کل ہم نے دونوجوان پاکستانی صحافیوں کا حال اور ان کے خیالات سنا ئے تھے اب آگے بڑھتے ہیں ۔ان کے بعد ملا قات کو آنے والے دوسرے کرم فرما حضرت طاہر سلطانی تھے ۔ جو کہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں اور ہمہ صفاتی شخصیت کے مالک ہیں، اگر آپ کو کسی مرد ِ قلندر کو دیکھنا ہو تو انہیں دیکھ لیجئے! میرا ان سے غا ئبانہ تعارف ایک دوست کے ذریعہ چند برس پہلے ہوا تھا، جنہوں نے مجھے انکی ایک ایسی خوبی بتا ئی جوکہ آجکل مسلمانو ں میں ناپید ہے جو دل پر اثرکر گئی۔
یہ عرصہ پچاس سال سے پبلشر ہیں اور اب تک سیکڑوں کتابیں انہوں نے شائع کیں ، ما ہنامہ ارمغان ِ حمد کے بانی اور مدیر َ اعلیٰ ہیں۔ جوکہ حمد کے مو ضوع پر نکلنے والا پاکستان کا پہلا پرچہ ہے اور شاید آخری بھی ہو، جس نے اب تک بہت سے نمبر نکالے جن میں میرے خیال میں سب سے زیادہ ضخیم اور اہم قر آن نمبر ہے جو کہ با رہ سوصفحات پر مشتمل ہے۔ لیکن یہ ابھی تک قلندر ہی رہے جب کہ دوسرے پبلشر کروڑوں میں کھیل رہے ہیں؟
ان کی خواہش تھی کہ میں ان کے دفتر چلوںاور وہاں جاکر دعا کروں، جس میں انہوں نے اپنے ایک نادر منصوبے کا دفتر بھی قائم کر رکھا ہے جس کانام ہے “ حمد ونعت سینٹر “ جو اپنی تکمیل کے لیئے حکومت یا مخیر حضرات کی طرف دیکھ رہا۔ کچھ رقم جمع ہے مگر اتنی نہیں ہے کہ ایک پلا ٹ خرید سکیں !اگر یہ گانے بجا نے کا سلسلہ ہو تا تو اب تک حکومت کی سر پرستی حا صل ہو چکی ہو تی؟ مگر حمد اور نعت سینٹر کیا دقیانوسی خیال ہے؟ چونکہ ہم ہمیشہ سے کتابوں کے شوقین ہیں ہم نے سوچا کہ یہ اچھا موقع ہے کہ ہم کتابیں بھی ڈھونڈیں گے۔ تب ہمارے بہنوئی شعیب جیلانی صاحب نے کہا کہ میں اکیلا آپ کو کہیں نہیں جانے دونگا۔ ہم نے کہا کہ ہم پہلے بھی تو گھومتے پھرتے رہتے تھے۔ کہنے لگے جب آپ کنیڈا نہیں گئے تھے ابھی کو ئی اٹھا لے جا ئے گاتاوان کے لیئے اور آپ کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتاہے۔ ہم ان کی کار میں بیٹھے جبکہ طاہر سلطانی صاحب اپنی ہنڈا ففٹی پر راستہ دکھانے کے لیئے آگے روانہ ہو ئے ۔ ان کے دفتر گئے انکی خوشی پوری کی۔ اس کے بعد ہم نے ان کے ساتھ جب اسلامی کتا بیں اردو بازار میں جا کر دھونڈنا چا ہیں تو وہ کہیں نہیں ملیں، جبکہ دکانیں اسی طرح گرا ہکوں سے بھری ہو ئی تھیں۔ ان میں اب کیا بکتا ہے ؟چپٹے لطفیے، دنیا دیکھے بغیر دنیا کے سفر نامے، وغیرہ، مگر نہیں ملیں تو اسلامی کتب ؟ جن کی ہمیں تلاش تھی؟ جواگر کہیں تھیں بھی تو صرف بچوں کے مطلب کی۔ ہم جیسے طالب علم ان سے کو ئی استفادہ حا صل نہیں کر سکتے تھے۔
پہلے جب ہم اکثر سلطانی صاحب سے ٹیلیفون پر بات کرتے کہ ہمیں اس مضمون پر کتابوں کی ضرورت ہے تو وہ فرما تے تھے ۔ کہ مسلمانوں نے اب مذہبی کتا بیں پڑھنا چھوڑ دی ہیں، چونکہ وہ بکتی نہیں ہیں لہذا کتب فروش اس بازا ر میںرکھتے بھی نہیں ہیں ۔ ہم جانتے تو تھے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے ہیں، مگر ہم اپنی ا نکھوں سے دیکھنا چا ہتے تھے کہ تاکہ عین الیقین حا صل کر لیں، کہ وہ قوم جو کہ ایک ایک حدیث کی تلاش میں میلوں کا سفر کرتی تھی، اس لیئے کہ حضور(ص) نے فرما یا تھا کہ علم حا صل کرو چا ہیں چین جانا پڑے؟ لہذا ہو نا تو یہ چا ہیئے تھا کہ علم ہمارا اوڑھنا اور بچھونا ہو تا، مگر معاملہ اس کے برعکس ہے کہ تمام دنیا کی قوموں میں اگر جہا لت کا تنا سب نکالا جا ئے تو من حثیت القوم مسلمان پہلے نمبر پر ہیں۔اس کے بر عکس ہم نے کنیڈا میں دیکھا کہ یہ لوگ کتاب خرید نے کے لیئے اپنے ما ہانہ بجٹ میں ایک مد کتابوں کے لیئے رکھتے ہیں ۔ اسی لیئے ان کا تعلیم میں تناسب ٩٨فیصد ہے؟ اسکے علاوہ لا ئبریریوں میں روزانہ ما ؤں اور بچوں کا دورہ کر نا اس کے علاوہ ہے اور وہاں سے وہ ہاتھوں میں نہیں بلکہ ٹرالیوں میں کتابیں بھر کر لاتی ہیں۔