پاکستان میں جنگل
کا قانون ھے اور راج کرنے والوں کے منہ کو انسانی خون لگا ھوا ھے وہ چاھے
انگور اڈہ پر بہتا ھو یا اسلام آباد کی سڑکوں گلیوں میں رُلتا ھو
پاکستان کے وزیر قانون نے ابھی ابھی ایک بیان
جاری کیا ھے کہ مّعزول ججز ایک ھفتے کے اندر اندر حلف اٹھا لیں ، ورنہ
ایک ھفتے کے بعد اُن سب کی قانون کی کتاب بند کر دی جائے گی ، اور حلف نہ
لینے والے ججوں کو ریٹایرڈ کر دیا جائے گا ۔ اب رھی بات چیف جسٹس افتخار
چوھدری کی تو وہ ایک جج کی حیثیت سے حلف اٹھا سکتے ھیں اور اٍس بات کا
فیصلہ کہ وہ جسٹس کے چیف ھیں کہ نہیں وہ بعد میں کیا جائے گا ۔
سوچ
میں ھوں کہ ابھی تک جو ججوں کوتنخوایئں دی جارھی تھیں وہ کیا تھیں اور
کن عہدوں کی دی جارھی تھیں ۔ اور کل جو وکلاء پر جمہوری دور کی پہلی
لاٹھی پڑی وہ کیاتھی اور بغیر کسی وجہ کے کیوں اٹھائی گئی تھی ۔
آج
کی اٍس خبر نے دل ھلا کر رکھ دیا ھے کہ وکلاء کی تحریک جو تین نومبر دو
ھزار سات سے شروع ھوئی تھی اور اُسے اپنی طرف سے منطقی انجام دینے کے
لیئے قانون کے وزیر کو صرف ایک ھفتہ لگا یا شاید وزیر ٍ قانون کو اتنی سی
بات کہنے میں چالیس ھفتے لگ گئے ۔
بس جو بھی ھو رھا ھے دل کو
صیحع نہیں لگ رھا ۔ یقین نہیں ھوتا کہ قانون اپنے ھی آیئن کی توھین کر
سکتا ھے ۔ قانون کے رکھوالے انصاف کے نام پر اپنے ھی لوگوں پر ڈنڈے بھی
برسا سکتے ھیں ۔ انہی پر قانون کی دفعہ لگا کر سچ کے جرم میں سزا کے طور
پر ھمیشہ کے لیئے انہیں معزول بھی کر سکتے ھیں ۔ لیکن ایسا ھوا ھے ۔۔
ابھی ابھی ۔۔
وطن پاکستان کے قانون نے ثابت کیا ھے کہ وہ اندھا بھی ھے اور بہرہ بھی اور
یہ بھی کہ پاکستان میں جنگل کا قانون ھے اور راج کرنے والوں کے منہ کو
انسانی خون لگا ھوا ھے وہ چاھے انگور اڈہ پر بہتا ھو یا اسلام آباد کی
سڑکوں گلیوں میں رُلتا ھو ۔۔
اٍس تاریک شب کا نوحہ اٍس سے زیادہ نہیں لکھ پاؤ نگی ۔ چلتے چلتے اپنے بابا (
جناب صفدر ھمدانی
) کی ایک غزل آپ سب کی نظر کرتی چلوں ۔ جو مجھے اٍس وقت بہت یاد آرھی ھے
جو انہوں نے اپنے کشفی انداز میں بہت پہلے لکھی تھی ۔۔۔۔ پتہ نہیں انہیں
اٍن سب باتوں کا بہت پہلے سے کیسے پتہ چل جاتا ھے ۔۔ ؟؟ مجھے یہ سب لکھتے
ھوئے ان کی انتہائی سنجیدہ اور گہری آنکھیں بھی یاد آ رھی ھیں جن میں وہی
آرزدگی رھتی ھے جو سولہ کڑوڑ پاکستانیوں کے دلوں میں بستی ھے ۔ شاید
سچایئوں کی یہی
سزا مقرر ھوئی ھے ۔۔۔
سنگ باری کا مزا آئے گا تباپنے ہی ہاتھوں میں پتھر ہوں گے جبکون جانے کب یہ طوفاں پھٹ پڑےیہ فضا بوجھل نہیں ہے بے سببمنتظر اب اپنے اپنے وقت کےکیا خبر کس کا سفر لکھا ہے کبخواہشیں اندھے جزیرے کی طرحجس میں نہ دن ہے نہ کچھ امکانِ شبتشنگی کا لطف ہم سے پوچھیئےہم سمندر میں رہے ہیں تشنہ لبجُز ندامت کچھ خزانے میں نہیںکیا کریں دربارِ شاہی سے طلبحادثہ یہ بھی عجب صفدر ہواسچ پہ جاری ہو گئی حدِ ادب