المہدی ٹرسٹ برمنگھم کی انتظامیہ کی جانب سے برمنگھم میں محفل جشن معصومین پر محفل مقاصدہ جس میں طرح مصرعہ “ علی تو وہ ہے خدا جس کا اعتبار کرئے“ مقرر کیا گیا تھا اور معروف شعرا نے اس پر طبع آزمائی کی۔ جس میں جرمنی آئرلینڈ اور مانچسڑ۔ لندن کے مشہور منقبت خوان اور شعرا نے شرکت کی نظامت کے فرائض جناب محمد عباس فرائض نے سرانجام دیئے۔
برمنگھم کے اس عزا خانے اور مسجد کا اس دور میں وقت پر مجالس و میلاد شروع کرنا بہت مشکل کا نظر آتا ہے مگر برمنگھم میں بھی ایسا نظر نہیں آیا اور وقت شام ساڑھے چھ بجے اس متبرک محفل کا آغاز محمد نقوی نے حدیث کساٰ پڑھ کر کے کیا۔ یہ خصوصی محفل کوئی چار گھنٹے تک جاری رہی جسکے بعد نماز ادا کی گئی اور شرکا میں تبرک تقسیم کیا گیا۔
حدیث کے بعد جناب اصغر کرمانی کو دعوت سخن دی گئی اور اس طرح منقبت خوانی کا سلسلہ شروع ہوا گو کہ اس وقت تک سامعین کی تعدادبہت ہی کم تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ شاید سامعین کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ محفل بر وقت شروع ہو گی گو کہ بعد میں اس محفل میں شرکا کی محفل سے المہدی ٹرسٹ کے اس عزا خانے اور مسجد کا ہال کھچا کھچ پھر گیا تھا
جناب اصغر کرمانی کی سخن دانی کے بعد لندن کے راقم رپورٹ نے جناب نشاط واسطی کی رباعیات اور حضرت قیصر بارہوی کی مشہور نظم احسن تقویم سے محفل کو اپنی بھاری بھرم کم آواز سے بام عروج تک پہچایا
“نماز دل کے لئے کارواں اہل قلم “ یہ بات یاد رہے سید صاحب جناب صفدر ہمدانی کے مدعو کرنے پر اس محفل میں خاص طور پر شرکت کرنے کے لئے گئے تھے
کچھ منقبت خوان جو کہ مانجشتڑ سے تشریف لائے تھے جن میں جناب غنضفر عباس نقوی، صفدر ترمزی بھی شرکت کے لئے تشریف لائے تھے اور ان حضرات نے بھی مداح سرائی کا شرف حاصل کیا مگر یہ حضرات کچھ تاخیر سے تشریف لائے تھے جو مہان جناب رضا حیدر آئر لیند سے تشریف لائے انہوں نے جناب اقبال حیدر کا کلام سے محفل کو سراہا جبکہ سید اقبال حیدر بھی جرمنی سے اس محفل میں موجود تھے اور کلام شاعر کو ان کی حاضری میں خوب ادا کیا گیا
معروف سوز خوان اور مدح خوانی خوش لحن جناب سید آصف رضا بھی اس محفل میں شرکت کے لئے لندن سے تشریف لائے تھے اور انہوں نے اپنے لحن داود میں جس انداز سے شاعر آل عبا صفدر ہمدانی کی سہہ مصرعہ قیصدہ محفل میں پیش کر کے داد حاصل کی وہ ان کو حصہ تھی مگر سامعین ان کو ابھی سننا چاہئے تھے مگر وقت کی کمی کے باعث وہ محفل میں زیادہ دیر نہ پڑھ سکے۔
جناب رضا حیدر کے بعد مقاصدے کا آغاز کیا گیا جس کے پہلے شاعر کو جناب ڈاکٹر رضا حسین نے اپنا کلام پیش کیا جس میں بہت سے شعر تو انتے مضبوط تھے کہ ان کو بار بار سننے کی لئے سامعین نے اسرار کیا اور داد تحسین بھی پیش کی
اس محفل کے میزبان جناب سید سجاد حیدر جو ایک قلم دوست شخصیت ہیں اور ان کی غزل گوئی بھی منقبت معلوم ہوتی ہے الفاظ کے موتی پرونے والے اس شاعر نے اس مصرعے پر جو طبع آزمانئ کی اُس کے چند مصرعے قارئیں کی نذر کرتا ہوں سجاد حیدر جب مداح خوانی کر رہے تھے محفل میں ذکر محمد و آل محد بلندی کے جس پائے کو چھو رہا تھا ان کو الفاظ میں کے احاطے میں لانا مشکل ہے مگر سامعین جب سننے والے اور داد دینے والوں ہوں تو مدح خوانی کرنے والے کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے کلام کو کیسے سراہا گیا ہے گو کہ سجاد حیدر نے طرح مصرعہ پر عمدہ قیصدہ اس محفل مقاصدہ میں پرھ کر حاضرین محفل کے دل مو لیے
جناب سیداقبال حیدر جرمنی سے تشریف لائے ہوئے تھے اور جبکہ کہ وہ اپنی دختر کسا حیدر کی علالت کے باوجود اس محفل میں شرکت کے لئے آئے۔ جناب اقبال حیدر نے طرحی کلام پیش کیا اور داد حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ہونے والی طرحی مصرعہ جو انہوں کی قلم کے موتی تھے محفل مین پیش کیے اور داد حاصل کی
بزرگ غزل گو شاعر جناب صفی حسن کو دعوت کلام دی گئی عرصہ دااز سے موصوف یوکے میں آباد ہیں اور ادبی محافل کی جان جانے جاتے ہیں نہایت ہی عمدہ فکری کلام پیش کیا اور ان کے کلام میں یہ خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے طرحی مصرعہ ہر تنضیمن نہیں لگائی بلکہ مصرعہ کو اس فکر سے سپرد قلم کیا
جو شخص راہ مودت کو اختیار کرئے وہ کیوں نہ اپنے مقدر پہ افخار کرئے ترے کہے سے کوئی معتبر نہیں ہوتا وہ معتبر ہے خدا جس کا اعتبار کرئے محفل میں جب یہ مصرعہ پیش کئے گئے تو محفل جوش مودت سے جھوم اٹھی اور داد کے جو پھول نچاور کئے وہ جناب صفی حسن کا حاصل کلام داد تھی
اس عروج پر محفل کے سب سے آخر شاعر کو مدعو کیا گیا جو شاعر آل عبا صفدر ہمدانی تھے اور انہوں نے درود پڑھنے پر روز دیتے ہوئے کہا کہ نہ جانے ایسا کیوں مزاج بنتا جا رہا ہے کہ جب تک ممنبر نیشن نہ کہے ہم درود نہیں پڑھے جبکہ ہمیں درود پڑھنے کی عادت بنانی چاہئے اور بنا کہے درود پڑھنے کے ثواب میں شامل ہو چاہئے
اپنے تازہ کلام اور رباعیات سے انہوں نے محفل کو خوب گرمایا اور داد وصول کی
محفل کے اختتام پر المہدی ٹرسٹ کی جانب سے شعرا اور پہتر کام کرنے والوں کی خدمت کو سراہا گیا اور یہ انعام ایوارڈ کی صورت میں کارکنان اور شعرا حضرات کو پیش کئے گئے سب سے آخر میں جناب عاشور کاظمی مرحوم کی ادابی خدمات کو سراہتے ہئے ایک عزازی سند المہدی ٹرسٹ کے مومنین کی جانب سے پیش کی گئی جس کو جناب صفدر ہمدانی نے وصول کیا اور بعد میں ان کی بہن شبانہ کے حوالے کیا گیا جو خاص طور پر اس محفل میں اپنے پورے لوزامات کے ساتھ شرکت کے لئے تشریف لائی تھییں یاد رہے کہ شبانہ بہین انتہائی مہان نواز ہیں اور آو بھکت مین ان کا کوئی ثانی نہیں۔