
فیض احمد فیضؔ کی صد سالہ سالگرہ کا جشن ۳ جولائی ۲۰۱۱ء کو برلن میں ’’ ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن ‘‘ کی خوبصورت عمارت میں اردو انجمن برلن کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔جس میںجرمنی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ادیبوں کے ساتھ ساتھ دیگرممالک سے آئے ہوئے مختلف مذاہب ، قومیتوں اور زبانوں کے مہمان شریک تھے۔سب سے پہلے ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن کی طرف شریمتی سارافینے مَیرس نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس کے بعد اردو انجمن کے صدر اور فیض سینٹی نری کمیٹی یورپ کے کنوینرعارف نقوی نے مہمانوں کا ستقبال کرتے ہوئے بتایا کہ فیض احمد فیضؔ دنیائے ادب کے ایک درخشاں ستارے تھے جنھوں نے انسانیت، دوستی، عالمی امن کے لئے اور استحصال کے خاتمے کیلئے آواز اٹھائی۔اردو انجمن ایک ادبی اور ثقافتی تنظیم ہے اوران سب لوگوں کا خیر مقدم کرتی ہے جنہیںاردو زبان و ادب عزیزہے اور دل انسانیت،خلوص و محبت ، قوموں کے بیچ دوستی اور امن و انصاف کے جزبات سے منور ہیں۔

اس کے بعد جرمنی کے ایک ہونہار فنکار سیباستیان درائیر اور سوین البے نے ستار اور طبلے کی پیش کش سے فیض کو خراج عقیدت پیش کیا اور لوگوں سے داد حاصل کی۔محترمہ عشرت معین سیما اور نایاب خواجہ نے نظامت کے فرائض ادا کرتے ہوئے پروگرام کو آگے بٖڑھایا۔فیض احمد فیض ؔکی زندگی پر مبنی ایک خوبصورت ویڈیو دستاویزی فلم پیش کی گئی اور ساتھ ہی لندن میں ہوئے فیض میلے کی ویڈیو جھلک دکھائی گئی جس میں فیض کی بیٹیاں سلیمہؔ ہاشمی اور منزہ ؔہاشمی اپنے والد کو یاد کر رہی تھیں۔اس کے بعد اردو انجمن کے نائب صدر اور فیض سینٹی نری تیاری کمیٹی کے نائب کنوینر انور ظہیررہبرؔنے فیض کا ایک مضمون ’’فیض از فیض‘‘ پیش کیا جس میںفیض نے اپنے بار ے میں خیالات کا اظہار کیا ہے۔عارف نقوی نے اپنے مقالے کا آغاز فیض ؔ صاحب کی آواز سے کیا اور اپنا وہ انٹرویو پیش کیاجو انھوں نے ۱۹۸۴ء میں فیض ؔ صاحب سے ان کے انتقال سے تھوڑے دن قبل برلن میں لیا تھا۔جس میں فیض احمد فیض کہتے ہیں:’’ ترقی پسندادب تو کسی وقت کا پابند نہیں ہے کہ آج اس کی ضرورت ہے کل نہیں۔ اس کی ہمیشہ سے ضرورت تھی اور ہمیشہ رہے گی۔ ترقی پسند ادب کسی تنظیم کا نام نہیں ہے، سوسائٹی کا نام نہیں ہے۔ ترقی پسند ادب کے معنی ہیں وہ اد ب جو کہ ایک معاشرہ کو،انسانیت کوترقی پر مائل کرتا ہے۔جو ادب ترقی پسند نہیں ہے وہ تنزل پسند ادب ہے۔ تنزل پسند ادب کی آج انسانیت کو کیا ضرورت ہے۔ ترقی پسند ادب کے لوگ معنی ہی نہیں سمجھتے ہیں۔وہ اس کو بہت محدود معنوں میں سمجھتے ہیں۔‘‘اس موقع پر فیض ؔکی سالگرہ کا ایک خوبصورت کیک بھی کاٹا گیا، جس کے بعد گلو کار دھیرجؔ رائے نے اپنی خوبصورت آواز میںترنم سے فیض کا پیغام ’’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔۔‘‘ اردو، انگریزی، جرمن اور بنگالی زبانوں میںپیش کیا۔لندن سے آئے ہوئے خصوصی مہمان جناب اکرم قائم خانی نے اپنے مقالے میںفیض صاحب کی عظمت اور امن و انصاف کے لئے اور استحصال کے خاتمے کے لئے ان کی خدمات اور قربانیوں کا

تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے اس بات پرزور دیا کہ ان کے مشن پر آگے بڑھنے کی آج بھی ضرورت ہے مہمانِ اعزازی محترمہ پروفیسر راجم نٹراج پلّے نے ، جوفیض ؔ کی صد سالہ سالگرہ کے جشن میں شرکت کے لئے خاص طور سے ممبئی سے آئی تھیں اپنی تقریر میں کہااردو زبان کو عالمی امتیاز دلانے اور مقبول بنانے میں فیض کے ادب نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اور اس کی وجہ اُن کا عالمی نقطۂ نظر، انسانیت کے حق میں لڑائی، بڑے سے بڑے امتحان میں بھی بنیادی فلسفے پر قائم رہنا اور ہم سفر ’لوح و قلم ‘ سے برتی گئی ایمانداری۔ ان کی قلم سرحدوں کے پار کی سبھی نسلوں، زبانوں اور طبقوں کے لئے اپنی روشنائی کی روشنی بکھیررہی ہے اور یوں فیض احمد فیضؔ سرحدوں کے آرپار جلتی ہوئی مشعل بنے ہوئے ہیں۔ڈینمارک سے آئی ہوئی محترمہ صدفؔ مرزا، بنگالی زبان کے پروفیسر ڈاکٹر سنیل سین گپتا، ڈرامہ آرٹسٹ ارشاد پنجتن اور دیگر حضرات نے بھی فیضؔ کو خراج عقیدت پیش کیا۔پاکستان کے تاریخ داںپروفیسراسلم سید نے اپنے مقالے میں جو انہوں نے امریکہ سے بھیجا تھاکہا کہ :’’ فیض نے محبت میں بے داغ بنیاد پائی اور اس کی مضبوط بنیادوں پر اپنے انقلابی خیالات کی تعمیرکی ،اس نے کبھی امیدکا دامن نہیں چھوڑااورآخری دم تک یہ بھروسہ رکھا کہ انسانی سماج اس بے داغ بنیاد کو حاصل

کرے گا۔‘‘تقریب کے دوسرے دور میں ارشاد خان نے ترنم سے فیضؔ کی نظم ’’ مجھ سے پہلی سی محبت میری محبوب نہ مانگ‘‘ پیش کی۔ فیضؔ کے آخری مشاعرہ کی ویڈیو فلم دکھائی گئی ۔ اس موقع پر مشاعرہ میں راجمؔ نٹ راج پلّے ، عارفؔ نقوی، حنیف تمنّاؔ، طاہرہ ربابؔ، صدفؔ مرزا، علی حیدر وفاؔ، انور ظہیررہبرؔ، سشیلا شرما، عشرت معین سیماؔ، افضالؔ لطیف اور دیگر شعرانے اپنے کلام سے فیضؔ کو خراج عقیدت پیش کیا۔مشاعرہ کی نظامت کے فرائض اداکرتے ہوئے عشرت معین سیما ؔ نے اپنے اشعار سے آغاز کیا اوراس شعر پر خاص طور سے داد حاصل کی:
زہر کے گھونٹ پینے پڑتے ہیں باتیں جب ان کی فاش ہوتی ہیںآئینہ مسکراتا رہتا ہے حیرتیں پاش پاش ہوتی ہیںدیگر شُعراء کے منتخب اشعار ملاحظہ ہوں:میاں افضل لطیف :دکھوں کا بوجھ اٹھائے کدھر گیا ہوگاوہ شخص چپکے سے خاموش مرگیا ہوگاانور ظہیر رہبرجو مسیحائے حکومت کی خلعت پہنے ہیںفکر اذہان سے بیمار نظر آتے ہیںعلی حیدر وفا ؔ:میرے غم کے غم میں تو غمگیں نہ ہو اے غم گسارمیں بنا ہوں غم کی خاطر غم بنا میرے لئےحنیف تمنّا ؔ نے اس شعر پر خاص طور سے داد حاصل کی:ہمارا نام و نشاں مٹادیں یہ اہلِ مقتل پہ شرط یہ ہےکہ بوئے خوں سے فضا معطرنہ ہو یہ طے ہو ہوا سے پہلےطاہرہ ربابؔ :وہ کہتا ہے کہ میں اپنے حواسوں میں رہوںکھینچ لے سانس تو کیسے میںسانسوں میں رہوںانور ظہیر رہبر نے نظم’’ اپنے خواب ڈھونڈھتا ہوں ‘‘ سنائی جس کا جرمن ترجمہ سارہ ظہیر نے پیش کیا۔سوشیلاؔ حق شرما نے ہندی زبان میں کئی نظمیں پیش کیں۔ممبئی سے آئی ہوئی مہمان راجم نٹ راج پلّے نے ایک طویل ہندی نظم پیش کی۔عارف ؔ نقوی نے اپنی نظمیں فکر شاعر اور احساس پیش کیں اور مشاعرہ کا اختتام اس طرح کیا:
اور انسان کہ تنکا بھی ہے قطرہ بھی ہے
چاک دل چاک جگر چاک گریباں بھی ہے
خود کو پا جائے تو طوفان اٹھا سکتا ہے
آنکھ کھل جائے تو دنیا کو جگا سکتا ہے
تقریب کا اختتام فیض احمد فیض کے پیغام ’’ ہم دیکھیں گے۔۔۔‘‘ پر بنی خوبصورت ویڈیو فلم پر ہوا۔