کی آمدنی کو خانقاہوں کے اخراجات کے لئے وقف کیا۔ جوخانقاہیں آپ نے تعمیر کیں ان میں سے دریائے جہلم کے کنارے سرنیگر میں حضرت میر سید علی ہمدانی? نے بنائے ہوئے چبوترے پر خانقاہ معلی ہی نہیں بلکہ آپ نے سرینگر سے 39کلومیٹر دورجنوب ومشرق کی طرف ترال 48کلو میٹر دورشمال ومغرب کی طرف سوپور ، 74کلو میٹر دور جنوب ومغرب کی طرف شاہ آباد ڈورو،14کلو میٹر دورجنوب کی طرف پانپور، 40کلو میٹر دوروچی ،یہاں تک کہ لداخ اور غیرہ وغیرہ جگہوں پر بھی خانقاہیں تعمیر کیں۔

خانقاہ معلی سرینگر کے اندر شمال اور جنوب کی طرف سے چھوٹی چھوٹی کوٹھریاں چلہ کشی کرنے والے عبادت گذاروں کے لئے بنائی گئیں ہیں۔ روایت کے مطابق اس خانقاہ معلی میں پیغمبر برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی دومقدس زیارتیں ہیں۔ ایک متبرک ستون جو کہ آپ نے جہاد بدر کے وقت خیمے میں نصف فرمایا تھا اور دوسرا آپ کا عصا ئے مبارک۔ یہ دونوں مقدس زیارتیں حضرت شاہ ہمدان کی ہی لائی ہوئی ہیں۔ اس خانقاہ فیض پناہ کی دیواروں پر اور ادفتحیہ کندہ حرف میں لکھی ہوئی ہے۔حضرت میر محمد ہمدانی817ھ میں زیارت بیت اللہ کے لئے روانہ ہوئے۔ مکہ معظمہ سے واپسی پر آپ ختلان چلے گئے اور وہیں 854ھ بمطابق 1450 میں راہ ملک بقا ہوئے۔ آپ کی آرام گاہ اپنے والد بزرگوار کی مرقد پرانوار کے ساتھ ہی ہے۔

حضرت میر سید علی ہمدانی مبلغین کے ساتھ جن کا شمارسات سو افراد پر مشتمل تھا ،تین بار کشمیر آئے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے آپ کو اپنا مشن پورا کرنے کے لئے اپنی تبلیغ ،تعلیمات اور تصانیف سے معاونت کی۔ اس کے نتیجے میں یہاں ایک بڑا انقلاب رونما ہوا یہاں تک کہ کشمیر نے دوسرے ممالک میں ایک باعزت مقام حاصل کیا۔ ان ممالک نے اس کے ساتھ رشتے بڑھا دیئے اور یہاں اپنے سفیر بھیج دیئے اور اپنے ممالک میں کشمیری سفیروں کی آو بھگت کی۔

حضرت میر سید علی ہمدانی 14 ماہ رجب 714ھ مطابق 1312 کو ہمدان(ایران ) میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد بزرگوار سیّد شہاب الدین حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے تھیں۔

ہمدان مغربی ایران کا ایک مشہور شہرہے۔ اس کی بنیاد800میں بحیثیت ایکبتانہ (یگمتانہ) پڑی اور اس وقت سے یہ اسلامی مفکروں فلسفیوں اور اولیائ کرام کے طفیل مشہور ہے۔

حضرت میر سید علی ہمدانی خودعربی اور فارسی کے مانے ہوئے مصنف تھے اور تقریباً172تصانیف کتابیات اور رسالہ جات کی صورت میں آپ سے منسوب ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے صوفیانہ فارسی شاعر تھے۔ آپ کی بہت سی تصانیف مخطوطات کی صورت میں دنیا کی تمام مشہورترین لائبریریوں میں پائی جاتی ہیں۔ بڑے بڑے برہمنوں ، مسلمان عالموں ، خدا دوست لوگوں ،کشمیری بادشاہوں اور ہندوستان وایران کے شہنشاہوں نے آپ کی تصانیف اور تعلیمات سے استفادہ کیا ہے۔ سلاطین کشمیر ، شہمیری خاندان(سلطان شمس الدین ،شہاب الدین ،قطب الدین ، سکندر اور ان کے علاوہ زین العابدین بڈشاہ یہاں تک کے ایران کے شہنشاہ تیمور،شاہان ہند تغلق اور مغلوں اور رستم ہند سیّدحسین بہادرہادی )یہ سب آپ کی رہنمائی اور آپ کی تعلیمات سے مستفید ہوئے ہیں۔

کشمیرکے مشہور ومعروف اولیائ کرام اور علمائ میں حضرت شیخ العالم نورالدین نورانی?،سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخدوم? ، حضرت شیخ بابا دا?د خاکی ?،جامع الکمالات حضرت شیخ یعقوب صرفی? ، حضرت خواجہ حبیب اللہ نوشہری ، حضرت مرزا اکمل الدین بدخشی اور لل عارفہ شامل ہیں،جنہوں نے حضرت شاہ ہمدان? کو اپنا روحانی پیشواتسلیم کیا ہے۔

موجودہ صدی میں بلند پایہ شاعر مشرق علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت شاہ ہمدان? کی تعلیمات سے بہت استفادہ کیا ہے۔ آپ کی مشہور کتاب ’’جاوید نامہ‘‘ کے علاوہ ’’خیالات چشم‘‘ اور ’’اقبال کشمیر میں بحیثیت سیاح‘‘ میں آپ کا حوالہ ملتاہے ،یہاں تک کہ علامہ نے اس بلند مرتبت ولی کو خراج تحسین ادا کیاہے۔ اقبال علیہ الرحمہ یہ اضافہ کرتے ہیں کہ اسلامی شخصیتوں میں سے جنہوں نے ان کی زندگی بنانے میں نمایاں رول ادا کیا ہے ‘ حضرت سیّدعلی ہمدانی? ان میں سے پہلی شخصیت ہیں۔ آپ کی توحید پرستی اسلامی فلسفہ اور تہذیبی انقلاب نے اقبال علیہ الرحمہ کی تحت الشعوری اپج اور لکھنے کے فن کومتحرک کردیاہے۔

بلند پایہ یورپین مصنّفین جیسے تھامس بیل اورلسینٹ نے بھی حضرت میر سید علی ہمدانی ? کی تعریف کی ہے جنہوں نے آٹھویں صدی ہجری میں کثرت سے لوگوں کو دائرہ اسلام میں لایا ہے۔

حق سبحانہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ یونس آیت 54میں ذکرکرتاہے : سنو جو اللہ کے دوست یعنی اولیائ ہیں،ان کو دنیوی چیزوں کا کوئی خوف اور رنج نہیں ہے۔ وہ میرے محبوب ہیں ، تمہارا اْن پر کوئی غلبہ نہیں

(صاحبِ مضمون شاہ ہمدان پبلک ٹرسٹ کے خاد م ہیں)

:دیگر مضامین
(16.11.2008) عالمی اخبار کے آرکائیو سے
(01.11.2008) یکم نومبر میری روشن صبح ہے
(30.10.2008) بہت یاد آئیں گے وہ دن مجھے تڑپائیں گے وہ دن!
(15.10.2008) برطانوی بابائے اردو مرحوم رالف رسل کانایاب انٹرویو



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں