16.10.2026, 08:16pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

فیض احمد فیض کی صد سالہ سالگرہ ۔برلن میں یادگاری تقریب
09.07.2011, 09:22am , ہفتہ (GMT+1)

رپورٹ: عارف نقوی، صدر اُردو انجمن،برلن
فیض احمد فیضؔ کی صد سالہ سالگرہ کا جشن ۳ جولائی ۲۰۱۱ء کو برلن میں ’’ ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن ‘‘ کی خوبصورت عمارت میں اردو انجمن برلن کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔جس میںجرمنی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ادیبوں کے ساتھ ساتھ دیگرممالک سے آئے ہوئے مختلف مذاہب ، قومیتوں اور زبانوں کے مہمان شریک تھے۔سب سے پہلے ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن کی طرف شریمتی سارافینے مَیرس نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس کے بعد اردو انجمن کے صدر اور فیض سینٹی نری کمیٹی یورپ کے کنوینرعارف نقوی نے مہمانوں کا ستقبال کرتے ہوئے بتایا کہ فیض احمد فیضؔ دنیائے ادب کے ایک درخشاں ستارے تھے جنھوں نے انسانیت، دوستی، عالمی امن کے لئے اور استحصال کے خاتمے کیلئے آواز اٹھائی۔اردو انجمن ایک ادبی اور ثقافتی تنظیم ہے اوران سب لوگوں کا خیر مقدم کرتی ہے جنہیںاردو زبان و ادب عزیزہے اور دل انسانیت،خلوص و محبت ، قوموں کے بیچ دوستی اور امن و انصاف کے جزبات سے منور ہیں۔

اس کے بعد جرمنی کے ایک ہونہار فنکار سیباستیان درائیر اور سوین البے نے ستار اور طبلے کی پیش کش سے فیض کو خراج عقیدت پیش کیا اور لوگوں سے داد حاصل کی۔محترمہ عشرت معین سیما اور نایاب خواجہ نے نظامت کے فرائض ادا کرتے ہوئے پروگرام کو آگے بٖڑھایا۔فیض احمد فیض ؔکی زندگی پر مبنی ایک خوبصورت ویڈیو دستاویزی فلم پیش کی گئی اور ساتھ ہی لندن میں ہوئے فیض میلے کی ویڈیو جھلک دکھائی گئی جس میں فیض کی بیٹیاں سلیمہؔ ہاشمی اور منزہ ؔہاشمی اپنے والد کو یاد کر رہی تھیں۔اس کے بعد اردو انجمن کے نائب صدر اور فیض سینٹی نری تیاری کمیٹی کے نائب کنوینر انور ظہیررہبرؔنے فیض کا ایک مضمون ’’فیض از فیض‘‘ پیش کیا جس میںفیض نے اپنے بار ے میں خیالات کا اظہار کیا ہے۔عارف نقوی نے اپنے مقالے کا آغاز فیض ؔ صاحب کی آواز سے کیا اور اپنا وہ انٹرویو پیش کیاجو انھوں نے ۱۹۸۴ء میں فیض ؔ صاحب سے ان کے انتقال سے تھوڑے دن قبل برلن میں لیا تھا۔جس میں فیض احمد فیض کہتے ہیں:’’ ترقی پسندادب تو کسی وقت کا پابند نہیں ہے کہ آج اس کی ضرورت ہے کل نہیں۔ اس کی ہمیشہ سے ضرورت تھی اور ہمیشہ رہے گی۔ ترقی پسند ادب کسی تنظیم کا نام نہیں ہے، سوسائٹی کا نام نہیں ہے۔ ترقی پسند ادب کے معنی ہیں وہ اد ب جو کہ ایک معاشرہ کو،انسانیت کوترقی پر مائل کرتا ہے۔جو ادب ترقی پسند نہیں ہے وہ تنزل پسند ادب ہے۔ تنزل پسند ادب کی آج انسانیت کو کیا ضرورت ہے۔ ترقی پسند ادب کے لوگ معنی ہی نہیں سمجھتے ہیں۔وہ اس کو بہت محدود معنوں میں سمجھتے ہیں۔‘‘اس موقع پر فیض ؔکی سالگرہ کا ایک خوبصورت کیک بھی کاٹا گیا، جس کے بعد گلو کار دھیرجؔ رائے نے اپنی خوبصورت آواز میںترنم سے فیض کا پیغام ’’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔۔‘‘ اردو، انگریزی، جرمن اور بنگالی زبانوں میںپیش کیا۔لندن سے آئے ہوئے خصوصی مہمان جناب اکرم قائم خانی نے اپنے مقالے میںفیض صاحب کی عظمت اور امن و انصاف کے لئے اور استحصال کے خاتمے کے لئے ان کی خدمات اور قربانیوں کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے اس بات پرزور دیا کہ ان کے مشن پر آگے بڑھنے کی آج بھی ضرورت ہے مہمانِ اعزازی محترمہ پروفیسر راجم نٹراج پلّے نے ، جوفیض ؔ کی صد سالہ سالگرہ کے جشن میں شرکت کے لئے خاص طور سے ممبئی سے آئی تھیں اپنی تقریر میں کہااردو زبان کو عالمی امتیاز دلانے اور مقبول بنانے میں فیض کے ادب نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اور اس کی وجہ اُن کا عالمی نقطۂ نظر، انسانیت کے حق میں لڑائی، بڑے سے بڑے امتحان میں بھی بنیادی فلسفے پر قائم رہنا اور ہم سفر ’لوح و قلم ‘ سے برتی گئی ایمانداری۔ ان کی قلم سرحدوں کے پار کی سبھی نسلوں، زبانوں اور طبقوں کے لئے اپنی روشنائی کی روشنی بکھیررہی ہے اور یوں فیض احمد فیضؔ سرحدوں کے آرپار جلتی ہوئی مشعل بنے ہوئے ہیں۔ڈینمارک سے آئی ہوئی محترمہ صدفؔ مرزا، بنگالی زبان کے پروفیسر ڈاکٹر سنیل سین گپتا، ڈرامہ آرٹسٹ ارشاد پنجتن اور دیگر حضرات نے بھی فیضؔ کو خراج عقیدت پیش کیا۔پاکستان کے تاریخ داںپروفیسراسلم سید نے اپنے مقالے میں جو انہوں نے امریکہ سے بھیجا تھاکہا کہ :’’ فیض نے محبت میں بے داغ بنیاد پائی اور اس کی مضبوط بنیادوں پر اپنے انقلابی خیالات کی تعمیرکی ،اس نے کبھی امیدکا دامن نہیں چھوڑااورآخری دم تک یہ بھروسہ رکھا کہ انسانی سماج اس بے داغ بنیاد کو حاصل کرے گا۔‘‘تقریب کے دوسرے دور میں ارشاد خان نے ترنم سے فیضؔ کی نظم ’’ مجھ سے پہلی سی محبت میری محبوب نہ مانگ‘‘ پیش کی۔ فیضؔ کے آخری مشاعرہ کی ویڈیو فلم دکھائی گئی ۔ اس موقع پر مشاعرہ میں راجمؔ نٹ راج پلّے ، عارفؔ نقوی، حنیف تمنّاؔ، طاہرہ ربابؔ، صدفؔ مرزا، علی حیدر وفاؔ، انور ظہیررہبرؔ، سشیلا شرما، عشرت معین سیماؔ، افضالؔ لطیف اور دیگر شعرانے اپنے کلام سے فیضؔ کو خراج عقیدت پیش کیا۔مشاعرہ کی نظامت کے فرائض اداکرتے ہوئے عشرت معین سیما ؔ نے اپنے اشعار سے آغاز کیا اوراس شعر پر خاص طور سے داد حاصل کی:

زہر کے گھونٹ پینے پڑتے ہیں باتیں جب ان کی فاش ہوتی ہیں
آئینہ مسکراتا رہتا ہے حیرتیں پاش پاش ہوتی ہیں
دیگر شُعراء کے منتخب اشعار ملاحظہ ہوں:
میاں افضل لطیف :
دکھوں کا بوجھ اٹھائے کدھر گیا ہوگا
وہ شخص چپکے سے خاموش مرگیا ہوگا
انور ظہیر رہبر
جو مسیحائے حکومت کی خلعت پہنے ہیں
فکر اذہان سے بیمار نظر آتے ہیں
علی حیدر وفا ؔ:
میرے غم کے غم میں تو غمگیں نہ ہو اے غم گسار
میں بنا ہوں غم کی خاطر غم بنا میرے لئے
حنیف تمنّا ؔ نے اس شعر پر خاص طور سے داد حاصل کی:
ہمارا نام و نشاں مٹادیں یہ اہلِ مقتل پہ شرط یہ ہے
کہ بوئے خوں سے فضا معطرنہ ہو یہ طے ہو ہوا سے پہلے
طاہرہ ربابؔ :
وہ کہتا ہے کہ میں اپنے حواسوں میں رہوں
کھینچ لے سانس تو کیسے میںسانسوں میں رہوں

انور ظہیر رہبر نے نظم’’ اپنے خواب ڈھونڈھتا ہوں ‘‘ سنائی جس کا جرمن ترجمہ سارہ ظہیر نے پیش کیا۔سوشیلاؔ حق شرما نے ہندی زبان میں کئی نظمیں پیش کیں۔ممبئی سے آئی ہوئی مہمان راجم نٹ راج پلّے نے ایک طویل ہندی نظم پیش کی۔عارف ؔ نقوی نے اپنی نظمیں فکر شاعر اور احساس پیش کیں اور مشاعرہ کا اختتام اس طرح کیا:

اور انسان کہ تنکا بھی ہے قطرہ بھی ہے
چاک دل چاک جگر چاک گریباں بھی ہے
خود کو پا جائے تو طوفان اٹھا سکتا ہے
آنکھ کھل جائے تو دنیا کو جگا سکتا ہے

تقریب کا اختتام فیض احمد فیض کے پیغام ’’ ہم دیکھیں گے۔۔۔‘‘ پر بنی خوبصورت ویڈیو فلم پر ہوا۔

:دیگر مضامین
(29.06.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 46ویں قسط
(28.06.2011) معروف و مقبول سوز خوان،استاد اور محقق سبط جعفر لندن کے دورے پر
(26.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔دسویں قسط
(26.06.2011) معروف مرثیہ نفیس عابدی دل کی شریانوں کے عارضہ میں متبلا ہو گئے
(22.06.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 45ویں قسط
(19.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔نویں قسط
(17.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ آخری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(17.06.2011) ظہور مولائے کائنات پر عالمی اخبار کے لیئے مظہر شہزاد کے موئے قلم کا منفرد تحفہ
(12.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔۔۔از۔۔۔۔شمس جیلانی۔ آٹھویں قسط
(10.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ تیسری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(08.06.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 44ویں قسط
(06.06.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ ساتویں قسط
(03.06.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ دوسری قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(31.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 43ویں قسط
(29.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔ چھٹی قسط
(28.05.2011) امریکہ نامہ ۔۔۔۔۔ پہلی قسط ۔از؛ ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔ نئی دہلی
(21.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔5ویں قسط
(21.05.2011) بزم اردو لندن کی شام فیض کے نام....ایک یادگار شام
(17.05.2011) سفر,حیرت و عشق۔از۔قمر رضوی۔ سفر نامہ۔ 41ویں قسط
(14.05.2011) وینکور سے وینکور تک۔سفر نامہ۔از۔شمس جیلانی۔چوتھی قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں